Al-Mulk 67:1
The Sovereignty · Juz 29 · Page 562
تَبَٰرَكَ ٱلَّذِي بِيَدِهِ ٱلۡمُلۡكُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ ١
Blessed is He in whose hand is dominion, and He is over all things competent -
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 67:1–4
بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات کہ اس کےہاتھ میں ہے (تمام) بادشاہی، اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(1) وہ جس نے پیدا کیا موت و حیات کو تاکہ وہ آزمائے تمھیں، کون تم میں سے اچھا ہے عمل میں؟ اور وہ بڑا زبردست، خوب بخشنے والا ہے(2) وہ جس نے پیدا کیے سات آسمان اوپر نیچے، نہیں دیکھے گا تو رحمن کے پیدا کرنے میں کوئی فرق پس لوٹا تو نگاہ کو، کیا تو دیکھتا ہے، کوئی شگاف؟(3) پھر لوٹا تو نگاہ کو دوبارہ (بار بار)، لوٹ آئے گی تیری طرف نگاہ ذلیل ہو کر اس حال میں کہ وہ تھکی ماندی ہو گی(4)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿ تَبٰرَكَ الَّذِيۡ بِيَدِهِ الۡمُلۡكُ﴾ یعنی بہت عظمت والی اور بہت بلند ہے وہ ہستی، اس کی بھلائی بہت زیادہ اور اس کا احسان عام ہے۔ یہ اس کی عظمت ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی کا اقتدار اسی کے ہاتھ میں ہے، وہی ہے جس نے اس کو پیدا کیا ہے، وہ جیسے چاہتا ہے احکام دینی اور احکام قدری میں تصرف کرتا ہے، جو اس کی حکمت کے تابع ہوتے ہیں۔اس کی عظمت اور اس کی قدرت کا کمال ہے جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر قادر ہے، اسی قدرت کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات ، مثلاً: آسمان اور زمین کو وجود بخشا۔
[2] اور ﴿ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَالۡحَيٰوةَ ﴾ ’’اس نے موت و حیات کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے بندوں کے لیے مقدر کیا کہ وہ ان کو زندگی عطا کرے ، پھر موت سے ہم کنار کرے ﴿ لِيَبۡلُوَؔكُمۡ اَيُّؔكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا﴾ تاکہ وہ آزمائے کہ تم میں سے کون سب سے زیادہ صاحبِ اخلاص اور کون سب سے زیادہ راہ صواب پر ہے۔ یہ آزمائش اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو پیدا کر کے ان کو اس دنیا میں بھیجا، انھیں یہ بھی بتا دیا کہ انھیں عنقریب یہاں سے منتقل کیا جائے گا، ان کو اوامر و نواہی دیے اور اپنے ان اوامر کی معارض شہوات کے ذریعے سے ان کو آزمایا۔ پس جس کسی نے اللہ تعالیٰ کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں بہترین جزا دے گا اور جو کوئی شہوات نفس کی طرف مائل ہوا اور اللہ تعالیٰ کے اوامر کو دور پھینک دیا تو اس کے لیے بدترین سزا ہے۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ تمام غلبہ اسی کا ہے جس کے ذریعے سے وہ تمام چیزوں پر غالب ہے اور مخلوقات اس کی مطیع ہے۔ ﴿ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ بدکاروں، کوتاہی کرنے والوں اور گناہ گاروں کو بخش دیتا ہے، خاص طور پر جب وہ توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں، وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے، خواہ وہ آسمان کے کناروں تک پہنچے ہوئے ہوں، وہ ان کے عیوب کو چھپاتا ہے، خواہ وہ زمین بھر ہوں۔
[3]﴿ الَّذِيۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ﴾ یعنی اس نے آسمانوں کو ایک ہی طبق نہیں بنایا بلکہ ان کو ایک دوسرے کے اوپر بنایا، ان کو انتہائی خوبصورتی اور مضبوطی کے ساتھ پیدا کیا ﴿ مَا تَرٰؔى فِيۡ خَلۡقِ الرَّحۡمٰنِ مِنۡ تَفٰوُتٍ ﴾ ’’تم رحمٰن کی تخلیق میں کوئی بے ربطی نہیں دیکھوگے۔‘‘ یعنی خلل اور نقص۔ جب نقص کی ہر لحاظ سے نفی ہو گئی تو وہ ہر لحاظ سے خوبصورت، کامل اور متناسب بن گئے، یعنی اپنے رنگ میں، اپنی ہیئت میں، اپنی بلندی میں، اپنے سورج، کواکب، ثوابت اور سیارات میں خوبصورت اور متناسب ہیں۔چونکہ اس کا کمال معلوم ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو بار بار دیکھنے اور اس کے کناروں میں غور کرنے کا حکم دیا ہے۔ ﴿ فَارۡجِـعِ الۡبَصَرَ ﴾ عبرت کی نظر سے دیکھنے کے لیے، اس پر دوبارہ نگاہ ڈال ﴿ هَلۡ تَرٰى مِنۡ فُطُوۡرٍ ﴾ کیا تجھے کوئی نقص اور خلل نظر آتا ہے؟
[4]﴿ ثُمَّ ارۡجِـعِ الۡبَصَرَؔ كَرَّتَيۡنِ ﴾ ’’ پھر لوٹا تو نگاہ کو دوبارہ بار بار۔‘‘ اس سے مراد کثرت تکرار ہے ﴿ يَنۡقَلِبۡ اِلَيۡكَ الۡبَصَرُ خَاسِئًا وَّهُوَ حَسِيۡرٌ ﴾ ’’نظر (ہر بار) تیرے پاس ناکام اور تھک کر لوٹ آئے گی۔‘‘ یعنی کوئی خلل اور کوئی نقص دیکھنے سے عاجز آکر واپس لوٹے گی اور خواہ وہ خلل دیکھنے کی بے انتہا خواہش رکھتی ہو ،
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے نہایت صراحت کے ساتھ آسمانوں کی خوبصورتی کا ذکر کیا ، چنانچہ فرمایا:
Page 562
سورة الملك
Al-Mulk
The Sovereignty · Meccan · 30 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
67:1
تَبَٰرَكَ ٱلَّذِي بِيَدِهِ ٱلۡمُلۡكُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ ١
Blessed is He in whose hand is dominion, and He is over all things competent -
67:2
ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلۡمَوۡتَ وَٱلۡحَيَوٰةَ لِيَبۡلُوَكُمۡ أَيُّكُمۡ أَحۡسَنُ عَمَلٗاۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡغَفُورُ ٢
[He] who created death and life to test you [as to] which of you is best in deed - and He is the Exalted in Might, the Forgiving -
67:3
ٱلَّذِي خَلَقَ سَبۡعَ سَمَٰوَٰتٖ طِبَاقٗاۖ مَّا تَرَىٰ فِي خَلۡقِ ٱلرَّحۡمَٰنِ مِن تَفَٰوُتٖۖ فَٱرۡجِعِ ٱلۡبَصَرَ هَلۡ تَرَىٰ مِن فُطُورٖ ٣
[And] who created seven heavens in layers.1 You do not see in the creation of the Most Merciful any inconsistency. So return [your] vision [to the sky]; do you see any breaks?
1 translator’s note
- i.e., one covering or fitting over the other. ↩
67:4
ثُمَّ ٱرۡجِعِ ٱلۡبَصَرَ كَرَّتَيۡنِ يَنقَلِبۡ إِلَيۡكَ ٱلۡبَصَرُ خَاسِئٗا وَهُوَ حَسِيرٞ ٤
Then return [your] vision twice again.1 [Your] vision will return to you humbled while it is fatigued.
1 translator’s note
- i.e., repeatedly. ↩
67:5
وَلَقَدۡ زَيَّنَّا ٱلسَّمَآءَ ٱلدُّنۡيَا بِمَصَٰبِيحَ وَجَعَلۡنَٰهَا رُجُومٗا لِّلشَّيَٰطِينِۖ وَأَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابَ ٱلسَّعِيرِ ٥
And We have certainly beautified the nearest heaven with lamps [i.e., stars] and have made [from] them what is thrown at the devils1 and have prepared for them the punishment of the Blaze.
1 translator’s note
- Thereby driving them from the heavens and preventing them from eavesdropping. See 72:8-9. ↩
67:6
وَلِلَّذِينَ كَفَرُواْ بِرَبِّهِمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ ٦
And for those who disbelieved in their Lord is the punishment of Hell, and wretched is the destination.
67:7
إِذَآ أُلۡقُواْ فِيهَا سَمِعُواْ لَهَا شَهِيقٗا وَهِيَ تَفُورُ ٧
When they are thrown into it, they hear from it a [dreadful] inhaling while it boils up.
67:8
تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ ٱلۡغَيۡظِۖ كُلَّمَآ أُلۡقِيَ فِيهَا فَوۡجٞ سَأَلَهُمۡ خَزَنَتُهَآ أَلَمۡ يَأۡتِكُمۡ نَذِيرٞ ٨
It almost bursts with rage. Every time a company is thrown into it, its keepers ask them, "Did there not come to you a warner?"
67:9
قَالُواْ بَلَىٰ قَدۡ جَآءَنَا نَذِيرٞ فَكَذَّبۡنَا وَقُلۡنَا مَا نَزَّلَ ٱللَّهُ مِن شَيۡءٍ إِنۡ أَنتُمۡ إِلَّا فِي ضَلَٰلٖ كَبِيرٖ ٩
They will say, "Yes, a warner had come to us, but we denied and said, 'Allāh has not sent down anything. You are not but in great error.'"
67:10
وَقَالُواْ لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ أَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيٓ أَصۡحَٰبِ ٱلسَّعِيرِ ١٠
And they will say, "If only we had been listening or reasoning, we would not be among the companions of the Blaze."
67:11
فَٱعۡتَرَفُواْ بِذَنۢبِهِمۡ فَسُحۡقٗا لِّأَصۡحَٰبِ ٱلسَّعِيرِ ١١
And they will admit their sin, so [it is] alienation1 for the companions of the Blaze.
1 translator’s note
- From all good and from Allāh's mercy. ↩
67:12
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُم بِٱلۡغَيۡبِ لَهُم مَّغۡفِرَةٞ وَأَجۡرٞ كَبِيرٞ ١٢
Indeed, those who fear their Lord unseen will have forgiveness and great reward.