Al-An'am 6:9
The Cattle · Juz 7 · Page 129
وَلَوۡ جَعَلۡنَٰهُ مَلَكٗا لَّجَعَلۡنَٰهُ رَجُلٗا وَلَلَبَسۡنَا عَلَيۡهِم مَّا يَلۡبِسُونَ ٩
And if We had made him [i.e., the messenger] an angel, We would have made him [appear as] a man, and We would have covered them with that in which they cover themselves [i.e., confusion and doubt].
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 6:7–9
اور اگر اتارتے ہم آپ پر کوئی نوشتہ (لکھا ہوا) کاغذ میں ، پھر چھوتے وہ اس کو اپنے ہاتھوں سے تو بھی کہتے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا نہیں ہے یہ مگر جادو ظاہر(7) اور کہا انھوں نے کیوں نہیں نازل کیا گیا اس پر فرشتہ؟ اور اگر نازل کرتے ہم کوئی فرشتہ تو فیصلہ کر دیا جاتا معاملے کا، پھر نہ مہلت دیے جاتے(8) اور اگر بناتے ہم اس کو فرشتہ تو بھی بناتے ہم اس کو آدمی ہی اور البتہ شبہ ڈالتے ہم ان پر (وہی) جو شبہ وہ (اب) کر رہے ہیں (9)
[7] اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ) کو کفار کی شدت عناد سے آگاہ فرمایا ہے۔ اور یہ کہ ان کا یہ جھٹلانا آپ کی لائی ہوئی کتاب میں کسی نقص کی وجہ سے نہ تھا اور نہ اس کا سبب ان کی جہالت تھا، یہ تو محض ظلم اور زیادتی کی بنا پر تھا جس میں تمھارے لیے کوئی چارہ نہیں ۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿وَلَوۡ نَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ كِتٰبًا فِيۡ قِرۡطَاسٍ فَلَمَسُوۡهُ بِاَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اگر اتاریں ہم آپ پر لکھا ہوا کاغذ میں ، پھر چھو لیں اس کو اپنے ہاتھوں سے‘‘ یعنی انھیں یقین آجائے ﴿لَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا ﴾ ’’تو جو کافر ہیں وہ کہیں گے۔‘‘ یعنی ظلم اور تعدی کی بنا پر کفار کہیں گے ﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ تو کھلا جادو ہے۔‘‘ اس سے بڑھ کر اور کون سی دلیل ہو سکتی ہے؟ اور یہ ہے اس بارے میں ان کا انتہائی قبیح قول۔ انھوں نے ایسی محسوس چیز کا انکار کر دیا جس کا انکار کوئی ایسا شخص نہیں کر سکتا جس میں معمولی سی بھی عقل ہے۔
[8]﴿وَقَالُوۡا﴾ یعنی وہ تلبیس کے طور پر کہتے ہیں جو معقول سے لاعلمی اور جہالت پر مبنی ہے ﴿لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ مَلَكٌ ﴾ ’’ان پر فرشتہ کیوں نازل نہ ہوا۔‘‘ یعنی محمد (ﷺ) کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ اترا جو اس کی مدد کرتا اور اس کام میں اس کی معاونت کرتا۔ کیونکہ وہ اس زعم باطل میں مبتلا تھے کہ رسول اللہ ﷺ تو بشر ہیں اور رسالت تو فرشتوں میں ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ اس کی رحمت اور اپنے بندوں کے ساتھ لطف و کرم کا معاملہ ہے کہ اس نے انھی میں سے ایک بشر کو رسول بنا کر بھیجا تاکہ جو کچھ وہ لے کر مبعوث ہوتا ہے، اس پر ایمان علم اور بصیرت کی بنا پر اور بالغیب ہو۔ ﴿ وَلَوۡ اَنۡزَلۡنَا مَلَكًا ﴾ ’’اگر ہم فرشتہ نازل کرتے۔‘‘ اگر ہم نے اپنی رسالت کے ساتھ کسی فرشتے کو بھیجا ہوتا تو یہ ایمان معرفت حق کی بنا پر نہ ہوتا بلکہ ایک ایسا ایمان ہوتا جو مشاہدہ سے صادر ہوتا ہے اور ایسا ایمان اکیلا کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ یہ اس صورت میں ہے کہ اگر وہ ایمان لے آئیں مگر غالب یہ ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔ اگر وہ ایمان نہ لائے ﴿ لَّقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’تو طے ہو جائے قصہ‘‘ تو ان کی فوری ہلاکت اور عدم مہلت کا فیصلہ ہو جائے گا یہ اس شخص کے بارے میں سنت الٰہی ہے جو حسب خواہش معجزات کا مطالبہ کرتا ہے اور ان پر ایمان نہیں لاتا۔ اس لیے ان کی طرف رسول بشری کو آیات بینات کے ساتھ مبعوث کرنا، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ یہ بندوں کے لیے بہتر اور نرم ہیں ۔ نیز کفار اور جھٹلانے والوں کو مہلت دینا، ان کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ پس ان کا فرشتے اتارنے کا مطالبہ اگر وہ جانیں تو ان کے لیے بہت برا ہے۔
[9] بایں ہمہ اگر فرشتہ نازل کر کے ان کی طرف رسول بنا کر بھیج دیا جائے تو وہ اس سے کچھ سیکھنے کی طاقت رکھتے نہ اس کے متحمل ہو سکتے ہیں اور نہ ان کے قوائے فانی اس کا بوجھ اٹھانے کی طاقت رکھتے ہیں ﴿ وَلَوۡ جَعَلۡنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلۡنٰهُ رَجُلًا ﴾ ’’اور اگر ہم رسول بنا کر بھیجتے کسی فرشتے کو تو وہ بھی آدمی ہی کی صورت میں ہوتا‘‘ کیونکہ حکمت الہیہ اسی کا تقاضا کرتی ہے ﴿ وَّلَلَبَسۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّا يَلۡبِسُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو اسی شبہے میں ڈال دیتے جس میں اب پڑ رہے ہیں ‘‘ یعنی ان پر معاملہ مختلط ہو جاتا اور اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے خود اپنے آپ کو شبہ میں مبتلا کر لیا کیونکہ انھوں نے اپنے معاملے کی بنیاد اسی قاعدے پر رکھی جو مشتبہ تھا اور اس میں حق واضح نہیں تھا۔ پس جب صحیح طریقوں سے حق ان کے پاس آ گیا اور اس کے وہ قواعد بھی آ گئے جو اس کے حقیقی قواعد ہیں تو یہ حق ان کے لیے ہدایت کا باعث نہ بن سکا جبکہ دوسروں نے اس کے ذریعے سے ہدایت پائی۔ گناہ ان کا اپنا ہے کیونکہ انھوں نے خود اپنے آپ پر ہدایت کے دروازے بند کر کے گمراہی کے دروازے کھول لیے۔
Page 129
6:9
وَلَوۡ جَعَلۡنَٰهُ مَلَكٗا لَّجَعَلۡنَٰهُ رَجُلٗا وَلَلَبَسۡنَا عَلَيۡهِم مَّا يَلۡبِسُونَ ٩
And if We had made him [i.e., the messenger] an angel, We would have made him [appear as] a man, and We would have covered them with that in which they cover themselves [i.e., confusion and doubt].
6:10
وَلَقَدِ ٱسۡتُهۡزِئَ بِرُسُلٖ مِّن قَبۡلِكَ فَحَاقَ بِٱلَّذِينَ سَخِرُواْ مِنۡهُم مَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ ١٠
And already were messengers ridiculed before you, but those who mocked them were enveloped by that which they used to ridicule.
6:11
قُلۡ سِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ ثُمَّ ٱنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُكَذِّبِينَ ١١
Say, "Travel through the land; then observe how was the end of the deniers."
6:12
قُل لِّمَن مَّا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ قُل لِّلَّهِۚ كَتَبَ عَلَىٰ نَفۡسِهِ ٱلرَّحۡمَةَۚ لَيَجۡمَعَنَّكُمۡ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيهِۚ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ ١٢
Say, "To whom belongs whatever is in the heavens and earth?" Say, "To Allāh." He has decreed upon Himself mercy. He will surely assemble you for the Day of Resurrection, about which there is no doubt. Those who will lose themselves [that Day] do not believe.
6:13
۞ وَلَهُۥ مَا سَكَنَ فِي ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ ١٣
And to Him belongs that which reposes by night and by day, and He is the Hearing, the Knowing.
6:14
قُلۡ أَغَيۡرَ ٱللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيّٗا فَاطِرِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَهُوَ يُطۡعِمُ وَلَا يُطۡعَمُۗ قُلۡ إِنِّيٓ أُمِرۡتُ أَنۡ أَكُونَ أَوَّلَ مَنۡ أَسۡلَمَۖ وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ١٤
Say, "Is it other than Allāh I should take as a protector, Creator of the heavens and earth, while it is He who feeds and is not fed?" Say, [O Muḥammad], "Indeed, I have been commanded to be the first [among you] who submit [to Allāh] and [was commanded], 'Do not ever be of the polytheists.'"
6:15
قُلۡ إِنِّيٓ أَخَافُ إِنۡ عَصَيۡتُ رَبِّي عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيمٖ ١٥
Say, "Indeed I fear, if I should disobey my Lord, the punishment of a tremendous Day."
6:16
مَّن يُصۡرَفۡ عَنۡهُ يَوۡمَئِذٖ فَقَدۡ رَحِمَهُۥۚ وَذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡمُبِينُ ١٦
He from whom it is averted that Day - [Allāh] has granted him mercy. And that is the clear attainment.
6:17
وَإِن يَمۡسَسۡكَ ٱللَّهُ بِضُرّٖ فَلَا كَاشِفَ لَهُۥٓ إِلَّا هُوَۖ وَإِن يَمۡسَسۡكَ بِخَيۡرٖ فَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ١٧
And if Allāh should touch you with adversity, there is no remover of it except Him. And if He touches you with good - then He is over all things competent.
6:18
وَهُوَ ٱلۡقَاهِرُ فَوۡقَ عِبَادِهِۦۚ وَهُوَ ٱلۡحَكِيمُ ٱلۡخَبِيرُ ١٨
And He is the subjugator over His servants. And He is the Wise,1 the Aware.2