Al-An'amJuz 8 · Page 146

Al-An'am 6:141

The Cattle · Juz 8 · Page 146

۞ وَهُوَ ٱلَّذِيٓ أَنشَأَ جَنَّٰتٖ مَّعۡرُوشَٰتٖ وَغَيۡرَ مَعۡرُوشَٰتٖ وَٱلنَّخۡلَ وَٱلزَّرۡعَ مُخۡتَلِفًا أُكُلُهُۥ وَٱلزَّيۡتُونَ وَٱلرُّمَّانَ مُتَشَٰبِهٗا وَغَيۡرَ مُتَشَٰبِهٖۚ كُلُواْ مِن ثَمَرِهِۦٓ إِذَآ أَثۡمَرَ وَءَاتُواْ حَقَّهُۥ يَوۡمَ حَصَادِهِۦۖ وَلَا تُسۡرِفُوٓاْۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُسۡرِفِينَ ١٤١

And He it is who causes gardens to grow, [both] trellised and untrellised, and palm trees and crops of different [kinds of] food and olives and pomegranates, similar and dissimilar. Eat of [each of] its fruit when it yields and give its due [zakāh] on the day of its harvest. And be not excessive.1 Indeed, He does not like those who commit excess.

1 translator’s note
  1. In eating, as well as in all things generally. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 6:141

اور وہی(اللہ) ہے جس نے پیدا فرمائے باغات چھتریوں پر چڑھائے ہوئے اور بغیر چڑھائے ہوئےاور(پیدا فرمائی) کھجور اور کھیتی مختلف ہیں(مزے میں) ان کے پھل اور زیتون اور انار، ملتے جلتے بھی اور نہ ملتے جلتے بھی، تم کھاؤ اس کا پھل جب وہ پھل لائےاور دو اس کا حق دن اس کی کٹائی کے اور نہ اسراف کرو تم، بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا، فضول خرچوں کو(141)

[141] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کھیتیوں اور مویشیوں میں مشرکین کے تصرف کا ذکر فرمایا جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے حلال ٹھہرایا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی نعمت کا تذکرہ فرمایا اور کھیتیوں اور مویشیوں کے بارے میں ان کے لازمی وظیفہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَهُوَ الَّذِيۡۤ اَنۡشَاَ جَنّٰتٍ ﴾ ’’وہی ہے جس نے باغ پیدا کیے‘‘ جس میں مختلف انواع کے درخت اور نباتات ہیں ۔ ﴿ مَّعۡرُوۡشٰتٍ وَّغَيۡرَ مَعۡرُوۡشٰتٍ ﴾ ’’جو ٹٹیوں (چھتریوں ) پر چڑھائے جاتے ہیں اور جو ٹٹیوں پر نہیں چڑھائے جاتے‘‘ یعنی ان میں سے بعض باغات کے لیے چھتریاں بنائی جاتی ہیں اور ان کو ان چھتریوں پر چڑھایا جاتا ہے اور یہ چھتریاں انھیں اوپر اٹھنے میں مدد دیتی ہیں ۔ اور بعض درختوں کے لیے چھتریاں نہیں بنائی جاتیں بلکہ وہ اپنے تنے پر کھڑے ہوتے ہیں یا زمین پر بچھ جاتے ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں ان کے کثرت منفعت اور ان کے فوائد کی طرف اشارہ ہے۔ نیز اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو سکھایا کہ پودوں کو کیسے چھتریوں پر چڑھانا اور کیسے ان کی پرورش کرنا ہے۔ ﴿ وَّالنَّخۡلَ وَالزَّرۡعَ مُخۡتَلِفًا اُكُلُهٗ ﴾ ’’(اور پیدا کیے) کھجور کے درخت اور کھیتی کہ مختلف ہیں ان کے پھل‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ایک ہی جگہ پر کھجور اور کھیتیاں پیدا کیں جو ایک ہی پانی سے سیراب ہوتی ہیں مگر کھانے اور ذائقے کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر کھجور اور کھیتیوں کا ذکر کیا ہے کیونکہ یہ مختلف انواع و اقسام کی بنا پر بہت سے فوائد کی حامل ہیں نیز یہ اکثر مخلوق کے لیے خوراک کا کام دیتی ہیں ۔ ﴿وَالزَّيۡتُوۡنَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا﴾ ’’اور زیتون اور انار جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زیتون اور انار کو پیدا کیا جس کے درخت ایک دوسرے سے مشابہ ہیں ﴿ وَّغَيۡرَ مُتَشَابِهٍ ﴾ ’’اور جدا جدا بھی‘‘ جو اپنے پھل اور ذائقے میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ گویا کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان باغات کو کس مقصد کے لیے پیدا کیا اور کس پر یہ نوازش کی؟ اس کے جواب میں بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی منفعت کے لیے یہ باغات پیدا کیے، اس لیے فرمایا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ ثَمَرِهٖۤ ﴾ ’’ان کے پھل کھاؤ۔‘‘ یعنی کھجور اور کھیتیوں کا پھل کھاؤ ﴿ اِذَاۤ اَثۡمَرَ﴾ ’’جب وہ پھل لائیں ‘‘ ﴿ وَاٰتُوۡا حَقَّهٗ يَوۡمَ حَصَادِهٖ ﴾ ’’اور جس دن (پھل توڑو) اور کھیتی کاٹو تو اللہ کا حق اس میں سے ادا کرو۔‘‘ یعنی فصل کی برداشت کے روز کھیتی کا حق ادا کرو۔ اس سے کھیتی کی زکاۃ (یعنی عشر) مراد ہے جس کا نصاب شریعت میں مقرر ہے۔ ان کو حکم دیا کہ زکاۃ فصل کی برداشت کے وقت ادا کریں کیونکہ برداشت کا دن، ایک سال گزرنے کے قائم مقام ہے۔ نیز یہ وہ وقت ہے جب فقراء کے دلوں میں زکاۃ کے حصول کی امید بندھ جاتی ہے۔ اور اس وقت کاشت کاروں کے لیے اپنی زرعی جنس میں سے زکاۃ نکالنا آسان ہوتا ہے۔ اور جو زکاۃ نکالتا ہے اس کے لیے یہ معاملہ ظاہر ہو جاتا ہے۔ اور زکاۃ نکالنے والے اور زکاۃ نہ نکالنے والے کے درمیان امتیاز واقع ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَلَا تُسۡرِفُوۡا ﴾ ’’اور بے جا خرچ نہ کرو‘‘ یہ ممانعت کھانے میں اسراف کے لیے عام ہے یعنی عادت اور حدود سے تجاوز کر کے کھانا۔ یہ اسراف اس بات کو بھی شامل ہے کہ کھیتی کا مالک اس طرح کھائے جس سے زکاۃ کو نقصان پہنچے اور کھیتی کا حق نکالنے میں اسراف یہ ہے کہ واجب سے بڑھ کر زکاۃ نکالے یا اپنے آپ کو یا اپنے خاندان یا اپنے قرض خواہوں کو نقصان پہنچائے۔ یہ تمام چیزیں اسراف کے زمرے میں آتی ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں بلکہ سخت ناپسند ہے اور وہ اسراف پر سخت ناراض ہوتا ہے۔ یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ پھلوں میں بھی زکاۃ فرض ہے اور ان میں زکاۃ کی ادائیگی ایک سال گزرنے کی شرط سے مشروط نہیں ہے۔ غلے کی زکاۃ فصل کٹنے اور کھجوروں کی زکاۃ پھل چنے جانے پر واجب ہو جاتی ہے، پھر زرعی اجناس زکاۃ کی ادائیگی کے بعد کئی سال تک بھی بندے کے پاس پڑی رہیں تو ان میں زکاۃ فرض نہیں بشرطیکہ وہ تجارت کی غرض سے نہ رکھی گئی ہوں ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صرف فصل کی برداشت کے وقت زکاۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ نیز اگر فصل برداشت کرنے سے قبل، صاحب زراعت کی کوتاہی کے بغیر، باغ یا کھیتی پر کوئی آفت آ جائے تو وہ اس کا ضامن نہیں ہو گا اور زکاۃ نکالنے سے پہلے اگر کھیتی یا کھجور کے پھل میں سے کچھ کھا لیا جائے تو اسے زکاۃ کے حساب میں شامل نہیں کیا جائے گا بلکہ جو باقی بچے گا اسی کے حساب سے زکاۃ نکالی جائے گی۔ رسول اللہﷺ پھل کا اندازہ لگانے کا ماہر روانہ فرمایا کرتے تھے جو زکاۃ ادا کرنے والے لوگوں کی کھیتیوں اور کھجوروں کے پھل کا اندازہ لگاتے تھے آپﷺ انھیں حکم دیتے کہ اندازہ لگانے کے بعد وہ ان کے اور دیگر لوگوں کے کھانے کے لیے ایک تہائی یا ایک چوتھائی چھوڑ دیا کریں ۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 146

Al-An'amJuz 8 · Page 146

6:138

وَقَالُواْ هَٰذِهِۦٓ أَنۡعَٰمٞ وَحَرۡثٌ حِجۡرٞ لَّا يَطۡعَمُهَآ إِلَّا مَن نَّشَآءُ بِزَعۡمِهِمۡ وَأَنۡعَٰمٌ حُرِّمَتۡ ظُهُورُهَا وَأَنۡعَٰمٞ لَّا يَذۡكُرُونَ ٱسۡمَ ٱللَّهِ عَلَيۡهَا ٱفۡتِرَآءً عَلَيۡهِۚ سَيَجۡزِيهِم بِمَا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ ١٣٨

And they say, "These animals1 and crops are forbidden; no one may eat from them except whom we will," by their claim. And there are those [camels] whose backs are forbidden [by them]2 and those upon which the name of Allāh is not mentioned3 - [all of this] an invention of untruth about Him.4 He will punish them for what they were inventing.

4 translator’s notes
  1. The four categories of grazing livestock called "anʿām" collectively.

    [350] See 5:103.

    [351] At the time of slaughter. Rather, they are dedicated to others among their "deities."

    [352] i.e., false assertions that such practices are part of Allāh's religion.

    ↩
  2. ↩
  3. ↩
  4. ↩

6:139

وَقَالُواْ مَا فِي بُطُونِ هَٰذِهِ ٱلۡأَنۡعَٰمِ خَالِصَةٞ لِّذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَىٰٓ أَزۡوَٰجِنَاۖ وَإِن يَكُن مَّيۡتَةٗ فَهُمۡ فِيهِ شُرَكَآءُۚ سَيَجۡزِيهِمۡ وَصۡفَهُمۡۚ إِنَّهُۥ حَكِيمٌ عَلِيمٞ ١٣٩

And they say, "What is in the bellies of these animals1 is exclusively for our males and forbidden to our females. But if it is [born] dead, then all of them have shares therein." He will punish them for their description.2 Indeed, He is Wise and Knowing.

2 translator’s notes
  1. i.e., their milk and offspring.

    [354] Of what is lawful and unlawful according to their whims.

    ↩
  2. ↩

6:140

قَدۡ خَسِرَ ٱلَّذِينَ قَتَلُوٓاْ أَوۡلَٰدَهُمۡ سَفَهَۢا بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَحَرَّمُواْ مَا رَزَقَهُمُ ٱللَّهُ ٱفۡتِرَآءً عَلَى ٱللَّهِۚ قَدۡ ضَلُّواْ وَمَا كَانُواْ مُهۡتَدِينَ ١٤٠

They will have lost who killed their children in foolishness without knowledge and prohibited what Allāh had provided for them, inventing untruth about Allāh. They have gone astray and were not [rightly] guided.

6:141

۞ وَهُوَ ٱلَّذِيٓ أَنشَأَ جَنَّٰتٖ مَّعۡرُوشَٰتٖ وَغَيۡرَ مَعۡرُوشَٰتٖ وَٱلنَّخۡلَ وَٱلزَّرۡعَ مُخۡتَلِفًا أُكُلُهُۥ وَٱلزَّيۡتُونَ وَٱلرُّمَّانَ مُتَشَٰبِهٗا وَغَيۡرَ مُتَشَٰبِهٖۚ كُلُواْ مِن ثَمَرِهِۦٓ إِذَآ أَثۡمَرَ وَءَاتُواْ حَقَّهُۥ يَوۡمَ حَصَادِهِۦۖ وَلَا تُسۡرِفُوٓاْۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُسۡرِفِينَ ١٤١

And He it is who causes gardens to grow, [both] trellised and untrellised, and palm trees and crops of different [kinds of] food and olives and pomegranates, similar and dissimilar. Eat of [each of] its fruit when it yields and give its due [zakāh] on the day of its harvest. And be not excessive.1 Indeed, He does not like those who commit excess.

1 translator’s note
  1. In eating, as well as in all things generally. ↩

6:142

وَمِنَ ٱلۡأَنۡعَٰمِ حَمُولَةٗ وَفَرۡشٗاۚ كُلُواْ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ وَلَا تَتَّبِعُواْ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيۡطَٰنِۚ إِنَّهُۥ لَكُمۡ عَدُوّٞ مُّبِينٞ ١٤٢

And of the grazing livestock are carriers [of burdens] and those [too] small. Eat of what Allāh has provided for you and do not follow the footsteps of Satan.1 Indeed, he is to you a clear enemy.

1 translator’s note
  1. As the disbelievers have done in making their own rulings about what is permissible and what is prohibited. ↩
As-Sa'diTafsir · 6:141

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском