Al-An'amJuz 7 · Page 140

Al-An'am 6:99

The Cattle · Juz 7 · Page 140

وَهُوَ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَخۡرَجۡنَا بِهِۦ نَبَاتَ كُلِّ شَيۡءٖ فَأَخۡرَجۡنَا مِنۡهُ خَضِرٗا نُّخۡرِجُ مِنۡهُ حَبّٗا مُّتَرَاكِبٗا وَمِنَ ٱلنَّخۡلِ مِن طَلۡعِهَا قِنۡوَانٞ دَانِيَةٞ وَجَنَّٰتٖ مِّنۡ أَعۡنَابٖ وَٱلزَّيۡتُونَ وَٱلرُّمَّانَ مُشۡتَبِهٗا وَغَيۡرَ مُتَشَٰبِهٍۗ ٱنظُرُوٓاْ إِلَىٰ ثَمَرِهِۦٓ إِذَآ أَثۡمَرَ وَيَنۡعِهِۦٓۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكُمۡ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ ٩٩

And it is He who sends down rain from the sky, and We produce thereby the growth of all things. We produce from it greenery from which We produce grains arranged in layers. And from the palm trees - of its emerging fruit are clusters hanging low. And [We produce] gardens of grapevines and olives and pomegranates, similar yet varied. Look at [each of] its fruit when it yields and [at] its ripening. Indeed in that are signs for a people who believe.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 6:99

اور وہی ہے جس نے اتارا آسمان سے پانی، پس نکالیں ہم نے اس کے ذریعے سے نباتات ہر چیز کی ، پھر نکالا ہم نے اس سے سبزہ نکالتے ہیں ہم اس سے دانے باہم جڑے ہوئے اور کجھوروں کے شگوفے سے گچھے جھکے ہوئے اور(نکالے) باغات انگوروں اور زیتون اور انار کے، ملتے جلتے ہیں ( پتے ان کے) اور مختلف ہیں (پھل ان کے)، دیکھو اس کے پھل کو جبکہ وہ پھل لائے اور اس کا پکنا، بلا شبہ اس میں نشانیاں ہیں ان کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (99)

[99] اس آیت کریمہ میں مذکور نعمت اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے، انسان اور دیگر مخلوق جس کے سخت محتاج ہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ضرورت اور حاجت کے وقت پے در پے پانی برسایا، اس پانی کے ذریعے سے ہر قسم کی نباتات اگائی جسے انسان اور حیوانات کھاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مخلوق اس نباتات کو کھاتی ہے، اس کے عطا کردہ رزق سے انبساط محسوس کرتی ہے، لوگ اس کے احسان پر خوش ہوتے ہیں اور ان سے قحط اور خشک سالی دور ہو جاتی ہے۔ پس دل خوش ہو جاتے ہیں اور چہرے نکھر جاتے ہیں ، بندوں کو اللہ رحمان و رحیم کی بے پایاں رحمت نصیب ہوتی ہے جس سے وہ متمتع ہوتے ہیں ، اس سے اپنی غذا حاصل کرتے ہیں ۔ یہ چیز ان پر واجب ٹھہراتی ہے کہ وہ اس ہستی کا شکر ادا کریں جس نے انھیں یہ نعمتیں عطا کی ہیں اور اس کی عبادت، اس کی طرف انابت اور اس کی محبت میں اپنی کوشش صرف کریں ۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس پانی سے اگنے والے درختوں اور نباتات کا عمومی ذکر کیا تو اب (خصوصی طور پر) کھیتیوں اور کھجوروں کا ذکر فرمایا ہے کیونکہ ان کی منفعت بہت زیادہ ہے اور اکثر لوگوں کی خوراک بھی انھی سے حاصل ہوتی ہے۔ ﴿ فَاَخۡرَجۡنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَيۡءٍ فَاَخۡرَجۡنَا مِنۡهُ ﴾ ’’پھر نکالی ہم نے اس سے سبز کھیتی، ہم نکالتے ہیں اس سے‘‘ یعنی اس سرسبز نباتات میں سے ﴿ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا ﴾ ’’دانے، ایک پر ایک چڑھا ہوا‘‘ یعنی گندم، جو، مکئی اور چاول جیسی زرعی اجناس میں دانے اپنی بالیوں میں ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کے وصف میں ’’ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے‘‘ کا لفظ اشارہ کرتا ہے کہ ایک بالی میں متعدد دانے ہوتے ہیں ، سب ایک ہی مادے سے خوراک حاصل کرتے ہیں ، وہ ایک دوسرے سے خلط ملط نہیں ہوتے، تمام دانے متفرق ہوتے ہیں ، ان کی جڑ ایک ہی ہوتی ہے، نیز یہ دانوں کی کثرت، ان کے بڑھنے اور غلے کے عام ہونے کی طرف بھی اشارہ ہے تاکہ اصل بیج باقی رہے اور دوسرا غلہ کھایا اور ذخیرہ کیا جا سکے۔ ﴿ وَمِنَ النَّخۡلِ ﴾ ’’اور کھجور سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے نکالا ﴿مِنۡ طَلۡعِهَا ﴾ ’’اس کے گابھے سے‘‘ اور وہ کھجور کا خوشہ نکلنے سے قبل اس پر چڑھا ہوا غلاف ہے۔ پس اس غلاف میں سے کھجور کا خوشہ نکلتا ہے ﴿ قِنۡوَانٌ دَانِيَةٌ ﴾ ’’پھل کے گچھے، جھکے ہوئے‘‘ یعنی قریب قریب لگے ہوئے خوشے جن کا حصول بہت آسان ہوتا ہے جو کوئی خوشوں کو توڑنا چاہے وہ ان کے بہت قریب ہوتا ہے۔ انھیں کھجور سے حاصل کرنا مشکل نہیں ہوتا، خواہ کھجور کا درخت کتنا ہی اونچا کیوں نہ ہو کیونکہ کھجور کے تنے سے کٹی ہوئی شاخوں کی جگہ سیڑھیاں سی بن جاتی ہیں ان کی مدد سے کھجور پر چڑھنا آسان ہو جاتا ہے ﴿ وَّجَنّٰتٍ مِّنۡ اَعۡنَابٍ وَّالزَّيۡتُوۡنَ وَالرُّمَّانَ ﴾ ’’اور (اس پانی سے) انگور، زیتون اور انار کے باغات اگائے۔‘‘چونکہ یہ درخت کثیر الفوائد اور عظیم وقعت کے حامل ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے درختوں اور نباتات کا عمومی ذکر کرنے کے بعد ان کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ ﴿ مُشۡتَبِهًا وَّغَيۡرَ مُتَشَابِهٍ ﴾ ’’آپس میں ملتے جلتے بھی اور جدا جدا بھی‘‘ اس میں اس امر کا احتمال ہے کہ اس سے مراد انار اور زیتون ہو کیونکہ ان کے درخت اور پتے ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اور ان کے پھل غیر مشابہ (جدا جدا) ہوتے ہیں اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام درخت اور میوے وغیرہ ہوں جن میں سے بعض ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اور بعض ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں اور بعض اوصاف میں ایک دوسرے سے کوئی مشابہت نہیں رکھتے (بلکہ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں )۔ ان تمام درختوں سے بندے فائدہ اٹھاتے ہیں ، ان سے پھل اور غذا حاصل کرتے ہیں اور عبرت پکڑتے ہیں ۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان سے عبرت حاصل کرنے کا حکم دیا ہے ﴿ اُنۡظُرُوۡۤا ﴾ ’’دیکھو‘‘ یعنی غور و فکر اور عبرت کی نظر سے دیکھو ﴿ اِلٰى ثَمَرِهٖۤ ﴾ تمام درختوں کے پھل کی طرف عام طور پر اور کھجور کے پھل کی طرف خاص طور پر ﴿ اِذَاۤ اَثۡمَرَ ﴾ ’’جب وہ پھل لائے‘‘ ﴿ وَيَنۡعِهٖ ﴾ ’’اور اس کے پکنے پر‘‘ یعنی اس کے شگوفے نکلنے، پھل پکنے اور اس کے پک کر سرخ ہونے کی طرف دیکھو کیونکہ اس میں عبرت اور نشانیاں ہیں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کے جود و احسان کی وسعت، اس کے کامل اقتدار اور بندوں پر اس کی بے پایاں عنایات پر استدلال کیا جاتا ہے۔ مگر ہر ایک تفکر و تدبر کے ذریعے سے عبرت حاصل نہیں کرتا اور یہ بھی ضروری نہیں کہ جو کوئی غور و فکر کرے وہ معنی مقصود کو پا لے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آیات الٰہی سے فائدہ اٹھانے کو مومنین کے ساتھ خاص کیا ہے، چنانچہ فرمایا ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكُمۡ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اس میں ایمان رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں ‘‘ کیونکہ مومنین کا ایمان ان کو اپنے ایمان کے تقاضوں اور لوازم پر عمل کرنے پر آمادہ کرتا ہے اور ان لوازم میں آیات الٰہی میں غور و فکر، ان سے نتائج کا استخراج، ان کا معنی مراد اور یہ آیات عقلاً، شرعاً اور فطرتاً جس چیز پر دلالت کرتی ہیں ، سب شامل ہیں ۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 140

Al-An'amJuz 7 · Page 140

6:95

۞ إِنَّ ٱللَّهَ فَالِقُ ٱلۡحَبِّ وَٱلنَّوَىٰۖ يُخۡرِجُ ٱلۡحَيَّ مِنَ ٱلۡمَيِّتِ وَمُخۡرِجُ ٱلۡمَيِّتِ مِنَ ٱلۡحَيِّۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُۖ فَأَنَّىٰ تُؤۡفَكُونَ ٩٥

Indeed, Allāh is the cleaver of grain and date seeds.1 He brings the living out of the dead and brings the dead out of the living. That is Allāh; so how are you deluded?

1 translator’s note
  1. He (subḥānahu wa taʿālā) causes them to split and sprout. ↩

6:96

فَالِقُ ٱلۡإِصۡبَاحِ وَجَعَلَ ٱلَّيۡلَ سَكَنٗا وَٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَ حُسۡبَانٗاۚ ذَٰلِكَ تَقۡدِيرُ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡعَلِيمِ ٩٦

[He is] the cleaver of daybreak and has made the night for rest and the sun and moon for calculation.1 That is the determination of the Exalted in Might, the Knowing.

1 translator’s note
  1. Or "according to calculation," referring to their precise movement. ↩

6:97

وَهُوَ ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلنُّجُومَ لِتَهۡتَدُواْ بِهَا فِي ظُلُمَٰتِ ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِۗ قَدۡ فَصَّلۡنَا ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ ٩٧

And it is He who placed for you the stars that you may be guided by them through the darknesses of the land and sea. We have detailed the signs for a people who know.

6:98

وَهُوَ ٱلَّذِيٓ أَنشَأَكُم مِّن نَّفۡسٖ وَٰحِدَةٖ فَمُسۡتَقَرّٞ وَمُسۡتَوۡدَعٞۗ قَدۡ فَصَّلۡنَا ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَفۡقَهُونَ ٩٨

And it is He who produced you from one soul and [gave you] a place of dwelling and of storage.1 We have detailed the signs for a people who understand.

1 translator’s note
  1. In the earth. See 77:25-26. ↩

6:99

وَهُوَ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَخۡرَجۡنَا بِهِۦ نَبَاتَ كُلِّ شَيۡءٖ فَأَخۡرَجۡنَا مِنۡهُ خَضِرٗا نُّخۡرِجُ مِنۡهُ حَبّٗا مُّتَرَاكِبٗا وَمِنَ ٱلنَّخۡلِ مِن طَلۡعِهَا قِنۡوَانٞ دَانِيَةٞ وَجَنَّٰتٖ مِّنۡ أَعۡنَابٖ وَٱلزَّيۡتُونَ وَٱلرُّمَّانَ مُشۡتَبِهٗا وَغَيۡرَ مُتَشَٰبِهٍۗ ٱنظُرُوٓاْ إِلَىٰ ثَمَرِهِۦٓ إِذَآ أَثۡمَرَ وَيَنۡعِهِۦٓۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكُمۡ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ ٩٩

And it is He who sends down rain from the sky, and We produce thereby the growth of all things. We produce from it greenery from which We produce grains arranged in layers. And from the palm trees - of its emerging fruit are clusters hanging low. And [We produce] gardens of grapevines and olives and pomegranates, similar yet varied. Look at [each of] its fruit when it yields and [at] its ripening. Indeed in that are signs for a people who believe.

6:100

وَجَعَلُواْ لِلَّهِ شُرَكَآءَ ٱلۡجِنَّ وَخَلَقَهُمۡۖ وَخَرَقُواْ لَهُۥ بَنِينَ وَبَنَٰتِۭ بِغَيۡرِ عِلۡمٖۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يَصِفُونَ ١٠٠

But they have attributed to Allāh partners - the jinn, while He has created them - and have fabricated for Him sons and daughters without knowledge. Exalted is He and high above what they describe.

6:101

بَدِيعُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُۥ وَلَدٞ وَلَمۡ تَكُن لَّهُۥ صَٰحِبَةٞۖ وَخَلَقَ كُلَّ شَيۡءٖۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٞ ١٠١

[He is] Originator of the heavens and the earth. How could He have a son when He does not have a companion [i.e., wife] and He created all things? And He is, of all things, Knowing.

As-Sa'diTafsir · 6:99

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском