Al-Jumu'ahJuz 28 · Page 553

Al-Jumu'ah 62:6

The Congregation, Friday · Juz 28 · Page 553

قُلۡ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ هَادُوٓاْ إِن زَعَمۡتُمۡ أَنَّكُمۡ أَوۡلِيَآءُ لِلَّهِ مِن دُونِ ٱلنَّاسِ فَتَمَنَّوُاْ ٱلۡمَوۡتَ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ٦

Say, "O you who are Jews, if you claim that you are allies of Allāh, excluding the [other] people, then wish for death, if you should be truthful."

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 62:5–8

مثال ان لوگوں کی کہ اٹھوائے گئے وہ تورات ‘‘ پھر نہ اٹھایا انھوں نے اس کو، مانند مثال اس گدھے کی ہے جو اٹھاتا ہے کتابیں ،بری مثال ہے اس قوم کی جنھوں نے جھٹلایا اللہ کی آیات کو، اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(5) کہہ دیجیے، اے لوگو جو یہودی ہوئے! اگر دعویٰ کرو تم اس بات کا کہ بلاشبہ تم دوست ہو اللہ کے سوائے (دوسرے) لوگوں کے تو تم تمنا کرو موت کی اگر ہو تم سچے(6) اور نہیں تمنا کریں گے وہ اس کی کبھی بھی بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ہے ان کے ہاتھوں نے اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو(7) کہہ دیجیے! بلاشبہ موت، وہ کہ بھاگتے ہو تم اس سے، تو یقیناً وہ ملنے والی ہے تمھیں، پھر لوٹائے جاؤ گے تم طرف اس کی (جو) جانتا ہے غیب اور حاضر کو، پس وہ خبر دے گا تمھیں ساتھ اس چیز کے کہ جو تھے تم عمل کرتے(8)

[5] جب اللہ تعالیٰ نے اس امت پر اپنے احسانات کا ذکر فرمایا، جن کے اندر اپنا نبئ امی (ﷺ)مبعوث فرمایاتو ان کے ایسے خصوصی مناقب کا ذکر کیا جن میں کوئی شخص ان تک نہیں پہنچ سکا۔ اس سے مراد نبئ اُمی کی امت کے لوگ ہیں جو اولین و آخرین پر فوقیت لے گئے، حتیٰ کہ اہل کتاب پر بھی فوقیت لے گئے جو اپنے آپ کو علمائے ربانی اور احبار متقدمین سمجھتے تھے ... تو یہ بھی ذکر فرمایا کہ یہود و نصاریٰ میں سے وہ لوگ جن پر تورات کی ذمہ داری ڈالی گئی تھی اور ان کو حکم تھا کہ وہ تورات کی تعلیم حاصل کریں اور اس پر عمل کریں، انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھایا نہ پورا کیا، ان کے لیے کوئی فضیلت نہیں اور ان کی مثال اس گدھے کی سے ہے جس کی پیٹھ پرعلمی کتابوں کا بوجھ لاد دیا گیا ہو۔ کیا یہ گدھا ان کتابوں سے مستفید ہو سکتا ہے جو اس کی پیٹھ پر لاد دی گئی ہیں؟ کیا اس سبب سے اسے کوئی فضیلت ہو سکتی ہے یا اس کا نصیب تو بس ان کتابوں کو اٹھانا ہے؟ یہی مثال اہل کتاب کے ان علماء کی ہے جو تورات کے احکامات پر عمل نہیں کرتے، جن میں سے جلیل ترین اور عظیم ترین حکم حضرت محمد مصطفیﷺ کی اتباع کا حکم، آپ کی بعثت کی بشارت اور آپ جو قرآن لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لانے کا حکم ہے، پس جس کا یہ وصف ہو وہ ناکامی اور خسارے اور اس کے خلاف حجت کے قائم ہونے کے سوا کیا فائدہ حاصل کر سکتا ہے؟ یہ مثال ان کے احوال کے عین مطابق ہے۔﴿ بِئۡسَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں ان کی مثال بری ہے۔‘‘ یعنی وہ آیات جو ہمارے رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور جو کچھ آپ لے کر تشریف لائے ہیں اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ﴿وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو ہدایت عطا نہیں کرتا۔‘‘ یعنی جب تک ظلم ان کا وصف اور عنادان کی صفت ہے، تب تک اللہ تعالیٰ ان کی ان کے مصالح کی طرف راہ نمائی نہیں کرے گا۔

[6] یہود کا ظلم اور عناد یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ باطل پر ہیں مگر وہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ وہ حق پر ہیں اور تمام لوگوں میں سے صرف وہی اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ اگر تم اپنے زعم میں سچے ہو کہ تم حق پر ہو اور اللہ تعالیٰ کے دوست ہو ﴿فَتَمَنَّوُا الۡمَوۡتَ ﴾ ’’تو تم موت کی آرزو کرو۔‘‘ اور یہ بڑا خفیف سا معاملہ ہے کیونکہ اگر انھیں یقین ہے کہ وہ حق پر ہیں تو مقابلے کی اس دعوت (موت کی تمنا) پر توقف نہ کرتے جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کی صداقت کی دلیل اور موت کی تمنا نہ کرنے کو ان کے کذب کی دلیل قرار دیا ہے۔

[7] اس اعلان کے باوجود جب (انھوں نے اس کو قبول نہ کیا اور) ان سے موت کی تمنا واقع نہ ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے موقف کے بطلان اور اس کے فساد کو جانتے ہیں اس لیے فرمایا :﴿ وَلَا يَتَمَنَّوۡنَهٗۤ۠ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور وہ اس موت کی کبھی آرزو نہ کریں گے بسبب اس کے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا۔‘‘ یعنی گناہ اور معاصی جن کی وجہ سے وہ موت سے خائف ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِالظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔‘‘ لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ اس پر ان کے ظلم میں سے کچھ چھپ سکے۔

[8] وہ اگرچہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے موت کی تمنا نہیں کرتے، بلکہ موت سے بہت زیادہ بھاگتے ہیں، مگر ان کا موت سے بھاگنا ان کو موت سے بچا نہیں سکے گا، بلکہ موت ان سے ضرور ملاقات کرے گی، جسے اللہ نے اپنے بندوں پر لکھ دیا ہے۔ پھر زندگی کی مدت پوری کرنے اور مرنے کے بعد قیامت کے روز تمام مخلوق کو غیب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی کے سامنے پیش کیا جائے گا وہ ان کو ان کے اچھے برے اور قلیل و کثیر اعمال کے بارے میں آگاہ کرے گی۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 553

Al-Jumu'ahJuz 28 · Page 553

سورة الجمعة

Al-Jumu'ah

The Congregation, Friday · Medinan · 11 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

62:1

يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ ٱلۡمَلِكِ ٱلۡقُدُّوسِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَكِيمِ ١

Whatever is in the heavens and whatever is on the earth is exalting Allāh,1 the Sovereign, the Pure, the Exalted in Might, the Wise.2

2 translator’s notes
  1. See footnote to 57:1.

    [1686] Refer to footnote in 6:18.

    ↩
  2. ↩

62:2

هُوَ ٱلَّذِي بَعَثَ فِي ٱلۡأُمِّيِّـۧنَ رَسُولٗا مِّنۡهُمۡ يَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَإِن كَانُواْ مِن قَبۡلُ لَفِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ ٢

It is He who has sent among the unlettered [Arabs] a Messenger from themselves reciting to them His verses and purifying them and teaching them the Book [i.e., the Qur’ān] and wisdom [i.e., the sunnah] - although they were before in clear error -

62:3

وَءَاخَرِينَ مِنۡهُمۡ لَمَّا يَلۡحَقُواْ بِهِمۡۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٣

And [to] others of them who have not yet joined them. And He is the Exalted in Might, the Wise.

62:4

ذَٰلِكَ فَضۡلُ ٱللَّهِ يُؤۡتِيهِ مَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلۡفَضۡلِ ٱلۡعَظِيمِ ٤

That is the bounty of Allāh, which He gives to whom He wills, and Allāh is the possessor of great bounty.

62:5

مَثَلُ ٱلَّذِينَ حُمِّلُواْ ٱلتَّوۡرَىٰةَ ثُمَّ لَمۡ يَحۡمِلُوهَا كَمَثَلِ ٱلۡحِمَارِ يَحۡمِلُ أَسۡفَارَۢاۚ بِئۡسَ مَثَلُ ٱلۡقَوۡمِ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِۚ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّٰلِمِينَ ٥

The example of those who were entrusted with the Torah and then did not take it on1 is like that of a donkey who carries volumes [of books].2 Wretched is the example of the people who deny the signs of Allāh. And Allāh does not guide the wrongdoing people.

2 translator’s notes
  1. i.e., neglected their responsibility towards it by not putting its teachings into practice.

    [1688] But does not benefit from their contents.

    ↩
  2. ↩

62:6

قُلۡ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ هَادُوٓاْ إِن زَعَمۡتُمۡ أَنَّكُمۡ أَوۡلِيَآءُ لِلَّهِ مِن دُونِ ٱلنَّاسِ فَتَمَنَّوُاْ ٱلۡمَوۡتَ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ٦

Say, "O you who are Jews, if you claim that you are allies of Allāh, excluding the [other] people, then wish for death, if you should be truthful."

62:7

وَلَا يَتَمَنَّوۡنَهُۥٓ أَبَدَۢا بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡۚ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِٱلظَّٰلِمِينَ ٧

But they will not wish for it, ever, because of what their hands have put forth. And Allāh is Knowing of the wrongdoers.

62:8

قُلۡ إِنَّ ٱلۡمَوۡتَ ٱلَّذِي تَفِرُّونَ مِنۡهُ فَإِنَّهُۥ مُلَٰقِيكُمۡۖ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَىٰ عَٰلِمِ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ٨

Say, "Indeed, the death from which you flee - indeed, it will meet you. Then you will be returned to the Knower of the unseen and the witnessed, and He will inform you about what you used to do."

As-Sa'diTafsir · 62:6

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском