As-SafJuz 28 · Page 551

As-Saf 61:5

The Ranks · Juz 28 · Page 551

وَإِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوۡمِهِۦ يَٰقَوۡمِ لِمَ تُؤۡذُونَنِي وَقَد تَّعۡلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيۡكُمۡۖ فَلَمَّا زَاغُوٓاْ أَزَاغَ ٱللَّهُ قُلُوبَهُمۡۚ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡفَٰسِقِينَ ٥

And [mention, O Muḥammad], when Moses said to his people, "O my people, why do you harm me while you certainly know that I am the messenger of Allāh to you?" And when they deviated, Allāh caused their hearts to deviate. And Allāh does not guide the defiantly disobedient people.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 61:5

اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے: اے میری قوم! کیوں ایذا دیتے ہو تم مجھے حالانکہ تم جانتے ہو کہ بلاشبہ میں رسول ہوں اللہ کا تمھاری طرف؟ پس جب وہ ٹیڑھے ہو گئے تو ٹیڑھے کر دیے اللہ نے ان کے دل اور اللہ نہیں ہدایت دیتا فاسق قوم کو(5)

[5]﴿ وَاِذۡ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهٖ﴾ ’’اور (یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ یعنی ان کے کرتوت پر زجر و توبیخ کرتے ہو ئے اور انھیں آپ کو اللہ کا رسول سمجھنے کے باوجود اذیت پہنچانے سے باز رکھتے ہوئے حضرت موسیٰu نے اپنی قوم سے فرمایا: ﴿ لِمَ تُؤۡذُوۡنَنِيۡ﴾ اپنے اقوال و افعال کے ذریعے سے مجھے کیوں اذیت دیتے ہو؟ ﴿ وَقَدۡ تَّعۡلَمُوۡنَ اَنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ﴾ ’’اور تم جانتے ہو کہ میں تمھاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔‘‘ رسول کی اکرام و تعظیم، اس کے احکامات کی تعمیل اور اس کے فیصلے کو قبول کرنا رسول کا حق ہے۔رہا رسول کو اذیت پہنچانا جس کا مخلوق پر اللہ تعالیٰ کے احسان کے بعد سب سے بڑا احسان ہےتو یہ سب سے بڑی بے شرمی، جسارت اور صراط مستقیم سے انحراف ہے، جسے جان بوجھ کر انھوں نے ترک کر دیا۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَلَمَّا زَاغُوۡۤا﴾ ’’پس جب انھوں نے کج روی کی۔‘‘ یعنی اپنے ارادے سے حق سے پھر گئے ﴿ اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ﴾ ’’تو اللہ نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیے۔‘‘ یعنی ان کی کج روی کی سزا کے طور پر، جسے انھوں نے اپنے لیے خود چنا اور اس پر راضی ہوئے، اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت کی توفیق نہ دی، وہ شر کے سوا کسی چیز کے قابل نہ تھے۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ فاسق و نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ فسق جن کا وصف ہےاور وہ ہدایت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ۔اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کو گمراہ کرنا، اس کا ظلم نہیں اور نہ بندوں کی اس پر کوئی حجت ہےبلکہ اس گمراہی کا سبب وہ خود ہیں کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت کو پہچان لینے کے بعد اپنے آپ پر ہدایت کے دروازے خود بند کر لیے ہیں تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بدلے کے طور پر سزا دیتے ہوئے اور اپنے عدل کی بنا پر ان کو گمراہی اور کجروی میں مبتلا کر تے ہوئے ان کے دلوں کو بدل ڈالتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾(الانعام:6؍110) ’’ہم ان کے دلوں اور ان کی نگاہوں کو بدل ڈالتے ہیں جیسا کہ یہ لوگ اس پر پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 551

Al-MumtahanahJuz 28 · Page 551

60:12

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ إِذَا جَآءَكَ ٱلۡمُؤۡمِنَٰتُ يُبَايِعۡنَكَ عَلَىٰٓ أَن لَّا يُشۡرِكۡنَ بِٱللَّهِ شَيۡـٔٗا وَلَا يَسۡرِقۡنَ وَلَا يَزۡنِينَ وَلَا يَقۡتُلۡنَ أَوۡلَٰدَهُنَّ وَلَا يَأۡتِينَ بِبُهۡتَٰنٖ يَفۡتَرِينَهُۥ بَيۡنَ أَيۡدِيهِنَّ وَأَرۡجُلِهِنَّ وَلَا يَعۡصِينَكَ فِي مَعۡرُوفٖ فَبَايِعۡهُنَّ وَٱسۡتَغۡفِرۡ لَهُنَّ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ١٢

O Prophet, when the believing women come to you pledging to you that they will not associate anything with Allāh, nor will they steal, nor will they commit unlawful sexual intercourse, nor will they kill their children, nor will they bring forth a slander they have invented between their arms and legs,1 nor will they disobey you in what is right - then accept their pledge and ask forgiveness for them of Allāh. Indeed, Allāh is Forgiving and Merciful.

1 translator’s note
  1. This is an allusion to pregnancy and childbirth, i.e., to falsely attribute a child (whether adopted or born of adultery) to a woman's husband. ↩

60:13

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَوَلَّوۡاْ قَوۡمًا غَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمۡ قَدۡ يَئِسُواْ مِنَ ٱلۡأٓخِرَةِ كَمَا يَئِسَ ٱلۡكُفَّارُ مِنۡ أَصۡحَٰبِ ٱلۡقُبُورِ ١٣

O you who have believed, do not make allies of a people with whom Allāh has become angry. They have despaired of [reward in] the Hereafter just as the disbelievers have despaired of [meeting] the companions [i.e., inhabitants] of the graves.

سورة الصف

As-Saf

The Ranks · Medinan · 14 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

61:1

سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۖ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ١

Whatever is in the heavens and whatever is on the earth exalts Allāh,1 and He is the Exalted in Might, the Wise.

1 translator’s note
  1. See footnote to 57:1. ↩

61:2

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفۡعَلُونَ ٢

O you who have believed, why do you say what you do not do?

61:3

كَبُرَ مَقۡتًا عِندَ ٱللَّهِ أَن تَقُولُواْ مَا لَا تَفۡعَلُونَ ٣

Greatly hateful in the sight of Allāh is that you say what you do not do.

61:4

إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلَّذِينَ يُقَٰتِلُونَ فِي سَبِيلِهِۦ صَفّٗا كَأَنَّهُم بُنۡيَٰنٞ مَّرۡصُوصٞ ٤

Indeed, Allāh loves those who fight in His cause in a row as though they are a [single] structure joined firmly.

61:5

وَإِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوۡمِهِۦ يَٰقَوۡمِ لِمَ تُؤۡذُونَنِي وَقَد تَّعۡلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيۡكُمۡۖ فَلَمَّا زَاغُوٓاْ أَزَاغَ ٱللَّهُ قُلُوبَهُمۡۚ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡفَٰسِقِينَ ٥

And [mention, O Muḥammad], when Moses said to his people, "O my people, why do you harm me while you certainly know that I am the messenger of Allāh to you?" And when they deviated, Allāh caused their hearts to deviate. And Allāh does not guide the defiantly disobedient people.

As-Sa'diTafsir · 61:5

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском