Al-Hadid 57:9
The Iron · Juz 27 · Page 538
هُوَ ٱلَّذِي يُنَزِّلُ عَلَىٰ عَبۡدِهِۦٓ ءَايَٰتِۭ بَيِّنَٰتٖ لِّيُخۡرِجَكُم مِّنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ بِكُمۡ لَرَءُوفٞ رَّحِيمٞ ٩
It is He who sends down upon His Servant [Muḥammad (ﷺ)] verses of clear evidence that He may bring you out from darknesses into the light. And indeed, Allāh is to you Kind and Merciful.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 57:7–11
ایمان لاؤ ساتھ اللہ اور اس کےرسول کے اور خرچ کرو اس میں سے کہ بنایا ہے اس (اللہ) نے تمھیں جانشین اس میں پس وہ لوگ جو ایمان لائے تم میں سے اور انھوں نے خرچ کیا، ان کے لیے اجر ہے بہت بڑا(7) اور کیا ہے تمھیں کہ نہیں ایمان لاتے تم ساتھ اللہ کے، جبکہ رسول بلاتا ہے تمھیں تاکہ تم ایمان لاؤ ساتھ اپنے رب کے، اور تحقیق وہ لے چکا ہے پختہ وعدہ تم سے؟ اگر ہو تم ایمان لانے والے(8) وہی ہے جو نازل کرتا ہے اپنے بندے پر آیتیں واضح تاکہ وہ نکالے تمھیں اندھیروں سے اجالے کی طرف، اور بلاشبہ اللہ تم پر نہایت شفیق بڑا رحم کرنے والا ہے(9) اور کیا ہے تمھیں یہ کہ نہ خرچ کرو تم اللہ کی راہ میں؟ اور اللہ ہی کے لیے ہے میراث آسمانوں اور زمین کی، نہیں برابر تم میں سے وہ جس نے خرچ کیا پہلے فتح (مکہ) سے اور لڑائی کی یہ لوگ زیادہ عظیم ہیں درجے میں ان لوگوں سے جنھوں نے خرچ کیا اس کے بعد اور لڑائی کی اور ہر ایک سے وعدہ کیا ہے اللہ نے نیک جزا کا اور اللہ، ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے (10) کون ہے وہ جو قرض دے اللہ کو قرض حسنہ؟ پھر وہ (اللہ) بڑھا دے اس کو اس کے لیے؟ اور اس کے لیے ہے اجر عمدہ (11)
[7] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو، اللہ اور اس کے رسول اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لانے اور اللہ کے راستے میں وہ مال خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے جو اس نے ان کے اختیار میں دیا ہے اور اس پر ان کو خلیفہ بنایا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ وہ کیسے عمل کرتے ہیں، پھر جب اس نے یہ حکم دیا تو اس نے ان کے سامنے اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے کے ثواب کا ذکر کر کے ان کو مال خرچ کرنے کی ترغیب دی اور اس پر آمادہ کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَاَنۡفَقُوۡا﴾ یعنی جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور انفاق فی سبیل اللہ کو جمع کیا ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌؔ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔‘‘ اس میں سے عظیم ترین اور جلیل ترین اجر، اپنے رب کی رضا، اللہ تعالیٰ کا اکرام و تکریم والا گھر اور اس کے اندر ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے مومنین اور مجاہدین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔
[8] پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جو انھیں ایمان کی دعوت دیتا ہے اور عدم مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَا لَكُمۡ لَا تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَالرَّسُوۡلُ يَدۡعُوۡؔكُمۡ لِتُؤۡمِنُوۡا بِرَبِّكُمۡ وَقَدۡ اَخَذَ مِيۡثَاقَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ یعنی وہ کون سی چیز ہے جو تمھیں ایمان لانے سے روکتی ہے حالانکہ رسول مصطفیٰ محمدﷺ جو سب سے افضل رسول اور سب سے اچھے داعی ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ اس دعوت کو قبول کرنے اور حق کی آواز پر لبیک کہنے کے لیے جلدی سے آگے بڑھنا چاہیے جسے محمد ﷺ لے کر تشریف لائے ہیں، اللہ تعالیٰ تم سے ایمان لانے کا عہد اور میثاق لے چکا ہے، اگر تم مومن ہو تو تمھیں یہ کام کرنا چاہیے۔
[9] اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کا تم پر لطف و کرم اور اس کی عنایت ہے کہ اس نے صرف رسول کی دعوت پر اکتفا نہیں کیا جو تمام کائنات میں سب سے زیادہ شرف کے حامل ہیں بلکہ معجزات کے ذریعے سے اس رسول کی تائید کی اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے، اس کی صداقت پر تمھارے سامنے واضح دلائل پیش کیے۔ اس لیے فرمایا :﴿ هُوَ الَّذِيۡ يُنَزِّلُ عَلٰى عَبۡدِهٖۤ اٰيٰتٍۭؔ بَيِّنٰؔتٍ﴾’’وہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیتیں اتارتا ہے۔‘‘ یعنی ایسی ظاہری نشانیاں نازل فرمائیں جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں، اس کی صداقت پر عقل مندوں کی راہ نمائی کرتی ہیں، نیز یہ اس بات کی دلیل ہیں کہ یہی حق الیقین ہے۔﴿ لِّيُخۡرِجَكُمۡ﴾ ’’تاکہ وہ تمھیں نکالے۔‘‘ تمھاری طرف رسول مبعوث کر کے، اور اس کتاب وحکمت کے ذریعے سے جو اس نے اس رسول کے ہاتھ پر اتاری۔ ﴿ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ﴾ ’’اندھیروں سے اجالے کی طرف۔‘‘ یعنی تمھیں جہالت اور کفر کی تاریکیوں سے نکال کر علم و ایمان کی روشنی میں لائے۔ یہ تم پر اس کی رحمت و رأفت ہے، وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحیم ہے جتنی ماں اپنے بچے پر رحیم ہے ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ بِكُمۡ لَرَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ تم پر بہت شفقت کرنے والا (اور) نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘
[10]﴿ وَمَا لَكُمۡ اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلِلّٰهِ مِيۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی وہ کون سی چیز ہے جس نے تمھیں انفاق فی سبیل اللہ سے روکا ہے اور ﴿سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ سے مراد تمام تر بھلائی کے راستے ہیں اورتم پر واجب کیا ہے کہ تم بخل نہ کرو۔‘‘ ﴿ وَ﴾ حالانکہ کوئی چیز تمھاری ملکیت میں نہیں ہے بلکہ ﴿ لِلّٰهِ مِيۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’آسمان اور زمین اللہ تعالیٰ ہی کی میراث ہیں۔‘‘ پس تمام اموال تمھارے ہاتھوں سے نکل جائیں گے یا تم انھیں چھوڑ کر چلے جاؤ گے، پھر یہ ملکیت اس کے حقیقی مالک، اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف لوٹ جائے گی۔پس جب تک یہ اموال تمھارے ہاتھ میں ہیں، اللہ کے راستے میں خرچ کر کے فائدہ اٹھاؤ اور فرصت کو غنیمت سمجھو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے احوال اور حکمت الٰہیہ کے مطابق، اعمال کی ایک دوسرے پر فضیلت کا ذکر کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿ لَا يَسۡتَوِيۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقٰتَلَ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۢۡ بَعۡدُ وَقٰتَلُوۡا﴾ ’’تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے اللہ کے راستے میں خرچ کیا اور قتال کیا وہ برابر نہیں بلکہ ان کے درجے ان لوگوں سے بہت بڑے ہیں جنھوں نے فتح کے بعد خیراتیں دیں اور جہاد کیا۔‘‘ یہاں فتح سے مراد فتح حدیبیہ ہے، جب رسول اللہ ﷺ اور قریش کے درمیان صلح کا معاہدہ ہوا، جو درحقیقت سب سے بڑی فتح تھی، اس صلح کے دوران میں اسلام کی نشر و اشاعت ہوئی، مسلمانوں اور کفار کے درمیان میل جول ہوا اور کسی مخالفت کے بغیر دین کی دعوت دی گئی۔ اس عرصے میں لوگ اللہ تعالیٰ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوئے اور اسلام کو عزت و غلبہ حاصل ہوا۔اس فتح سے قبل مسلمان دین کی دعوت نہیں دے سکتے تھے سوائے ان علاقوں کے ، جہاں کے رہنے والوں نے اسلام قبول کر لیا تھا، جیسے مدینہ منورہ اور اس کے تابع علاقے۔ اہل مکہ میں سے جن لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا انھیں ایذائیں برداشت کرنا پڑیں اور انھیں سخت خوف کا سامنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جس کسی نے فتح سے قبل اسلام قبول کر کے جہاد کیا، اس کا اجر و ثواب اور درجہ اس شخص کے درجہ سے زیادہ بڑا ہے جس نے فتح کے بعد اسلام قبول کر کے جہاد کیا اور اللہ کے راستے میں خرچ کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابقین اولین اور فضلائے صحابہ کی غالب اکثریت نے فتح سے قبل اسلام قبول کیا۔چونکہ بعض معاملات کے درمیان فضیلت دینے سے کبھی کبھی مفضول میں نقص اور قدح متوہم ہوتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس سے احتراز کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى﴾ یعنی وہ لوگ جو فتح سے پہلے اور اس کے بعد اسلام لائے، جہاد کیا اور اللہ کی راہ میں خرچ کیا، اللہ تعالیٰ نے ان سب کے لیے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ﴾ ’’اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے۔‘‘ چنانچہ وہ تم سے ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔
[11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے راستے میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے کیونکہ جہاد کا تمام تر دارومدار انفاق فی سبیل اللہ اور جہاد کی تیاری میں مال خرچ کرنے پر ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا﴾ ’’کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے۔‘‘ اس سے مراد پاک اور طیب مال ہے جسے خالص اللہ تعالیٰ کے لیے، اس کی رضا کے مطابق، حلال اور طیب مال میں سے نہایت خوش دلی کے ساتھ خرچ کیا جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اس انفاق کو ’’قرض‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مال اسی کا مال اور یہ بندے اسی کے بندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس مال کو کئی گنا کر دینے کا وعدہ کیا ہے وہ فضل و کرم کا مالک اور بہت زیادہ داد و دہش والا ہے۔(اس انفاق کے)کئی گنا ہونے کا محل و مقام روز قیامت ہے، اس روز ہر انسان پر اپنا افتقار و احتیاج واضح ہو جائے گا، اس روز وہ قلیل ترین جزائے حسن کا بھی محتاج ہو گا، اس لیے فرمایا:
Page 538
57:4
هُوَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِۖ يَعۡلَمُ مَا يَلِجُ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَا يَخۡرُجُ مِنۡهَا وَمَا يَنزِلُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ وَمَا يَعۡرُجُ فِيهَاۖ وَهُوَ مَعَكُمۡ أَيۡنَ مَا كُنتُمۡۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ ٤
It is He who created the heavens and earth in six days and then established Himself above the Throne.1 He knows what penetrates into the earth and what emerges from it and what descends from the heaven and what ascends therein; and He is with you2 wherever you are. And Allāh, of what you do, is Seeing.
57:5
لَّهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرۡجَعُ ٱلۡأُمُورُ ٥
His is the dominion of the heavens and earth. And to Allāh are returned [all] matters.
57:6
يُولِجُ ٱلَّيۡلَ فِي ٱلنَّهَارِ وَيُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِي ٱلَّيۡلِۚ وَهُوَ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ٦
He causes the night to enter the day and causes the day to enter the night, and He is Knowing of that within the breasts.
57:7
ءَامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَأَنفِقُواْ مِمَّا جَعَلَكُم مُّسۡتَخۡلَفِينَ فِيهِۖ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمۡ وَأَنفَقُواْ لَهُمۡ أَجۡرٞ كَبِيرٞ ٧
Believe in Allāh and His Messenger and spend out of that in which He has made you successive inheritors. For those who have believed among you and spent,1 there will be a great reward.
1 translator’s note
- In ways pleasing to Allāh. ↩
57:8
وَمَا لَكُمۡ لَا تُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلرَّسُولُ يَدۡعُوكُمۡ لِتُؤۡمِنُواْ بِرَبِّكُمۡ وَقَدۡ أَخَذَ مِيثَٰقَكُمۡ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ٨
And why do you not believe in Allāh while the Messenger invites you to believe in your Lord and He has taken your covenant, if you should [truly] be believers?
57:9
هُوَ ٱلَّذِي يُنَزِّلُ عَلَىٰ عَبۡدِهِۦٓ ءَايَٰتِۭ بَيِّنَٰتٖ لِّيُخۡرِجَكُم مِّنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ بِكُمۡ لَرَءُوفٞ رَّحِيمٞ ٩
It is He who sends down upon His Servant [Muḥammad (ﷺ)] verses of clear evidence that He may bring you out from darknesses into the light. And indeed, Allāh is to you Kind and Merciful.
57:10
وَمَا لَكُمۡ أَلَّا تُنفِقُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلِلَّهِ مِيرَٰثُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ لَا يَسۡتَوِي مِنكُم مَّنۡ أَنفَقَ مِن قَبۡلِ ٱلۡفَتۡحِ وَقَٰتَلَۚ أُوْلَٰٓئِكَ أَعۡظَمُ دَرَجَةٗ مِّنَ ٱلَّذِينَ أَنفَقُواْ مِنۢ بَعۡدُ وَقَٰتَلُواْۚ وَكُلّٗا وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٞ ١٠
And why do you not spend in the cause of Allāh while to Allāh belongs the heritage of the heavens and the earth? Not equal among you are those who spent before the conquest [of Makkah] and fought [and those who did so after it]. Those are greater in degree than they who spent afterwards and fought. But to all Allāh has promised the best [reward]. And Allāh, of what you do, is Aware.
57:11
مَّن ذَا ٱلَّذِي يُقۡرِضُ ٱللَّهَ قَرۡضًا حَسَنٗا فَيُضَٰعِفَهُۥ لَهُۥ وَلَهُۥٓ أَجۡرٞ كَرِيمٞ ١١
Who is it that would loan Allāh a goodly loan so He will multiply it for him and he will have a noble reward?