Al-Munafiqun 63:8
The Hypocrites · Juz 28 · Page 555
يَقُولُونَ لَئِن رَّجَعۡنَآ إِلَى ٱلۡمَدِينَةِ لَيُخۡرِجَنَّ ٱلۡأَعَزُّ مِنۡهَا ٱلۡأَذَلَّۚ وَلِلَّهِ ٱلۡعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِۦ وَلِلۡمُؤۡمِنِينَ وَلَٰكِنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ لَا يَعۡلَمُونَ ٨
They say, "If we return to al-Madīnah, the more honored [for power] will surely expel therefrom the more humble." And to Allāh belongs [all] honor, and to His Messenger, and to the believers, but the hypocrites do not know.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 63:7–8
وہ، وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ نہ خرچ کرو تم ان پر جو پاس ہیں رسول اللہ کے یہاں تک کہ وہ منتشر ہو جائیں اور اللہ ہی کے لیے ہیں خزانے آسمانوں اور زمین کے اور لیکن منافق نہیں سمجھتے(7) وہ کہتے ہیں، البتہ اگر لوٹ کر گئے ہم مدینہ کی طرف تو ضرور نکال ديں گے، معزز ترین لوگ اس (مدینہ) سے ذلیل ترین لوگوں کو، اور اللہ ہی کے لیے ہے عزت اور اس کے رسول کے لیے اور مومنوں کے لیے اور لیکن منافق (اس حقیقت کو) نہیں جانتے(8)
[7] یہ ان کی نبی ٔاکرم ﷺ اور مسلمانوں کے ساتھ شدت عداوت ہے کہ جب انھوں نے صحابہ کرام y کا اتحاد، ان کی باہمی الفت اور رسول اللہ ﷺ کی رضا کی طلب میں ان کی مسارعت کو دیکھا تو اپنے زعم فاسد کے مطابق کہنے لگے:﴿ لَا تُنۡفِقُوۡا عَلٰى مَنۡ عِنۡدَ رَسُوۡلِ اللّٰهِ حَتّٰى يَنۡفَضُّوۡا﴾ ’’تم ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ کے رسول کے پاس ہیں، یہاں تک کہ وہ (خود بخود) بھاگ جائیں۔‘‘ کیونکہ... ان کے زعم باطل کے مطابق... اگر منافقین کے اموال اور نفقات نہ ہوتے تو مسلمان اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت کے لیے اکٹھے نہ ہوتے۔ بڑی ہی عجیب بات ہے کہ یہ منافقین، جو دین کی مدد چھوڑنے اور مسلمانوں کو اذیت دینے کی لوگوں میں سب سے زیادہ خواہش رکھتے ہیں، اس قسم کا دعویٰ کریں جس کو صرف وہی شخص قبول کر سکتا ہے جس کو حقائق کا علم نہیں۔اس لیے الله تعالى نے ان کی بات کو رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَلِلّٰهِ خَزَآىِٕنُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کے خزانے۔‘‘ پس وہ جسے چاہتا ہے رزق عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے رزق سے محروم کر دیتا ہے، جسے چاہتا ہے اس کے لیے رزق کے ذرائع آسان بنا دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے رزق کے ذرائع بہت مشکل کر دیتا ہے ﴿ وَلٰكِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَا يَفۡقَهُوۡنَ﴾ ’’لیکن منافق نہیں سمجھتے۔‘‘ اس لیے انھوں نے یہ بات کہی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ رزق کے خزانے ان کے قبضۂ قدرت اور ان کی مشیت کے تحت ہیں۔
[8]﴿ يَقُوۡلُوۡنَ لَىِٕنۡ رَّجَعۡنَاۤ اِلَى الۡمَدِيۡنَةِ لَيُخۡرِجَنَّ الۡاَعَزُّ مِنۡهَا الۡاَذَلَّ﴾ ’’وہ کہتے تھے: ’’البتہ اگر ہم لوٹ کر مدینہ گئے تو معزز ترین لوگ وہاں سے ذلیل ترین لوگوں کو نکال دیں گے۔‘‘ یہ واقعہ غزوۂ مریسیع میں پیش آیا، جب کچھ مہاجرین اور انصار کے درمیان تلخ کلامی اور شکر رنجی پیدا ہوئی، اس وقت منافقین کا نفاق سامنے آ گیا اور ان کے دلوں میں جو کچھ تھا ظاہر ہوا۔ ان کے سردار عبداللہ بن ابی ابن سلول نے کہا: ’’ہماری اور ان کی ( یعنی مہاجرین کی) مثال تو بس وہ ہے جیسا کہ کسی کا قول ہے: اپنے کتے کو موٹا کرو تجھے ہی کھائے گا۔‘‘ اور کہنے لگا : ﴿ لَىِٕنۡ رَّجَعۡنَاۤ اِلَى الۡمَدِيۡنَةِ لَيُخۡرِجَنَّ الۡاَعَزُّ مِنۡهَا الۡاَذَلَّ﴾ ’’اگر ہم لوٹ کر مدینے پہنچے تو عزت والا ذلیل کو وہاں سے نکال باہر کرے گا۔ ‘‘ اس کے زعم باطل کے مطابق وہ اور اس کے بھائی دیگر منافقین باعزت لوگ ہیں، اور رسول مصطفیﷺ اور آپ کی اتباع کرنے والے ذلیل ہیں، حالانکہ معاملہ اس منافق کے قول کے برعکس تھا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلِلّٰهِ الۡعِزَّةُ وَلِرَسُوۡلِهٖ وَلِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠﴾ ’’حالانکہ عزت اللہ کے لیے ہے، اس کے رسول کے لیے ہے اور مومنوں کے لیے ہے۔‘‘ پس یہی عزت والے ہیں، منافقین اور ان کے بھائی ہی ذلیل ہیں۔ ﴿ وَلٰكِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’مگر منافقین اس حقیقت کو نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے وہ اپنے باطل موقف کے فریب میں مبتلا ہو کر سمجھتے ہیں کہ وہی عزت والے ہیں۔
Page 555
63:5
وَإِذَا قِيلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡاْ يَسۡتَغۡفِرۡ لَكُمۡ رَسُولُ ٱللَّهِ لَوَّوۡاْ رُءُوسَهُمۡ وَرَأَيۡتَهُمۡ يَصُدُّونَ وَهُم مُّسۡتَكۡبِرُونَ ٥
And when it is said to them, "Come, the Messenger of Allāh will ask forgiveness for you," they turn their heads aside and you see them evading while they are arrogant.
63:6
سَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ أَسۡتَغۡفَرۡتَ لَهُمۡ أَمۡ لَمۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ لَن يَغۡفِرَ ٱللَّهُ لَهُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡفَٰسِقِينَ ٦
It is all the same for them whether you ask forgiveness for them or do not ask forgiveness for them; never will Allāh forgive them. Indeed, Allāh does not guide the defiantly disobedient people.
63:7
هُمُ ٱلَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنفِقُواْ عَلَىٰ مَنۡ عِندَ رَسُولِ ٱللَّهِ حَتَّىٰ يَنفَضُّواْۗ وَلِلَّهِ خَزَآئِنُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَلَٰكِنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ لَا يَفۡقَهُونَ ٧
They are the ones who say, "Do not spend on those who are with the Messenger of Allāh until they disband." And to Allāh belong the depositories of the heavens and the earth, but the hypocrites do not understand.
63:8
يَقُولُونَ لَئِن رَّجَعۡنَآ إِلَى ٱلۡمَدِينَةِ لَيُخۡرِجَنَّ ٱلۡأَعَزُّ مِنۡهَا ٱلۡأَذَلَّۚ وَلِلَّهِ ٱلۡعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِۦ وَلِلۡمُؤۡمِنِينَ وَلَٰكِنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ لَا يَعۡلَمُونَ ٨
They say, "If we return to al-Madīnah, the more honored [for power] will surely expel therefrom the more humble." And to Allāh belongs [all] honor, and to His Messenger, and to the believers, but the hypocrites do not know.
63:9
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تُلۡهِكُمۡ أَمۡوَٰلُكُمۡ وَلَآ أَوۡلَٰدُكُمۡ عَن ذِكۡرِ ٱللَّهِۚ وَمَن يَفۡعَلۡ ذَٰلِكَ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ ٩
O you who have believed, let not your wealth and your children divert you from the remembrance of Allāh. And whoever does that - then those are the losers.
63:10
وَأَنفِقُواْ مِن مَّا رَزَقۡنَٰكُم مِّن قَبۡلِ أَن يَأۡتِيَ أَحَدَكُمُ ٱلۡمَوۡتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوۡلَآ أَخَّرۡتَنِيٓ إِلَىٰٓ أَجَلٖ قَرِيبٖ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن مِّنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ١٠
And spend [in the way of Allāh] from what We have provided you before death approaches one of you and he says, "My Lord, if only You would delay me for a brief term so I would give charity and be of the righteous."
63:11
وَلَن يُؤَخِّرَ ٱللَّهُ نَفۡسًا إِذَا جَآءَ أَجَلُهَاۚ وَٱللَّهُ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ ١١
But never will Allāh delay a soul when its time has come. And Allāh is Aware of what you do.