An-Najm 53:46
The Star · Juz 27 · Page 528
مِن نُّطۡفَةٍ إِذَا تُمۡنَىٰ ٤٦
From a sperm-drop when it is emitted
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 53:33–62
بھلا آپ نے دیکھا اسے جس نے رو گردانی کی؟ (33) اور اس نے دیا قلیل (مال) اور (پھر دینا) بند کر دیا (34) کیا اس کےپاس علم غیب ہے، کہ وہ (سب کچھ) دیکھ رہا ہے؟ (35) کیا نہیں خبر دیا گیا وہ اس چیز کی جو ہے صحیفوں میں موسیٰ کے؟ (36) اور ابراہیم کے، وہ جس نے پورا کیا (عہد اپنا)؟ (37) یہ کہ نہیں بوجھ اٹھائے گی کوئی(جان) بوجھ اٹھانے والی بوجھ کسی دوسری (جان) کا (38) اور یہ کہ نہیں ہے کسی انسان کے لیے مگر وہی جو اس نے کوشش کی (39) اور بلاشبہ کوشش اس کی عنقریب دیکھی جائے گی (40) پھر بدلہ دیا جائے گا اس کو بدلہ پورا (پورا)(41) اور بے شک آپ کے رب ہی کی طرف انتہا (پہنچنا) ہے (42) اور بلاشبہ وہی ہنساتا اور وہی رلاتا ہے (43) اور بے شک وہی مارتا اور وہی زندہ کرتا ہے (44) اور بلاشبہ اسی نے پیدا کیا جوڑا ( یعنی ) نر اور مادہ (45) نطفے سے جب وہ ڈالا جاتا ہے(رحم میں)(46) اور بلاشبہ اسی کے ذمہ ہے پیدائش دوسری بار بھی (47) اور بے شک وہی غنی (بے نیاز) کرتا اور سرمایہ دار بناتا ہے (48) اور یقیناً وہی ہے رب ِشعریٰ(ستارے)کا(49) اور بلاشبہ اسی نے ہلاک کیا عاد اولیٰ کو (50) اور ثمود کو، پس نہ باقی چھوڑا (کسی کو)(51) اور قوم نوح کو بھی پہلے(ان سے)، بلاشبہ وہ تھے بہت زیادہ ظالم اور بڑے سرکش (52) اور الٹ جانے والی بستی کو اس نے زمین پر دے مارا (53) پھر ڈھانپ لیا اس کو اس (تباہی و بربادی) نے جس نے ڈھانپا (54) پس کون سی نعمتوں میں اپنے رب کی (اے انسان!) تو شک کرے گا؟ (55) یہ (رسول) تو ڈرانے والا ہے پہلے ڈرانے والوں میں سے (56) قریب آگئی قریب آنے والی (قیامت)(57) نہیں ہے اس قیامت (کی ہولناکیوں) کو، سوائے اللہ کے کوئی بھی ٹالنے والا (58) کیا پس اس بات (قرآن) سے تم تعجب کرتے ہو؟(59) اور تم ہنستے ہو، اور نہیں روتے (60) اور تم کھیل کود میں مست ہو (61) پس (باز آ جاؤ اور) سجدہ کرو اللہ کو اور عبادت کرو (اسی کی)(62)
[35-33] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَفَرَءَيۡتَ﴾کیا آپ نے اس شخص کا برا حال دیکھا جسے اپنے رب کی عبادت اور توحید کا حکم دیا گیا تھا مگر اس نے اس سے منہ موڑا اور اعراض کیا۔ اگر اس کا نفس قلیل سے عمل پر آمادہ ہوا بھی تو اس پر قائم نہ رہا، بلکہ اس نے بخل سے کام لیا اور اپنے ہاتھ کو روک لیا۔ کیونکہ احسان اس کی عادت اور فطرت نہیں، اس کی فطرت تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روگردانی اور نیکی پر عدم ثبات ہے۔ بایں ہمہ وہ اپنے نفس کو پاک گردانتا ہے اور اسے وہ منزلت عطا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے عطا نہیں کی۔﴿اَعِنۡدَهٗ عِلۡمُ الۡغَيۡبِ فَهُوَ يَرٰى ﴾ اس کے پاس علمِ غیب ہے کہ وہ دیکھ رہا ہے غیب کو اور اس کے بارے میں خبر دیتا ہے؟ یا وہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑتا ہے۔ وہ دونوں باتوں کو جمع کرنے کی جسارت کرتا ہے، یعنی برائی اور طہارت نفس کے دعوے کو اور فی الواقع ایسا ہی ہے، کیونکہ اسے علم ہے کہ اس کے پاس غیب کا کچھ بھی علم نہیں اور اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ اسے غیب دانی کا دعویٰ ہے تو علم غیب کے متعلق قطعی اور یقینی خبریں، جو نبئ معصوم کی طرف سے دی گئی ہیں، اس کے قول کے تناقض پر دلالت کرتی ہیں اور یہ اس کے قول کے بطلان کی دلیل ہے۔
[36، 37]﴿اَمۡ لَمۡ يُنَبَّاۡ﴾ کیا اس مدعی کو وہ خبریں نہیں پہنچیں ﴿بِمَا فِيۡ صُحُفِ مُوۡسٰؔى۰۰ وَاِبۡرٰهِيۡمَ الَّذِيۡ وَفّٰۤى ﴾ ’’جو موسیٰ اور وفادار ابراہیم (i) کے صحیفوں میں ہیں؟‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu ان تمام آزمائشوں میں پورے اترے جن میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو ڈالا، اور جن احکام شریعت اور دین جن کے اصول و فروع کا آپ کو حکم دیا، آپ نے اس کی تعمیل کی۔
[41-38] ان صحیفوں میں بہت سے احکام درج تھے جن میں سے سب سے اہم وہ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے: ﴿اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰىۙ۰۰ وَاَنۡ لَّيۡسَ لِلۡاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى﴾ یعنی ہر عمل کرنے والے کا اچھا برا عمل اسی کے لیے ہے۔ کسی دوسرے کے عمل اور کوشش میں سے اس کے لیے کچھ بھی نہیں اور نہ کوئی کسی اور کے گناہ کا بوجھ اٹھائے گا۔ ﴿وَاَنَّ سَعۡيَهٗ سَوۡفَ يُرٰى﴾ یعنی آخرت میں اسے اس کی کوشش دکھائی جائے گی اور وہ اپنی نیکی اور برائی میں تمیز کر سکے گا۔ ﴿ثُمَّ يُجۡزٰىهُ الۡجَزَآءَؔ الۡاَوۡفٰى﴾ ’’پھر اسے پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔‘‘ یعنی تمام اعمال کی کامل جزا، خالص نیک عمل کے لیے اچھی جزا ہو گی، خالص برے عمل کے لیے بری جزا ہو گی اور ملے جلے اعمال کی جزا ان کے مطابق ہو گی۔ اور یہ ایسی جزا ہو گی کہ تمام مخلوق اس کے عدل و احسان کا اقرار اور اس پر اس کی حمد و ثنا بیان کرے گی حتیٰ کہ جہنمی جہنم میں داخل ہو رہے ہوں گے مگر ان کے دل اپنے رب کی حمد و ثنا ، اس کی کامل حکمت کے اقرار اور اپنے آپ پر سخت ناراضی سے لبریز ہوں گے، نیز وہ اس بات پر ناراض ہوں گے کہ انھوں نے اپنے آپ کو بدترین جگہ پر وارد کیا۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد :﴿وَاَنۡ لَّيۡسَ لِلۡاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى ﴾ سے استدلال کیا گیا ہے کہ کسی شخص کا زندوں او رمردوں کے لیے ہدیہ کرنا، ان کے لیے کوئی مفید نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :﴿وَاَنۡ لَّيۡسَ لِلۡاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى ﴾ ’’انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے سعی کی۔‘‘ چنانچہ کسی شخص کی سعی اور اس کے عمل کا کسی اور کو پہنچنا اس آیت کے منافی ہے۔ مگر یہ استدلال محل نظر ہے کیونکہ آیت کریمہ تو صرف یہ دلالت کرتی ہے کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کے لیے اس نے خود کوشش کی اور یہ حق ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں، مگر اس میں کوئی چیز نہیں جو اس پر دلالت کرتی ہو کہ وہ غیر کی سعی سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا جبکہ غیر نے اپنی سعی اور عمل کو اسے ہدیہ کے طور پر پیش کیا ہو۔ جیسے انسان صرف اسی مال کا مالک ہے جو اس کی ملکیت اور اس کے قبضہ میں ہو مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ کسی ایسی چیز کا مالک نہیں ہو سکتا جو غیر نے اپنے مال میں سے جس کا وہ مالک ہے، اسے ہبہ کی ہو۔
[42]﴿وَاَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الۡمُنۡتَهٰى﴾ یعنی تمام معاملات کو تیرے رب کے پاس ہی پہنچنا ہے۔ تمام اشیاء اور تمام مخلوقات، دوبارہ زندہ ہو کر اسی کی طرف لوٹیں گی۔ ہر حال میں منتہیٰ اللہ تعالیٰ کی طرف ہے۔ علم کی انتہا اللہ تعالیٰ پر ہے، حکم، رحمت اور تمام کمالات کی انتہا اللہ تعالیٰ ہے۔
[43]﴿وَاَنَّهٗ هُوَ اَضۡحَكَ وَ اَبۡكٰى﴾ یعنی وہی ہے جو ہنسنے اور رونے کے اسباب وجود میں لاتا ہے، یہ اسباب خیر، شر، فرحت، مسرت اور حزن و غم پر مشتمل ہیں اور ہنسانے اور رلانے کے اندر اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ پوشیدہ ہے۔
[44]﴿وَاَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَاَحۡيَا﴾ یعنی وہ وجود میں لانے اور معدوم کرنے میں متفرد اور یکتا ہے جس نے مخلوق کو وجود بخشا، ان کو اوامر و نواہی عطا کیے، وہی ان کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا اور دنیا کے اندر انھوں نے جو عمل کیے ہوں گے وہ انھیں ان اعمال کی جزا دے گا۔
[45، 46]﴿وَاَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوۡجَيۡنِ﴾ ’’اور بلاشبہ اسی نے جوڑے بنائے۔‘‘ پھر ان جوڑوں کی تفسیر بیان فرمائی ﴿الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰى﴾ ’’نر اور مادہ‘‘ یہ ا سم جنس ہے جو تمام حیوانات، ناطق اور غیر ناطق بہائم سب کو شامل ہے، وہ ان کو پیدا کرنے میں منفرد ہے۔ ﴿مِنۡ نُّطۡفَةٍ اِذَا تُمۡنٰى﴾ ’’نطفے سے جبکہ وہ (رحم میں) ڈالا جاتا ہے۔‘‘ یہ اس کی قدرت کاملہ اور اس کے عظیم غلبہ میں متفرد ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اس نے تمام چھوٹے بڑے حیوانات کو، حقیر پانی کے نہایت کمزور قطرے سے وجود بخشا، پھر ان کو نشوونما دے کر مکمل کیا، حتیٰ کہ وہ اس مقام پر پہنچ گئے جہاں پہنچے ہوئے ہیں۔ ان حیوانات میں سے آدمی یا تو بلند ترین مقام پر اعلیٰ علیین میں پہنچ جاتا ہے یا وہ ادنیٰ ترین احوال، پست ترین مقامات کی طرف لوٹ جاتا ہے۔
[47] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ابتدائے وجود کے ذریعے سے اعادۂ وجود پر استدلال کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَاَنَّ عَلَيۡهِ النَّشۡاَةَ الۡاُخۡرٰى﴾ پس اللہ تعالیٰ بندوں کو ان کی قبروں میں سے دوبارہ زندہ کرے گا، ان کو یوم موعود میں اکٹھا کرے گا اور ان کو ان کی نیکیوں اور برائیوں کی جزا دے گا۔
[48]﴿وَاَنَّهٗ هُوَ اَغۡنٰى وَاَقۡنٰى ﴾ ’’اور بے شک وہی غنی کرتا ہے اور وہی دولت دیتا ہے۔‘‘ وہ بندوں کو ان کے معاشی معاملات یعنی تجارت اور صنعت و حرفت کے مختلف پیشوں میں آسانی پیدا کر کے مال دار بناتا ہے۔ ﴿وَاَقۡنٰى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ بندوں کو مال کی تمام انواع عطا کرتا ہے جس سے وہ مال دار بن کر بہت سے اموال کے مالک بن جاتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے بندوں کو آگاہ فرمایا کہ تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں اور یہ چیز بندوں پر واجب ٹھہراتی ہے کہ وہ اس کا شکر ادا کریں اور اسی اکیلے کی عبادت کریں جس کا کوئی شریک نہیں۔
[49]﴿وَاَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعۡرٰى ﴾ ’’اور یقیناً وہی شعریٰ (ستارے) کا رب ہے۔‘‘ یہ مشہور ستارہ’’شعریٰ عبور‘‘ ہے جو’’مرزم‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ اگرچہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہر چیز کا رب ہے تاہم شعریٰ کا ذکر خاص طور پر اس لیے کیا ہے کیونکہ جاہلیت کے زمانہ میں اس کی عبادت کی جاتی تھی۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ اشیاء جن کی مشرکین عبادت کرتے ہیں مربوب، مدبر اور مخلوق ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کو کیسے معبود قرار دیا جا سکتا ہے۔
[50]﴿وَاَنَّهٗۤ اَهۡلَكَ عَادَنِا الۡاُوۡلٰى﴾ ’’اور بلاشبہ اسی نے عاد اولیٰ کو ہلاک کیا۔‘‘ اس سے مراد حضرت ہود uکی قوم ہے، جب انھوں نے حضرت ہودu کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں سخت تیز اور سرکش طوفان کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالا۔
[51]﴿وَثَمُوۡدَاۡؔ ﴾ ’’اور ثمود کو (ہلاک کیا۔) ‘‘ یہ حضرت صالحu کی قوم تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت صالح uکو ثمود کی طرف مبعوث کیا مگر انھوں نے آپ کو جھٹلایا۔ اللہ تعالیٰ نے معجزے کے طور پر ان کی طرف اونٹنی بھیجی، مگر انھوں نے اس کو ہلاک کر ڈالا اور صالح کو جھٹلایا، پس (اس کی پاداش میں) اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ و برباد کر دیا ﴿ فَمَاۤ اَبۡقٰى﴾ اور ان میں سے ایک کو بھی باقی نہ رکھا بلکہ ان کے آخری آدمی تک کو ہلاک کر دیا۔
[52]﴿وَقَوۡمَ نُوۡحٍ مِّنۡ قَبۡلُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا هُمۡ اَظۡلَمَ وَاَطۡغٰى ﴾ ’’اور ان سے پہلے قوم نوح کو بھی، کچھ شک نہیں کہ وہ لوگ بڑے ہی ظالم اور بڑے ہی سرکش تھے۔‘‘ حضرت نوحu کی قوم ان قوموں سے زیادہ ظالم اور سرکش تھی، پس اللہ تعالیٰ نے ان کو غرق کر کے ہلاک کر ڈالا۔
[53، 54]﴿وَالۡمُؤۡتَفِكَةَ ﴾ ’’اور الٹی ہوئی بستی کو (بھی)‘‘ اس سے مراد اس میں آباد حضرت لوط uکی قوم ہے ﴿اَهۡوٰى ﴾ ’’اس نے دے پٹکا۔‘‘ یعنی ان پر اللہ تعالیٰ نے ایسا عذاب بھیجا جو دنیا میں کسی پر نہیں بھیجا ، اللہ تعالیٰ نے ان کی بستیوں کو تلپٹ کر دیا اور ان پر کھنگر کے پتھروں کی بارش برسائی۔ بنابریں فرمایا:﴿فَغَشّٰىهَا مَا غَشّٰؔى ﴾ ان پر انتہائی درد ناک اور بدترین عذاب چھا گیا، یعنی عذاب ایک بڑی چیز تھی جس کا وصف بیان کرنا ممکن نہیں۔
Page 528
53:45
وَأَنَّهُۥ خَلَقَ ٱلزَّوۡجَيۡنِ ٱلذَّكَرَ وَٱلۡأُنثَىٰ ٤٥
And that He creates the two mates - the male and female -
53:46
مِن نُّطۡفَةٍ إِذَا تُمۡنَىٰ ٤٦
From a sperm-drop when it is emitted
53:47
وَأَنَّ عَلَيۡهِ ٱلنَّشۡأَةَ ٱلۡأُخۡرَىٰ ٤٧
And that [incumbent] upon Him is the other [i.e., next] creation.
53:48
وَأَنَّهُۥ هُوَ أَغۡنَىٰ وَأَقۡنَىٰ ٤٨
And that it is He who enriches and suffices
53:49
وَأَنَّهُۥ هُوَ رَبُّ ٱلشِّعۡرَىٰ ٤٩
And that it is He who is the Lord of Sirius1
1 translator’s note
- A star worshipped by some of the pagan Arabs. ↩
53:50
وَأَنَّهُۥٓ أَهۡلَكَ عَادًا ٱلۡأُولَىٰ ٥٠
And that He destroyed the first [people of] ʿAad
53:51
وَثَمُودَاْ فَمَآ أَبۡقَىٰ ٥١
And Thamūd - and He did not spare [them] -
53:52
وَقَوۡمَ نُوحٖ مِّن قَبۡلُۖ إِنَّهُمۡ كَانُواْ هُمۡ أَظۡلَمَ وَأَطۡغَىٰ ٥٢
And the people of Noah before. Indeed, it was they who were [even] more unjust and oppressing.
53:53
وَٱلۡمُؤۡتَفِكَةَ أَهۡوَىٰ ٥٣
And the overturned towns1 He hurled down
1 translator’s note
- Whose inhabitants defied Prophet Lot. ↩
53:54
فَغَشَّىٰهَا مَا غَشَّىٰ ٥٤
And covered them by that which He covered.1
1 translator’s note
- i.e., a rain of stones. ↩
53:55
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارَىٰ ٥٥
Then which of the favors of your Lord do you doubt?
53:56
هَٰذَا نَذِيرٞ مِّنَ ٱلنُّذُرِ ٱلۡأُولَىٰٓ ٥٦
This [Prophet (ﷺ)] is a warner from [i.e., like] the former warners.
53:57
أَزِفَتِ ٱلۡأٓزِفَةُ ٥٧
The Approaching Day has approached.
53:58
لَيۡسَ لَهَا مِن دُونِ ٱللَّهِ كَاشِفَةٌ ٥٨
Of it, [from those] besides Allāh, there is no remover.
53:59
أَفَمِنۡ هَٰذَا ٱلۡحَدِيثِ تَعۡجَبُونَ ٥٩
Then at this statement do you wonder?
53:60
وَتَضۡحَكُونَ وَلَا تَبۡكُونَ ٦٠
And you laugh and do not weep
53:61
وَأَنتُمۡ سَٰمِدُونَ ٦١
While you are proudly sporting?1
1 translator’s note
- Additional meanings are "singing [with expanded chest]," "heedless," or "lost in vain amusements." ↩
53:62
فَٱسۡجُدُواْۤ لِلَّهِۤ وَٱعۡبُدُواْ۩ ٦٢
So prostrate to Allāh and worship [Him].
سورة القمر
Al-Qamar
The Moon · Meccan · 55 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
54:1
ٱقۡتَرَبَتِ ٱلسَّاعَةُ وَٱنشَقَّ ٱلۡقَمَرُ ١
The Hour has come near, and the moon has split [in two].1
1 translator’s note
- This was a sign given by Allāh to Prophet Muḥammad (ﷺ) when the Quraysh challenged him to show them a miracle. ↩
54:2
وَإِن يَرَوۡاْ ءَايَةٗ يُعۡرِضُواْ وَيَقُولُواْ سِحۡرٞ مُّسۡتَمِرّٞ ٢
And if they see a sign [i.e., miracle], they turn away and say, "Passing magic."1
1 translator’s note
- Or "Continuing magic." ↩
54:3
وَكَذَّبُواْ وَٱتَّبَعُوٓاْ أَهۡوَآءَهُمۡۚ وَكُلُّ أَمۡرٖ مُّسۡتَقِرّٞ ٣
And they denied and followed their inclinations. But for every matter is a [time of] settlement.
54:4
وَلَقَدۡ جَآءَهُم مِّنَ ٱلۡأَنۢبَآءِ مَا فِيهِ مُزۡدَجَرٌ ٤
And there has already come to them of information that in which there is deterrence.
54:5
حِكۡمَةُۢ بَٰلِغَةٞۖ فَمَا تُغۡنِ ٱلنُّذُرُ ٥
Extensive wisdom - but warning does not avail [them].
54:6
فَتَوَلَّ عَنۡهُمۡۘ يَوۡمَ يَدۡعُ ٱلدَّاعِ إِلَىٰ شَيۡءٖ نُّكُرٍ ٦
So leave them, [O Muḥammad]. The Day the Caller1 calls to something forbidding,
1 translator’s note
- Said to be an angel announcing the account and judgement. ↩