Al-Waqi'ah 56:94
The Inevitable · Juz 27 · Page 537
وَتَصۡلِيَةُ جَحِيمٍ ٩٤
And burning in Hellfire.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 56:88–96
پس لیکن اگر ہے وہ (مُردہ) مقربین میں سے ہو (88) تو ہے (اس کے لیے) راحت اور خوشبو اور نعمتوں والا باغ(89) اور لیکن اگر ہے وہ اصحاب الیمین میں سے (90) تو (کہا جائے گا:) سلامتی ہے تیرے لیے، (تو) اصحاب الیمین میں سے ہے (91) اور لیکن اگر ہے وہ، تکذیب کرنے والے گمراہوں میں سے (92) تو مہمانی ہو گی (اس کی) گرم کھولتے پانی سے (93) اور داخل کرنا ہے جہنم میں (94) بلاشبہ یہ (خبر) یہی یقینی حق ہے (95) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظیم ہے (96)
[88، 89] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ کے اوائل میں، قیامت کے دن تین گروہوں، یعنی مقربین، اصحاب یمین اور مکذبین کے احوال کا ذکر فرمایا، پھر اس کے آخر میں ان کے ان احوال کا ذکر فرمایا جب موت کا وقت آ پہنچے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠﴾ اگر مرنے والا اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں میں سے ہو گا۔ اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو واجبات و مستحبات کی ادائیگی اور محرمات و مکروہات اور بے فائدہ مباحات سے اجتناب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کے حصول میں کوشاں رہے ہوں گے۔ ﴿ فَرَوۡحٌ﴾ تب ان کے لیے راحت و اطمینان ، فرحت و سرور اور قلب و روح کی نعمتیں ہوں گی ﴿وَّرَيۡحَانٌ﴾ یہ ایسی لذت بدنی کے لیے ایک جامع لفظ ہے جو مختلف انواع کےماکولات و مشروبات پر مشتمل ہو۔کہا جاتا ہے ’’ریحان‘‘ سے مراد معروف خوشبو ہے، تب یہ کسی چیز کی نوع کے ذریعے سے اس کی جنس عام کی تعبیر کے باب میں سے ہے۔ ﴿ وَّجَنَّتُ نَعِيۡمٍ ﴾ ’’اور نعمتوں والی جنت ہے۔‘‘ جو دونوں امور کی جامع ہو گی، اس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے تصور میں ان کا گزر ہوا ہے۔ مقربین کی موت کے قرب کے وقت، ان کو ان نعمتوں کی بشارت دی جاتی ہے جس کی بنا پر فرحت اور سرور سے ان کی ارواح اڑنے لگتی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا تَتَنَزَّلُ عَلَيۡهِمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَاَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّةِ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ۰۰ نَحۡنُ اَوۡلِيٰٓؤُكُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ١ۚ وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَا تَشۡتَهِيۡۤ اَنۡفُسُكُمۡ وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَا تَدَّعُوۡنَؕ۰۰نُزُلًا مِّنۡ غَفُوۡرٍ رَّحِيۡمٍ۰۰﴾( حٰمۗ السجدۃ:41/30-32) ’’بے شک وہ لوگ جنھوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے، پھر اس پر قائم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوں گے اور کہیں گے کہ تم ڈرو نہ غم کھاؤ ، اور جنت کی خوشخبری سے خوش ہو جاؤ جس کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا، دنیا کی زندگی میں بھی ہم تمھارے دوست تھے اور آخرت (کی زندگی) میں بھی (ہم تمھارے دوست ہوں گے) اس جنت میں تمھارے لیے ہر وہ چیز ہو گی جس کی تمھارے دل خواہش کریں گے اور اس میں تمھیں ہر وہ چیز ملے گی جو تم طلب کرو گے۔ یہ سب کچھ رب غفور و رحیم کی طرف سے مہمانی کے طور پر ہو گا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد : ﴿ لَهُمُ الۡبُشۡرٰؔى فِي الۡحَؔيٰؔوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’(یونس:10/64) ’’ان کے لیے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں خوشخبری ہے۔‘‘ کی تفسیر یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ مذکورہ بشارت، دنیا کی زندگی کی بشارت ہے۔
[90، 91]﴿ وَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’اور اگر وہ داہنے ہاتھ والوں میں سے ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے واجبات کو ادا کیا اور محرمات کو ترک کیا، اگرچہ ان سے بعض ایسے حقوق کے بارے میں کوتاہی سرزد ہوئی جن سے ان کے ایمان اور توحید میں خلل واقع نہیں ہوا﴿فَـــ﴾ تو ان میں سے ہر کسی سے کہا جائے گا: ﴿سَلٰمٌ لَّكَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ الۡيَمِيۡنِ﴾ تمھارے اصحاب یمین بھائیوں کی طرف سے تمھیں سلامتی حاصل ہے۔ یعنی جب وہ ان کے پاس پہنچے گا اور ان سے ملاقات کرے گا تو وہ اسے سلام اور خوش آمدید کہیں گے۔ یا اس سے کہا جائے گا کہ دنیا کی آفات، مصائب اور عذاب سے تم سلامت ہو کیونکہ تم اصحاب یمین میں سے ہو جو ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچتے رہے ہیں۔
[94-92]﴿ وَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡمُكَذِّبِيۡنَ۠ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور لیکن اگر وہ تکذیب کرنے والے گمراہوں میں سے ہوا۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے حق کو جھٹلایا اور ہدایت کے راستے سے بھٹک گئے ﴿ فَنُزُلٌ مِّنۡ حَمِيۡمٍۙ۰۰ وَّتَصۡلِيَةُ جَحِيۡمٍ ۰۰﴾ تو جس روز وہ اپنے رب کی خدمت میں حاضر ہوں گے، اس روز ان کی ضیافت یہ ہو گی کہ ان کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا جو ان کو گھیرے گی اور ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی اور جب وہ پیاس کی شدت سے پانی مانگیں گے ﴿ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ١ؕ بِئۡسَ الشَّرَابُ١ؕ وَسَآءَتۡ مُرۡتَفَقًا﴾(الکہف:18؍29) ’’تو انھیں ایسا کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا، جو پگھلے ہوئے تانپے کے مانند گرم ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا، ان کا مشروب کتنا برا، اور ان کی آرام گاہ کتنی بری ہو گی۔‘‘
[95]﴿ اِنَّ هٰؔذَا﴾ یہ سب کچھ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، مثلاً: بندوں کے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا، اور اس کی تفاصیل ﴿ لَهُوَ حَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’بلاشبہ یہی (مذکور) حق الیقین ہے۔‘‘ یعنی اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ بلکہ یہ ثابت شدہ حق ہے جس کا وقوع لازمی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے سامنے، اس پر قطعی دلائل پیش کیے ہیں اور اس کی حیثیت خرد مندوں کے نزدیک ایسے ہے گویا کہ وہ اس کا ذائقہ چکھ رہے ہوں اور اس کی حقیقت کا مشاہدہ کر رہے ہوں۔ پس انھوں نے اس امر پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی کہ اس نے ان کو اس عظیم نعمت اور اتنی بڑی عنایت سے مختص کیا۔
[96] بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’لہٰذا تو اپنے عظیم الشان پروردگار کی تسبیح کر۔‘‘ پس پاک ہے ہمارا رب عظیم، منزہ اور بہت بلند و برتران باتوں سے جو منکرین حق (اس کے بارے میں)کرتے ہیں۔
Page 537
56:77
إِنَّهُۥ لَقُرۡءَانٞ كَرِيمٞ ٧٧
Indeed, it is a noble Qur’ān.
56:78
فِي كِتَٰبٖ مَّكۡنُونٖ ٧٨
In a Register well-protected;1.
1 translator’s note
- The Preserved Slate (al-Lawḥ al-Maḥfūẓ), which is with Allāh (subḥānahu wa taʿālā). ↩
56:79
لَّا يَمَسُّهُۥٓ إِلَّا ٱلۡمُطَهَّرُونَ ٧٩
None touch it except the purified [i.e., the angels].
56:80
تَنزِيلٞ مِّن رَّبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٨٠
[It is] a revelation from the Lord of the worlds.
56:81
أَفَبِهَٰذَا ٱلۡحَدِيثِ أَنتُم مُّدۡهِنُونَ ٨١
Then is it to this statement that you are indifferent
56:82
وَتَجۡعَلُونَ رِزۡقَكُمۡ أَنَّكُمۡ تُكَذِّبُونَ ٨٢
And make [the thanks for] your provision that you deny [the Provider]?
56:83
فَلَوۡلَآ إِذَا بَلَغَتِ ٱلۡحُلۡقُومَ ٨٣
Then why, when it [i.e., the soul at death] reaches the throat
56:84
وَأَنتُمۡ حِينَئِذٖ تَنظُرُونَ ٨٤
And you are at that time looking on -
56:85
وَنَحۡنُ أَقۡرَبُ إِلَيۡهِ مِنكُمۡ وَلَٰكِن لَّا تُبۡصِرُونَ ٨٥
And We [i.e., Our angels] are nearer to him than you, but you do not see -
56:86
فَلَوۡلَآ إِن كُنتُمۡ غَيۡرَ مَدِينِينَ ٨٦
Then why do you not, if you are not to be recompensed,
56:87
تَرۡجِعُونَهَآ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ٨٧
Bring it back,1 if you should be truthful?
1 translator’s note
- i.e., return the soul to the body, meaning that just as you cannot prevent death when it is decreed, you will not escape the recompense when it is decreed. ↩
56:88
فَأَمَّآ إِن كَانَ مِنَ ٱلۡمُقَرَّبِينَ ٨٨
And if he [i.e., the deceased] was of those brought near [to Allāh],
56:89
فَرَوۡحٞ وَرَيۡحَانٞ وَجَنَّتُ نَعِيمٖ ٨٩
Then [for him is] rest and bounty and a garden of pleasure.
56:90
وَأَمَّآ إِن كَانَ مِنۡ أَصۡحَٰبِ ٱلۡيَمِينِ ٩٠
And if he was of the companions of the right,
56:91
فَسَلَٰمٞ لَّكَ مِنۡ أَصۡحَٰبِ ٱلۡيَمِينِ ٩١
Then [the angels will say], "Peace for you; [you are] from the companions of the right."
56:92
وَأَمَّآ إِن كَانَ مِنَ ٱلۡمُكَذِّبِينَ ٱلضَّآلِّينَ ٩٢
But if he was of the deniers [who were] astray,
56:93
فَنُزُلٞ مِّنۡ حَمِيمٖ ٩٣
Then [for him is] accommodation of scalding water
56:94
وَتَصۡلِيَةُ جَحِيمٍ ٩٤
And burning in Hellfire.
56:95
إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ حَقُّ ٱلۡيَقِينِ ٩٥
Indeed, this is the true certainty,
56:96
فَسَبِّحۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلۡعَظِيمِ ٩٦
So exalt the name of your Lord, the Most Great.
سورة الحديد
Al-Hadid
The Iron · Medinan · 29 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
57:1
سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ١
Whatever is in the heavens and earth exalts Allāh,1 and He is the Exalted in Might, the Wise.
1 translator’s note
- By praising Him and declaring Him far above and beyond any failure or imperfection. ↩
57:2
لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ يُحۡيِۦ وَيُمِيتُۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ ٢
His is the dominion of the heavens and earth. He gives life and causes death, and He is over all things competent.
57:3
هُوَ ٱلۡأَوَّلُ وَٱلۡأٓخِرُ وَٱلظَّٰهِرُ وَٱلۡبَاطِنُۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٌ ٣
He is the First1 and the Last,2 the Ascendant3 and the Intimate,4 and He is, of all things, Knowing.
4 translator’s notes
Before whom nothing existed. Also, He who is supreme, foremost or uppermost.
[1624] Enduring eternally when nothing else remains.
[1625] Nothing being above Him. Another meaning is "the Apparent," i.e., evident through His creation and revelation.
[1626] Nothing being nearer than Him by way of His knowledge. Another meaning is "the Unapparent," i.e., concealed from man's physical senses.
↩- ↩
- ↩
- ↩