Al-Hadid 57:19
The Iron · Juz 27 · Page 540
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦٓ أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلصِّدِّيقُونَۖ وَٱلشُّهَدَآءُ عِندَ رَبِّهِمۡ لَهُمۡ أَجۡرُهُمۡ وَنُورُهُمۡۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَكَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَآ أُوْلَٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَحِيمِ ١٩
And those who have believed in Allāh and His messengers - those are [in the ranks of] the supporters of truth and the martyrs, with their Lord. For them is their reward and their light.1 But those who have disbelieved and denied Our verses - those are the companions of Hellfire.
1 translator’s note
- Another accepted meaning is "And those who have believed in Allāh and His messengers - they are the supporters of truth. And the martyrs, with their Lord, will have their reward and their light." ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 57:18–19
بلاشبہ صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور جنھوں نے قرض دیا اللہ کو قرض حسنہ تو وہ بڑھایا جائے گا واسطے ان کے اور ان کے لیے ہے اجر عمدہ (18) اور وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے، یہی لوگ ہیں راست باز، اور گواہی دینے والے نزدیک اپنے رب کے، ان کے لیے اجر ہے ان کا اور نور ہے ان کا اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو یہی ہیں جہنمی(19)
[18]﴿ اِنَّ الۡمُصَّؔدِّقِيۡنَ وَالۡمُصَّدِّقٰتِ﴾ یعنی وہ مرداور عورتیں جو نہایت کثرت سے صدقہ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ ﴿وَاَقۡرَضُوا اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا﴾’’او راللہ کو اچھا قرض دیتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ بھلائی کے راستوں میں اپنا مال پیش کرتے ہیں جو ان کے رب کے ہاں ان کے لیے ذخیرہ بن جاتا ہے۔ ﴿ يُّضٰعَفُ لَهُمۡ﴾ ’’ان کو دو چند اجر دیا جائے گا۔‘‘ ایک نیکی کا اجر و ثواب دس سے لے کر سات سو گنا اور اس سے بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے ﴿ وَلَهُمۡ اَجۡرٌؔ كَرِيۡمٌ﴾’ ’اور ان کے لیے اجر کریم ہے۔‘‘ یہ وہ اجر ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جنت میں تیار کر رکھا ہے جسے نفس نہیں جانتے۔
[19]﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖۤ﴾ ’’اور وہ لوگ جو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔‘‘ اہل سنت کے نزدیک ایمان جس پر قرآن و سنت دلالت کرتے ہیں وہ ہے قلب و لسان کا قول اور قلب و لسان اور جوارح کا عمل، تب یہ چیز دین کے تمام ظاہری و باطنی شرائع کو شامل ہے۔ پس جنھوں نے ان تمام امور کو جمع کر لیا وہ صدیق ہیں جن کا مرتبہ عام مومنوں سے اوپر اور انبیاء سے نیچے ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ وَالشُّهَدَآءُ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ١ؕ لَهُمۡ اَجۡرُهُمۡ وَنُوۡرُهُمۡ﴾ ’’اور شہید ہیں ان کے رب کے ہاں ان کے لیے ان کا اجر ہوگا اور ان کی روشنی۔‘‘ کا معنی وہی ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے ’’جنت کے سو درجے ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فرق ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے تیار کر رکھا ہے۔‘‘ (صحیح البخاري، الجہاد و السیر، باب درجات المجاہدین فی سبیل اللہ، حدیث: 2790)اور یہ چیز ان کے انتہائی بلند مرتبہ، ان کی رفعت اور اللہ تعالیٰ سے ان کے قرب کا تقاضا کرتی ہے۔﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’اور جو لوگ کفر کرتے ہیں اور ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں وہ جہنمی ہیں۔‘‘ ان آیات کریمہ نے مخلوق کی تمام اصناف، یعنی صدقہ کرنے والوں، صدیقین، شہداء اور اہل جہنم کے تذکرے کو یکجا کر دیا ہے۔پس صدقہ کرنے والے وہ لوگ ہیں جن کے اعمال کا بڑا حصہ مخلوق کے ساتھ حسن سلوک اور ممکن حد تک ان کو فائدہ پہنچانے خاص طور پر ان کو اللہ کے راستے میں مال کے ذریعے سے فائدہ پہنچانے پر مشتمل ہے۔ صدیق وہ لوگ ہیں جنھوں نے ایمان، عمل صالح، علم نافع اور یقین صادق کے مراتب کو مکمل کر لیا۔ شہید وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو غالب کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کیا، اپنے جان و مال کو خرچ کیا اور قتل ہو گئے۔ اہل جہنم وہ کفار ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا۔ مذکور بالا اقسام کے علاوہ ایک قسم باقی رہ گئی ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۂ فاطر میں کیا ہے اور وہ ہیں مقتصدین جنھوں نے واجبات کو ادا کیا، محرمات کو ترک کیا ، البتہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں ان سے تقصیر واقع ہوئی۔ اگرچہ ان میں سے بعض کو ان کے بعض افعال کے سبب سے سزا ملے گی، تاہم مآل کار وہ جنت میں جائیں گے۔
Page 540
57:19
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦٓ أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلصِّدِّيقُونَۖ وَٱلشُّهَدَآءُ عِندَ رَبِّهِمۡ لَهُمۡ أَجۡرُهُمۡ وَنُورُهُمۡۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَكَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَآ أُوْلَٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَحِيمِ ١٩
And those who have believed in Allāh and His messengers - those are [in the ranks of] the supporters of truth and the martyrs, with their Lord. For them is their reward and their light.1 But those who have disbelieved and denied Our verses - those are the companions of Hellfire.
1 translator’s note
- Another accepted meaning is "And those who have believed in Allāh and His messengers - they are the supporters of truth. And the martyrs, with their Lord, will have their reward and their light." ↩
57:20
ٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا لَعِبٞ وَلَهۡوٞ وَزِينَةٞ وَتَفَاخُرُۢ بَيۡنَكُمۡ وَتَكَاثُرٞ فِي ٱلۡأَمۡوَٰلِ وَٱلۡأَوۡلَٰدِۖ كَمَثَلِ غَيۡثٍ أَعۡجَبَ ٱلۡكُفَّارَ نَبَاتُهُۥ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَىٰهُ مُصۡفَرّٗا ثُمَّ يَكُونُ حُطَٰمٗاۖ وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِ عَذَابٞ شَدِيدٞ وَمَغۡفِرَةٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضۡوَٰنٞۚ وَمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَآ إِلَّا مَتَٰعُ ٱلۡغُرُورِ ٢٠
Know that the life of this world is but amusement and diversion and adornment and boasting to one another and competition in increase of wealth and children - like the example of a rain whose [resulting] plant growth pleases the tillers; then it dries and you see it turned yellow; then it becomes [scattered] debris. And in the Hereafter is severe punishment and forgiveness from Allāh and approval. And what is the worldly life except the enjoyment of delusion.
57:21
سَابِقُوٓاْ إِلَىٰ مَغۡفِرَةٖ مِّن رَّبِّكُمۡ وَجَنَّةٍ عَرۡضُهَا كَعَرۡضِ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ أُعِدَّتۡ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦۚ ذَٰلِكَ فَضۡلُ ٱللَّهِ يُؤۡتِيهِ مَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلۡفَضۡلِ ٱلۡعَظِيمِ ٢١
Race [i.e., compete] toward forgiveness from your Lord and a Garden whose width is like the width of the heavens and earth, prepared for those who believed in Allāh and His messengers. That is the bounty of Allāh which He gives to whom He wills, and Allāh is the possessor of great bounty.
57:22
مَآ أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا فِيٓ أَنفُسِكُمۡ إِلَّا فِي كِتَٰبٖ مِّن قَبۡلِ أَن نَّبۡرَأَهَآۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٞ ٢٢
No disaster strikes upon the earth or among yourselves except that it is in a register1 before We bring it into being - indeed that, for Allāh, is easy -
1 translator’s note
- i.e., the Preserved Slate (al-Lawḥ al-Maḥfūẓ). ↩
57:23
لِّكَيۡلَا تَأۡسَوۡاْ عَلَىٰ مَا فَاتَكُمۡ وَلَا تَفۡرَحُواْ بِمَآ ءَاتَىٰكُمۡۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٖ فَخُورٍ ٢٣
In order that you not despair over what has eluded you and not exult [in pride] over what He has given you. And Allāh does not like everyone self-deluded and boastful -
57:24
ٱلَّذِينَ يَبۡخَلُونَ وَيَأۡمُرُونَ ٱلنَّاسَ بِٱلۡبُخۡلِۗ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡغَنِيُّ ٱلۡحَمِيدُ ٢٤
[Those] who are stingy and enjoin upon people stinginess. And whoever turns away1 - then indeed, Allāh is the Free of need, the Praiseworthy.
1 translator’s note
- Refusing to spend for Allāh's cause or refusing obedience to Him. ↩