Al-Waqi'ah 56:64
The Inevitable · Juz 27 · Page 536
ءَأَنتُمۡ تَزۡرَعُونَهُۥٓ أَمۡ نَحۡنُ ٱلزَّٰرِعُونَ ٦٤
Is it you who makes it grow, or are We the grower?
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 56:63–67
بھلا بتلاؤ تو جو تم بوتے ہو(63)کیا تم اگاتے ہو اسے یا ہم ہیں اگانے والے؟ (64) اگر ہم چاہیں تو البتہ کر دیں اس کو ریزہ ریزہ پھر ہو جاؤ تم پشیمان ہونے والے (65) کہ بلاشبہ ہم البتہ چٹی ڈال دیے گئے (66)بلکہ ہم محروم ہی رہ گئے (67)
[67-63] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر احسان ہے جس کے ذریعے سے وہ انھیں اپنی توحید، اپنی عبادت، اور اپنی طرف رجوع کی دعوت دیتا ہے کہ اس نے ان کے لیے کھیتی باڑی اور باغات کو میسر کر کے انھیں نعمتوں سے نوازا ہے۔ اس کھیتی باڑی اور باغات سے خوراک، رزق اور پھل مہیا ہوتے ہیں جو ان کی ضرورت، حاجات اور ان کے مصالح میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا شکر ادا کرنا اور ان کا حق ادا کرنا تو کجا، وہ ان نعمتوں کو شمار تک نہیں کر سکتے۔پس فرمایا:﴿ ءَاَنۡتُمۡ تَزۡرَعُوۡنَهٗۤ اَمۡ نَحۡنُ الزّٰرِعُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم نے اس کو اگا کر زمین سے نکالا ہے؟ کیا تم نے اس کو نشوونما دی؟ کیا تم ہو جنھوں نے اس کے خوشوں اور اس کے پھل کو نکالا، یہاں تک کہ وہ تیار شکل میں اناج اور پکا ہوا پھل بن گیا؟ یا یہ اللہ تعالیٰ کی ہستی ہے جو یہ سب کچھ سر انجام دینے میں متفرد ہے اور اسی نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے۔ تمھارے فعل کی غایت اور انتہا تو بس یہ ہے کہ تم زمین میں ہل چلاتے اور اسے پھاڑ دیتے ہو اور پھر اس میں بیج ڈال دیتے ہو، تمھیں کوئی علم نہیں کہ اس کے بعد کیا ہوتا ہے اور اس سے زیادہ پر تمھیں کوئی قدرت و اختیار نہیں، اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ فرمایا کہ کھیتی خطرات کی زد میں رہتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کر کے، تمھاری گزاران اور ایک مدت مقررہ تک استعمال کے لیے اسے باقی نہ رکھتا (تو یہ کھیتی کبھی محفوظ نہ رہتی۔)﴿لَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنٰهُ﴾’’ اور اگر ہم چاہتے تو اسے کردیتے۔‘‘ یعنی یہ کاشت کی گئی کھیتی اور اس کے اندر موجود پھل کو ﴿حُطَامًا﴾ ریزہ ریزہ کیا گیا چورا، جس میں کسی قسم کا کوئی فائدہ ہے نہ رزق کا کام دیتا ہے ﴿ فَظَلۡتُمۡ﴾ یعنی اس کے چورا اور بھس بنائے جانے کے سبب سے، اس کے بعد کہ تم نے اس میں بہت مشقت اٹھائی اور بہت زیادہ اخراجات برداشت کیے ، پھر تم رہ جاتے۔﴿ تَفَكَّهُوۡنَ﴾ ندامت اٹھانے والے اور اس مصیبت پر حسرت زدہ ہو نے والے جو تم پر نازل ہوئی، تمھاری ساری فرحت، مسرت اور لذت زائل ہو جاتی اور تم کہہ اٹھتے :﴿اِنَّا لَمُغۡرَمُوۡنَ﴾ ’’کہ بلاشبہ ہم پر چٹی ڈال دی گئی۔‘‘ یعنی ہم نے نقصان اٹھایا، ہم پر ایسی مصیبت نازل ہوئی، جس نے ہمیں ہلاک کر ڈالا، پھر اس کے بعد تمھیں معلوم ہوتا کہ یہ مصیبت تم پر کہاں سے آئی اور کس سبب سے یہ آفت تم پرآن پڑی؟ پھر تم کہتے ﴿بَلۡ نَحۡنُ مَحۡرُوۡمُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم تو بالکل ہی محروم رہ گئے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش بیان کرو کہ اس نے تمھارے لیے کھیتی اگائی، اسے باقی رکھا ۔اسے تمھارے لیے پایۂ تکمیل کو پہنچایا، اس پر کوئی آفت نہ بھیجی جس کی وجہ سے تم اس کے فائدے اور اس کی بھلائی سے محروم ہو جاتے۔
Page 536
56:51
ثُمَّ إِنَّكُمۡ أَيُّهَا ٱلضَّآلُّونَ ٱلۡمُكَذِّبُونَ ٥١
Then indeed you, O those astray [who are] deniers,
56:52
لَأٓكِلُونَ مِن شَجَرٖ مِّن زَقُّومٖ ٥٢
Will be eating from trees of zaqqūm
56:53
فَمَالِـُٔونَ مِنۡهَا ٱلۡبُطُونَ ٥٣
And filling with it your bellies
56:54
فَشَٰرِبُونَ عَلَيۡهِ مِنَ ٱلۡحَمِيمِ ٥٤
And drinking on top of it from scalding water
56:55
فَشَٰرِبُونَ شُرۡبَ ٱلۡهِيمِ ٥٥
And will drink as the drinking of thirsty camels.
56:56
هَٰذَا نُزُلُهُمۡ يَوۡمَ ٱلدِّينِ ٥٦
That is their accommodation on the Day of Recompense.
56:57
نَحۡنُ خَلَقۡنَٰكُمۡ فَلَوۡلَا تُصَدِّقُونَ ٥٧
We have created you, so why do you not believe?
56:58
أَفَرَءَيۡتُم مَّا تُمۡنُونَ ٥٨
Have you seen that which you emit?1
1 translator’s note
- i.e., semen, which contains the potential for human life. ↩
56:59
ءَأَنتُمۡ تَخۡلُقُونَهُۥٓ أَمۡ نَحۡنُ ٱلۡخَٰلِقُونَ ٥٩
Is it you who creates it, or are We the Creator?
56:60
نَحۡنُ قَدَّرۡنَا بَيۡنَكُمُ ٱلۡمَوۡتَ وَمَا نَحۡنُ بِمَسۡبُوقِينَ ٦٠
We have decreed death among you, and We are not to be outdone
56:61
عَلَىٰٓ أَن نُّبَدِّلَ أَمۡثَٰلَكُمۡ وَنُنشِئَكُمۡ فِي مَا لَا تَعۡلَمُونَ ٦١
In that We will change your likenesses and produce you in that [form] which you do not know.1
1 translator’s note
- An alternative meaning has also been given: "...in that We will replace the likes of you [with others upon the earth] and create you [in the Hereafter] in that which you do not know." ↩
56:62
وَلَقَدۡ عَلِمۡتُمُ ٱلنَّشۡأَةَ ٱلۡأُولَىٰ فَلَوۡلَا تَذَكَّرُونَ ٦٢
And you have already known the first creation, so will you not remember?
56:63
أَفَرَءَيۡتُم مَّا تَحۡرُثُونَ ٦٣
And have you seen that [seed] which you sow?
56:64
ءَأَنتُمۡ تَزۡرَعُونَهُۥٓ أَمۡ نَحۡنُ ٱلزَّٰرِعُونَ ٦٤
Is it you who makes it grow, or are We the grower?
56:65
لَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنَٰهُ حُطَٰمٗا فَظَلۡتُمۡ تَفَكَّهُونَ ٦٥
If We willed, We could make it [dry] debris, and you would remain in wonder,1
1 translator’s note
- At what had happened or remain in a state of shock. Another meaning is "in regret." ↩
56:66
إِنَّا لَمُغۡرَمُونَ ٦٦
[Saying], "Indeed, we are [now] in debt;
56:67
بَلۡ نَحۡنُ مَحۡرُومُونَ ٦٧
Rather, we have been deprived."
56:68
أَفَرَءَيۡتُمُ ٱلۡمَآءَ ٱلَّذِي تَشۡرَبُونَ ٦٨
And have you seen the water that you drink?
56:69
ءَأَنتُمۡ أَنزَلۡتُمُوهُ مِنَ ٱلۡمُزۡنِ أَمۡ نَحۡنُ ٱلۡمُنزِلُونَ ٦٩
Is it you who brought it down from the clouds, or is it We who bring it down?
56:70
لَوۡ نَشَآءُ جَعَلۡنَٰهُ أُجَاجٗا فَلَوۡلَا تَشۡكُرُونَ ٧٠
If We willed, We could make it bitter, so why are you not grateful?
56:71
أَفَرَءَيۡتُمُ ٱلنَّارَ ٱلَّتِي تُورُونَ ٧١
And have you seen the fire that you ignite?
56:72
ءَأَنتُمۡ أَنشَأۡتُمۡ شَجَرَتَهَآ أَمۡ نَحۡنُ ٱلۡمُنشِـُٔونَ ٧٢
Is it you who produced its tree, or are We the producer?
56:73
نَحۡنُ جَعَلۡنَٰهَا تَذۡكِرَةٗ وَمَتَٰعٗا لِّلۡمُقۡوِينَ ٧٣
We have made it a reminder1 and provision for the travelers,2
56:74
فَسَبِّحۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلۡعَظِيمِ ٧٤
So exalt the name of your Lord, the Most Great.
56:75
۞ فَلَآ أُقۡسِمُ بِمَوَٰقِعِ ٱلنُّجُومِ ٧٥
Then I swear by the setting of the stars,1
1 translator’s note
- Allāh (subḥānahu wa taʿālā) confirms absolutely by oath. ↩
56:76
وَإِنَّهُۥ لَقَسَمٞ لَّوۡ تَعۡلَمُونَ عَظِيمٌ ٧٦
And indeed, it is an oath - if you could know - [most] great.