Al-Mulk 67:30
The Sovereignty · Juz 29 · Page 564
قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِنۡ أَصۡبَحَ مَآؤُكُمۡ غَوۡرٗا فَمَن يَأۡتِيكُم بِمَآءٖ مَّعِينِۭ ٣٠
Say, "Have you considered: if your water was to become sunken [into the earth], then who could bring you flowing water?"
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 67:27–30
پس جب وہ دیکھیں گے اس (عذاب قیامت) کو قریب ہی تو بگڑ جائیں گے چہرے ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا اور کہا جائے گا، یہ ہے وہ جو تھے تم (دنیا میں) اس کو مانگتے (27) کہہ دیجیے! خبر دو تم مجھے اگر ہلاک کر دے مجھے اللہ اور ان کو بھی جو میرے ساتھ ہیں، یا وہ رحم کرے ہم پر تو کون ہے وہ جو پناہ دے کافروں کو عذاب درد ناک سے؟ (28) کہہ دیجیے! وہ (اللہ) نہایت مہربان ہے ہم ایمان لائے اس پر اور اسی پر توکل کیا ہم نے، پس عنقریب تم جان لوگے کون ہے وہ جو صریح گمراہی میں ہے؟(29) کہہ دیجیے! خبر دو تم مجھے اگر ہو جائے تمھارا پانی گہرا تو کون ہے وہ کہ لے آئے وہ تمھارے پاس پانی بہتا ہوا؟ (30)
[27] کفار کی تکذیب اور اس بنا پر ان کے فریب کا محل و مقام اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ اس دنیا میں ہیں، جب جزا و سزا کا دن ہو گا اور وہ عذاب کو ﴿زُلۡفَةً﴾ اپنے قریب دیکھیں گے تو یہ انھیں بہت برا لگے گا اور انھیں خوف زدہ کر دے گا، ان کے چہرے بدل جائیں گے، ان کی تکذیب پر انھیں زجر و توبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا’’یہ وہی ہے جس کی تم تکذیب کرتے تھے۔ آج تم نے اسے عیاں دیکھ لیا ہے اور تمام معاملہ تمھارے سامنے ظاہر ہو گیا ہے، تمھارے تمام اسباب منقطع ہو گئے ہیں اور اب عذاب بھگتنے کے سوا کچھ باقی نہیں۔‘‘
[28] چونکہ رسول مصطفیﷺ کو جھٹلانے والے جو آپ کی دعوت کو ٹھکراتے تھے، آپ کی ہلاکت، اور آپ کے بارے میں گردش زمانہ کے منتظر تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں کہ اگر تمھاری آرزو پوری ہو بھی جائے اور اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے تو یہ چیز تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گی، کیونکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا اور تم عذاب کے مستحق بن گئے۔ پس اب تمھیں درد ناک عذاب سے کون بچا سکتا ہے جس کا تم پر واقع ہونا حتمی ہے؟ تب میری ہلاکت کے بارے میں تمھاری مشقت اور حرص غیر مفید ہے اور وہ تمھارے کچھ کام نہیں آئے گی۔
[29] انھوں نے اپنے اس قول کا... کہ وہ ہدایت پر ہیں اور رسول ﷺ گمراہی پر ہیں... اعادہ کیا، اس کے اظہار میں جرأت دکھائی، اس پر جھگڑا اور لڑائی کی۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ وہ اپنے حال اور آپ کی پیروی کرنے والوں کے حال سے آگاہ کر دیں جس سے ہر شخص پر ان کی ہدایت اور تقویٰ واضح ہو جائے اور وہ یہ کہنے کا حکم تھا:﴿ هُوَ الرَّحۡمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَعَلَيۡهِ تَوَؔكَّؔلۡنَا﴾ ’’ ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے اس پر توکل کیا۔‘‘ اور ایمان باطنی تصدیق اور اعمال باطنہ و ظاہرہ کو شامل ہے۔چونکہ تمام اعمال کا وجود اور ان کا کمال توکل پر موقوف ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمام اعمال میں سے توکل کا خاص طور پر ذکر کیا ہے ورنہ توکل، ایمان اور اس کے جملہ لوازم میں داخل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَتَوَؔكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾(المائدہ:5؍23) ’’اور اللہ ہی پر بھروسہ کرو، اگر تم مومن ہو۔‘‘ جب رسولﷺ اور ان لوگوں کا یہ حال ہے جو آپ کی پیروی کرتے ہیں، اور یہ ایسا حال ہے جو فلاح کے لیے متعین ہے اور جس پر سعادت موقوف ہے، اور آپ کے دشمنوں کا حال اس کے متضاد ہے، پس ان کے پاس ایمان ہے نہ توکل تب اس سے معلوم ہو گیا کہ کون ہدایت پر ہے اور کون کھلی گمراہی میں مبتلا ہے۔
[30] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ نعمتیں عطا کرنے میں اکیلا اور متفرد ہے ، خاص طور پر پانی کی نعمت جس سے اللہ تعالیٰ نے ہر زندہ چیز کو پیدا کیا۔ چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ اَصۡبَحَ مَآؤُكُمۡ غَوۡرًؔا﴾ ’’کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر تمھارا پانی خشک ہوجائے ۔‘‘ یعنی گہرا چلا جائے ﴿ فَمَنۡ يَّاۡتِيۡكُمۡ بِمَآءٍ مَّعِيۡنٍ﴾ ’’پس کون ہے جو تمھارے لیے شیریں پانی کا چشمہ بہالائے۔‘‘ جس کو تم خود پیتے ہو، اپنے مویشیوں کو پلاتے ہو اور اپنے باغات اور کھیتوں کو سیراب کرتے ہو ۔ یہ استفہام بمعنی نفی ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اس پر قادر نہیں۔
Page 564
67:27
فَلَمَّا رَأَوۡهُ زُلۡفَةٗ سِيٓـَٔتۡ وُجُوهُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَقِيلَ هَٰذَا ٱلَّذِي كُنتُم بِهِۦ تَدَّعُونَ ٢٧
But when they see it1 approaching, the faces of those who disbelieve will be distressed, and it will be said, "This is that for which you used to call."2
67:28
قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِنۡ أَهۡلَكَنِيَ ٱللَّهُ وَمَن مَّعِيَ أَوۡ رَحِمَنَا فَمَن يُجِيرُ ٱلۡكَٰفِرِينَ مِنۡ عَذَابٍ أَلِيمٖ ٢٨
Say, [O Muḥammad], "Have you considered:1 whether Allāh should cause my death and those with me or have mercy upon us, who can protect the disbelievers from a painful punishment?"
1 translator’s note
- i.e., inform me. ↩
67:29
قُلۡ هُوَ ٱلرَّحۡمَٰنُ ءَامَنَّا بِهِۦ وَعَلَيۡهِ تَوَكَّلۡنَاۖ فَسَتَعۡلَمُونَ مَنۡ هُوَ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ ٢٩
Say, "He is the Most Merciful; we have believed in Him, and upon Him we have relied. And you will [come to] know who it is that is in clear error."
67:30
قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِنۡ أَصۡبَحَ مَآؤُكُمۡ غَوۡرٗا فَمَن يَأۡتِيكُم بِمَآءٖ مَّعِينِۭ ٣٠
Say, "Have you considered: if your water was to become sunken [into the earth], then who could bring you flowing water?"
سورة القلم
Al-Qalam
The Pen · Meccan · 52 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
68:1
نٓۚ وَٱلۡقَلَمِ وَمَا يَسۡطُرُونَ ١
Nūn.1 By the pen and what they inscribe,
1 translator’s note
- See footnote to 2:1. ↩
68:2
مَآ أَنتَ بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ بِمَجۡنُونٖ ٢
You are not, [O Muḥammad], by the favor of your Lord, a madman.
68:3
وَإِنَّ لَكَ لَأَجۡرًا غَيۡرَ مَمۡنُونٖ ٣
And indeed, for you is a reward uninterrupted.
68:4
وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٖ ٤
And indeed, you are of a great moral character.
68:5
فَسَتُبۡصِرُ وَيُبۡصِرُونَ ٥
So you will see and they will see
68:6
بِأَييِّكُمُ ٱلۡمَفۡتُونُ ٦
Which of you is the afflicted [by a devil].
68:7
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُهۡتَدِينَ ٧
Indeed, your Lord is most knowing of who has gone astray from His way, and He is most knowing of the [rightly] guided.
68:8
فَلَا تُطِعِ ٱلۡمُكَذِّبِينَ ٨
Then do not obey the deniers.
68:9
وَدُّواْ لَوۡ تُدۡهِنُ فَيُدۡهِنُونَ ٩
They wish that you would soften [in your position], so they would soften [toward you].
68:10
وَلَا تُطِعۡ كُلَّ حَلَّافٖ مَّهِينٍ ١٠
And do not obey every worthless habitual swearer
68:11
هَمَّازٖ مَّشَّآءِۭ بِنَمِيمٖ ١١
[And] scorner, going about with malicious gossip -
68:12
مَّنَّاعٖ لِّلۡخَيۡرِ مُعۡتَدٍ أَثِيمٍ ١٢
A preventer of good, transgressing and sinful,
68:13
عُتُلِّۭ بَعۡدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ ١٣
Cruel, moreover, and an illegitimate pretender.1
1 translator’s note
- i.e., claiming a particular lineage falsely. The description given in these verses is of al-Waleed bin al-Mugheerah (see also 74:11-25) or possibly, as asserted by Ibn Katheer, al-Akhnas bin Shurayq. ↩
68:14
أَن كَانَ ذَا مَالٖ وَبَنِينَ ١٤
Because he is a possessor of wealth and children,
68:15
إِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِ ءَايَٰتُنَا قَالَ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ ١٥
When Our verses are recited to him, he says, "Legends of the former peoples."