Al-Waqi'ahJuz 27 · Page 536

Al-Waqi'ah 56:76

The Inevitable · Juz 27 · Page 536

وَإِنَّهُۥ لَقَسَمٞ لَّوۡ تَعۡلَمُونَ عَظِيمٌ ٧٦

And indeed, it is an oath - if you could know - [most] great.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 56:75–87

پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی (75) اور بلاشبہ یہ البتہ قسم ہے، اگر تمھیں علم ہو، بہت بڑی (76) کہ بلاشبہ یہ قرآن ہے نہایت معزز (77) کتاب محفوظ میں (78) نہیں ہاتھ لگاتے اس کو مگر پاک (فرشتے) ہی(79) نازل کردہ ہے رب العالمین کی طرف سے (80) کیا پس اس حدیث (قرآن) سے تم بے اعتنائی کرتے ہو؟ (81) اور کرتے ہو تم اپنا حصہ یہ کہ تم تکذیب کرتے ہو (82) پس کیوں نہیں، جب پہنچتی ہے (روح) حلق تک (83) اور تم اس وقت دیکھتے ہو (84) اور ہم زیادہ قریب ہوتے ہیں اس سے تمھاری نسبت اور لیکن نہیں دیکھتے ہو تم (85) پس کیوں نہیں، اگر ہو تم نہیں بدلہ دیے جاؤ گے (86) پھیر لاتے تم اس (روح) کو، اگر ہو تم سچے؟ (87)

[75، 76] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ستاروں کی اور ان کے منازل ، یعنی ان کے غروب کے مقامات اور ان کے سقوط کی جگہ کی قسم کھائی ہے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے ان حوادث کی قسم کھائی ہے جو ان اوقات میں واقع ہوتے ہیں جو اس کی عظمت، اس کی کبریائی اور اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے جس چیز کی قسم کھائی ہے، اس کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا :﴿ وَاِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عَظِيۡمٌ﴾ اور یہ قسم صرف اس لیے عظمت کی حامل ہے کہ ستاروں، ان کی رفتار اور ان کے غروب کے مقامات میں ان کے سقوط کی جگہوں میں بہت سی نشانیاں اور عبرتیں ہیں جن کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔

[77] جس امر پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے قرآن کا اثبات، نیز یہ کہ قرآن حق ہے جس میں کوئی شک ہے نہ شبہ۔ یہ کریم ہے، یعنی بہت زیادہ بھلائی اور بہت زیادہ علم والا ہے، ہر بھلائی اور ہر علم اللہ تعالیٰ کی کتاب سے مستفاد اور مستنبط ہوتا ہے۔

[78]﴿ فِيۡ كِتٰبٍ مَّكۡنُوۡنٍ﴾ ’’ کتاب محفوظ میں ہے۔‘‘ یعنی مخلوق کی آنکھوں سے مستور ہے، یہ کتاب مکنون لوح محفوظ ہے، یعنی یہ قرآن لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے، اللہ تعالیٰ اور ملأاعلیٰ میں فرشتوں کے ہاں قابل عظمت ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ کتاب ہو جو ان فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوتی تھی جنھیں اللہ تعالیٰ اپنی وحی اور رسالت کے لیے نازل کرتا ہے، اور مراد یہ ہے کہ یہ کتاب شیاطین سے مستور ہے شیاطین کو اس میں تغیر تبدل ، کمی بیشی اور چوری کرنے کی قدرت حاصل نہیں۔

[79]﴿ لَّا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الۡمُطَهَّرُوۡنَ۠﴾ ’’اسے صرف پاک (فرشتے) ہی چھوتے ہیں۔‘‘ یعنی قرآن کریم کو صرف ملائکہ کرام ہی چھوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام آفات، گناہوں اور عیوب سے پاک کیا ہے۔ جب قرآن کو پاک ہستیوں کے سوا کوئی نہیں چھوتا اور ناپاک اور شیاطین اس کو چھو نہیں سکتے تو آیت کریمہ تنبیہاً اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ پاک شخص کے سوا کسی کے لیے قرآن کو چھونا جائز نہیں ۔

[80]﴿ تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یہ قرآن جو ان صفاتِ جلیلہ سے موصوف ہے، ربِ کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے جو دینی اور دنیاوی نعمتوں کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تربیت کرتا ہے، وہ جلیل ترین چیز جس کے ذریعے سے اس نے اپنے بندوں کی تربیت کی، اس قرآن کو نازل کرنا ہے جو دونوں جہانوں کے مصالح پر مشتمل ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ایسا رحم فرمایا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا نہیں کرسکتے۔ان پر واجب ہے کہ وہ اس قرآن کو قائم کریں، برسر عام اس کا اعلان کریں، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیں، اور اس کو کھلم کھلا بیان کریں۔

[81] بنابریں فرمایا: ﴿ اَفَبِهٰؔذَا الۡحَدِيۡثِ اَنۡتُمۡ مُّدۡهِنُوۡنَ﴾ ’’پھر تم اس کلام (قرآن) سے بے پروائی کرتے ہو؟‘‘یعنی کیا تم اس کتاب عظیم اور ذکر حکیم کو مخلوق کے خوف، ان کے عار اور ان کی زبانوں کے ڈر سے چھپاتے ہو؟ ایسا کرنا مناسب ہے نہ لائق شان ہے، لائق شان اور مناسب تو یہ ہے کہ اس بات میں مداہنت کی جائے جس کے بارے میں انسان کو وثوق حاصل نہ ہو۔رہا قرآن کریم تو یہ ایسا حق ہے کہ جب بھی کوئی مقابلہ کرنے والا اس کا مقابلہ کرتا ہے تو یہی غالب آتا ہے اور کوئی بھی حملہ آور اگر اس قرآن کے ساتھ حملہ کرتا ہے تو یہ اپنے مدمقابل کے مقابلے میں کامیاب رہتا ہے۔ قرآن ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں مداہنت کی جائے نہ اسے چھپایا جائے بلکہ برسر عام اس کا اعلان کیا جائے۔

[82]﴿ وَتَجۡعَلُوۡنَ رِزۡقَكُمۡ اَنَّـكُمۡ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ تم جھٹلاتے پھرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے احسان و عنایت کا مقابلہ وظیفۂ تکذیب اور اس کی نعمت کی ناسپاسی کے ذریعے سے کرتے ہو اور کہتے ہو ’’فلاں ستارے کے طلوع ہونے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی‘‘ اور تم نعمت کو ان ہستیوں کی طرف منسوب کرتے ہو جنھوں نے یہ نعمتیں عطا نہیں کیں۔ پس تم نے اللہ تعالیٰ کا شکر کیوں ادا نہ کیا کہ اسی نے تم پر یہ بارش برسائی ہے تاکہ وہ تمھیں اور زیادہ اپنے فعل و کرم سے سرفراز کرے کیونکہ کفر و تکذیب نعمتوں کو اٹھا لینے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے نازل ہونے کے اسباب ہیں۔

[85-83]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الۡحُلۡقُوۡمَۙ۰۰وَاَنۡتُمۡ حِيۡنَىِٕذٍ تَنۡظُرُوۡنَۙ۰۰وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡؔكُمۡ وَلٰكِنۡ لَّا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ یعنی جب روح حلق تک پہنچتی ہے اور تم اس حالت میں موت کے آنے کا منظر دیکھ رہے ہوتے ہو، حالانکہ ہم اپنے علم اور اپنے فرشتوں کے ذریعے سے، مرنے والے کے تم سے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم دیکھ نہیں سکتے۔

[86، 87]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ غَيۡرَ مَدِيۡنِيۡنَ۰۰ تَرۡجِعُوۡنَهَاۤ۠﴾ ’’پس اگر تم کسی کے زیر فرمان نہیں، تو کیوں نہیں اس روح کو پھیر لیتے۔‘‘ یعنی بھلا جب تم اس زعم باطل میں مبتلا ہو کہ تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا نہ تمھارا حساب کتاب کر کے تمھیں جزا و سزا دی جائے گی تو تم روح کو بدن میں واپس کیوں نہیں لے آتے ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم سچے ہو۔‘‘ حالانکہ تم اقرار کرتے ہو کہ تم اس روح کو بدن میں واپس لانے سے عاجز ہو، تب تمھیں یا تو اس حق کا اقرار کرنا ہو گا جو محمد کریمﷺ لے کر آئے ہیں یا تم عناد رکھو گے، پس تمھارا حال اور تمھارا برا انجام معلوم ہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 536

Al-Waqi'ahJuz 27 · Page 536

56:51

ثُمَّ إِنَّكُمۡ أَيُّهَا ٱلضَّآلُّونَ ٱلۡمُكَذِّبُونَ ٥١

Then indeed you, O those astray [who are] deniers,

56:52

لَأٓكِلُونَ مِن شَجَرٖ مِّن زَقُّومٖ ٥٢

Will be eating from trees of zaqqūm

56:53

فَمَالِـُٔونَ مِنۡهَا ٱلۡبُطُونَ ٥٣

And filling with it your bellies

56:54

فَشَٰرِبُونَ عَلَيۡهِ مِنَ ٱلۡحَمِيمِ ٥٤

And drinking on top of it from scalding water

56:55

فَشَٰرِبُونَ شُرۡبَ ٱلۡهِيمِ ٥٥

And will drink as the drinking of thirsty camels.

56:56

هَٰذَا نُزُلُهُمۡ يَوۡمَ ٱلدِّينِ ٥٦

That is their accommodation on the Day of Recompense.

56:57

نَحۡنُ خَلَقۡنَٰكُمۡ فَلَوۡلَا تُصَدِّقُونَ ٥٧

We have created you, so why do you not believe?

56:58

أَفَرَءَيۡتُم مَّا تُمۡنُونَ ٥٨

Have you seen that which you emit?1

1 translator’s note
  1. i.e., semen, which contains the potential for human life. ↩

56:59

ءَأَنتُمۡ تَخۡلُقُونَهُۥٓ أَمۡ نَحۡنُ ٱلۡخَٰلِقُونَ ٥٩

Is it you who creates it, or are We the Creator?

56:60

نَحۡنُ قَدَّرۡنَا بَيۡنَكُمُ ٱلۡمَوۡتَ وَمَا نَحۡنُ بِمَسۡبُوقِينَ ٦٠

We have decreed death among you, and We are not to be outdone

56:61

عَلَىٰٓ أَن نُّبَدِّلَ أَمۡثَٰلَكُمۡ وَنُنشِئَكُمۡ فِي مَا لَا تَعۡلَمُونَ ٦١

In that We will change your likenesses and produce you in that [form] which you do not know.1

1 translator’s note
  1. An alternative meaning has also been given: "...in that We will replace the likes of you [with others upon the earth] and create you [in the Hereafter] in that which you do not know." ↩

56:62

وَلَقَدۡ عَلِمۡتُمُ ٱلنَّشۡأَةَ ٱلۡأُولَىٰ فَلَوۡلَا تَذَكَّرُونَ ٦٢

And you have already known the first creation, so will you not remember?

56:63

أَفَرَءَيۡتُم مَّا تَحۡرُثُونَ ٦٣

And have you seen that [seed] which you sow?

56:64

ءَأَنتُمۡ تَزۡرَعُونَهُۥٓ أَمۡ نَحۡنُ ٱلزَّٰرِعُونَ ٦٤

Is it you who makes it grow, or are We the grower?

56:65

لَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنَٰهُ حُطَٰمٗا فَظَلۡتُمۡ تَفَكَّهُونَ ٦٥

If We willed, We could make it [dry] debris, and you would remain in wonder,1

1 translator’s note
  1. At what had happened or remain in a state of shock. Another meaning is "in regret." ↩

56:66

إِنَّا لَمُغۡرَمُونَ ٦٦

[Saying], "Indeed, we are [now] in debt;

56:67

بَلۡ نَحۡنُ مَحۡرُومُونَ ٦٧

Rather, we have been deprived."

56:68

أَفَرَءَيۡتُمُ ٱلۡمَآءَ ٱلَّذِي تَشۡرَبُونَ ٦٨

And have you seen the water that you drink?

56:69

ءَأَنتُمۡ أَنزَلۡتُمُوهُ مِنَ ٱلۡمُزۡنِ أَمۡ نَحۡنُ ٱلۡمُنزِلُونَ ٦٩

Is it you who brought it down from the clouds, or is it We who bring it down?

56:70

لَوۡ نَشَآءُ جَعَلۡنَٰهُ أُجَاجٗا فَلَوۡلَا تَشۡكُرُونَ ٧٠

If We willed, We could make it bitter, so why are you not grateful?

56:71

أَفَرَءَيۡتُمُ ٱلنَّارَ ٱلَّتِي تُورُونَ ٧١

And have you seen the fire that you ignite?

56:72

ءَأَنتُمۡ أَنشَأۡتُمۡ شَجَرَتَهَآ أَمۡ نَحۡنُ ٱلۡمُنشِـُٔونَ ٧٢

Is it you who produced its tree, or are We the producer?

56:73

نَحۡنُ جَعَلۡنَٰهَا تَذۡكِرَةٗ وَمَتَٰعٗا لِّلۡمُقۡوِينَ ٧٣

We have made it a reminder1 and provision for the travelers,2

2 translator’s notes
  1. Of the great fire of Hell.

    [1617] In the form of flints or other means by which to ignite fire. Travelers are mentioned because of the special convenience to them, although it is a provision for all people in general.

    ↩
  2. ↩

56:74

فَسَبِّحۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلۡعَظِيمِ ٧٤

So exalt the name of your Lord, the Most Great.

56:75

۞ فَلَآ أُقۡسِمُ بِمَوَٰقِعِ ٱلنُّجُومِ ٧٥

Then I swear by the setting of the stars,1

1 translator’s note
  1. Allāh (subḥānahu wa taʿālā) confirms absolutely by oath. ↩

56:76

وَإِنَّهُۥ لَقَسَمٞ لَّوۡ تَعۡلَمُونَ عَظِيمٌ ٧٦

And indeed, it is an oath - if you could know - [most] great.

As-Sa'diTafsir · 56:76

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском