Al-An'amJuz 7 · Page 128

Al-An'am 6:2

The Cattle · Juz 7 · Page 128

هُوَ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن طِينٖ ثُمَّ قَضَىٰٓ أَجَلٗاۖ وَأَجَلٞ مُّسَمًّى عِندَهُۥۖ ثُمَّ أَنتُمۡ تَمۡتَرُونَ ٢

It is He who created you from clay and then decreed a term1 and a specified time [known] to Him;2 then [still] you are in dispute.

2 translator’s notes
  1. An appointed time for death.

    [292] For resurrection.

    ↩
  2. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 6:1–2

تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہے جس نے پیدا کیے آسمان و زمین اور بنائے اندھیرے اور روشنی، پھر وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، اپنے رب کے ساتھ (اوروں کو) برابر ٹھہراتے ہیں (1) اسی نے پیدا کیا تمھیں مٹی سے، پھر مقرر کیا اس نے ایک وقت اور ایک وقت معین ہے اس کے ہاں (قیامت کا)، پھر (بھی) تم شک کرتے ہو(2)

[1] یہ صفات کمال اور نعوت عظمت و جلال کے ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ کی عمومی حمد و ثنا اور ان صفات کے ذریعے سے اس کی خصوصی حمد و ثنا ہے، چنانچہ اس نے اس امر پر اپنی حمد و ثنا بیان کی ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو تخلیق فرمایا۔ جو اس کی قدرت کاملہ، وسیع علم و رحمت، حکمت عامہ اور خلق و تدبیر میں اس کی انفرادیت پر دلالت کرتی ہے، نیز اس چیز پر دلالت کرتی ہے کہ اس نے تاریکیوں اور روشنی کو پیدا کیا۔ اور اس میں حسی اندھیرے اور اجالے بھی شامل ہیں ، جیسے رات، دن، سورج اور چاند وغیرہ اور معنوی اندھیرے اجالے بھی، مثلاً: جہالت، شک، شرک، معصیت اور غفلت کے اندھیرے اور علم، ایمان، یقین اور اطاعت کے اجالے۔ یہ تمام امور قطعی طور پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی عبادت اور اخلاص کا مستحق ہے مگر اس روشن دلیل اور واضح برہان کے باوجود ﴿ثُمَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِرَبِّهِمۡ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’پھر وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، اپنے رب کے ساتھ اوروں کو برابر کیے دیتے ہیں ‘‘ غیروں کو اللہ کے برابر قرار دیتے ہیں ۔ وہ انھیں عبادت اور تعظیم میں اللہ تعالیٰ کے مساوی قرار دیتے ہیں اگرچہ وہ کمالات میں ان کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر نہیں سمجھتے اور وہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ہستیاں ہر لحاظ سے محتاج، فقیر اور ناقص ہیں ۔

[2]﴿ هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’وہی ہے جس نے تمھیں مٹی سے پیدا کیا‘‘ یعنی تمھارا اور تمھارے باپ کا مادہ مٹی سے تخلیق کیا گیا ہے ﴿ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا ﴾ ’’پھر ایک مدت مقرر کر دی‘‘ یعنی اس دنیا میں رہنے کے لیے تمھارے لیے ایک مدت مقرر کر دی اس مدت میں تم اس دنیا سے فائدہ اٹھاتے ہو اور رسول بھیج کر تمھارا امتحان لیا جاتا ہے اور تمھاری آزمائش کی جاتی ہے۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿ لِيَبۡلُوَؔكُمۡ اَيُّؔكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ﴾(الملک: 67؍2) ’’تاکہ وہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاَجَلٌ مُّسَمًّى عِنۡدَهٗ ﴾ ’’اور ایک مدت مقرر ہے اللہ کے نزدیک‘‘ اس مدت مقررہ سے مراد آخرت ہے، بندے اس دنیا سے آخرت میں منتقل ہوں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اچھے برے اعمال کی جزا دے گا ﴿ ثُمَّ ﴾ پھر اس کامل بیان اور دلیل قاطع کے باوجود ﴿اَنۡتُمۡ تَمۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’تم شک کرتے ہو‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے وعد و وعید اور قیامت کے دن جزا و سزا کے وقوع کا انکار کرتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اندھیروں ﴿الظُّلُمَاتِ﴾ کو ان کے کثرت مواد اور ان کے تنوع کی بنا پر جمع کے صیغے میں بیان فرمایا ہے اور اجالے ﴿النُّوۡرَ﴾ کو واحد استعمال کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تک پہنچانے والا راستہ ایک ہی ہوتا ہے، اس میں تعدد نہیں ہوتا اور یہ وہ راستہ ہے جو حق، علم اور اس پر عمل کو متضمن ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاَنَّ هٰؔذَا صِرَاطِيۡ مُسۡتَقِيۡمًا فَاتَّبِعُوۡهُ١ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمۡ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ ﴾(الانعام: 6؍153) ’’اور یہ کہ میرا سیدھا راستہ یہی ہے اور تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو ورنہ تم اللہ کے راستے سے الگ ہو جاؤ گے۔‘‘

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 128

Al-An'amJuz 7 · Page 128

سورة الأنعام

Al-An'am

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

6:1

ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَجَعَلَ ٱلظُّلُمَٰتِ وَٱلنُّورَۖ ثُمَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِرَبِّهِمۡ يَعۡدِلُونَ ١

[All] praise is [due] to Allāh, who created the heavens and the earth and made the darkness and the light. Then those who disbelieve equate [others] with their Lord.

6:2

هُوَ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن طِينٖ ثُمَّ قَضَىٰٓ أَجَلٗاۖ وَأَجَلٞ مُّسَمًّى عِندَهُۥۖ ثُمَّ أَنتُمۡ تَمۡتَرُونَ ٢

It is He who created you from clay and then decreed a term1 and a specified time [known] to Him;2 then [still] you are in dispute.

2 translator’s notes
  1. An appointed time for death.

    [292] For resurrection.

    ↩
  2. ↩

6:3

وَهُوَ ٱللَّهُ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَفِي ٱلۡأَرۡضِ يَعۡلَمُ سِرَّكُمۡ وَجَهۡرَكُمۡ وَيَعۡلَمُ مَا تَكۡسِبُونَ ٣

And He is Allāh, [the only deity] in the heavens and the earth. He knows your secret and what you make public, and He knows that which you earn.

6:4

وَمَا تَأۡتِيهِم مِّنۡ ءَايَةٖ مِّنۡ ءَايَٰتِ رَبِّهِمۡ إِلَّا كَانُواْ عَنۡهَا مُعۡرِضِينَ ٤

And no sign comes to them from the signs of their Lord except that they turn away therefrom.

6:5

فَقَدۡ كَذَّبُواْ بِٱلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ فَسَوۡفَ يَأۡتِيهِمۡ أَنۢبَٰٓؤُاْ مَا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ ٥

For they had denied the truth when it came to them, but there is going to reach them the news of what they used to ridicule.1

1 translator’s note
  1. They will experience the reality of what they had denied and the consequence of their denial. ↩

6:6

أَلَمۡ يَرَوۡاْ كَمۡ أَهۡلَكۡنَا مِن قَبۡلِهِم مِّن قَرۡنٖ مَّكَّنَّٰهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ مَا لَمۡ نُمَكِّن لَّكُمۡ وَأَرۡسَلۡنَا ٱلسَّمَآءَ عَلَيۡهِم مِّدۡرَارٗا وَجَعَلۡنَا ٱلۡأَنۡهَٰرَ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهِمۡ فَأَهۡلَكۡنَٰهُم بِذُنُوبِهِمۡ وَأَنشَأۡنَا مِنۢ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا ءَاخَرِينَ ٦

Have they not seen how many generations We destroyed before them which We had established upon the earth as We have not established you? And We sent [rain from] the sky upon them in showers and made rivers flow beneath them; then We destroyed them for their sins and brought forth after them a generation of others.

6:7

وَلَوۡ نَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ كِتَٰبٗا فِي قِرۡطَاسٖ فَلَمَسُوهُ بِأَيۡدِيهِمۡ لَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ مُّبِينٞ ٧

And even if We had sent down to you, [O Muḥammad], a written scripture on a page and they touched it with their hands, the disbelievers would say, "This is not but obvious magic."

6:8

وَقَالُواْ لَوۡلَآ أُنزِلَ عَلَيۡهِ مَلَكٞۖ وَلَوۡ أَنزَلۡنَا مَلَكٗا لَّقُضِيَ ٱلۡأَمۡرُ ثُمَّ لَا يُنظَرُونَ ٨

And they say, "Why was there not sent down to him an angel?"1 But if We had sent down an angel, the matter would have been decided;2 then they would not be reprieved.

2 translator’s notes
  1. In support of his prophethood (ﷺ).

    [295] They would have been destroyed immediately with no chance for repentance.

    ↩
  2. ↩
As-Sa'diTafsir · 6:2

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском