Al-Hadid 57:13
The Iron · Juz 27 · Page 539
يَوۡمَ يَقُولُ ٱلۡمُنَٰفِقُونَ وَٱلۡمُنَٰفِقَٰتُ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱنظُرُونَا نَقۡتَبِسۡ مِن نُّورِكُمۡ قِيلَ ٱرۡجِعُواْ وَرَآءَكُمۡ فَٱلۡتَمِسُواْ نُورٗاۖ فَضُرِبَ بَيۡنَهُم بِسُورٖ لَّهُۥ بَابُۢ بَاطِنُهُۥ فِيهِ ٱلرَّحۡمَةُ وَظَٰهِرُهُۥ مِن قِبَلِهِ ٱلۡعَذَابُ ١٣
On the [same] Day the hypocrite men and hypocrite women will say to those who believed, "Wait for us that we may acquire some of your light." It will be said, "Go back behind you1 and seek light." And a wall will be placed between them with a door, its interior containing mercy, but on the outside of it is torment.
1 translator’s note
- To where light was acquired, i.e., in the worldly life. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 57:12–15
اس دن آپ دیکھیں گے ایمان والوں اور ایمان والیوں کو کہ دوڑتا ہو گا نور ان کا آگے ان کے اور دائیں ان کے خوش خبری ہے تمھیں آج ایسے باغات کی کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں، یہی ہے وہ کامیابی بڑی (12) اس دن کہیں گے منافق مرد اور منافق عورتیں ان لوگوں سے جو ایمان لائے، تم انتظار کرو ہمارا کہ ہم بھی کچھ روشنی حاصل کر لیں تمھارے نور سے (ان سے) کہا جائے گا، تم لوٹ جاؤ اپنے پیچھے ، پھر تلاش کرو نور! پس حائل کر دی جائے گی ان کے درمیان ایک دیوار اس کا ایک دروازہ ہو گا، اندر اس کے اس میں رحمت ہو گی اور باہر اس کے اس کی طرف عذاب ہو گا (13) وہ پکاریں گے ان (مومنوں) کو، کیانہ تھے ہم تمھارے ساتھ(دنیا میں)؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں اور لیکن تم نے فتنے میں ڈالا تھا خود کو اور انتظار کیا تم نے اور شک کیا تم نے اور فریب دیا تمھیں خواہشوں نے یہاں تک کہ آ پہنچا حکم اللہ کا اور دھوکا دیا تمھیں اللہ کی بابت دھوکے باز نے (14) پس آج نہ لیا جائے گا تم سے کوئی فدیہ اور نہ ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، تمھارا ٹھکانا آگ ہے، وہی تمھارے زیادہ لائق ہے اور بری جگہ ہے لوٹ جانے کی (وہ آگ)(15)
[12] اللہ تعالیٰ ایمان کی فضیلت اور قیامت کے روز اہل ایمان کی فرحت و مسرت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ يَوۡمَ تَرَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ يَسۡعٰى نُوۡرُهُمۡ بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَبِاَيۡمَانِهِمۡ﴾ ’’اس دن آپ ایمان والوں اور ایمان والیوں کو دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں دوڑتا ہوگا۔‘‘ یعنی جب قیامت کا دن ہو گا سورج کو لپیٹ دیا جائے گا، چاند کو بے نور کر دیا جائے گا، تمام لوگ اندھیرے میں ہوں گے اور جہنم کے اوپر پل صراط نصب کر دیا جائے گا، تب تو مومنین اور مومنات کو دیکھے گا کہ ان کی روشنی ان کے آگے، اور ان کے دائیں بائیں چل رہی ہو گی اور وہ اس نہایت مشکل اور ہولناک مقام پر، اپنے ایمان اور روشنی کے ساتھ جا رہے ہوں گے، ہر شخص کو اپنے اپنے ایمان کی مقدار کے مطابق روشنی حاصل ہو گی۔اس مقام پر ان کو سب سے بڑی خوشخبری دی جائے گی، پس ان سے کہا جائے گا:﴿ بُشۡرٰؔىكُمُ الۡيَوۡمَ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ﴾ ’’تم کو بشارت ہو کہ آج تمھارے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں تم ان میں ہمیشہ رہو گے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ اللہ اللہ! یہ خوشخبری ان کے دلوں کے لیے کتنی شیریں اور ان کے نفوس کے لیے کتنی لذیذ ہو گی جہاں انھیں ہر مطلوب و محبوب چیز حاصل ہو گی اور وہ ہر شر اور ڈرانے والے امر سے نجات پائیں گے۔
[13] جب منافقین دیکھیں گے کہ اہل ایمان روشنی میں چلے جا رہے ہیں اور خود ان کی روشنی بجھ گئی ہے اور وہ اندھیروں میں حیران و پریشان باقی رہ گئے ہیں تو وہ اہل ایمان سے کہیں گے: ﴿ انۡظُرُوۡنَا نَقۡتَبِسۡ مِنۡ نُّوۡرِكُمۡ﴾ یعنی ٹھہرو! تاکہ ہم تمھاری روشنی سے کچھ روشنی لے کر اس کے اندر چل سکیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں تو ﴿ قِيۡلَ﴾ ان سے کہا جائے گا : ﴿ ارۡجِعُوۡا وَرَآءَؔكُمۡ فَالۡتَمِسُوۡا نُوۡرًؔا﴾ ’’پیچھے لوٹ کر جاؤ اور روشنی تلاش کرو۔‘‘ یعنی اگر ایسا کرنا ممکن ہے، حالانکہ یہ ممکن نہ ہو گا بلکہ یہ بالکل محال ہو گا ﴿ فَضُرِبَ بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’تب حائل کر دی جائے گی ان کے درمیان۔‘‘ یعنی مومنین اور منافقین کے درمیان ﴿ بِسُوۡرٍ﴾ ناقابل عبور دیوار کھڑی کر دی جائے گی اور ایک محفوظ رکاوٹ بنا دی جائے گی ﴿ لَّهٗ بَابٌؔ١ؕ بَاطِنُهٗ فِيۡهِ الرَّحۡمَةُ ﴾ ’’جس کا ایک دروازہ ہوگا جو اس کی اندرونی جانب ہے اس میں تو رحمت ہے۔‘‘ اور یہ وہ حصہ ہے جو مومنین کی طرف ہو گا ﴿ وَظَاهِرُهٗ مِنۡ قِبَلِهِ الۡعَذَابُ﴾ ’’اور جو اس کی بیرونی جانب ہے اس طرف عذاب ہے۔‘‘ اور یہ وہ حصہ ہے جو منافقین کی طرف ہو گا۔
[14] منافقین اہل ایمان کو پکاریں گے اور رحم کی درخواست کرتے ہوئے نہایت عاجزی سے کہیں گے: ﴿ اَلَمۡ نَؔكُنۡ مَّعَكُمۡ﴾ کیا دنیا میں لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کہنے میں ہم تمھارے ساتھ نہ تھے، ہم بھی نمازیں پڑھتے تھے، روزے رکھتے تھے، جہاد کرتے تھے اور تمھارے جیسے عمل کرتے تھے؟ ﴿ قَالُوۡا بَلٰى﴾ مومنین جواب دیں گے: کیوں نہیں! تم دنیا میں ہمارے ساتھ تھے اور ظاہر میں ہمارے جیسے اعمال بھی بجا لاتے تھے، مگر تمھارے اعمال ایمان ، سچی اور صالح نیت سے خالی تھے بلکہ ﴿ فَتَنۡتُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ وَتَرَبَّصۡتُمۡ وَارۡتَبۡتُمۡ﴾ ’’ تم نے خود اپنے آپ کو فتنے میں ڈال لیا تھا اور تم نے (اہل ایمان کی بابت گردشِ زمانہ کا) انتظار کیا اور شک کرتے رہے۔‘‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر میں شک کیا جو شک کو قبول نہیں کرتی۔ ﴿ وَغَرَّتۡكُمُ الۡاَمَانِيُّ﴾ یعنی جھوٹی تمناؤ ں نے تمھیں دھوکے میں رکھا، تم تمنا کرتے تھے کہ تم بھی مومنین کے مقام پر پہنچ جاؤ گے اور حال تمھارا یہ تھا کہ تم دولتِ یقین سے تہی دامن تھے۔ ﴿ حَتّٰى جَآءَ اَمۡرُ اللّٰهِ﴾ حتیٰ کہ موت نے تمھیں آ لیا اور تمھاری وہی مذموم حالت تھی۔ ﴿ وَغَرَّؔكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ﴾ ’’تمھیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے والے نے دھوکے ہی میں رکھا۔‘‘ اس سے مراد شیطان ہے جس نے کفر اور شک کو تمھارے سامنے آراستہ کر دیا، تم اس پر بڑے مطمئن تھے، تم نے اس کے وعدے پر بھروسہ کیا اور اس کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کی۔
[15]﴿ فَالۡيَوۡمَ لَا يُؤۡخَذُ مِنۡكُمۡ فِدۡيَةٌ وَّلَا مِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’لہٰذا آج تم سے فدیہ قبول کیا جائے گا نہ کافروں سے۔‘‘ اگرچہ تم زمین بھر سونا، نیز اتنا ہی مزید اپنے فدیے میں ادا کرو تو تم سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا ﴿ مَاۡوٰىكُمُ النَّارُ﴾ یعنی جہنم تمھارا ٹھکانا ہے ﴿ هِيَ مَوۡلٰىكُمۡ﴾ یہ جہنم تمھارا والی ہو گا اور تمھیں اپنے پاس رکھے گا ﴿ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ اور جہنم بہت برا ٹھکانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗۙ۰۰فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌؕ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَاهِيَهۡؕ۰۰ نَارٌ حَامِيَةٌ﴾(القارعۃ:101؍8-11) ’’اور جن کے اعمال کے وزن ہلکے نکلیں گے تو ان کا ٹھکانا ہاویہ ہے، اور آپ کیا جانیں کہ یہ ہاویہ کیا ہے، یہ دہکتی ہوئی آگ ہے۔‘‘
Page 539
57:12
يَوۡمَ تَرَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ يَسۡعَىٰ نُورُهُم بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَبِأَيۡمَٰنِهِمۖ بُشۡرَىٰكُمُ ٱلۡيَوۡمَ جَنَّٰتٞ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ ١٢
On the Day you see the believing men and believing women, their light proceeding before them and on their right, [it will be said], "Your good tidings today are [of] gardens beneath which rivers flow, wherein you will abide eternally." That is what is the great attainment.
57:13
يَوۡمَ يَقُولُ ٱلۡمُنَٰفِقُونَ وَٱلۡمُنَٰفِقَٰتُ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱنظُرُونَا نَقۡتَبِسۡ مِن نُّورِكُمۡ قِيلَ ٱرۡجِعُواْ وَرَآءَكُمۡ فَٱلۡتَمِسُواْ نُورٗاۖ فَضُرِبَ بَيۡنَهُم بِسُورٖ لَّهُۥ بَابُۢ بَاطِنُهُۥ فِيهِ ٱلرَّحۡمَةُ وَظَٰهِرُهُۥ مِن قِبَلِهِ ٱلۡعَذَابُ ١٣
On the [same] Day the hypocrite men and hypocrite women will say to those who believed, "Wait for us that we may acquire some of your light." It will be said, "Go back behind you1 and seek light." And a wall will be placed between them with a door, its interior containing mercy, but on the outside of it is torment.
1 translator’s note
- To where light was acquired, i.e., in the worldly life. ↩
57:14
يُنَادُونَهُمۡ أَلَمۡ نَكُن مَّعَكُمۡۖ قَالُواْ بَلَىٰ وَلَٰكِنَّكُمۡ فَتَنتُمۡ أَنفُسَكُمۡ وَتَرَبَّصۡتُمۡ وَٱرۡتَبۡتُمۡ وَغَرَّتۡكُمُ ٱلۡأَمَانِيُّ حَتَّىٰ جَآءَ أَمۡرُ ٱللَّهِ وَغَرَّكُم بِٱللَّهِ ٱلۡغَرُورُ ١٤
They [i.e., the hypocrites] will call to them [i.e., the believers], "Were we not with you?" They will say, "Yes, but you afflicted yourselves1 and awaited [misfortune for us] and doubted, and wishful thinking deluded you until there came the command of Allāh. And the Deceiver [i.e., Satan] deceived you concerning Allāh.
1 translator’s note
- By hypocrisy or by falling into temptations. ↩
57:15
فَٱلۡيَوۡمَ لَا يُؤۡخَذُ مِنكُمۡ فِدۡيَةٞ وَلَا مِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْۚ مَأۡوَىٰكُمُ ٱلنَّارُۖ هِيَ مَوۡلَىٰكُمۡۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ ١٥
So today no ransom will be taken from you or from those who disbelieved. Your refuge is the Fire. It is most worthy of you, and wretched is the destination."
57:16
۞ أَلَمۡ يَأۡنِ لِلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَن تَخۡشَعَ قُلُوبُهُمۡ لِذِكۡرِ ٱللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ ٱلۡحَقِّ وَلَا يَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلُ فَطَالَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡأَمَدُ فَقَسَتۡ قُلُوبُهُمۡۖ وَكَثِيرٞ مِّنۡهُمۡ فَٰسِقُونَ ١٦
Has the time not come for those who have believed that their hearts should become humbly submissive at the remembrance of Allāh and what has come down of the truth? And let them not be like those who were given the Scripture before, and a long period passed over them, so their hearts hardened; and many of them are defiantly disobedient.
57:17
ٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ يُحۡيِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَاۚ قَدۡ بَيَّنَّا لَكُمُ ٱلۡأٓيَٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ ١٧
Know that Allāh gives life to the earth after its lifelessness. We have made clear to you the signs; perhaps you will understand.1
1 translator’s note
- That similarly, Allāh (subḥānahu wa taʿālā) can soften a heart after its hardness and guide one who had previously been astray. ↩
57:18
إِنَّ ٱلۡمُصَّدِّقِينَ وَٱلۡمُصَّدِّقَٰتِ وَأَقۡرَضُواْ ٱللَّهَ قَرۡضًا حَسَنٗا يُضَٰعَفُ لَهُمۡ وَلَهُمۡ أَجۡرٞ كَرِيمٞ ١٨
Indeed, the men who practice charity and the women who practice charity and [they who] have loaned Allāh a goodly loan - it will be multiplied for them, and they will have a noble reward.