Al-An'amJuz 8 · Page 148

Al-An'am 6:151

The Cattle · Juz 8 · Page 148

۞ قُلۡ تَعَالَوۡاْ أَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمۡ عَلَيۡكُمۡۖ أَلَّا تُشۡرِكُواْ بِهِۦ شَيۡـٔٗاۖ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنٗاۖ وَلَا تَقۡتُلُوٓاْ أَوۡلَٰدَكُم مِّنۡ إِمۡلَٰقٖ نَّحۡنُ نَرۡزُقُكُمۡ وَإِيَّاهُمۡۖ وَلَا تَقۡرَبُواْ ٱلۡفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَۖ وَلَا تَقۡتُلُواْ ٱلنَّفۡسَ ٱلَّتِي حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلۡحَقِّۚ ذَٰلِكُمۡ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ ١٥١

Say, "Come, I will recite what your Lord has prohibited to you. [He commands] that you not associate anything with Him, and to parents, good treatment, and do not kill your children out of poverty; We will provide for you and them. And do not approach immoralities - what is apparent of them and what is concealed. And do not kill the soul which Allāh has forbidden [to be killed] except by [legal] right. This has He instructed you that you may use reason."

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 6:151–153

کہہ دیجیے! آؤ پڑھتا ہوں میں جو کچھ کہ حرام کیا تمھارے رب نے اوپر تمھارے، یہ کہ نہ شریک ٹھہراؤ تم ساتھ اس کے کسی چیز کواور ساتھ والدین کے احسان کرواور مت قتل کرو اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈرسے، ہم ہی رزق دیتے ہیں تمھیں اور انھیں اور مت قریب جاؤ بے حیائی کے کاموں کے، جو ظاہر ہوں ان میں سے اور جو پوشیدہ اور مت قتل کرو اس جان کو جس کو حرام کیا اللہ نے مگر ساتھ حق کے، یہ(سب باتیں) وصیت کی ہے اللہ نے تمھیں ان کی تا کہ تم سمجھو (151) اور مت قریب جاؤ تم یتیم کے مال کے مگر ساتھ اس طریقے کے جو بہترین ہو یہاں تک کہ پہنچ جائے وہ اپنی پختگی کواور پورا کرو تم ماپ اور تول کو ساتھ انصاف کے نہیں تکلیف دیتے ہم کسی نفس کو مگر اس کی طاقت کے مطابق ہی اور جب کہو تم تو انصاف سے کام لو، اگرچہ ہو وہ قریبی ہی اور عہد اللہ کا پورا کرو تم یہ وصیت کی ہے (اللہ نے) تمھیں اس کی تاکہ تم نصیحت حاصل کرو (152)اور بلاشبہ یہ میرا راستہ ہے سیدھا، پس پیروی کرو تم اسی کی اور مت پیروی کرو تم (اور) راستوں کی، پس الگ کردیں گے وہ تمھیں اس (اللہ) کے راستے سے یہ وصیت کی ہے (اللہ نے) تمھیں اس کی تاکہ تم ڈرو(153)

[151] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے ﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے‘‘ ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے ان چیزوں کو حرام قرار دے ڈالا جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرایا ﴿ تَعَالَوۡا اَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمۡ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’آؤ، میں سنا دوں جو حرام کیا ہے تم پر تمھارے رب نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے عام طور پر کیا چیز حرام کی ہے۔ یہ تحریم سب کے لیے ہے اور ماکولات و مشروبات اور اقوال و افعال وغیرہ تمام محرمات پر مشتمل ہے۔ ﴿ اَلَّا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ ﴾ ’’یہ کہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ تھوڑا یا زیادہ ہرگز شرک نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کی حقیقت یہ ہے کہ مخلوق کی اسی طرح عبادت کی جائے جس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے۔ یا مخلوق کی تعظیم اسی طرح کی جائے جس طرح اللہ تعالیٰ کی تعظیم کی جاتی ہے۔ یا ربوبیت اور الوہیت کی صفات مخلوق میں ثابت کی جائیں ۔ جب بندہ ہر قسم کا شرک چھوڑ دیتا ہے تو وہ اپنے تمام احوال میں موحد اور اللہ تعالیٰ کے لیے مخلص بندہ بن جاتا ہے۔ پس بندوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حق کا تذکرہ کرنے کے بعد سب سے زیادہ موکد حق سے ابتدا کی اور فرمایا ﴿ وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ۠ اِحۡسَانًا ﴾ ’’اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔‘‘ یعنی اقوال حسنہ اور افعال جمیلہ کے ذریعے سے اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ ہر وہ قول و فعل جس سے والدین کو کوئی منفعت حاصل ہو یا اس سے مسرت حاصل ہو تو یہ ان کے ساتھ حسن سلوک ہے اور حسن سلوک کا وجود نافرمانی کی نفی کرتا ہے۔ ﴿ وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَؔكُمۡ ﴾ ’’اور نہ قتل کرو تم اپنی اولاد کو‘‘ یعنی اپنے بچوں اور بچیوں کو ﴿ مِّنۡ اِمۡلَاقٍ ﴾ ’’ناداری کے (اندیشے) سے۔‘‘ یعنی فقر اور رزق کی تنگی کے سبب سے۔ جیسا کہ جاہلیت کے ظالمانہ دور میں ہوتا تھا۔ جب اس حال میں ان کو قتل کرنے سے روکا گیا ہے جبکہ وہ ان کی اپنی اولاد ہو تو پھر ان کو بغیر کسی موجب کے قتل کرنا یا دوسروں کی اولاد کو قتل کرنا تو بطریق اولیٰ ممنوع ہو گا۔ ﴿ نَحۡنُ نَرۡزُقُكُمۡ وَاِيَّاهُمۡ ﴾ ’’ہم رزق دیتے ہیں تم کو اور ان کو‘‘ یعنی ہم نے تمام مخلوق کے رزق کی ذمہ داری لی ہوئی ہے۔ یہ تم نہیں ہو جو اپنی اولاد کو رزق عطا کرتے ہو بلکہ تم خود اپنے آپ کو بھی رزق عطا نہیں کر سکتے، پھر تم ان کے بارے میں تنگی کیوں محسوس کرو۔ ﴿وَلَا تَقۡرَبُوا الۡفَوَاحِشَ ﴾ ’’اور بے حیائی کے کاموں کے قریب نہ جاؤ‘‘ یہاں فواحش سے مراد بڑے بڑے اور فحش گناہ ہیں ﴿ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ ﴾ ’’جو ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔‘‘ یعنی کھلے گناہوں کے قریب جاؤ نہ چھپے ہوئے گناہوں کے۔ نہ کھلے گناہوں کے متعلقات کے قریب پھٹکو اور نہ قلب و باطن کے گناہوں کے متعلقات کے قریب جاؤ۔ فواحش کے قریب جانے کی ممانعت فواحش کے مجرد ارتکاب کی ممانعت سے زیادہ بلیغ ہے۔ کیونکہ یہ فواحش کے مقدمات اور ان کے ذرائع اور وسائل سب کو شامل ہے۔ ﴿وَلَا تَقۡتُلُوا النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور نہ قتل کرو اس جان کو جس کو اللہ نے حرام کیا ہے‘‘ اس سے مراد مسلمان جان ہے خواہ مرد ہو خواہ عورت، چھوٹا ہو یا بڑا، نیک ہو یا بد۔ اسی طرح اس کافر جان کو قتل کرنا بھی قتل ناحق ہے جو عہد و میثاق کی وجہ سے معصوم ہو ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر حق کے ساتھ‘‘مثلاً: شادی شدہ زانی، قاتل، مرتد ہو کر مسلمانوں کی جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے والا۔ ﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’یہ‘‘ مذکورہ بالاتمام امور ﴿ وَصّٰؔىكُمۡ بِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اس کے ساتھ تم کو حکم کیا ہے تاکہ تم سمجھو‘‘ یعنی شاید تم اللہ تعالیٰ کی وصیت کو سمجھو، پھر تم اس کی حفاظت کرو، اس کی رعایت کرو اور اس کو قائم کرو۔ یہ آیتِ کریمہ دلالت کرتی ہے کہ بندہ اپنی عقل کے مطابق ان امور کو قائم کرتا ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے اس کو حکم دیا ہے۔

[152]﴿ وَلَا تَقۡرَبُوۡا مَالَ الۡيَتِيۡمِ ﴾ ’’اور نہ قریب جاؤ تم یتیم کے مال کے‘‘ یعنی مال کھانے کے لیے یا اپنے لیے معاوضہ بنانے یا بغیر کسی سبب کے مال لینے کے لیے۔ ﴿ اِلَّا بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ﴾ ’’مگر ایسے طریق سے کہ بہت ہی پسندیدہ ہو۔‘‘ یعنی البتہ ایسے طریقے سے ان کے مال کے قریب جاؤ جس سے ان کے مال کی اصلاح ہو اور وہ اس مال سے فائدہ اٹھائیں ۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اس طریقے سے یتیموں کے مال کے قریب جانا اور اس میں تصرف کرنا جائز نہیں جس سے یتیموں کو نقصان پہنچتا ہو۔ اور اس طریقے سے بھی ان کے مال کے قریب جانا جائز نہیں جس میں کوئی نقصان تو نہ ہو البتہ اس میں کوئی مصلحت بھی نہ ہو۔ ﴿ حَتّٰى يَبۡلُغَ اَشُدَّهٗ﴾ ’’حتیٰ کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے۔‘‘ یعنی یہاں تک کہ یتیم بالغ اور سمجھ دار ہو جائے اور اسے مال میں تصرف کرنے کی معرفت حاصل ہو جائے اور جب وہ سمجھ دار اور بالغ ہو جائے تو اس وقت مال اس کے حوالے کیا جائے اور وہ خود اپنی صوابدید کے مطابق اس مال میں تصرف کرے۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ یتیم بالغ ہونے سے قبل اپنے مال میں تصرف نہیں کر سکتا۔ اس کے سرپرست کو مال میں احسن طریقے سے تصرف کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ مال کے تصرف پر یہ پابندی یتیم کے بالغ ہونے پر ختم ہو جائے گی۔ ﴿ وَاَوۡفُوا الۡكَـيۡلَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’نہایت عدل و انصاف سے ناپ تول کو پورا کرو‘‘ یعنی جب تم انصاف کے ساتھ ناپ تول کو پورا کرنے کی ذمہ داری کو ادا کرنے میں جدوجہد کرو گے تو ﴿لَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا﴾ ’’ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت کے مطابق۔‘‘ یعنی ہم اس کی مقدرت کے مطابق اسے مکلف بناتے ہیں اور ایسی چیز کا مکلف نہیں بناتے جو اس کے بس سے باہر ہو، پس جو کوئی ناپ تول کو پورا کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے اور اس میں ہرگز کوتاہی نہیں برتتا تو لاعلمی میں کوئی تقصیر باقی رہ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور نہایت رحم والا ہے۔ اس آیت کریمہ سے علمائے اصول یہ اصول اخذ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔ پس اسے جو حکم دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے ممکن حد تک اس کی تعمیل کرتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔ ﴿وَاِذَا قُلۡتُمۡ﴾ ’’جب کوئی بات کہو۔‘‘ یعنی جب تم کوئی بات کہو جو لوگوں کے درمیان کسی فیصلے، کسی خطاب کی تفصیل پر مبنی ہو یا تم احوال و مقالات پر کلام کر رہے ہو ﴿ فَاعۡدِلُوۡ﴾ ’’تو انصاف سے کہو۔‘‘ یعنی صدق، انصاف اور عدم کتمان کو مدنظر رکھتے ہوئے ان لوگوں کے درمیان جن کو تم پسند کرتے ہو یا ناپسند کرتے ہو، عدل سے بات کرو کیونکہ جسے آپ ناپسند کرتے ہیں اس کے بارے میں یا اس کے مقالات کے بارے میں اس کے خلاف حد سے بڑھ کر بات کرنا ظلم ہے جو کہ حرام ہے۔ بلکہ اگر صاحب علم اہل بدعت کے مقالات و نظریات پر کلام کرتا ہے تو اس پر فرض ہے کہ وہ ہر حق دار کو اس کا حق عطا کرے اور ان مقالات میں جو کچھ حق اور باطل موجود ہے اس کو پوری طرح بیان کرے کہ ان مقالات میں کون سی چیز حق کے قریب اور کون سی چیز حق سے دور ہے۔ فقہاء نے یہاں تک ذکر کیا ہے کہ قاضی پر فرض ہے کہ وہ فریقین کے درمیان اپنے لہجے اور اپنی نظر میں بھی انصاف کرے۔ ﴿ وَبِعَهۡدِ اللّٰهِ اَوۡفُوۡا﴾ ’’اور اللہ کا عہد پورا کرو‘‘ یہ آیت کریمہ اس عہد کو بھی شامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے اپنے حقوق پورے کروانے کے بارے میں لیا ہے اور اس عہد کو بھی شامل ہے جو مخلوق کے درمیان واقع ہوتا ہے۔ پس ان تمام معاہدوں کو پورا کرنا فرض اور ان کو توڑنا یا ان میں خلل اندازی کرنا حرام ہے ﴿ذٰلِكُمۡ﴾ مذکورہ تمام احکام میں ﴿ وَصّٰؔىكُمۡ بِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تم کو حکم کر دیا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو‘‘ یعنی وہ تمام احکام جو اس نے تمھارے لیے بیان کیے ہیں اور تم اللہ تعالیٰ کی اس وصیت کو پوری طرح قائم کرو جو اس نے تمھیں کی ہے اور تم ان تمام حکمتوں اور احکام کی معرفت حاصل کر لو جو ان کے اندر ہیں ۔

[153] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام بڑے بڑے احکام اور اہم شرائع کو واضح کر دیا تو اب ان کی طرف سے زیادہ عمومیت کی حامل بات کی طرف اشارہ فرمایا: ﴿وَاَنَّ هٰؔذَا صِرَاطِيۡ مُسۡتَقِيۡمًا﴾ ’’اور یہ کہ میرا سیدھا راستہ یہی ہے۔‘‘ یعنی یہ اور اس قسم کے دیگر احکام، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے اپنی کتاب میں بیان کر دیا ہے، اللہ تعالیٰ کا سیدھا راستہ ہے جو معتدل، آسان اور نہایت مختصر ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کی منزل تک پہنچاتا ہے ﴿فَاتَّبِعُوۡهُ﴾ ’’پس اس کی پیروی کرو‘‘ تاکہ تم فوز و فلاح، تمناؤں اور فرحتوں کو حاصل کر سکو۔ ﴿وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ﴾ ’’اور راستوں پر نہ چلنا۔‘‘ یعنی ان راستوں پر نہ چلو جو اللہ تعالیٰ کے راستے کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ فَتَفَرَّقَ بِكُمۡ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ﴾ ’’پس وہ تمھیں اس (اللہ) کے راستے سے جدا کردیں گے۔‘‘ یعنی یہ راستے تمھیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے اور تمھیں دائیں بائیں دوسرے راستوں پر ڈال دیں گے اور جب تم صراط مستقیم سے بھٹک جاؤ گے تو تمھارے سامنے صرف وہ راستے رہ جائیں گے جو جہنم تک پہنچانے والے ہیں ۔ ﴿ذٰلِكُمۡ وَصّٰؔىكُمۡ بِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ﴾ ’’یہ حکم کر دیا ہے تم کو تاکہ تم متقی بن جاؤ‘‘ کیونکہ جب تم علم و عمل کے اعتبار سے ان احکام کی تعمیل کرو گے جن کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے سامنے بیان کیا ہے تو تم اللہ تعالیٰ کے متقی اور فلاح یاب بندے بن جاؤ گے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے صراط مستقیم کو واحد ذکر کر کے اپنی طرف مضاف کیا ہے کیونکہ صرف یہی ایک راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس راستے پر گامزن لوگوں کی مدد کرتا ہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 148

Al-An'amJuz 8 · Page 148

6:147

فَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل رَّبُّكُمۡ ذُو رَحۡمَةٖ وَٰسِعَةٖ وَلَا يُرَدُّ بَأۡسُهُۥ عَنِ ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡمُجۡرِمِينَ ١٤٧

So if they deny you, [O Muḥammad], say, "Your Lord is the possessor of vast mercy; but His punishment cannot be repelled from the people who are criminals."

6:148

سَيَقُولُ ٱلَّذِينَ أَشۡرَكُواْ لَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ مَآ أَشۡرَكۡنَا وَلَآ ءَابَآؤُنَا وَلَا حَرَّمۡنَا مِن شَيۡءٖۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ حَتَّىٰ ذَاقُواْ بَأۡسَنَاۗ قُلۡ هَلۡ عِندَكُم مِّنۡ عِلۡمٖ فَتُخۡرِجُوهُ لَنَآۖ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنۡ أَنتُمۡ إِلَّا تَخۡرُصُونَ ١٤٨

Those who associated [others] with Allāh will say, "If Allāh had willed, we would not have associated [anything] and neither would our fathers, nor would we have prohibited anything." Likewise did those before deny until they tasted Our punishment. Say, "Do you have any knowledge that you can produce for us? You follow not except assumption, and you are not but misjudging."

6:149

قُلۡ فَلِلَّهِ ٱلۡحُجَّةُ ٱلۡبَٰلِغَةُۖ فَلَوۡ شَآءَ لَهَدَىٰكُمۡ أَجۡمَعِينَ ١٤٩

Say, "With Allāh is the far-reaching [i.e., conclusive] argument. If He had willed, He would have guided you all."

6:150

قُلۡ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ ٱلَّذِينَ يَشۡهَدُونَ أَنَّ ٱللَّهَ حَرَّمَ هَٰذَاۖ فَإِن شَهِدُواْ فَلَا تَشۡهَدۡ مَعَهُمۡۚ وَلَا تَتَّبِعۡ أَهۡوَآءَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا وَٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ وَهُم بِرَبِّهِمۡ يَعۡدِلُونَ ١٥٠

Say, [O Muḥammad], "Bring forward your witnesses who will testify that Allāh has prohibited this." And if they testify, do not testify with them. And do not follow the desires of those who deny Our verses and those who do not believe in the Hereafter, while they equate [others] with their Lord.

6:151

۞ قُلۡ تَعَالَوۡاْ أَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمۡ عَلَيۡكُمۡۖ أَلَّا تُشۡرِكُواْ بِهِۦ شَيۡـٔٗاۖ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنٗاۖ وَلَا تَقۡتُلُوٓاْ أَوۡلَٰدَكُم مِّنۡ إِمۡلَٰقٖ نَّحۡنُ نَرۡزُقُكُمۡ وَإِيَّاهُمۡۖ وَلَا تَقۡرَبُواْ ٱلۡفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَۖ وَلَا تَقۡتُلُواْ ٱلنَّفۡسَ ٱلَّتِي حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلۡحَقِّۚ ذَٰلِكُمۡ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ ١٥١

Say, "Come, I will recite what your Lord has prohibited to you. [He commands] that you not associate anything with Him, and to parents, good treatment, and do not kill your children out of poverty; We will provide for you and them. And do not approach immoralities - what is apparent of them and what is concealed. And do not kill the soul which Allāh has forbidden [to be killed] except by [legal] right. This has He instructed you that you may use reason."

As-Sa'diTafsir · 6:151

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском