Al-An'amJuz 7 · Page 128

Al-An'am 6:5

The Cattle · Juz 7 · Page 128

فَقَدۡ كَذَّبُواْ بِٱلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ فَسَوۡفَ يَأۡتِيهِمۡ أَنۢبَٰٓؤُاْ مَا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ ٥

For they had denied the truth when it came to them, but there is going to reach them the news of what they used to ridicule.1

1 translator’s note
  1. They will experience the reality of what they had denied and the consequence of their denial. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 6:4–6

اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی آیت ان کے رب کی آیات سے مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے(4) پس تحقیق جھٹلایا انھوں نے حق کو جب آیا ان کے پاس، سو عنقریب آئیں گی ان کے پاس خبریں اس چیز کی کہ تھے وہ اس کے ساتھ استہزا کرتے(5) کیا نہیں دیکھا انھوں نے کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے ایسی امتیں کہ طاقت دی تھی ہم نے ان کو زمین میں ، وہ جو نہیں طاقت دی ہم نے تمھیں اور بھیجی ہم نے بارش اوپر ان کے موسلا دھاراور بنائیں ہم نے نہریں کہ وہ بہتی تھیں ان کے (گھر کے) نیچے سے ، پھر ہلاک کر دیا ہم نے انھیں بوجہ ان کے گناہوں کےاور پیدا کیں ہم نے ان کے بعد امتیں اور(6)

[4] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مشرکین کے اعراض، ان کی شدت تکذیب اور ان کی عداوت کے بارے میں خبر ہے۔ نیز یہ کہ آیات و معجزات انھیں کوئی فائدہ نہیں دیں گے جب تک کہ ان پر عبرتناک عذاب نازل نہ ہو جائے، چنانچہ فرمایا:﴿وَمَا تَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ اٰيَةٍ مِّنۡ اٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی ان کے رب کی نشانیوں میں سے‘‘ جو حق پر دلیل قطعی ہیں جو حق کے قبول کرنے اور اس کی اتباع کرنے کی دعوت دیتی ہیں ۔ ﴿ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهَا مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’مگر وہ اس سے اعراض کرتے ہیں ‘‘ یعنی وہ ان آیات کو غور سے سنتے نہیں اور ان میں تدبر نہیں کرتے ان کے دل دوسرے امور میں مصروف ہیں اور انھوں نے پیٹھ پھیر لی ہے۔

[5]﴿ فَقَدۡ كَذَّبُوۡا بِالۡحَقِّ لَمَّا جَآءَؔهُمۡ ﴾ ’’انھوں نے حق کو جھٹلایا جب ان کے پاس آیا‘‘ حالانکہ حق اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ اور اس بات پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے کہ اس نے ان کے لیے حق کو آسان کر دیا اور وہ ان کے پاس حق لے کر آیا مگر انھوں نے اس حق کا سامنا اس رویہ کے برعکس رویے کے ساتھ کیا جس رویے کے ساتھ انھیں اس کا سامنا کرنا چاہیے تھا۔ اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔ ﴿فَسَوۡفَ يَاۡتِيۡهِمۡ اَنۢۡبٰٓؤُا مَا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَؔ ﴾ ’’سو اب آئی جاتی ہے ان کے پاس حقیقت اس بات کی جس پر وہ ہنستے تھے‘‘ یعنی وہ چیز جس کا تمسخر اڑایا کرتے تھے اس کے بارے میں عنقریب انھیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ حق اور سچ ہے، اللہ تعالیٰ جھٹلانے والوں کے جھوٹ اور بہتان کو کھول دے گا۔ یہ لوگ دوبارہ اٹھائے جانے، جنت اور جہنم کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ قیامت کے روز ان جھٹلانے والوں سے کہا جائے گا ﴿ هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ ﴾(الطور: 52؍14) ’’یہ ہے وہ آگ جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔‘‘﴿ وَاَقۡسَمُوۡا بِاللّٰهِ جَهۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ١ۙ لَا يَبۡعَثُ اللّٰهُ مَنۡ يَّمُوۡتُ١ؕ بَلٰى وَعۡدًا عَلَيۡهِ حَقًّا وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَؔۙ۰۰لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِيۡ يَخۡتَلِفُوۡنَ فِيۡهِ وَلِيَعۡلَمَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰذِبِيۡنَ﴾(النحل: 16؍38،39) ’’اور اللہ کی سخت قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ جو مر جاتا ہے اللہ اسے دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھائے گا۔ کیوں نہیں یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔ تاکہ جن باتوں میں یہ لوگ اختلاف کرتے تھے ان پر ظاہر کر دے اور اس لیے بھی کہ کافروں کو معلوم ہو جائے کہ وہ جھوٹے تھے۔‘‘

[6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ امم سابقہ کے انجام سے عبرت پکڑیں چنانچہ فرمایا: ﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا كَمۡ اَهۡلَكۡنَا مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ ﴾ ’’کیا انھوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے جھٹلانے والی کتنی ہی قوموں کو پے در پے ہلاک کر دیا؟‘‘ اور اس ہلاکت سے پہلے ہم نے انھیں مہلت دی ﴿ مَّؔكَّـنّٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ مَا لَمۡ نُمَؔكِّنۡ لَّـكُمۡ ﴾ ’’ہم نے ان کو زمین میں وہ قوت و طاقت دی جو تمھیں ہم نے نہیں دی‘‘ یعنی ہم نے انھیں مال، اولاد اور خوشحالی سے نوازا ﴿وَاَرۡسَلۡنَا السَّمَآءَؔ عَلَيۡهِمۡ مِّؔدۡرَارًا١۪ وَّجَعَلۡنَا الۡاَنۡهٰرَ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهِمۡ ﴾ ’’اور چھوڑ دیا ہم نے ان پر آسمان کو لگاتار برستا ہوا اور بنا دیں ہم نے نہریں بہتی ہوئی ان کے نیچے‘‘ پھر اللہ تعالیٰ جو چاہتا اس پانی سے کھیتیاں اور پھل اگتے تھے جن سے وہ لوگ فائدہ اٹھاتے تھے اور جو دل چاہتا تھا تناول کرتے تھے۔ مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا، شہوات نے ان کو اپنی گرفت میں لے لیا اور لذات نے ان کو غافل کر دیا۔ پس ان کے رسول واضح دلائل کے ساتھ ان کے پاس آئے مگر انھوں نے ان کی تصدیق نہ کی بلکہ ان کو ٹھکرا دیا اور ان کو جھٹلا دیا ﴿ فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ۠ بِذُنُوۡبِهِمۡ وَاَنۡشَاۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کر دیا اور پیدا کیا ہم نے ان کے بعد دوسری امتوں کو‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا پھر ان کے بعد اس نے اور قومیں پیدا کر دیں ۔ گزری ہوئی اور آنے والی قوموں کے بارے میں یہی اللہ تعالیٰ کی سنت ہے پس اللہ تعالیٰ نے تمھارے سامنے ان کا جو قصہ بیان کیا ہے اس سے عبرت پکڑو۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 128

Al-An'amJuz 7 · Page 128

سورة الأنعام

Al-An'am

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

6:1

ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَجَعَلَ ٱلظُّلُمَٰتِ وَٱلنُّورَۖ ثُمَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِرَبِّهِمۡ يَعۡدِلُونَ ١

[All] praise is [due] to Allāh, who created the heavens and the earth and made the darkness and the light. Then those who disbelieve equate [others] with their Lord.

6:2

هُوَ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن طِينٖ ثُمَّ قَضَىٰٓ أَجَلٗاۖ وَأَجَلٞ مُّسَمًّى عِندَهُۥۖ ثُمَّ أَنتُمۡ تَمۡتَرُونَ ٢

It is He who created you from clay and then decreed a term1 and a specified time [known] to Him;2 then [still] you are in dispute.

2 translator’s notes
  1. An appointed time for death.

    [292] For resurrection.

    ↩
  2. ↩

6:3

وَهُوَ ٱللَّهُ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَفِي ٱلۡأَرۡضِ يَعۡلَمُ سِرَّكُمۡ وَجَهۡرَكُمۡ وَيَعۡلَمُ مَا تَكۡسِبُونَ ٣

And He is Allāh, [the only deity] in the heavens and the earth. He knows your secret and what you make public, and He knows that which you earn.

6:4

وَمَا تَأۡتِيهِم مِّنۡ ءَايَةٖ مِّنۡ ءَايَٰتِ رَبِّهِمۡ إِلَّا كَانُواْ عَنۡهَا مُعۡرِضِينَ ٤

And no sign comes to them from the signs of their Lord except that they turn away therefrom.

6:5

فَقَدۡ كَذَّبُواْ بِٱلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ فَسَوۡفَ يَأۡتِيهِمۡ أَنۢبَٰٓؤُاْ مَا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ ٥

For they had denied the truth when it came to them, but there is going to reach them the news of what they used to ridicule.1

1 translator’s note
  1. They will experience the reality of what they had denied and the consequence of their denial. ↩

6:6

أَلَمۡ يَرَوۡاْ كَمۡ أَهۡلَكۡنَا مِن قَبۡلِهِم مِّن قَرۡنٖ مَّكَّنَّٰهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ مَا لَمۡ نُمَكِّن لَّكُمۡ وَأَرۡسَلۡنَا ٱلسَّمَآءَ عَلَيۡهِم مِّدۡرَارٗا وَجَعَلۡنَا ٱلۡأَنۡهَٰرَ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهِمۡ فَأَهۡلَكۡنَٰهُم بِذُنُوبِهِمۡ وَأَنشَأۡنَا مِنۢ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا ءَاخَرِينَ ٦

Have they not seen how many generations We destroyed before them which We had established upon the earth as We have not established you? And We sent [rain from] the sky upon them in showers and made rivers flow beneath them; then We destroyed them for their sins and brought forth after them a generation of others.

6:7

وَلَوۡ نَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ كِتَٰبٗا فِي قِرۡطَاسٖ فَلَمَسُوهُ بِأَيۡدِيهِمۡ لَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ مُّبِينٞ ٧

And even if We had sent down to you, [O Muḥammad], a written scripture on a page and they touched it with their hands, the disbelievers would say, "This is not but obvious magic."

6:8

وَقَالُواْ لَوۡلَآ أُنزِلَ عَلَيۡهِ مَلَكٞۖ وَلَوۡ أَنزَلۡنَا مَلَكٗا لَّقُضِيَ ٱلۡأَمۡرُ ثُمَّ لَا يُنظَرُونَ ٨

And they say, "Why was there not sent down to him an angel?"1 But if We had sent down an angel, the matter would have been decided;2 then they would not be reprieved.

2 translator’s notes
  1. In support of his prophethood (ﷺ).

    [295] They would have been destroyed immediately with no chance for repentance.

    ↩
  2. ↩
As-Sa'diTafsir · 6:5

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском