Al-Mujadila 58:15
The Pleading Woman · Juz 28 · Page 544
أَعَدَّ ٱللَّهُ لَهُمۡ عَذَابٗا شَدِيدًاۖ إِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ١٥
Allāh has prepared for them a severe punishment. Indeed, it was evil that they were doing.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 58:14–19
کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جنھوں نے دوستی کی اس قوم سے کہ غصے ہوا اللہ ان پر، نہیں ہیں وہ تم میں سے اور نہ ان میں سے اور وہ قسمیں کھاتے ہیں جھوٹ پر حالانکہ وہ جانتے ہیں (14) تیار کیا ہے اللہ نے ان کے لیے عذاب شدید بلاشبہ برا ہے وہ جو تھے وہ عمل کرتے (15) بنا لیا ہے انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال پس روکا انھوں نے اللہ کی راہ سے، پس ان کے لیے عذاب ہے رسوا کن (16) ہرگز نہیں فائدہ دیں گے ان کو مال ان کے اور نہ اولاد ان کی اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی، یہی لوگ ہیں جہنمی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (17) جس دن دوبارہ اٹھائے گا ان کو اللہ، سب کو، تو وہ قسمیں کھائیں گے اس کے سامنے بھی جیسے وہ قسمیں کھاتے ہیں تمھاری خاطر اور وہ گمان کریں گے کہ بے شک وہ کسی چیز (فائدے) پر ہیں، آگاہ رہو! بلاشبہ وہی ہیں جھوٹے (18) غالب آ گیا ہے ان پر شیطان پس اس نے بھلا دیا ان کو ذکر اللہ کا، یہ لوگ لشکر ہیں شیطان کا، آگاہ رہو! یقیناً لشکر شیطان کا، وہی ہیں خسارہ پانے والے(19)
[14، 15] اللہ تبارک و تعالیٰ نے منافقین کے احوال کی شناعت و قباحت کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے جو یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار سے دوستی اور موالات رکھتے ہیں، جن پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی لعنت کے مستحق ٹھہرے، نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ اہل ایمان میں سے ہیں نہ کفار میں سے بلکہ﴿ مُّذَبۡذَبِيۡنَ بَيۡنَ ذٰلِكَ١ۖ ۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَلَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ﴾(النساء:4؍143) ’’ایمان اور کفر کے درمیان تذبذب کی حالت میں ہیں، نہ پورے مومنین کی طرف ہیں نہ پورے کفار کی طرف۔‘‘ پس وہ ظاہر و باطن میں مومن نہیں ہیں، کیونکہ ان کا باطن کفار کے ساتھ ہے، اور نہ وہ ظاہر و باطن میں کفار ہی کے ساتھ ہیں، کیونکہ ان کا ظاہر اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ یہ ہے ان کا وصف جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ان کا حال یہ ہے کہ وہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں، وہ قسم اٹھاتے ہیں کہ وہ مومن ہیں، حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں۔ ان جھوٹے، فاجر و خائن لوگوں کی سزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس قدر سخت عذاب تیار کر رکھا ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف معلوم کیا جا سکتا ہے، بہت ہی برے ہیں وہ اعمال جو ان سے صادر ہوتے ہیں، وہ ایسے اعمال بجا لاتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور ان پر عذاب اور لعنت واجب ٹھہراتا ہے۔
[16]﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ جُنَّةً﴾ یعنی وہ اپنی قسموں کو ڈھال بنا کر اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور اہل ایمان کی ملامت سے بچتے ہیں اسی سبب سے وہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہیں اور یہ وہ راستہ ہے کہ جو کوئی اس پر گامزن ہوتا ہے، یہ راستہ اسے جنت میں لے جاتا ہے۔ اور جو کوئی اس راستے سے منہ موڑتا ہے، تو اس کے لیے صرف وہ راستہ رہ جاتا ہے جو اسے جہنم میں گراتا ہے ﴿ فَلَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ﴾ ’’چنانچہ ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔‘‘ کیونکہ جب وہ تکبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور انھوں نے اس کی آیات کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دائمی عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا، جو گھڑی بھر کے لیے بھی ان سے علیحدہ نہیں ہو گا اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی۔
[17]﴿ لَنۡ تُغۡنِيَ عَنۡهُمۡ اَمۡوَالُهُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔؔا﴾ ’’ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں ہرگز کچھ کام نہ آئیں گی۔‘‘ یعنی ان کا مال اور اولاد، ان سے عذاب کو ہٹا سکیں گے نہ ثواب کا کچھ حصہ ان کے لیے حاصل کر سکیں گے ﴿ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ﴾ وہ آگ کے عذاب میں مبتلا رہنے والے ہیں، جو کبھی عذاب سے باہر نہ نکلیں گےاور ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘
[18] جو کوئی جس چیز پر ساری زندگی بسر کرتا ہے اسی پر مرتا ہے۔ جیسے منافقین دنیا کے اندر اہل ایمان کے ساتھ دھوکا کرتے ہیں اور قسمیں اٹھا اٹھا کر ان سے کہتے ہیں کہ وہ مومن ہیں۔ وہ اپنے اس حلف کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ وہ کسی چیز پر قائم ہیں، کیونکہ ان کا کفر و نفاق اور ان کے باطل عقائد ان کے اذہان میں آہستہ آہستہ راسخ ہوتے رہے، یہاں تک کہ ان عقائد نے ان کو دھوکے میں مبتلا کر دیا اور وہ سمجھنے لگے کہ وہ معتد بہ موقف پر ہیں جس پر ثواب کا دار و مدار ہے، حالانکہ وہ ایسا سمجھنے میں جھوٹے ہیں۔ اور یہ معلوم ہے کہ غائب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی کے سامنے جھوٹ نہیں چل سکتا۔
[19] یہ ان پر شیطان کا غلبہ ہے جس نے ان پر قابو پا رکھا ہے، اس نے ان کے سامنے ان کے اعمال آراستہ کر دیے اور ان کو اللہ تعالیٰ کا ذکر فراموش کرا دیا۔ وہ ان کا کھلا دشمن ہے اور ان کے ساتھ صرف برائی چاہتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر: 35؍6)’’وہ تو اپنے گروہ کے لوگوں کو اپنی راہ پر اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والوں میں شامل ہو جائیں۔‘‘ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ حِزۡبُ الشَّيۡطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ الشَّيۡطٰنِ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ﴾ ’’یہ شیطان کی پارٹی ہے۔ سن لو! شیطان ہی کی پارٹی نقصان اٹھانے والی ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دین و دنیا، اپنے اہل و عیال اور گھر بار کے بارے میں خسارے میں پڑ گئے۔
Page 544
58:12
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا نَٰجَيۡتُمُ ٱلرَّسُولَ فَقَدِّمُواْ بَيۡنَ يَدَيۡ نَجۡوَىٰكُمۡ صَدَقَةٗۚ ذَٰلِكَ خَيۡرٞ لَّكُمۡ وَأَطۡهَرُۚ فَإِن لَّمۡ تَجِدُواْ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٌ ١٢
O you who have believed, when you [wish to] privately consult the Messenger, present before your consultation a charity. That is better for you and purer. But if you find not [the means] - then indeed, Allāh is Forgiving and Merciful.
58:13
ءَأَشۡفَقۡتُمۡ أَن تُقَدِّمُواْ بَيۡنَ يَدَيۡ نَجۡوَىٰكُمۡ صَدَقَٰتٖۚ فَإِذۡ لَمۡ تَفۡعَلُواْ وَتَابَ ٱللَّهُ عَلَيۡكُمۡ فَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥۚ وَٱللَّهُ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ ١٣
Have you feared to present before your consultation charities? Then when you do not and Allāh has forgiven you, then [at least] establish prayer and give zakāh and obey Allāh and His Messenger. And Allāh is Aware of what you do.
58:14
۞ أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ تَوَلَّوۡاْ قَوۡمًا غَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِم مَّا هُم مِّنكُمۡ وَلَا مِنۡهُمۡ وَيَحۡلِفُونَ عَلَى ٱلۡكَذِبِ وَهُمۡ يَعۡلَمُونَ ١٤
Have you not considered those who make allies of a people with whom Allāh has become angry? They are neither of you nor of them, and they swear to untruth while they know [they are lying].
58:15
أَعَدَّ ٱللَّهُ لَهُمۡ عَذَابٗا شَدِيدًاۖ إِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ١٥
Allāh has prepared for them a severe punishment. Indeed, it was evil that they were doing.
58:16
ٱتَّخَذُوٓاْ أَيۡمَٰنَهُمۡ جُنَّةٗ فَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ فَلَهُمۡ عَذَابٞ مُّهِينٞ ١٦
They took their [false] oaths as a cover, so they averted [people] from the way of Allāh, and for them is a humiliating punishment.
58:17
لَّن تُغۡنِيَ عَنۡهُمۡ أَمۡوَٰلُهُمۡ وَلَآ أَوۡلَٰدُهُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيۡـًٔاۚ أُوْلَٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ ١٧
Never will their wealth or their children avail them against Allāh at all. Those are the companions of the Fire; they will abide therein eternally
58:18
يَوۡمَ يَبۡعَثُهُمُ ٱللَّهُ جَمِيعٗا فَيَحۡلِفُونَ لَهُۥ كَمَا يَحۡلِفُونَ لَكُمۡ وَيَحۡسَبُونَ أَنَّهُمۡ عَلَىٰ شَيۡءٍۚ أَلَآ إِنَّهُمۡ هُمُ ٱلۡكَٰذِبُونَ ١٨
On the Day Allāh will resurrect them all, and they will swear to Him as they swear to you and think that they are [standing] on something.1 Unquestionably, it is they who are the liars.
1 translator’s note
- They assume that their lies will be believed and that they will escape detection as they did in worldly life. ↩
58:19
ٱسۡتَحۡوَذَ عَلَيۡهِمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ فَأَنسَىٰهُمۡ ذِكۡرَ ٱللَّهِۚ أُوْلَٰٓئِكَ حِزۡبُ ٱلشَّيۡطَٰنِۚ أَلَآ إِنَّ حِزۡبَ ٱلشَّيۡطَٰنِ هُمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ ١٩
Satan has overcome them and made them forget the remembrance of Allāh. Those are the party of Satan. Unquestionably, the party of Satan - they will be the losers.
58:20
إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحَآدُّونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ أُوْلَٰٓئِكَ فِي ٱلۡأَذَلِّينَ ٢٠
Indeed, the ones who oppose Allāh and His Messenger - those will be among the most humbled.
58:21
كَتَبَ ٱللَّهُ لَأَغۡلِبَنَّ أَنَا۠ وَرُسُلِيٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٞ ٢١
Allāh has written [i.e., decreed], "I will surely overcome, I and My messengers." Indeed, Allāh is Powerful and Exalted in Might.