Ar-Rahman 55:73
The Beneficent · Juz 27 · Page 534
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٧٣
So which of the favors of your Lord would you deny? -
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 55:46–78
اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78)
[46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔
[48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔
[50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔
[52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔
[54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔
[59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔
[60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔
[65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔
[71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔
[72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔
Page 534
55:68
فِيهِمَا فَٰكِهَةٞ وَنَخۡلٞ وَرُمَّانٞ ٦٨
In both of them are fruit and palm trees and pomegranates.
55:69
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٦٩
So which of the favors of your Lord would you deny?
55:70
فِيهِنَّ خَيۡرَٰتٌ حِسَانٞ ٧٠
In them are good and beautiful women -
55:71
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٧١
So which of the favors of your Lord would you deny? -
55:72
حُورٞ مَّقۡصُورَٰتٞ فِي ٱلۡخِيَامِ ٧٢
Fair ones reserved in pavilions -
55:73
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٧٣
So which of the favors of your Lord would you deny? -
55:74
لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ إِنسٞ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنّٞ ٧٤
Untouched before them by man or jinnī -
55:75
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٧٥
So which of the favors of your Lord would you deny? -
55:76
مُتَّكِـِٔينَ عَلَىٰ رَفۡرَفٍ خُضۡرٖ وَعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٖ ٧٦
Reclining on green cushions and beautiful fine carpets.
55:77
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٧٧
So which of the favors of your Lord would you deny?
55:78
تَبَٰرَكَ ٱسۡمُ رَبِّكَ ذِي ٱلۡجَلَٰلِ وَٱلۡإِكۡرَامِ ٧٨
Blessed is the name of your Lord, Owner of Majesty and Honor.
سورة الواقعة
Al-Waqi'ah
The Inevitable · Meccan · 96 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
56:1
إِذَا وَقَعَتِ ٱلۡوَاقِعَةُ ١
When the Occurrence occurs,
56:2
لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ ٢
There is, at its occurrence, no denial.
56:3
خَافِضَةٞ رَّافِعَةٌ ٣
It will bring down [some] and raise up [others].1
1 translator’s note
- According to their deeds rather than wealth and social position, as is the case in this world. ↩
56:4
إِذَا رُجَّتِ ٱلۡأَرۡضُ رَجّٗا ٤
When the earth is shaken with convulsion
56:5
وَبُسَّتِ ٱلۡجِبَالُ بَسّٗا ٥
And the mountains are broken down, crumbling
56:6
فَكَانَتۡ هَبَآءٗ مُّنۢبَثّٗا ٦
And become dust dispersing,
56:7
وَكُنتُمۡ أَزۡوَٰجٗا ثَلَٰثَةٗ ٧
And you become [of] three kinds:
56:8
فَأَصۡحَٰبُ ٱلۡمَيۡمَنَةِ مَآ أَصۡحَٰبُ ٱلۡمَيۡمَنَةِ ٨
Then the companions of the right - what are the companions of the right?1
1 translator’s note
- i.e., those given their records in their right hand and who are destined for Paradise. ↩
56:9
وَأَصۡحَٰبُ ٱلۡمَشۡـَٔمَةِ مَآ أَصۡحَٰبُ ٱلۡمَشۡـَٔمَةِ ٩
And the companions of the left - what are companions of the left?1
1 translator’s note
- i.e., those given their records in their left hand and who are destined for Hell. ↩
56:10
وَٱلسَّٰبِقُونَ ٱلسَّٰبِقُونَ ١٠
And the forerunners, the forerunners1 -
1 translator’s note
- The words can also be understood as a complete sentence, i.e., "The forerunners [in good deeds] are the forerunners [in entering Paradise]." ↩
56:11
أُوْلَٰٓئِكَ ٱلۡمُقَرَّبُونَ ١١
Those are the ones brought near [to Allāh]
56:12
فِي جَنَّٰتِ ٱلنَّعِيمِ ١٢
In the Gardens of Pleasure,
56:13
ثُلَّةٞ مِّنَ ٱلۡأَوَّلِينَ ١٣
A [large] company of the former peoples
56:14
وَقَلِيلٞ مِّنَ ٱلۡأٓخِرِينَ ١٤
And a few of the later peoples,
56:15
عَلَىٰ سُرُرٖ مَّوۡضُونَةٖ ١٥
On thrones woven [with ornament],
56:16
مُّتَّكِـِٔينَ عَلَيۡهَا مُتَقَٰبِلِينَ ١٦
Reclining on them, facing each other.