Al-Mumtahanah 60:11
She that is to be examined · Juz 28 · Page 550
وَإِن فَاتَكُمۡ شَيۡءٞ مِّنۡ أَزۡوَٰجِكُمۡ إِلَى ٱلۡكُفَّارِ فَعَاقَبۡتُمۡ فَـَٔاتُواْ ٱلَّذِينَ ذَهَبَتۡ أَزۡوَٰجُهُم مِّثۡلَ مَآ أَنفَقُواْۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ ٱلَّذِيٓ أَنتُم بِهِۦ مُؤۡمِنُونَ ١١
And if you have lost any of your wives to the disbelievers and you subsequently obtain [something],1 then give those whose wives have gone the equivalent of what they had spent. And fear Allāh, in whom you are believers.
1 translator’s note
- From the side of the disbelievers, i.e., war booty or a believing woman seeking refuge with the Muslims. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 60:10–11
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب آئیں تمھارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے تو تم امتحان لو ان کا اللہ خوب جانتا ہےان کے ایمان کو، پس اگر جانو تم ان کو مومن تو نہ لوٹاؤ تم انھیں کفار کی طرف، نہیں وہ (عورتیں) حلال ان کے لیے اور نہ وہ (کافر) حلال ہیں ان کے لیے اور تم دو ان (کفار) کو جو کچھ (مہر) انھوں نے خرچ کیا اور نہیں کوئی گناہ تم پر یہ کہ تم نکاح کر لو ان سے جب تم دے دو انھیں حق مہر ان کے اور نہ روکے (قبضے میں) رکھو تم عصمتیں کافر عورتوں کی اور مانگ لو تم جو کچھ (مہر) خرچ کیا تم نے اور چاہیے کہ مانگیں وہ بھی جو کچھ (مہر) انھوں نے خرچ کیا یہ فیصلہ ہے اللہ کا، وہ فیصلہ کرتا ہے تمھارے درمیان اور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے (10) اور اگر چلی جائیں تم سے کچھ بیویاں تمھاری کفار کی طرف تو بدلہ دو تم ان (خاوندوں) کو پس دو تم ان لوگوں کو کہ چلی گئی ہیں ان کی بیویاں، مثل اس (مہر) کے جو انھوں نے خرچ کیا اور ڈرو تم اللہ سے وہ کہ تم اس کے ساتھ ایمان رکھتے ہو (11)
[10] صلح حدیبیہ میں جب رسول اللہ ﷺ نے مشرکین مکہ کے ساتھ اس شرط پر معاہدہ کیا کہ کفار میں سے جو کوئی مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس آئے تو وہ مشرکین کو واپس کر دیا جائے گا۔ یہ عام اور مطلق لفظ تھا، جس کے عموم میں مرد اور عورت سب شامل ہیں۔ مردوں کو تو اللہ تعالیٰ نے ایفائے شرط اور معاہدۂ صلح کو پورا کرنے کے لیے کفار کی طرف واپس لوٹانے سے اپنے رسول کو منع نہیں کیا، جو سب سے بڑی مصلحت تھی۔رہی عورتیں تو چونکہ ان کے واپس لوٹانے میں بہت سے مفاسد تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا کہ جب مومن عورتیں ہجرت کر کے ان کے پاس آئیں، اور ان کو ان عورتوں کے ایمان کی صداقت میں شک ہو، تو ان کی اچھی طرح جانچ پڑتال کر لیا کریں، تاکہ سخت قسم وغیرہ کے ذریعے سے، ان کی صداقت ظاہر ہو جائے، کیونکہ اس بات کا احتمال ہو سکتا ہے کہ ان کے ایمان میں صداقت نہ ہو، بلکہ شوہر یا شہر وغیرہ دنیاوی مقاصد کے لیے ہجرت کی ہو، اگر ان میں یہ وصف پایا جائے، تو ایفائے شرط کے لیے کسی خرابی کے حصول کے بغیر ان کا واپس کیا جانا طے شدہ ہے۔ اگر اہل ایمان نے ان کو جانچ لیا اور ان کو سچا پایا ہو، یا جانچ پڑتال کے بغیر ہی اہل ایمان کو ان کے مومن ہونے کا علم ہو، تو وہ ان عورتوں کو کفار کی طرف واپس نہ بھیجیں ﴿ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمۡ وَلَا هُمۡ يَحِلُّوۡنَ لَهُنَّ ﴾ ’’یہ (عورتیں) ان (کافروں) کے لیے حلال ہیں نہ وہ (کافر) ان کے لیے۔‘‘ یہ بہت بڑی خرابی ہے جس کی شارع نے رعایت رکھی ہے، شارع نے ایفائے شرط کی بھی رعایت رکھی کہ ان عورتوں کے عوض میں ان کے کفار شوہروں کو وہ مہر اور اس کے توابع وغیرہ واپس لوٹا دیے جائیں جو انھوں نے ان عورتوں پر خرچ کیے ہیں۔ تب مسلمانوں کے لیے، ان عورتوں کے ساتھ نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں، خواہ دارالشرک میں ان کے (مشرک) شوہر موجود ہوں مگر اس شرط کے ساتھ کہ وہ ان عورتوں کو مہر اور نان و نفقہ ادا کریں۔جس طرح مسلمان عورت کافر کے لیے حلال نہیں، اسی طرح اہل کتاب کے سوا کافر عورت، جب تک وہ اپنے کفر پر قائم ہے، مسلمان مرد کے لیے حلال نہیں، اس لیے فرمایا:﴿ وَلَا تُمۡسِكُوۡا بِعِصَمِ الۡكَوَافِرِ ﴾ ’’اور تم کافر عورتوں کی ناموس کو قبضے میں نہ رکھو۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے کافر عورتوں کی ناموس کو قبضے میں رکھنے سے منع کیا ہے تب ان کے ساتھ نکاح کی ابتدا تو بدرجہ اولیٰ ممنوع ہے ﴿ وَسۡـَٔلُوۡا مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ ﴾ اے مومنو! جب تمھاری مرتد بیویاں کفار کی طرف واپس لوٹیں تو ان سے اس مال کا مطالبہ کرو، جو تم نے ان پر خرچ کیا ہے۔ جب کفار اپنی ان عورتوں کو عطا کیا ہو امہر وصول کر سکتے ہیں، جو مسلمان ہو گئی ہوں، تب اس کے مقابلے مسلمان بھی اس مہر کو وصول کرنے کے مستحق ہیں جو ان کی (مرتد) بیویوں کے ساتھ کفار کے پاس گیا ہے۔اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ عورت کا اپنے شوہر کی زوجیت سے نکلنا قیمت رکھتا ہے ، اگر کوئی فاسد کرنے والا عورت کے نکاح کو رضاعت یا کسی اور سبب کی بنا پر فاسد کر دے، تو اس کے مہر کی ضمان ہے، یعنی مہر کی ادائیگی ضروری ہے ﴿ ذٰلِكُمۡ حُكۡمُ اللّٰهِ ﴾ یعنی یہ فیصلہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے، جو اس نے تمھارے سامنے بیان کر کے واضح کیا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ جاننے والا، حکمت والا ہے۔‘‘ لہٰذا اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کون سے احکام تمھارے لیے درست ہیں ، پس وہ اپنی حکمت اور رحمت کے مطابق اپنے احکام مشروع کرتا ہے۔
[11]﴿ وَاِنۡ فَاتَكُمۡ شَيۡءٌ مِّنۡ اَزۡوَاجِكُمۡ اِلَى الۡكُفَّارِ ﴾ ’’اور اگر تمھاری عورتوں میں سے کوئی عورت تمھارے ہاتھ سے نکل کر کافروں کے پاس چلی جائے۔‘‘ اس سبب سے کہ وہ مرتد ہو کر واپس چلی گئی ہو۔ ﴿ فَعَاقَبۡتُمۡ فَاٰتُوا الَّذِيۡنَ ذَهَبَتۡ اَزۡوَاجُهُمۡ مِّثۡلَ مَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’تو تم (مال غنیمت میں سے) ان کو اتنا مال دے دو جتنا انھوں نے خرچ کیا۔‘‘ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ جب کفار مسلمانوں سے اس مہر کا بدل وصول کرتے تھے جو ان کی بیویوں کے پاس مسلمانوں کی طرف چلا جاتا تھا، تب مسلمانوں میں سے کسی کی بیوی کفار کے پاس چلی جائے اور وہ اس سے محروم ہو جائے، تو مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ غنیمت میں سے اسے اس مال کا بدل عطا کریں جو مہر کی صورت میں اس نے اپنی بیوی پر خرچ کیا۔ ﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيۡۤ اَنۡتُمۡ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور تم اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔‘‘یعنی اللہ تعالیٰ پر تمھارا ایمان تم سے تقاضا کرتا ہے کہ تم دائمی طور پر تقویٰ کا التزام کرو۔
Page 550
60:6
لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِيهِمۡ أُسۡوَةٌ حَسَنَةٞ لِّمَن كَانَ يَرۡجُواْ ٱللَّهَ وَٱلۡيَوۡمَ ٱلۡأٓخِرَۚ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡغَنِيُّ ٱلۡحَمِيدُ ٦
There has certainly been for you in them an excellent pattern for anyone whose hope is in Allāh and the Last Day. And whoever turns away - then indeed, Allāh is the Free of need, the Praiseworthy.
60:7
۞ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَجۡعَلَ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَ ٱلَّذِينَ عَادَيۡتُم مِّنۡهُم مَّوَدَّةٗۚ وَٱللَّهُ قَدِيرٞۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٧
Perhaps Allāh will put, between you and those to whom you have been enemies among them, affection. And Allāh is competent,1 and Allāh is Forgiving and Merciful.
1 translator’s note
- To accomplish this or whatever He should will. ↩
60:8
لَّا يَنۡهَىٰكُمُ ٱللَّهُ عَنِ ٱلَّذِينَ لَمۡ يُقَٰتِلُوكُمۡ فِي ٱلدِّينِ وَلَمۡ يُخۡرِجُوكُم مِّن دِيَٰرِكُمۡ أَن تَبَرُّوهُمۡ وَتُقۡسِطُوٓاْ إِلَيۡهِمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُقۡسِطِينَ ٨
Allāh does not forbid you from those who do not fight you because of religion and do not expel you from your homes - from being righteous toward them and acting justly toward them. Indeed, Allāh loves those who act justly.
60:9
إِنَّمَا يَنۡهَىٰكُمُ ٱللَّهُ عَنِ ٱلَّذِينَ قَٰتَلُوكُمۡ فِي ٱلدِّينِ وَأَخۡرَجُوكُم مِّن دِيَٰرِكُمۡ وَظَٰهَرُواْ عَلَىٰٓ إِخۡرَاجِكُمۡ أَن تَوَلَّوۡهُمۡۚ وَمَن يَتَوَلَّهُمۡ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ ٩
Allāh only forbids you from those who fight you because of religion and expel you from your homes and aid in your expulsion - [forbids] that you make allies1 of them. And whoever makes allies of them, then it is those who are the wrongdoers.
1 translator’s note
- See footnote to verse 1 of this sūrah. ↩
60:10
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا جَآءَكُمُ ٱلۡمُؤۡمِنَٰتُ مُهَٰجِرَٰتٖ فَٱمۡتَحِنُوهُنَّۖ ٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِإِيمَٰنِهِنَّۖ فَإِنۡ عَلِمۡتُمُوهُنَّ مُؤۡمِنَٰتٖ فَلَا تَرۡجِعُوهُنَّ إِلَى ٱلۡكُفَّارِۖ لَا هُنَّ حِلّٞ لَّهُمۡ وَلَا هُمۡ يَحِلُّونَ لَهُنَّۖ وَءَاتُوهُم مَّآ أَنفَقُواْۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ أَن تَنكِحُوهُنَّ إِذَآ ءَاتَيۡتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّۚ وَلَا تُمۡسِكُواْ بِعِصَمِ ٱلۡكَوَافِرِ وَسۡـَٔلُواْ مَآ أَنفَقۡتُمۡ وَلۡيَسۡـَٔلُواْ مَآ أَنفَقُواْۚ ذَٰلِكُمۡ حُكۡمُ ٱللَّهِ يَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡۖ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ ١٠
O you who have believed, when the believing women come to you as emigrants, examine [i.e., test] them. Allāh is most knowing as to their faith. And if you know them to be believers, then do not return them to the disbelievers; they are not lawful [wives] for them, nor are they lawful [husbands] for them. But give them [i.e., the disbelievers] what they have spent.1 And there is no blame upon you if you marry them when you have given them their due compensation [i.e., mahr]. And hold not to marriage bonds with disbelieving women, but ask for what you have spent and let them [i.e., the disbelievers] ask for what they have spent.2 That is the judgement of Allāh; He judges between you. And Allāh is Knowing and Wise.
2 translator’s notes
For marriage, i.e., compensate their loss.
[1677] When a disbelieving wife chose to join the disbelievers, a Muslim husband could demand in return the equivalent of her mahr. Likewise, the disbelievers had a similar right when a believing woman joined the Muslims. This and the following verses were revealed subsequent to the Treaty of al-Ḥudaybiyyah.
↩- ↩
60:11
وَإِن فَاتَكُمۡ شَيۡءٞ مِّنۡ أَزۡوَٰجِكُمۡ إِلَى ٱلۡكُفَّارِ فَعَاقَبۡتُمۡ فَـَٔاتُواْ ٱلَّذِينَ ذَهَبَتۡ أَزۡوَٰجُهُم مِّثۡلَ مَآ أَنفَقُواْۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ ٱلَّذِيٓ أَنتُم بِهِۦ مُؤۡمِنُونَ ١١
And if you have lost any of your wives to the disbelievers and you subsequently obtain [something],1 then give those whose wives have gone the equivalent of what they had spent. And fear Allāh, in whom you are believers.
1 translator’s note
- From the side of the disbelievers, i.e., war booty or a believing woman seeking refuge with the Muslims. ↩