Al-An'am 6:35
The Cattle · Juz 7 · Page 131
وَإِن كَانَ كَبُرَ عَلَيۡكَ إِعۡرَاضُهُمۡ فَإِنِ ٱسۡتَطَعۡتَ أَن تَبۡتَغِيَ نَفَقٗا فِي ٱلۡأَرۡضِ أَوۡ سُلَّمٗا فِي ٱلسَّمَآءِ فَتَأۡتِيَهُم بِـَٔايَةٖۚ وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَمَعَهُمۡ عَلَى ٱلۡهُدَىٰۚ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡجَٰهِلِينَ ٣٥
And if their evasion is difficult for you, then if you are able to seek a tunnel into the earth or a stairway into the sky to bring them a sign, [then do so]. But if Allāh had willed, He would have united them upon guidance. So never be of the ignorant.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 6:33–35
تحقیق جانتے ہیں ہم بلاشبہ غمگین کرتی ہے آپ کو وہ بات جو وہ کہتے ہیں ، پس بے شک وہ نہیں جھٹلاتے آپ کو لیکن وہ ظالم تو اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں (33) اور بلاشبہ جھٹلائے گئے کئی رسول آپ سے پہلے تو صبر کیا انھوں نے اوپر اس کے جو وہ جھٹلائے گئے اور ایذاء دیے گئے، حتی کہ آگئی ان کے پاس ہماری مدداور نہیں کوئی تبدیل کرنے والا اللہ کے کلمات کواور یقینا آچکی ہیں آپ کے پاس کچھ خبریں رسولوں کی(34) اور اگر ہو گراں آپ پر اعراض کرنا ان کا تو اگر استطاعت رکھتے ہیں آپ یہ کہ تلاش کریں کوئی سرنگ زمین میں یا سیڑھی آسمان میں، پھر لے آئیں آپ ان کے پاس کوئی نشانی، (تو کر دیکھیں )اور اگر چاہتا اللہ تو جمع کر دیتا انھیں ہدایت پر، پس نہ ہوں آپ نادانوں سے(35)
[33] یعنی ہمیں علم ہے کہ آپ کی تکذیب کرنے والے آپ کے بارے میں جو کچھ کہتے ہیں اس سے آپ کو تکلیف پہنچتی ہے اور آپ غم زدہ ہوتے ہیں ۔ ہم نے آپ کو صبر کرنے کا حکم محض اس لیے دیا ہے تاکہ آپ کو مقامات بلند اور گراں قیمت احوال حاصل ہوں ۔ پس آپ یہ نہ سمجھیں کہ ان کا یہ قول اس سبب سے صادر ہوا ہے کہ ان کو آپ کے بارے میں کوئی اشتباہ یا شک لاحق ہوا ہے ﴿ فَاِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُوۡنَكَ ﴾ ’’بے شک وہ آپ کو نہیں جھٹلاتے‘‘ کیونکہ وہ آپ کی صداقت، آپ کے اندر باہر اور آپ کے تمام احوال کو خوب جانتے ہیں ۔ حتیٰ کہ وہ آپﷺ کی بعثت سے پہلے آپ کو ’’امین‘‘ کہا کرتے تھے ﴿ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ ﴾ ’’لیکن ظالم لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی ان آیات کو جھٹلاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر ظاہر کیا۔
[34] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ كُذِّبَتۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَصَبَرُوۡا عَلٰى مَا كُذِّبُوۡا وَاُوۡذُوۡا حَتّٰۤى اَتٰىهُمۡ نَصۡرُنَا ﴾ ’’آپ سے پہلے رسولوں کو بھی جھٹلایا گیا، پس انھوں نے اپنی تکذیب اور ایذا دیے جانے پر صبر کیا، یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی‘‘ پس جس طرح انھوں نے صبر کیا اسی طرح آپ بھی صبر کیجیے۔ جس طرح وہ ظفریاب ہوئے آپ بھی ظفریاب ہوں گے :﴿وَلَقَدۡ جَآءَكَ مِنۡ نَّبَاِي الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’آپ کے پاس گزشتہ انبیا و مرسلین کی خبر پہنچ گئی ہے‘‘ جس سے آپ کے دل کو تقویت اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
[35]﴿ وَاِنۡ كَانَ كَبُرَ عَلَيۡكَ اِعۡرَاضُهُمۡ ﴾ ’’اور اگر ان کی روگردانی آپ پر شاق گزرتی ہے۔‘‘ یعنی اگر ان کا اعراض آپ پر شاق گزرتا ہے کیونکہ آپ ان کے ایمان کی بہت خواہش رکھتے ہیں تو آپ اس بارے میں اپنی پوری کوشش کر دیکھیے۔ پس اس شخص کو ہدایت دینا آپ کے بس میں نہیں جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دینا نہ چاہتا ہو۔ ﴿ فَاِنِ اسۡتَطَعۡتَ اَنۡ تَبۡتَغِيَ نَفَقًا فِي الۡاَرۡضِ اَوۡ سُلَّمًا فِي السَّمَآءِ فَتَاۡتِيَهُمۡ بِاٰيَةٍ﴾ ’’پس اگر آپ سے ہو سکے کہ ڈھونڈ نکالیں کوئی سرنگ زمین میں یا کوئی سیڑھی آسمان میں پھر لائیں آپ ان کے پاس کوئی نشانی‘‘ یعنی یہ سب کچھ کر دیکھیے ان میں سے کوئی چیز بھی ان کو فائدہ نہیں دے گی۔ یہ آیت کریمہ اس قسم کے معاندین حق کی ہدایت کی تمنا اور امید کو منقطع کرتی ہے۔ ﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمۡ عَلَى الۡهُدٰؔى ﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کر دیتا‘‘ مگر حکمت الٰہی متقاضی ہوئی کہ وہ اپنی گمراہی پر باقی رہیں ﴿ فَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ ﴾ ’’پس آپ جاہلوں میں شامل نہ ہوں ‘‘ جو حقائق امور کی معرفت نہیں رکھتے اور ان امور کو ان کے مقام پر نہیں رکھتے۔
Page 131
6:28
بَلۡ بَدَا لَهُم مَّا كَانُواْ يُخۡفُونَ مِن قَبۡلُۖ وَلَوۡ رُدُّواْ لَعَادُواْ لِمَا نُهُواْ عَنۡهُ وَإِنَّهُمۡ لَكَٰذِبُونَ ٢٨
But what they concealed before has [now] appeared to them. And even if they were returned, they would return to that which they were forbidden; and indeed, they are liars.
6:29
وَقَالُوٓاْ إِنۡ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا ٱلدُّنۡيَا وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوثِينَ ٢٩
And they say, "There is none but our worldly life, and we will not be resurrected."
6:30
وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذۡ وُقِفُواْ عَلَىٰ رَبِّهِمۡۚ قَالَ أَلَيۡسَ هَٰذَا بِٱلۡحَقِّۚ قَالُواْ بَلَىٰ وَرَبِّنَاۚ قَالَ فَذُوقُواْ ٱلۡعَذَابَ بِمَا كُنتُمۡ تَكۡفُرُونَ ٣٠
If you could but see when they will be made to stand before their Lord. He will say, "Is this not the truth?" They will say, "Yes, by our Lord." He will [then] say, "So taste the punishment for what you used to deny."
6:31
قَدۡ خَسِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِلِقَآءِ ٱللَّهِۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَتۡهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغۡتَةٗ قَالُواْ يَٰحَسۡرَتَنَا عَلَىٰ مَا فَرَّطۡنَا فِيهَا وَهُمۡ يَحۡمِلُونَ أَوۡزَارَهُمۡ عَلَىٰ ظُهُورِهِمۡۚ أَلَا سَآءَ مَا يَزِرُونَ ٣١
Those will have lost who deny the meeting with Allāh, until when the Hour [of resurrection] comes upon them unexpectedly, they will say, "Oh, [how great is] our regret over what we neglected concerning it [i.e., the Hour]," while they bear their burdens [i.e., sins] on their backs. Unquestionably, evil is that which they bear.
6:32
وَمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَآ إِلَّا لَعِبٞ وَلَهۡوٞۖ وَلَلدَّارُ ٱلۡأٓخِرَةُ خَيۡرٞ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ ٣٢
And the worldly life is not but amusement and diversion; but the home of the Hereafter is best for those who fear Allāh, so will you not reason?
6:33
قَدۡ نَعۡلَمُ إِنَّهُۥ لَيَحۡزُنُكَ ٱلَّذِي يَقُولُونَۖ فَإِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَٰكِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ يَجۡحَدُونَ ٣٣
We know that you, [O Muḥammad], are saddened by what they say. And indeed, they do not call you untruthful, but it is the verses of Allāh that the wrongdoers reject.
6:34
وَلَقَدۡ كُذِّبَتۡ رُسُلٞ مِّن قَبۡلِكَ فَصَبَرُواْ عَلَىٰ مَا كُذِّبُواْ وَأُوذُواْ حَتَّىٰٓ أَتَىٰهُمۡ نَصۡرُنَاۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَٰتِ ٱللَّهِۚ وَلَقَدۡ جَآءَكَ مِن نَّبَإِيْ ٱلۡمُرۡسَلِينَ ٣٤
And certainly were messengers denied before you, but they were patient over the denial, and they were harmed until Our victory came to them. And none can alter the words [i.e., decrees] of Allāh. And there has certainly come to you some information about the [previous] messengers.
6:35
وَإِن كَانَ كَبُرَ عَلَيۡكَ إِعۡرَاضُهُمۡ فَإِنِ ٱسۡتَطَعۡتَ أَن تَبۡتَغِيَ نَفَقٗا فِي ٱلۡأَرۡضِ أَوۡ سُلَّمٗا فِي ٱلسَّمَآءِ فَتَأۡتِيَهُم بِـَٔايَةٖۚ وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَمَعَهُمۡ عَلَى ٱلۡهُدَىٰۚ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡجَٰهِلِينَ ٣٥
And if their evasion is difficult for you, then if you are able to seek a tunnel into the earth or a stairway into the sky to bring them a sign, [then do so]. But if Allāh had willed, He would have united them upon guidance. So never be of the ignorant.