Al-Jumu'ahJuz 28 · Page 553

Al-Jumu'ah 62:2

The Congregation, Friday · Juz 28 · Page 553

هُوَ ٱلَّذِي بَعَثَ فِي ٱلۡأُمِّيِّـۧنَ رَسُولٗا مِّنۡهُمۡ يَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَإِن كَانُواْ مِن قَبۡلُ لَفِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ ٢

It is He who has sent among the unlettered [Arabs] a Messenger from themselves reciting to them His verses and purifying them and teaching them the Book [i.e., the Qur’ān] and wisdom [i.e., the sunnah] - although they were before in clear error -

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 62:2–4

وہ، وہ ذات ہے جس نے بھیجا ان پڑھوں میں ایک رسول انھی میں سے، وہ تلاوت کرتا ہے ان پر آیتیں اس کی، اور تزکیہ کرتا ہے ان کا،اور تعلیم دیتا ہے انھیں کتاب و حکمت کی، اور بلاشبہ تھے وہ پہلے (اس سے) البتہ گمراہی ظاہر میں(2) اور (آپ کو بھیجا) دوسرے لوگوں میں بھی انھی میں سے، کہ ابھی تک نہیں ملے وہ ساتھ ان کے اور وہ خوب غالب خوب حکمت والا ہے(3) وہ فضل ہے اللہ کا، وہ دیتا ہے یہ (فضل) جسے چاہتا ہے، اور اللہ عظیم فضل والا ہے(4)

[2]﴿اَلۡاُمِّيّٖنَ﴾ سے مراد عرب وغیرہ کے وہ لوگ ہیں، جن کے پاس کوئی (آسمانی) کتا ب ہے نہ رسالت کے آثاراور وہ اہل کتاب میں شمار نہیں ہوتے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر دوسروں کی نسبت بہت بڑا احسان فرمایا، کیونکہ وہ علم اور بھلائی سے بے بہرہ تھے، اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں مبتلا تھے، شجر و حجر اور بتوں کی پوجا کرتے تھے، شکاری درندوں کے سے اخلاق رکھتے تھے، طاقت ور کمزور کو کھا جاتا تھا، اور وہ انبیاء کرام کے علوم سے بالکل جاہل تھے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر انھی میں سے ایک رسول مبعوث کیا، جس کے نسب، اوصاف جمیلہ اور صداقت کو وہ خوب جانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رسول پر کتاب نازل کی ﴿ يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِهٖ﴾ وہ ان پر اللہ تعالیٰ کی آیات قاطعہ کی تلاوت کرتا تھا جو ایمان و یقین کی موجب ہیں ﴿ وَيُزَؔكِّيۡهِمۡ﴾ اور اخلاق فاضلہ کی تعلیم اور ان کی ترغیب کے ذریعے سے ان کو پاک کرتا تھا اور اخلاق رذیلہ سے ان کو روکتا تھا۔ ﴿ وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ﴾ اور ان کو کتاب و سنت کا علم سکھاتا تھا جو اولین و آخرین کے علم پر مشتمل تھا، چنانچہ اس تعلیم و تزکیہ کے بعد وہ مخلوق میں سب سے زیادہ عالم ، بلکہ اہل علم و دین کے امام ہوگئے وہ سب سے زیادہ کامل اخلاق کے مالک اور لائحہ عمل کے اعتبار سے سب سے اچھے بن گئے۔ انھوں نے خود بھی راہ راست اختیار کی اور دوسروں کو بھی اس پر گامزن کیا پس اس طرح وہ ہدایت یافتہ لوگوں کے امام اور اہل تقویٰ کے قائد بن گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رسولﷺ کو مبعوث فرما کر ان کو کامل ترین نعمت اور جلیل ترین عطیے سے نوازا۔

[3]﴿ وَّاٰخَرِيۡنَ مِنۡهُمۡ لَمَّا يَلۡحَقُوۡا بِهِمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے علاوہ اہل کتاب میں سے دیگر لوگوں پر احسان فرمایا جو ابھی ایمان نہیں لائے تھے، یعنی ان لوگوں میں جن تک رسول اللہﷺ کی دعوت پہنچی تھی۔اس میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ وہ فضیلت میں ابھی ان تک نہیں پہنچ سکے اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ وہ ان کا زمانہ نہیں پا سکے، بہرحال دونوں احتمالات کے مطابق دونوں معنیٰ صحیح ہیں۔ بلاشبہ وہ لوگ جن کے اندر اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول مبعوث کیا، جنھوں نے اسے دیکھا اور اس کی دعوت کا ساتھ دیا، ان کو ایسے خصائص اور فضائل حاصل ہیں، کسی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ان خصائص اور فضائل میں ان تک پہنچ سکے۔

[4] یہ اس کا غلبہ اور حکمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو مہمل اور بے کار نہیں چھوڑا، بلکہ ان میں رسول مبعوث فرمائے، ان کو امر و نہی کا مکلف بنایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بڑ افضل ہے، اور وہ اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتا ہے اس فضل سے بہرہ مند کرتا ہے، ان پر یہ نعمت بدنی عافیت اور رزق کی کشادگی جیسی دنیاوی نعمتوں سے افضل ہے۔ پس دین کی نعمت سے بڑی کوئی نعمت نہیں، دین کی نعمت فوز و فلاح اور ابدی سعادت کی روح ہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 553

Al-Jumu'ahJuz 28 · Page 553

سورة الجمعة

Al-Jumu'ah

The Congregation, Friday · Medinan · 11 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

62:1

يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ ٱلۡمَلِكِ ٱلۡقُدُّوسِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَكِيمِ ١

Whatever is in the heavens and whatever is on the earth is exalting Allāh,1 the Sovereign, the Pure, the Exalted in Might, the Wise.2

2 translator’s notes
  1. See footnote to 57:1.

    [1686] Refer to footnote in 6:18.

    ↩
  2. ↩

62:2

هُوَ ٱلَّذِي بَعَثَ فِي ٱلۡأُمِّيِّـۧنَ رَسُولٗا مِّنۡهُمۡ يَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَإِن كَانُواْ مِن قَبۡلُ لَفِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ ٢

It is He who has sent among the unlettered [Arabs] a Messenger from themselves reciting to them His verses and purifying them and teaching them the Book [i.e., the Qur’ān] and wisdom [i.e., the sunnah] - although they were before in clear error -

62:3

وَءَاخَرِينَ مِنۡهُمۡ لَمَّا يَلۡحَقُواْ بِهِمۡۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٣

And [to] others of them who have not yet joined them. And He is the Exalted in Might, the Wise.

62:4

ذَٰلِكَ فَضۡلُ ٱللَّهِ يُؤۡتِيهِ مَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلۡفَضۡلِ ٱلۡعَظِيمِ ٤

That is the bounty of Allāh, which He gives to whom He wills, and Allāh is the possessor of great bounty.

62:5

مَثَلُ ٱلَّذِينَ حُمِّلُواْ ٱلتَّوۡرَىٰةَ ثُمَّ لَمۡ يَحۡمِلُوهَا كَمَثَلِ ٱلۡحِمَارِ يَحۡمِلُ أَسۡفَارَۢاۚ بِئۡسَ مَثَلُ ٱلۡقَوۡمِ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِۚ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّٰلِمِينَ ٥

The example of those who were entrusted with the Torah and then did not take it on1 is like that of a donkey who carries volumes [of books].2 Wretched is the example of the people who deny the signs of Allāh. And Allāh does not guide the wrongdoing people.

2 translator’s notes
  1. i.e., neglected their responsibility towards it by not putting its teachings into practice.

    [1688] But does not benefit from their contents.

    ↩
  2. ↩

62:6

قُلۡ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ هَادُوٓاْ إِن زَعَمۡتُمۡ أَنَّكُمۡ أَوۡلِيَآءُ لِلَّهِ مِن دُونِ ٱلنَّاسِ فَتَمَنَّوُاْ ٱلۡمَوۡتَ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ٦

Say, "O you who are Jews, if you claim that you are allies of Allāh, excluding the [other] people, then wish for death, if you should be truthful."

62:7

وَلَا يَتَمَنَّوۡنَهُۥٓ أَبَدَۢا بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡۚ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِٱلظَّٰلِمِينَ ٧

But they will not wish for it, ever, because of what their hands have put forth. And Allāh is Knowing of the wrongdoers.

62:8

قُلۡ إِنَّ ٱلۡمَوۡتَ ٱلَّذِي تَفِرُّونَ مِنۡهُ فَإِنَّهُۥ مُلَٰقِيكُمۡۖ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَىٰ عَٰلِمِ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ٨

Say, "Indeed, the death from which you flee - indeed, it will meet you. Then you will be returned to the Knower of the unseen and the witnessed, and He will inform you about what you used to do."

As-Sa'diTafsir · 62:2

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском