Al-Mumtahanah 60:4
She that is to be examined · Juz 28 · Page 549
قَدۡ كَانَتۡ لَكُمۡ أُسۡوَةٌ حَسَنَةٞ فِيٓ إِبۡرَٰهِيمَ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥٓ إِذۡ قَالُواْ لِقَوۡمِهِمۡ إِنَّا بُرَءَٰٓؤُاْ مِنكُمۡ وَمِمَّا تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ كَفَرۡنَا بِكُمۡ وَبَدَا بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمُ ٱلۡعَدَٰوَةُ وَٱلۡبَغۡضَآءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤۡمِنُواْ بِٱللَّهِ وَحۡدَهُۥٓ إِلَّا قَوۡلَ إِبۡرَٰهِيمَ لِأَبِيهِ لَأَسۡتَغۡفِرَنَّ لَكَ وَمَآ أَمۡلِكُ لَكَ مِنَ ٱللَّهِ مِن شَيۡءٖۖ رَّبَّنَا عَلَيۡكَ تَوَكَّلۡنَا وَإِلَيۡكَ أَنَبۡنَا وَإِلَيۡكَ ٱلۡمَصِيرُ ٤
There has already been for you an excellent pattern1 in Abraham and those with him, when they said to their people, "Indeed, we are disassociated from you and from whatever you worship other than Allāh. We have denied you, and there has appeared between us and you animosity and hatred forever until you believe in Allāh alone" - except for the saying of Abraham to his father, "I will surely ask forgiveness for you, but I have not [power to do] for you anything against Allāh. Our Lord, upon You we have relied, and to You we have returned, and to You is the destination.
1 translator’s note
- An example to be followed. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 60:1–9
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ تم میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست، تم پیغام بھیجتے ہو ان کی طرف دوستی کا حالانکہ انھوں نے کفر کیا ہے ساتھ اس چیز کے جو آیا ہے تمھارے پاس حق، وہ نکالتے ہیں رسول کو اور خود تمھیں بھی اس لیے کہ تم ایمان لاتے ہو اللہ ( یعنی ) اپنے رب پر (نہ دوست بناؤ) اگر ہو تم نکلتے جہاد کے لیے میرے راستے میں اور تلاش کرنے کے لیے میری رضامندی تم پوشیدہ پیغام بھیجتے ہو ان کی طرف دوستی کا؟ اور میں خوب جانتا ہوں اس چیز کو جو تم چھپاتے ہو اور اس چیز کو جو تم ظاہر کرتے ہو، اور جو کوئی کرے یہ کام تم میں سے تو یقیناً وہ گمراہ ہو گیا سیدھی راہ سے(1) اگر وہ پائیں تم کو تو ہو جائیں وہ واسطے تمھارے دشمن، اور دراز کریں تمھاری طرف اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں ساتھ برائی کے، اور وہ پسند کریں کاش کہ تم بھی کفر کرو(2) ہرگز نہیں نفع دیں گے تمھیں تمھارے رشتے ناتے اور نہ تمھاری اولاد دن قیامت کے وہ فیصلہ کرےگا تمھارے درمیان (اس میں) اور اللہ، ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے(3) تحقیق ہے تمھارے لیے بہترین نمونہ ابراہیم اور ان لوگوں میں جو اس کےساتھ تھے، جب انھوں نے کہا تھا اپنی قوم سے، بلاشبہ ہم بری ہیں تم سے اور ان سے جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کفر کیا ہم نے ساتھ تمھارے اور ظاہر ہو گئی ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان عداوت اور بغض ہمیشہ کے لیے یہاں تک کہ ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اکیلے کے ،مگر کہنا ابراہیم کا اپنے باپ سے کہ ضرور مغفرت طلب کروں گا میں تیرے لیے اور نہیں اختیار رکھتا میں تیرے لیے اللہ سے کسی چیز کا بھی، اے ہمارے رب!تجھی پر توکل کیا ہم نے اور تیری ہی طرف رجوع کیا ہم نے اور تیری ہی طرف (ہمارا) لوٹنا ہے(4) اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا اور بخش دے ہمیں اے ہمارے رب! بلاشبہ تو ہی ہے بڑا زبردست، خوب حکمت والا(5) البتہ تحقیق ہے تمھارے لیے ان میں نمونہ بہترین اس شخص کے لیے جو ہو امید رکھتا اللہ (سے ملاقات) کی اور یوم آخرت کی اور جو کوئی رو گردانی کرے تو بلاشبہ اللہ ہی ہے بے پروا قابل تعریف(6) امید ہے کہ اللہ، یہ کہ (پیدا) کر دے وہ درمیان تمھارے اور درمیان ان لوگوں کے کہ عداوت رکھتے ہو تم ان سے، دوستی اور اللہ خوب قدرت والا ہے اور اللہ غفور رحیم ہے(7) نہیں روکتا تمھیں اللہ ان لوگوں سے جو نہیں لڑے تم سے دین کی بابت اور نہیں نکالا انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے ،اس بات سے کہ تم حسن سلوک کرو ان سے اور انصاف کرو تم ان کے حق میں بلاشبہ اللہ پسند کرتا ہے انصاف کرنے والوں کو(8)یقیناً روکتا ہے تمھیں اللہ ان لوگوں سے جو لڑے تم سے دین کی بابت، اور انھوں نے نکالا تمھیں تمھارے گھروں سے اور انھوں نے مدد کی تمھارے نکالنے میں، اس بات سے کہ تم دوستی کرو ان سے، اور جو کوئی دوستی کرے ان سے تو وہی لوگ ظالم ہیں(9)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بہت سے مفسرینs نے ذکر کیا ہے کہ ان آیات کریمہ کا سبب نزول حاطب بن ابی بلتعہt کا قصہ ہے، جب رسول اللہﷺ نے غزوۂ فتحِ مکہ کیا تو حاطب بن ابی بلتعہt نے مکہ کے مشرکین کو خط لکھا اور انھیں رسول اللہﷺ کی روانگی کی اطلاع دے دی۔ یہ اطلاع شک اور نفاق کی بنا پر نہ تھی بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ مشرکین پر ایک احسان كرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے یہ خط ایک عورت کے ذریعے سے روانہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ٔاکرمﷺ کو تمام معاملے سے آگاہ کر دیا۔ رسول اللہﷺ نے اس عورت کے مکہ پہنچنے سے پہلے پہلے اس کی طرف آدمیوں کو بھیجا اور اس سے وہ خط برآمد کرالیا۔ آپ نے حاطبt پر عتاب فرمایا، حاطبt نے ایسا عذر پیش کیا جسے نبی ٔکریم ﷺ نے قبول فرما لیا۔ان آیات کریمہ میں کفار ومشرکین وغیرہ سے موالات اور مودت رکھنے کی سخت ممانعت بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ موالات و مودت ایمان اور ملت ابراہیمu کے منافی اور عقل کے خلاف ہے جو ایسے دشمن سے پوری طرح سے بچنے کو واجب قرار دیتی ہے جو اپنی دشمنی میں جہد و کوشش میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتا اور اپنے دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔
[1] اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اے ایمان والو!‘‘ یعنی اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ جو ایمان لائے اس کے ساتھ موالات و مودت رکھو، جو ایمان کے ساتھ عداوت رکھے، تم اس کے ساتھ عداوت رکھو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن اور اہل ایمان کا دشمن ہے، لہٰذا ﴿ لَا تَتَّؔخِذُوۡا عَدُوِّيۡ ﴾ نہ بناؤ تم اللہ تعالیٰ کے دشمن کو ﴿وَعَدُوَّؔكُمۡ اَوۡلِيَآءَؔ تُلۡقُوۡنَ اِلَيۡهِمۡ بِالۡمَوَدَّةِ﴾ ’’اور اپنے دشمنوں کو دوست۔ تم انھیں دوستی کے پیغام بھیجتے ہو۔‘‘ یعنی تم ان کی محبت و مودت اور اس کے اسباب کے حصول کی کوشش میں جلدی مچاتے ہو۔ جب مودت حاصل ہو جاتی ہے تو نصرت و موالات اس کے پیچھے آتی ہیں۔ تب بندہ ایمان کے دائرے سے نکل کر اہل کفر ان کے زمرے میں شامل ہو جاتا ہے۔کافر کو دوست بنانے والا یہ شخص مروت سے بھی محروم ہے، وہ اپنے سب سے بڑے دشمن سے کیوں کر موالات رکھتا ہے جو اس کے بارے میں صرف برائی کا ارادہ رکھتا ہے اور اپنے رب کی کیوں کر مخالفت کرتا ہے جو اس کے بارے میں صرف بھلائی چاہتا ہے، اسے بھلائی کا حکم دیتا ہے اور بھلائی کی ترغیب دیتا ہے؟مومن کو کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کی طرف یہ چیز بھی دعوت دیتی ہے کہ انھوں نے اس حق کو ماننے سے انکار کر دیا جو مومنوں کے پاس آیا تھا۔ اس مخالفت اور دشمنی سے بڑھ کر کوئی اور چیز نہیں، انھوں نے تمھارے اصل دین کا انکار کیا ہے، ان کا گمان ہے کہ تم گمراہ ہو، ہدایت پر نہیں ہو۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ انھوں نے حق کا انکار کیا جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ اور جو کوئی حق کو ٹھکراتا ہے تو یہ امر محال ہے کہ اس کے پاس کوئی دلیل یا حجت پائی جائے جو اس کے قول کی صحت پر دلالت کرتی ہو بلکہ حق کا مجرد علم ہی اس شخص کے قول کے بطلان اور فساد پر دلالت کرتا ہے جو حق کو ٹھکراتا ہے۔ یہ ان کی انتہا کو پہنچتی ہوئی عداوت ہے کہ ﴿ يُخۡرِجُوۡنَ الرَّسُوۡلَ وَاِيَّاكُمۡ﴾ اے مومنو! وہ رسول کو اور تمھیں تمھارے گھروں سے نکالتے ہیں اور تمھیں جلا وطن کرتے ہیں۔ان کے ہاں اس بارے میں تمھارا اس کے سوا کوئی گناہ نہیں کہ ﴿ اَنۡ تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ رَبِّكُمۡ﴾ تم اپنے رب اللہ پر ایمان لائے ہو جس کی عبودیت کو قائم کرنا تمام مخلوق پر فرض ہے کیونکہ اسی نے ان کی پرورش کی اور ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا ۔جب انھوں نے اس کام سے منہ موڑ لیا جو سب سے بڑا فرض تھا اور تم نے اس کو قائم کیا تو وہ تمھارے ساتھ دشمنی پر اتر آئے اور اس بنا پر انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے نکال دیا۔تب کون سا دین، کون سی مروت اور کون سی عقل بندے کے پاس باقی رہ جاتی ہے، اگر پھر بھی وہ کفار کے ساتھ موالات رکھے، جن کا ہر زمان و مکان میں یہی وصف ہے، ان کو خوف یا کسی طاقتور مانع کے سوا کسی چیز نے ایسا کرنے سے نہیں روکا۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ خَرَجۡتُمۡ جِهَادًا فِيۡ سَبِيۡلِيۡ وَابۡتِغَآءَؔ مَرۡضَاتِيۡ﴾ یعنی اگر تمھارا گھروں سے نکلنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو بلند کرنے اور اس کی رضا کی طلب کے لیے جہاد فی سبیل اللہ ہے، تو اس کے تقاضے کے مطابق اولیاء اللہ سے موالات اور اس کے دشمنوں سے عداوت رکھو، یہ اس کے راستے میں سب سے بڑا جہاد اور سب سے بڑا وسیلہ ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے والے اس کا تقرب حاصل کرتے ہیں اور اس کے ذریعے سے اس کی رضا کے طلب گار ہوتے ہیں۔ ﴿ تُسِرُّوۡنَ اِلَيۡهِمۡ بِالۡمَوَدَّةِ١ۖ ۗ وَاَنَا اَعۡلَمُ بِمَاۤ اَخۡفَيۡتُمۡ وَمَاۤ اَعۡلَنۡتُمۡ﴾ یعنی تم کفار کے ساتھ مودت کو کیسے چھپاتے ہو حالانکہ تمھیں علم ہے کہ تم جو کچھ چھپاتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو، اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے، تمھارا کفار کے ساتھ مودت و موالات رکھنا، اگرچہ اہل ایمان پر چھپا ہوا ہے، مگر اللہ تعالیٰ سے چھپا ہوا نہیں ہے، وہ عنقریب اپنے بندوں کو ان کے بارے میں اپنے علم کے مطابق نیکی اور بدی کی جزا و سزا دے گا۔ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡهُ مِنۡكُمۡ﴾ اور جو کوئی کفار سے موالات رکھے اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس سے منع کیا ہے۔﴿ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾ ’’تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔‘‘ کیونکہ وہ ایسے راستے پر چل پڑا جو شریعت، عقل اور مروت انسانی کے خلاف ہے۔
[2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو کفار کی عداوت پر برانگیختہ کرنے کے لیے کفار کی شدت عداوت کا ذکر کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنۡ يَّثۡقَفُوۡؔكُمۡ﴾ یعنی اگر وہ تمھیں پائیں اور تمھیں اذیت پہنچانے کا ان کو موقع ملے ﴿ يَكُوۡنُوۡا لَكُمۡ اَعۡدَآءًؔ ﴾ تو تمھارے کھلے دشمن ہو جائیں گے ﴿ وَّيَبۡسُطُوۡۤا اِلَيۡكُمۡ اَيۡدِيَهُمۡ﴾ اور قتل اور ضرب لگانے وغیرہ کے لیے تمھاری طرف ہاتھ بڑھائیں گے۔ ﴿ وَاَلۡسِنَتَهُمۡ بِالسُّوۡٓءِ﴾ اور ایسی بات کہیں گے جو تکلیف دہ ہو گی، یعنی گالی وغیرہ۔ ﴿ وَوَدُّوۡا لَوۡ تَكۡفُرُوۡنَ﴾ اور وہ خواہش کریں گے کہ کاش تم کفر کرتے۔‘‘ اور یہی وہ غرض و غایت ہے جو وہ تم سے چاہتے ہیں۔
[3] اگر تم یہ دلیل دیتے ہو اور کہتے ہو کہ ہم قرابت داری اور اموال کی خاطر کفار سے موالات رکھتے ہیں تو ﴿ لَنۡ تَنۡفَعَكُمۡ اَرۡحَامُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُؔكُمۡ﴾ اللہ کے مقابلے میں تمھارے رشتے ناتے اور تمھاری اولاد کچھ کام نہیں آئے گی۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں کفار کی موالات سے بچنے کے لیے کہا ہے جن کی موالات تمھیں نقصان دے گی۔
Page 549
سورة الممتحنة
Al-Mumtahanah
She that is to be examined · Medinan · 13 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
60:1
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمۡ أَوۡلِيَآءَ تُلۡقُونَ إِلَيۡهِم بِٱلۡمَوَدَّةِ وَقَدۡ كَفَرُواْ بِمَا جَآءَكُم مِّنَ ٱلۡحَقِّ يُخۡرِجُونَ ٱلرَّسُولَ وَإِيَّاكُمۡ أَن تُؤۡمِنُواْ بِٱللَّهِ رَبِّكُمۡ إِن كُنتُمۡ خَرَجۡتُمۡ جِهَٰدٗا فِي سَبِيلِي وَٱبۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِيۚ تُسِرُّونَ إِلَيۡهِم بِٱلۡمَوَدَّةِ وَأَنَا۠ أَعۡلَمُ بِمَآ أَخۡفَيۡتُمۡ وَمَآ أَعۡلَنتُمۡۚ وَمَن يَفۡعَلۡهُ مِنكُمۡ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ ١
O you who have believed, do not take My enemies and your enemies as allies,1 extending to them affection while they have disbelieved in what came to you of the truth, having driven out the Prophet and yourselves [only] because you believe in Allāh, your Lord. If you have come out for jihād [i.e., fighting or striving] in My cause and seeking means to My approval, [take them not as friends]. You confide to them affection [i.e., instruction], but I am most knowing of what you have concealed and what you have declared. And whoever does it among you has certainly strayed from the soundness of the way.
1 translator’s note
- i.e., close associates and friends. ↩
60:2
إِن يَثۡقَفُوكُمۡ يَكُونُواْ لَكُمۡ أَعۡدَآءٗ وَيَبۡسُطُوٓاْ إِلَيۡكُمۡ أَيۡدِيَهُمۡ وَأَلۡسِنَتَهُم بِٱلسُّوٓءِ وَوَدُّواْ لَوۡ تَكۡفُرُونَ ٢
If they gain dominance over you, they would be [i.e., behave] to you as enemies and extend against you their hands and their tongues with evil, and they wish you would disbelieve.
60:3
لَن تَنفَعَكُمۡ أَرۡحَامُكُمۡ وَلَآ أَوۡلَٰدُكُمۡۚ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ يَفۡصِلُ بَيۡنَكُمۡۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ ٣
Never will your relatives or your children benefit you; the Day of Resurrection He will judge between you. And Allāh, of what you do, is Seeing.
60:4
قَدۡ كَانَتۡ لَكُمۡ أُسۡوَةٌ حَسَنَةٞ فِيٓ إِبۡرَٰهِيمَ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥٓ إِذۡ قَالُواْ لِقَوۡمِهِمۡ إِنَّا بُرَءَٰٓؤُاْ مِنكُمۡ وَمِمَّا تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ كَفَرۡنَا بِكُمۡ وَبَدَا بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمُ ٱلۡعَدَٰوَةُ وَٱلۡبَغۡضَآءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤۡمِنُواْ بِٱللَّهِ وَحۡدَهُۥٓ إِلَّا قَوۡلَ إِبۡرَٰهِيمَ لِأَبِيهِ لَأَسۡتَغۡفِرَنَّ لَكَ وَمَآ أَمۡلِكُ لَكَ مِنَ ٱللَّهِ مِن شَيۡءٖۖ رَّبَّنَا عَلَيۡكَ تَوَكَّلۡنَا وَإِلَيۡكَ أَنَبۡنَا وَإِلَيۡكَ ٱلۡمَصِيرُ ٤
There has already been for you an excellent pattern1 in Abraham and those with him, when they said to their people, "Indeed, we are disassociated from you and from whatever you worship other than Allāh. We have denied you, and there has appeared between us and you animosity and hatred forever until you believe in Allāh alone" - except for the saying of Abraham to his father, "I will surely ask forgiveness for you, but I have not [power to do] for you anything against Allāh. Our Lord, upon You we have relied, and to You we have returned, and to You is the destination.
1 translator’s note
- An example to be followed. ↩
60:5
رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةٗ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ وَٱغۡفِرۡ لَنَا رَبَّنَآۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٥
Our Lord, make us not [objects of] torment for the disbelievers and forgive us, our Lord. Indeed, it is You who is the Exalted in Might, the Wise."