Al-MumtahanahJuz 28 · Page 550

Al-Mumtahanah 60:9

She that is to be examined · Juz 28 · Page 550

إِنَّمَا يَنۡهَىٰكُمُ ٱللَّهُ عَنِ ٱلَّذِينَ قَٰتَلُوكُمۡ فِي ٱلدِّينِ وَأَخۡرَجُوكُم مِّن دِيَٰرِكُمۡ وَظَٰهَرُواْ عَلَىٰٓ إِخۡرَاجِكُمۡ أَن تَوَلَّوۡهُمۡۚ وَمَن يَتَوَلَّهُمۡ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ ٩

Allāh only forbids you from those who fight you because of religion and expel you from your homes and aid in your expulsion - [forbids] that you make allies1 of them. And whoever makes allies of them, then it is those who are the wrongdoers.

1 translator’s note
  1. See footnote to verse 1 of this sūrah. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 60:1–9

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ تم میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست، تم پیغام بھیجتے ہو ان کی طرف دوستی کا حالانکہ انھوں نے کفر کیا ہے ساتھ اس چیز کے جو آیا ہے تمھارے پاس حق، وہ نکالتے ہیں رسول کو اور خود تمھیں بھی اس لیے کہ تم ایمان لاتے ہو اللہ ( یعنی ) اپنے رب پر (نہ دوست بناؤ) اگر ہو تم نکلتے جہاد کے لیے میرے راستے میں اور تلاش کرنے کے لیے میری رضامندی تم پوشیدہ پیغام بھیجتے ہو ان کی طرف دوستی کا؟ اور میں خوب جانتا ہوں اس چیز کو جو تم چھپاتے ہو اور اس چیز کو جو تم ظاہر کرتے ہو، اور جو کوئی کرے یہ کام تم میں سے تو یقیناً وہ گمراہ ہو گیا سیدھی راہ سے(1) اگر وہ پائیں تم کو تو ہو جائیں وہ واسطے تمھارے دشمن، اور دراز کریں تمھاری طرف اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں ساتھ برائی کے، اور وہ پسند کریں کاش کہ تم بھی کفر کرو(2) ہرگز نہیں نفع دیں گے تمھیں تمھارے رشتے ناتے اور نہ تمھاری اولاد دن قیامت کے وہ فیصلہ کرےگا تمھارے درمیان (اس میں) اور اللہ، ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے(3) تحقیق ہے تمھارے لیے بہترین نمونہ ابراہیم اور ان لوگوں میں جو اس کےساتھ تھے، جب انھوں نے کہا تھا اپنی قوم سے، بلاشبہ ہم بری ہیں تم سے اور ان سے جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کفر کیا ہم نے ساتھ تمھارے اور ظاہر ہو گئی ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان عداوت اور بغض ہمیشہ کے لیے یہاں تک کہ ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اکیلے کے ،مگر کہنا ابراہیم کا اپنے باپ سے کہ ضرور مغفرت طلب کروں گا میں تیرے لیے اور نہیں اختیار رکھتا میں تیرے لیے اللہ سے کسی چیز کا بھی، اے ہمارے رب!تجھی پر توکل کیا ہم نے اور تیری ہی طرف رجوع کیا ہم نے اور تیری ہی طرف (ہمارا) لوٹنا ہے(4) اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا اور بخش دے ہمیں اے ہمارے رب! بلاشبہ تو ہی ہے بڑا زبردست، خوب حکمت والا(5) البتہ تحقیق ہے تمھارے لیے ان میں نمونہ بہترین اس شخص کے لیے جو ہو امید رکھتا اللہ (سے ملاقات) کی اور یوم آخرت کی اور جو کوئی رو گردانی کرے تو بلاشبہ اللہ ہی ہے بے پروا قابل تعریف(6) امید ہے کہ اللہ، یہ کہ (پیدا) کر دے وہ درمیان تمھارے اور درمیان ان لوگوں کے کہ عداوت رکھتے ہو تم ان سے، دوستی اور اللہ خوب قدرت والا ہے اور اللہ غفور رحیم ہے(7) نہیں روکتا تمھیں اللہ ان لوگوں سے جو نہیں لڑے تم سے دین کی بابت اور نہیں نکالا انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے ،اس بات سے کہ تم حسن سلوک کرو ان سے اور انصاف کرو تم ان کے حق میں بلاشبہ اللہ پسند کرتا ہے انصاف کرنے والوں کو(8)یقیناً روکتا ہے تمھیں اللہ ان لوگوں سے جو لڑے تم سے دین کی بابت، اور انھوں نے نکالا تمھیں تمھارے گھروں سے اور انھوں نے مدد کی تمھارے نکالنے میں، اس بات سے کہ تم دوستی کرو ان سے، اور جو کوئی دوستی کرے ان سے تو وہی لوگ ظالم ہیں(9)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

بہت سے مفسرینs نے ذکر کیا ہے کہ ان آیات کریمہ کا سبب نزول حاطب بن ابی بلتعہt کا قصہ ہے، جب رسول اللہﷺ نے غزوۂ فتحِ مکہ کیا تو حاطب بن ابی بلتعہt نے مکہ کے مشرکین کو خط لکھا اور انھیں رسول اللہﷺ کی روانگی کی اطلاع دے دی۔ یہ اطلاع شک اور نفاق کی بنا پر نہ تھی بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ مشرکین پر ایک احسان كرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے یہ خط ایک عورت کے ذریعے سے روانہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ٔاکرمﷺ کو تمام معاملے سے آگاہ کر دیا۔ رسول اللہﷺ نے اس عورت کے مکہ پہنچنے سے پہلے پہلے اس کی طرف آدمیوں کو بھیجا اور اس سے وہ خط برآمد کرالیا۔ آپ نے حاطبt پر عتاب فرمایا، حاطبt نے ایسا عذر پیش کیا جسے نبی ٔکریم ﷺ نے قبول فرما لیا۔ان آیات کریمہ میں کفار ومشرکین وغیرہ سے موالات اور مودت رکھنے کی سخت ممانعت بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ موالات و مودت ایمان اور ملت ابراہیمu کے منافی اور عقل کے خلاف ہے جو ایسے دشمن سے پوری طرح سے بچنے کو واجب قرار دیتی ہے جو اپنی دشمنی میں جہد و کوشش میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتا اور اپنے دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔

[1] اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اے ایمان والو!‘‘ یعنی اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ جو ایمان لائے اس کے ساتھ موالات و مودت رکھو، جو ایمان کے ساتھ عداوت رکھے، تم اس کے ساتھ عداوت رکھو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن اور اہل ایمان کا دشمن ہے، لہٰذا ﴿ لَا تَتَّؔخِذُوۡا عَدُوِّيۡ ﴾ نہ بناؤ تم اللہ تعالیٰ کے دشمن کو ﴿وَعَدُوَّؔكُمۡ اَوۡلِيَآءَؔ تُلۡقُوۡنَ اِلَيۡهِمۡ بِالۡمَوَدَّةِ﴾ ’’اور اپنے دشمنوں کو دوست۔ تم انھیں دوستی کے پیغام بھیجتے ہو۔‘‘ یعنی تم ان کی محبت و مودت اور اس کے اسباب کے حصول کی کوشش میں جلدی مچاتے ہو۔ جب مودت حاصل ہو جاتی ہے تو نصرت و موالات اس کے پیچھے آتی ہیں۔ تب بندہ ایمان کے دائرے سے نکل کر اہل کفر ان کے زمرے میں شامل ہو جاتا ہے۔کافر کو دوست بنانے والا یہ شخص مروت سے بھی محروم ہے، وہ اپنے سب سے بڑے دشمن سے کیوں کر موالات رکھتا ہے جو اس کے بارے میں صرف برائی کا ارادہ رکھتا ہے اور اپنے رب کی کیوں کر مخالفت کرتا ہے جو اس کے بارے میں صرف بھلائی چاہتا ہے، اسے بھلائی کا حکم دیتا ہے اور بھلائی کی ترغیب دیتا ہے؟مومن کو کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کی طرف یہ چیز بھی دعوت دیتی ہے کہ انھوں نے اس حق کو ماننے سے انکار کر دیا جو مومنوں کے پاس آیا تھا۔ اس مخالفت اور دشمنی سے بڑھ کر کوئی اور چیز نہیں، انھوں نے تمھارے اصل دین کا انکار کیا ہے، ان کا گمان ہے کہ تم گمراہ ہو، ہدایت پر نہیں ہو۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ انھوں نے حق کا انکار کیا جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ اور جو کوئی حق کو ٹھکراتا ہے تو یہ امر محال ہے کہ اس کے پاس کوئی دلیل یا حجت پائی جائے جو اس کے قول کی صحت پر دلالت کرتی ہو بلکہ حق کا مجرد علم ہی اس شخص کے قول کے بطلان اور فساد پر دلالت کرتا ہے جو حق کو ٹھکراتا ہے۔ یہ ان کی انتہا کو پہنچتی ہوئی عداوت ہے کہ ﴿ يُخۡرِجُوۡنَ الرَّسُوۡلَ وَاِيَّاكُمۡ﴾ اے مومنو! وہ رسول کو اور تمھیں تمھارے گھروں سے نکالتے ہیں اور تمھیں جلا وطن کرتے ہیں۔ان کے ہاں اس بارے میں تمھارا اس کے سوا کوئی گناہ نہیں کہ ﴿ اَنۡ تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ رَبِّكُمۡ﴾ تم اپنے رب اللہ پر ایمان لائے ہو جس کی عبودیت کو قائم کرنا تمام مخلوق پر فرض ہے کیونکہ اسی نے ان کی پرورش کی اور ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا ۔جب انھوں نے اس کام سے منہ موڑ لیا جو سب سے بڑا فرض تھا اور تم نے اس کو قائم کیا تو وہ تمھارے ساتھ دشمنی پر اتر آئے اور اس بنا پر انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے نکال دیا۔تب کون سا دین، کون سی مروت اور کون سی عقل بندے کے پاس باقی رہ جاتی ہے، اگر پھر بھی وہ کفار کے ساتھ موالات رکھے، جن کا ہر زمان و مکان میں یہی وصف ہے، ان کو خوف یا کسی طاقتور مانع کے سوا کسی چیز نے ایسا کرنے سے نہیں روکا۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ خَرَجۡتُمۡ جِهَادًا فِيۡ سَبِيۡلِيۡ وَابۡتِغَآءَؔ مَرۡضَاتِيۡ﴾ یعنی اگر تمھارا گھروں سے نکلنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو بلند کرنے اور اس کی رضا کی طلب کے لیے جہاد فی سبیل اللہ ہے، تو اس کے تقاضے کے مطابق اولیاء اللہ سے موالات اور اس کے دشمنوں سے عداوت رکھو، یہ اس کے راستے میں سب سے بڑا جہاد اور سب سے بڑا وسیلہ ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے والے اس کا تقرب حاصل کرتے ہیں اور اس کے ذریعے سے اس کی رضا کے طلب گار ہوتے ہیں۔ ﴿ تُسِرُّوۡنَ اِلَيۡهِمۡ بِالۡمَوَدَّةِ١ۖ ۗ وَاَنَا اَعۡلَمُ بِمَاۤ اَخۡفَيۡتُمۡ وَمَاۤ اَعۡلَنۡتُمۡ﴾ یعنی تم کفار کے ساتھ مودت کو کیسے چھپاتے ہو حالانکہ تمھیں علم ہے کہ تم جو کچھ چھپاتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو، اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے، تمھارا کفار کے ساتھ مودت و موالات رکھنا، اگرچہ اہل ایمان پر چھپا ہوا ہے، مگر اللہ تعالیٰ سے چھپا ہوا نہیں ہے، وہ عنقریب اپنے بندوں کو ان کے بارے میں اپنے علم کے مطابق نیکی اور بدی کی جزا و سزا دے گا۔ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡهُ مِنۡكُمۡ﴾ اور جو کوئی کفار سے موالات رکھے اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس سے منع کیا ہے۔﴿ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾ ’’تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔‘‘ کیونکہ وہ ایسے راستے پر چل پڑا جو شریعت، عقل اور مروت انسانی کے خلاف ہے۔

[2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو کفار کی عداوت پر برانگیختہ کرنے کے لیے کفار کی شدت عداوت کا ذکر کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنۡ يَّثۡقَفُوۡؔكُمۡ﴾ یعنی اگر وہ تمھیں پائیں اور تمھیں اذیت پہنچانے کا ان کو موقع ملے ﴿ يَكُوۡنُوۡا لَكُمۡ اَعۡدَآءًؔ ﴾ تو تمھارے کھلے دشمن ہو جائیں گے ﴿ وَّيَبۡسُطُوۡۤا اِلَيۡكُمۡ اَيۡدِيَهُمۡ﴾ اور قتل اور ضرب لگانے وغیرہ کے لیے تمھاری طرف ہاتھ بڑھائیں گے۔ ﴿ وَاَلۡسِنَتَهُمۡ بِالسُّوۡٓءِ﴾ اور ایسی بات کہیں گے جو تکلیف دہ ہو گی، یعنی گالی وغیرہ۔ ﴿ وَوَدُّوۡا لَوۡ تَكۡفُرُوۡنَ﴾ اور وہ خواہش کریں گے کہ کاش تم کفر کرتے۔‘‘ اور یہی وہ غرض و غایت ہے جو وہ تم سے چاہتے ہیں۔

[3] اگر تم یہ دلیل دیتے ہو اور کہتے ہو کہ ہم قرابت داری اور اموال کی خاطر کفار سے موالات رکھتے ہیں تو ﴿ لَنۡ تَنۡفَعَكُمۡ اَرۡحَامُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُؔكُمۡ﴾ اللہ کے مقابلے میں تمھارے رشتے ناتے اور تمھاری اولاد کچھ کام نہیں آئے گی۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں کفار کی موالات سے بچنے کے لیے کہا ہے جن کی موالات تمھیں نقصان دے گی۔

Continue in the whole surah's tafsir

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 550

Al-MumtahanahJuz 28 · Page 550

60:6

لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِيهِمۡ أُسۡوَةٌ حَسَنَةٞ لِّمَن كَانَ يَرۡجُواْ ٱللَّهَ وَٱلۡيَوۡمَ ٱلۡأٓخِرَۚ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡغَنِيُّ ٱلۡحَمِيدُ ٦

There has certainly been for you in them an excellent pattern for anyone whose hope is in Allāh and the Last Day. And whoever turns away - then indeed, Allāh is the Free of need, the Praiseworthy.

60:7

۞ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَجۡعَلَ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَ ٱلَّذِينَ عَادَيۡتُم مِّنۡهُم مَّوَدَّةٗۚ وَٱللَّهُ قَدِيرٞۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٧

Perhaps Allāh will put, between you and those to whom you have been enemies among them, affection. And Allāh is competent,1 and Allāh is Forgiving and Merciful.

1 translator’s note
  1. To accomplish this or whatever He should will. ↩

60:8

لَّا يَنۡهَىٰكُمُ ٱللَّهُ عَنِ ٱلَّذِينَ لَمۡ يُقَٰتِلُوكُمۡ فِي ٱلدِّينِ وَلَمۡ يُخۡرِجُوكُم مِّن دِيَٰرِكُمۡ أَن تَبَرُّوهُمۡ وَتُقۡسِطُوٓاْ إِلَيۡهِمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُقۡسِطِينَ ٨

Allāh does not forbid you from those who do not fight you because of religion and do not expel you from your homes - from being righteous toward them and acting justly toward them. Indeed, Allāh loves those who act justly.

60:9

إِنَّمَا يَنۡهَىٰكُمُ ٱللَّهُ عَنِ ٱلَّذِينَ قَٰتَلُوكُمۡ فِي ٱلدِّينِ وَأَخۡرَجُوكُم مِّن دِيَٰرِكُمۡ وَظَٰهَرُواْ عَلَىٰٓ إِخۡرَاجِكُمۡ أَن تَوَلَّوۡهُمۡۚ وَمَن يَتَوَلَّهُمۡ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ ٩

Allāh only forbids you from those who fight you because of religion and expel you from your homes and aid in your expulsion - [forbids] that you make allies1 of them. And whoever makes allies of them, then it is those who are the wrongdoers.

1 translator’s note
  1. See footnote to verse 1 of this sūrah. ↩

60:10

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا جَآءَكُمُ ٱلۡمُؤۡمِنَٰتُ مُهَٰجِرَٰتٖ فَٱمۡتَحِنُوهُنَّۖ ٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِإِيمَٰنِهِنَّۖ فَإِنۡ عَلِمۡتُمُوهُنَّ مُؤۡمِنَٰتٖ فَلَا تَرۡجِعُوهُنَّ إِلَى ٱلۡكُفَّارِۖ لَا هُنَّ حِلّٞ لَّهُمۡ وَلَا هُمۡ يَحِلُّونَ لَهُنَّۖ وَءَاتُوهُم مَّآ أَنفَقُواْۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ أَن تَنكِحُوهُنَّ إِذَآ ءَاتَيۡتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّۚ وَلَا تُمۡسِكُواْ بِعِصَمِ ٱلۡكَوَافِرِ وَسۡـَٔلُواْ مَآ أَنفَقۡتُمۡ وَلۡيَسۡـَٔلُواْ مَآ أَنفَقُواْۚ ذَٰلِكُمۡ حُكۡمُ ٱللَّهِ يَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡۖ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ ١٠

O you who have believed, when the believing women come to you as emigrants, examine [i.e., test] them. Allāh is most knowing as to their faith. And if you know them to be believers, then do not return them to the disbelievers; they are not lawful [wives] for them, nor are they lawful [husbands] for them. But give them [i.e., the disbelievers] what they have spent.1 And there is no blame upon you if you marry them when you have given them their due compensation [i.e., mahr]. And hold not to marriage bonds with disbelieving women, but ask for what you have spent and let them [i.e., the disbelievers] ask for what they have spent.2 That is the judgement of Allāh; He judges between you. And Allāh is Knowing and Wise.

2 translator’s notes
  1. For marriage, i.e., compensate their loss.

    [1677] When a disbelieving wife chose to join the disbelievers, a Muslim husband could demand in return the equivalent of her mahr. Likewise, the disbelievers had a similar right when a believing woman joined the Muslims. This and the following verses were revealed subsequent to the Treaty of al-Ḥudaybiyyah.

    ↩
  2. ↩

60:11

وَإِن فَاتَكُمۡ شَيۡءٞ مِّنۡ أَزۡوَٰجِكُمۡ إِلَى ٱلۡكُفَّارِ فَعَاقَبۡتُمۡ فَـَٔاتُواْ ٱلَّذِينَ ذَهَبَتۡ أَزۡوَٰجُهُم مِّثۡلَ مَآ أَنفَقُواْۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ ٱلَّذِيٓ أَنتُم بِهِۦ مُؤۡمِنُونَ ١١

And if you have lost any of your wives to the disbelievers and you subsequently obtain [something],1 then give those whose wives have gone the equivalent of what they had spent. And fear Allāh, in whom you are believers.

1 translator’s note
  1. From the side of the disbelievers, i.e., war booty or a believing woman seeking refuge with the Muslims. ↩
As-Sa'diTafsir · 60:9

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском