An-NajmJuz 27 · Page 527

An-Najm 53:32

The Star · Juz 27 · Page 527

ٱلَّذِينَ يَجۡتَنِبُونَ كَبَٰٓئِرَ ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡفَوَٰحِشَ إِلَّا ٱللَّمَمَۚ إِنَّ رَبَّكَ وَٰسِعُ ٱلۡمَغۡفِرَةِۚ هُوَ أَعۡلَمُ بِكُمۡ إِذۡ أَنشَأَكُم مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ وَإِذۡ أَنتُمۡ أَجِنَّةٞ فِي بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمۡۖ فَلَا تُزَكُّوٓاْ أَنفُسَكُمۡۖ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَنِ ٱتَّقَىٰٓ ٣٢

Those who avoid the major sins and immoralities, only [committing] slight ones. Indeed, your Lord is vast in forgiveness. He was most knowing of you when He produced you from the earth and when you were fetuses in the wombs of your mothers. So do not claim yourselves to be pure; He is most knowing of who fears Him.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 53:31–32

اور اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، تاکہ وہ سزا دے ان لوگوں کو جنھوں نے برائیاں کیں بہ سبب اس کےجو انھوں نے عمل کیے، اور جزا دے ان لوگوں کو جنھوں نے اچھائیاں کیں بدلے اچھائی کے (31) وہ لوگ جو بچتے ہیں کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے سوائے صغیرہ گناہوں کے ،بلاشبہ آپ کا رب بڑی وسیع مغفرت والا ہے، وہ خوب جانتا ہے تمھیں جب اس نے پیدا کیا تمھیں زمین (مٹی) سے، اور جب تم بچے تھے پیٹوں میں اپنی ماؤ ں کے، سو نہ پاکیزگی بیان کرو تم اپنے آپ کی وہ خوب جانتا ہے اس کو جس نے پرہیز گاری اختیار کی (32)

[31]اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اقتدار کا مالک ہے، دنیا و آخرت اسی اکیلے کی ملکیت ہے، دنیا و آخرت میں جو کچھ ہے، وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے وہ ان میں اس طرح تصرف کرتا ہے جیسے عظیم بادشاہ اپنے غلاموں میں تصرف کرتا ہے، وہ ان پر اپنی قضا و قدر نافذ کرتا ہے، ان پر شرعی احکام جاری کرتا ہے، انھیں حکم دیتا ہے، انھیں منع کرتا ہے، اپنے اوامر و نواہی پر انھیں جزا و سزا دیتا ہے، پس اطاعت گزار کو ثواب عطا کرتا ہے اور نافرمان کو عذاب دیتا ہے۔﴿ لِيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اَسَآءُوۡا بِمَا عَمِلُوۡا﴾ تاکہ وہ ان لوگوں کو جنھوں نے کفر اور اس سے کم تر گناہوں اور ان اعمالِ شر کا ارتکاب کیا، جزا کے طور پر بدترین سزا دے ﴿ وَيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوۡا﴾ اور ان کو جزا سے سرفراز فرمائے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں احسان سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو مختلف فوائد پہنچا کر اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا ﴿ بِالۡحُسۡنٰى﴾ اچھائی کے ساتھ ان کو دنیا و آخرت میں، اچھی جزا سے سرفراز فرمائے۔ سب سے بڑی اور سب سے جلیل القدر جزا ان کے رب کی رضا، جنت اور اس کی نعمتوں سے فوز یابی ہے۔

[32] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان محسنین کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَلَّذِيۡنَ يَجۡتَنِبُوۡنَ كَبٰٓىِٕرَ الۡاِثۡمِ وَالۡفَوَاحِشَ﴾ ’’جو لوگ کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ ان واجبات پر عمل کرتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے جن کا ترک کرنا کبائر میں شمار ہوتا ہے، وہ بڑے بڑے محرمات کو ترک کرتے ہیں ، مثلاً: زنا، شراب نوشی، سود خوری، قتل ناحق اور دیگر بڑے بڑے گناہ۔ ﴿ اِلَّا اللَّمَمَ﴾ ’’الا یہ کہ کوئی صغیرہ گناہ (سرزد) ہو۔‘‘ اس سے مراد وہ چھوٹے چھوٹے گناہ ہیں جن پر بندہ مصر نہیں ہوتا یا بار بار ان گناہوں کا ارتکاب نہیں کرتا، ان صغیرہ گناہوں کا مجرد ارتکاب بندے کو محسنین کے زمرے سے نہیں نکالتا۔ یہ چھوٹے چھوٹے گناہ، واجبات پر عمل کرنے، اور محرمات کو چھوڑنے سے اللہ تعالیٰ کی مغفرت کے تحت داخل ہو جاتے ہیں، جو ہر چیز پر سایہ کناں ہے ۔اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ ’’بے شک آپ کا رب بڑی وسیع مغفرت والا ہے۔‘‘ پس اگر اللہ تعالیٰ کی مغفرت نہ ہوتی تو تمام روئے زمین اور بندے تباہ ہو جاتے، اگر اس کا عفو و حلم نہ ہوتا توآسمان زمین پر آگرتا اور روئے زمین پر کسی جان دار کو نہ چھوڑتا۔ بنابریں نبی ٔاکرم ﷺ نے فرمایا: ’’پانچوں نمازیں، جمعہ سے جمعہ تک اور رمضان سے رمضان تک، ان کے درمیان ہونے والے تمام (صغیرہ) گناہوں کا کفارہ ہیں، اگر کبائر سے اجتناب کیا جائے۔‘‘ (صحیح مسلم، الطہارۃ، باب الصلوات الخمس والجمعۃ إلی الجمعۃ ......، حدیث: 233)﴿ هُوَ اَعۡلَمُ بِكُمۡ اِذۡ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ وَاِذۡ اَنۡتُمۡ اَجِنَّةٌ فِيۡ بُطُوۡنِ اُمَّهٰتِكُمۡ﴾ ’’وہ تمھیں (اس وقت سے) بخوبی جانتا ہے جب اس نے تمھیں زمین سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں بچے تھے۔‘‘ اللہ تعالیٰ تمھارے احوال، تمھاری جبلتوں کو جو اس نے پیدا کی ہیں، خوب جانتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو حکم دیا ہے ان میں سے بہت سے احکام کی تعمیل میں تمھاری کمزوری اور سستی کو، محرمات کے ارتکاب پر آمادہ کرنے والے دواعی کی کثرت کو، ان محرمات کی طرف راغب کرنے والے جذبات کو، اور محرمات کے ارتکاب کی راہ میں حائل ہونے والے موانع کے عدم وجود کو زیادہ جانتا ہے۔تمھارے اندر کمزوری موجود ہے جس کا مشاہدہ اس وقت ہوا جب اللہ تعالیٰ نے تمھیں جس زمین سے نکالا اور جب تم اپنی ماؤ ں کے پیٹوں میں تھے اور یہ کمزوری تمھارے اندر ہمیشہ موجود رہی۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ایک چیز کا حکم دیا اگرچہ اس کی تعمیل کے لیے اس نے تمھارے اندر قوت رکھی مگر پھر بھی کمزوری تمھارے اندر موجود رہی۔پس اس بنا پر کہ اللہ تعالیٰ تمھارے ان احوال کا علم رکھتا ہے، حکمت الٰہی اور جُودِ ربّانی کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اپنی رحمت و مغفرت، اپنے عفو و درگزر اور اپنے احسان سے ڈھانپ لے اور تم سے تمام جرائم اور گناہوں کو دور کر دے۔ خاص طور پر جبکہ ہر وقت بندے کا مقصد اپنے رب کی رضا کا حصول، ہر آن ایسے اعمال میں کوشش جو اس کے قریب کرتے ہیں اور ایسے گناہوں سے فرار جو اس کے آقا کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ، پھر اس سے لغزش صادر ہوجائے تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا کریم اور سب سے بڑا جواد ہے وہ اپنے بندوں پر اس سے زیادہ رحیم ہے جتنی ماں اپنے بچے پر ہوتی ہے۔پس اس قسم کے شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے رب کی مغفرت کے قریب رہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کے تمام احوال میں اس کی دعائیں قبول کرے۔ بنابریں فرمایا :﴿ فَلَا تُزَؔكُّـوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ﴾ ’’لہٰذا تم اپنے آپ کی پاکیزگی بیان نہ کرو۔‘‘ یعنی مدح کے حصول کی خواہش کی بنا پر لوگوں کو اپنے نفس کی طہارت کی خبر نہ دیتے پھرو ﴿ هُوَ اَعۡلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى﴾ ’’وہ اسے (بھی) خوب جانتا ہے جس نے تقویٰ اختیا رکیا۔‘‘ تقویٰ کا مقام دل ہے، اللہ تعالیٰ اس سے مطلع ہے ۔دل کے اندر جو نیکی، بدی یا تقویٰ موجود ہے، اللہ تعالیٰ اس کی جزا دے گا، رہے لوگ تو وہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمھارے کام نہیں آ سکتے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 527

An-NajmJuz 27 · Page 527

53:27

إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ لَيُسَمُّونَ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةَ تَسۡمِيَةَ ٱلۡأُنثَىٰ ٢٧

Indeed, those who do not believe in the Hereafter name the angels female names,

53:28

وَمَا لَهُم بِهِۦ مِنۡ عِلۡمٍۖ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّۖ وَإِنَّ ٱلظَّنَّ لَا يُغۡنِي مِنَ ٱلۡحَقِّ شَيۡـٔٗا ٢٨

And they have thereof no knowledge. They follow not except assumption, and indeed, assumption avails not against the truth at all.

53:29

فَأَعۡرِضۡ عَن مَّن تَوَلَّىٰ عَن ذِكۡرِنَا وَلَمۡ يُرِدۡ إِلَّا ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا ٢٩

So turn away from whoever turns his back on Our message and desires not except the worldly life.

53:30

ذَٰلِكَ مَبۡلَغُهُم مِّنَ ٱلۡعِلۡمِۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِمَنِ ٱهۡتَدَىٰ ٣٠

That is their sum of knowledge. Indeed, your Lord is most knowing of who strays from His way, and He is most knowing of who is guided.

53:31

وَلِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ لِيَجۡزِيَ ٱلَّذِينَ أَسَٰٓـُٔواْ بِمَا عَمِلُواْ وَيَجۡزِيَ ٱلَّذِينَ أَحۡسَنُواْ بِٱلۡحُسۡنَى ٣١

And to Allāh belongs whatever is in the heavens and whatever is in the earth - that He may recompense those who do evil with [the penalty of] what they have done and recompense those who do good with the best [reward] -

53:32

ٱلَّذِينَ يَجۡتَنِبُونَ كَبَٰٓئِرَ ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡفَوَٰحِشَ إِلَّا ٱللَّمَمَۚ إِنَّ رَبَّكَ وَٰسِعُ ٱلۡمَغۡفِرَةِۚ هُوَ أَعۡلَمُ بِكُمۡ إِذۡ أَنشَأَكُم مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ وَإِذۡ أَنتُمۡ أَجِنَّةٞ فِي بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمۡۖ فَلَا تُزَكُّوٓاْ أَنفُسَكُمۡۖ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَنِ ٱتَّقَىٰٓ ٣٢

Those who avoid the major sins and immoralities, only [committing] slight ones. Indeed, your Lord is vast in forgiveness. He was most knowing of you when He produced you from the earth and when you were fetuses in the wombs of your mothers. So do not claim yourselves to be pure; He is most knowing of who fears Him.

53:33

أَفَرَءَيۡتَ ٱلَّذِي تَوَلَّىٰ ٣٣

Have you seen the one who turned away

53:34

وَأَعۡطَىٰ قَلِيلٗا وَأَكۡدَىٰٓ ٣٤

And gave a little and [then] refrained?

53:35

أَعِندَهُۥ عِلۡمُ ٱلۡغَيۡبِ فَهُوَ يَرَىٰٓ ٣٥

Does he have knowledge of the unseen, so he sees?1

1 translator’s note
  1. Knows that his provision will be exhausted if he spends on the poor, while Allāh (subḥānahu wa taʿālā) has promised otherwise. ↩

53:36

أَمۡ لَمۡ يُنَبَّأۡ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَىٰ ٣٦

Or has he not been informed of what was in the scriptures of Moses

53:37

وَإِبۡرَٰهِيمَ ٱلَّذِي وَفَّىٰٓ ٣٧

And [of] Abraham, who fulfilled [his obligations] -

53:38

أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٞ وِزۡرَ أُخۡرَىٰ ٣٨

That no bearer of burdens will bear the burden of another

53:39

وَأَن لَّيۡسَ لِلۡإِنسَٰنِ إِلَّا مَا سَعَىٰ ٣٩

And that there is not for man except that [good] for which he strives

53:40

وَأَنَّ سَعۡيَهُۥ سَوۡفَ يُرَىٰ ٤٠

And that his effort is going to be seen -

53:41

ثُمَّ يُجۡزَىٰهُ ٱلۡجَزَآءَ ٱلۡأَوۡفَىٰ ٤١

Then he will be recompensed for it with the fullest recompense -

53:42

وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ ٱلۡمُنتَهَىٰ ٤٢

And that to your Lord is the finality

53:43

وَأَنَّهُۥ هُوَ أَضۡحَكَ وَأَبۡكَىٰ ٤٣

And that it is He who makes [one] laugh and weep

53:44

وَأَنَّهُۥ هُوَ أَمَاتَ وَأَحۡيَا ٤٤

And that it is He who causes death and gives life

As-Sa'diTafsir · 53:32

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском