Al-MunafiqunJuz 28 · Page 554

Al-Munafiqun 63:4

The Hypocrites · Juz 28 · Page 554

۞ وَإِذَا رَأَيۡتَهُمۡ تُعۡجِبُكَ أَجۡسَامُهُمۡۖ وَإِن يَقُولُواْ تَسۡمَعۡ لِقَوۡلِهِمۡۖ كَأَنَّهُمۡ خُشُبٞ مُّسَنَّدَةٞۖ يَحۡسَبُونَ كُلَّ صَيۡحَةٍ عَلَيۡهِمۡۚ هُمُ ٱلۡعَدُوُّ فَٱحۡذَرۡهُمۡۚ قَٰتَلَهُمُ ٱللَّهُۖ أَنَّىٰ يُؤۡفَكُونَ ٤

And when you see them, their forms please you, and if they speak, you listen to their speech. [They are] as if they were pieces of wood propped up1 - they think that every shout is against them. They are the enemy, so beware of them. May Allāh destroy them; how are they deluded?

1 translator’s note
  1. i.e., bodies with empty minds and empty hearts. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 63:1–6

جب آتے ہیں آپ کے پاس منافق تو وہ کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ بلاشبہ آپ رسول ہیں اللہ کے اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً آپ رسول ہیں اس کےاور اللہ شہادت دیتا ہے کہ یقیناً منافق البتہ جھوٹے ہیں(1) انھوں نے بنایا ہے اپنی قسموں کو ڈھال، پس روکا انھوں نے (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے، بلاشبہ وہ برا ہے جو ہیں وہ عمل کرتے(2) یہ اس لیے کہ بلاشبہ وہ ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا تو مہر لگا دی گئی اوپر ان کے دلوں کے، پس وہ نہیں سمجھتے(3) اور جب دیکھتے ہیں آپ ان کو تو اچھے لگتے ہیں آپ کو ان کے جسم اور اگر وہ (کوئی بات) کہیں تو آپ کان لگائیں ان کی بات پر گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں ٹیک لگائی ہوئیں وہ گمان کرتے ہیں ہر بلند آواز کو اپنے خلاف ہی وہ دشمن ہیں (پورے) پس آپ بچیں ان سے، ہلاک کرے ان کو اللہ کہاں پھیرے جاتے ہیں وہ؟(4) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، آؤ استغفار کریں تمھارے لیے رسول اللہ تو موڑ لیتے ہیں وہ اپنے سر اور آپ دیکھیں گے انھیں کہ وہ رکتے ہیں اس حال میں کہ وہ تکبر کرتے ہیں(5) برابر ہے ان پر کیا آپ استغفار کریں ان کے لیے یا نہ استغفار کریں ان کے لیے، ہرگز نہیں بخشے گا اللہ ان کو، بلاشبہ اللہ نہیں ہدایت دیتا فاسق قوم کو(6)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[1] جب نبی ٔ کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے اور یہاں اسلام نہایت کثرت سے پھیل گیا اور اسے غلبہ حاصل ہوا تو اہل مدینہ، یعنی بنواوس اور بنوخزرج میں سے کچھ لوگ اسلام ظاہر کرنے اور باطن میں کفر رکھنے لگے تاکہ ان کا جاہ باقی، ان کی جان محفوظ اور ان کا مال سلامت رہے ،پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اوصاف بیان فرمائے ہیں جن کے ذریعے سے وہ پہچانے جاتے ہیں تاکہ لوگ ان سے بچیں اور لوگوں کو ان کے بارے میں بصیرت حاصل ہو، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذَا جَآءَؔكَ الۡمُنٰفِقُوۡنَ قَالُوۡا﴾ جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ نَشۡهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾ ’’ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ منافقین کی یہ گواہی جھوٹ اور نفاق پر مبنی ہے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی تائید کے لیے ان کی گواہی کی ضرورت ہی نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُهٗ١ؕ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَكٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں۔ لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں۔‘‘ وہ اپنے قول اور دعوے میں جھوٹے ہیں اور ان کے قول میں کوئی حقیقت نہیں۔

[2]﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ جُنَّةً ﴾ یعنی انھوں نے اپنی قسموں کو ایک ڈھال بنا رکھا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنے آپ کو نفاق سے منسوب ہونے سے بچاتے ہیں ﴿ فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ انھوں نے خود کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روک رکھا اور دوسرے لوگوں کو بھی روکتے ہیں جن پر ان کا حال مخفی ہے۔ ﴿اِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ کچھ شک نہیں یہ جو کام کرتے ہیں، وہ برے ہیں۔‘‘ کہ انھوں نے ایمان ظاہر کیا اور کفر کو چھپایا، اپنے ایمان پر قسمیں کھائیں اور اپنی صداقت کا تأثر دیا۔

[3]﴿ ذٰلِكَ﴾ وہ چیز جس نے ان کے سامنے نفاق کو مزین کر دیا ﴿ بِاَنَّهُمۡ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ ایمان پر ثابت قدم نہیں ہیں، بلکہ ﴿ اٰمَنُوۡا ثُمَّ كَفَرُوۡا فَطُبِـعَ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’وہ ایمان لائے، پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی۔‘‘ کہ بھلائی ان کے دلوں میں کبھی بھی داخل نہیں ہو سکے گی۔ ﴿ فَهُمۡ لَا يَفۡقَهُوۡنَ﴾ پس وہ سمجھتے نہیں کہ کون سی چیز انھیں فائدہ دیتی ہےاور وہ یاد نہیں رکھتے کہ کیا چیز ان کے مصالح کے لیے فائدہ مند ہے؟

[4]﴿ وَاِذَا رَاَيۡتَهُمۡ تُعۡجِبُكَ اَجۡسَامُهُمۡ﴾ ’’اور جب آپ انھیں دیکھتے ہیں تو ان کے جسم آپ کو اچھے معلوم ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کی خوش نمائی اور تروتازگی کی وجہ سے ﴿ وَاِنۡ يَّقُوۡلُوۡا تَسۡمَعۡ لِقَوۡلِهِمۡ﴾ یعنی آپ ان کے حسن کلام کی وجہ سے ان کی باتوں کو سن کر لذت حاصل کرتے ہیں۔ پس ان کے اقوال اور اجسام بہت اچھے لگتے ہیں، مگر ان کے پیچھے اخلاق فاضلہ ہیں نہ اچھا لائحہ عمل، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ كَاَنَّهُمۡ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ﴾ ’’گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں جو دیوار سے لگائی گئی ہیں۔‘‘ جن میں کوئی منفعت نہیں ہوتی اور ان سے صرف نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ﴿ يَحۡسَبُوۡنَ كُلَّ صَيۡحَةٍ عَلَيۡهِمۡ﴾ ’’وہ ہر زور کی آواز کو سمجھتے ہیں کہ انھی پر (بلا آئی) ہے۔‘‘ اور یہ ان کی بز دلی، خوف ، دلی کمزوری اور دلوں میں شکوک و شبہات کے سبب سے ہے۔ وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں ان باتوں کا پتہ نہ چل جائے۔یہی لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡعَدُوُّ﴾ جو حقیقی دشمن ہیں کیونکہ ظاہر اور پہچاناہوا دشمن اس دشمن کی نسبت کم نقصان دہ ہے جس کے بارے میں معلوم نہ ہو، وہ دھوکے باز اور چالاک ہو اور وہ یہ ظاہر کرتا ہو کہ وہ دوست ہے، حالانکہ وہ کھلا دشمن ہے۔ ﴿ فَاحۡذَرۡهُمۡ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١ٞ اَنّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ﴾’’پس آپ ان سے بچیں، اللہ انھیں ہلاک کرے، یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں؟‘‘ دین اسلام کے دلائل واضح ہو جانے اور اس کے کارنامے نمایاں ہو جانے کے بعد بھی دین اسلام کو چھوڑ کر کفر کی طرف کیسے مائل ہو رہے ہیں ، جو انھیں خسارے اور بدبختی کے سوا کچھ نہیں دیتا۔

[5]﴿ وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ﴾ یعنی جب ان منافقین سے کہا جاتا ہے ﴿ تَعَالَوۡا يَسۡتَغۡفِرۡ لَكُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾آؤ تاکہ رسول تمھارے ان گناہوں کے بارے میں تمھارے لیے استغفار کریں جو تم سے صادر ہوئے ہیں، تاکہ تمھارے احوال درست اور تمھارے اعمال قبول ہوں مگر وہ نہایت شدت سے ایسا کرنے سے رکے رہے۔ ﴿ لَوَّوۡا رُءُوۡسَهُمۡ﴾ ’’تو اپنے سر ہلادیتے ہیں۔‘‘ رسول سے دعا طلب کرنے سے بچنے کے لیے۔ ﴿ وَرَاَيۡتَهُمۡ يَصُدُّوۡنَ﴾ ’’اور آپ انھیں دیکھتے کہ وہ حق کے ساتھ بغض کی وجہ سے حق کو قبول کرنے سے رک جاتے ہیں ﴿ وَهُمۡ مُّسۡتَكۡبِرُوۡنَ﴾ اور وہ سرکشی ، عناد اور تکبر کی بنا پر حق کی اتباع نہیں کرتے۔جب رسول اللہ ﷺ سے مغفرت کی دعا کرانے کے لیے ان کو بلایا جاتا ہے تو ان کی یہ حالت ہوتی ہے (جس کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے)۔

[6] اور یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول ﷺ پر لطف و کرم ہے کہ وہ آپ سے مغفرت کی دعا کروانے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوئے کیونکہ رسول اللہﷺ ان کے لیے مغفرت طلب کریں یا نہ کریں، ان پر برابر ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ انھیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نافرمان اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکلے ہوئے اور ایمان پر کفر کو ترجیح دینے والے لوگ ہیں، اس لیے رسول (ﷺ) کا استغفار انھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ١ؕ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ سَبۡعِيۡنَ مَرَّةً فَلَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَهُمۡ﴾(التوبہ: 9؍80) ’’آپ ان کے لیے استغفار کریں، یا ان کے لیے استغفار نہ کریں، اگر آپ ان کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو ہدایت سے بہرہ مند نہیں کرتا۔‘‘

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 554

Al-Jumu'ahJuz 28 · Page 554

62:9

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَوٰةِ مِن يَوۡمِ ٱلۡجُمُعَةِ فَٱسۡعَوۡاْ إِلَىٰ ذِكۡرِ ٱللَّهِ وَذَرُواْ ٱلۡبَيۡعَۚ ذَٰلِكُمۡ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ ٩

O you who have believed, when [the adhān] is called for the prayer on the day of Jumuʿah [Friday], then proceed to the remembrance of Allāh and leave trade. That is better for you, if you only knew.

62:10

فَإِذَا قُضِيَتِ ٱلصَّلَوٰةُ فَٱنتَشِرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَٱبۡتَغُواْ مِن فَضۡلِ ٱللَّهِ وَٱذۡكُرُواْ ٱللَّهَ كَثِيرٗا لَّعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ ١٠

And when the prayer has been concluded, disperse within the land and seek from the bounty of Allāh, and remember Allāh often that you may succeed.

62:11

وَإِذَا رَأَوۡاْ تِجَٰرَةً أَوۡ لَهۡوًا ٱنفَضُّوٓاْ إِلَيۡهَا وَتَرَكُوكَ قَآئِمٗاۚ قُلۡ مَا عِندَ ٱللَّهِ خَيۡرٞ مِّنَ ٱللَّهۡوِ وَمِنَ ٱلتِّجَٰرَةِۚ وَٱللَّهُ خَيۡرُ ٱلرَّٰزِقِينَ ١١

But [on one occasion] when they saw a transaction or a diversion, [O Muḥammad], they rushed to it and left you standing. Say, "What is with Allāh is better than diversion and than a transaction, and Allāh is the best of providers."

سورة المنافقون

Al-Munafiqun

The Hypocrites · Medinan · 11 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

63:1

إِذَا جَآءَكَ ٱلۡمُنَٰفِقُونَ قَالُواْ نَشۡهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُۥ وَٱللَّهُ يَشۡهَدُ إِنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ لَكَٰذِبُونَ ١

When the hypocrites come to you, [O Muḥammad], they say, "We testify that you are the Messenger of Allāh." And Allāh knows that you are His Messenger, and Allāh testifies that the hypocrites are liars.

63:2

ٱتَّخَذُوٓاْ أَيۡمَٰنَهُمۡ جُنَّةٗ فَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۚ إِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ٢

They have taken their oaths as a cover, so they averted [people] from the way of Allāh. Indeed, it was evil that they were doing.

63:3

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ ءَامَنُواْ ثُمَّ كَفَرُواْ فَطُبِعَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ فَهُمۡ لَا يَفۡقَهُونَ ٣

That is because they believed, and then they disbelieved; so their hearts were sealed over, and they do not understand.

63:4

۞ وَإِذَا رَأَيۡتَهُمۡ تُعۡجِبُكَ أَجۡسَامُهُمۡۖ وَإِن يَقُولُواْ تَسۡمَعۡ لِقَوۡلِهِمۡۖ كَأَنَّهُمۡ خُشُبٞ مُّسَنَّدَةٞۖ يَحۡسَبُونَ كُلَّ صَيۡحَةٍ عَلَيۡهِمۡۚ هُمُ ٱلۡعَدُوُّ فَٱحۡذَرۡهُمۡۚ قَٰتَلَهُمُ ٱللَّهُۖ أَنَّىٰ يُؤۡفَكُونَ ٤

And when you see them, their forms please you, and if they speak, you listen to their speech. [They are] as if they were pieces of wood propped up1 - they think that every shout is against them. They are the enemy, so beware of them. May Allāh destroy them; how are they deluded?

1 translator’s note
  1. i.e., bodies with empty minds and empty hearts. ↩
As-Sa'diTafsir · 63:4

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском