Al-MulkJuz 29 · Page 562

Al-Mulk 67:5

The Sovereignty · Juz 29 · Page 562

وَلَقَدۡ زَيَّنَّا ٱلسَّمَآءَ ٱلدُّنۡيَا بِمَصَٰبِيحَ وَجَعَلۡنَٰهَا رُجُومٗا لِّلشَّيَٰطِينِۖ وَأَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابَ ٱلسَّعِيرِ ٥

And We have certainly beautified the nearest heaven with lamps [i.e., stars] and have made [from] them what is thrown at the devils1 and have prepared for them the punishment of the Blaze.

1 translator’s note
  1. Thereby driving them from the heavens and preventing them from eavesdropping. See 72:8-9. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 67:5–11

اور البتہ تحقیق زینت دی ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے، اور بنایا ہم نے ان کو شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ، اور تیار کیا ہے ہم نے ان (شیطانوں) کے لیے عذاب بھڑکتی آگ کا(5) اور ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا ساتھ اپنے رب کے، عذاب جہنم ہے اور برا ٹھکانا ہے(وہ)(6) جب ڈالے جائیں گے وہ اس (جہنم) میں تو سنیں گے اس کا دہاڑنا جبکہ وہ جوش مار رہی ہو گی(7) قریب ہے کہ پھٹ پڑے گی غیظ (و غضب) سے، جب بھی ڈالا جائے گا اس میں کوئی گروہ تو پوچھیں گے ان سے اس کےمحافظ، کیا نہیں آیا تھا تمھارے پاس کوئی ڈرانے والا؟(8) وہ کہیں گے ہاں، یقیناً آیا تھا ہمارے پاس ایک ڈرانے والا تو جھٹلایا تھا ہم نے اسے اور کہا تھا ہم نے، نہیں نازل کی اللہ نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر گمراہی میں بہت بڑی (9) اور وہ کہیں گے، اگر ہم سنتے اور سمجھتے ہوتے تو نہ ہوتے ہم دوزخیوں میں (10) سو اعتراف کریں گے وہ اپنے گناہ (جرم) کا، پس دوری ہے واسطے دوزخیوں کے (11)

[5] یعنی ہم نے جمال بخشا ﴿ السَّمَآءَ الدُّنۡيَا﴾ ’’دنیا کے آسمان کو‘‘ جسے تم دیکھ رہے ہو اور جو تمھارے قریب اور متصل ہے۔ ﴿ بِمَصَابِيۡحَ﴾ ’’چراغوں کے ساتھ۔‘‘ اس سے مراد مختلف اقسام کی روشنیاں رکھنے والے ستارے ہیں کیونکہ اگر آسمان میں ستارے نہ ہوتے تو یہ ایک تاریک چھت ہوتی جس میں کوئی حسن و جمال نہ ہو۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کو آسمان کی زینت، حسن و جمال اور راہ نما بنایا جن کے ذریعے سے بحر و بر میں راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر کہ اس نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کیا، اس امر کے منافی نہیں کہ بہت سے ستارے ساتوں آسمانوں کے اوپر ہوں کیونکہ آسمان شفاف ہوتے ہیں اور اگر آسمان دنیا پر ستارے نہ بھی ہوں، تو ساتوں آسمانوں کے ستاروں کے ذریعے سے آسمان دنیا کو زینت حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ وَجَعَلۡنٰهَا﴾ اور بنیایا ہم نے چراغوں کو ﴿ رُجُوۡمًا لِّلشَّيٰطِيۡنِ﴾ ’’شیطانوں کو مارنے کا آلہ۔‘‘ جو آسمانوں سے خبر چوری کرنا چاہتے ہیں، پس یہ شہاب جنھیں ستاروں سے شیطان شیاطین پر پھینکا جاتا ہے، انھیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا کے اندر شیاطین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ وَاَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ﴾ اور آخرت میں ان کے لیے تیار کیا ہے۔ ﴿ عَذَابَ السَّعِيۡرِ﴾ ’’بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور اس کے بندوں کو گمراہ کیا۔

[6] اس لیے ان کی پیروی کرنے والے کفار انھی کی مانند ہیں، ان کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿وَلِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِرَبِّهِمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ ’’اور جن لوگوں نے اپنے رب کا انکار کیا، ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور برا ٹھکانا ہے۔‘‘ وہ ایسا ٹھکانا ہے کہ وہاں کے لوگوں کو بے حد رسوا کیا جائے گا۔

[7]﴿ اِذَاۤ اُلۡقُوۡا فِيۡهَا﴾ جب ذلت اور رسوائی کے ساتھ ان کو جہنم کے اندر پھینک دیا جائے گا ﴿ سَمِعُوۡا لَهَا شَهِيۡقًا﴾ تو وہ جہنم کی بہت بلند اور انتہائی کریہہ آواز سنیں گے ﴿ وَّهِيَ تَفُوۡرُ﴾ اور حالت یہ ہو گی کہ جہنم جوش مار رہی ہو گی۔

[8]﴿ تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الۡغَيۡظِ﴾ ’’گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی۔‘‘ یعنی مجتمع ہونے کے باوجود، یوں لگتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائے گی، اور کفار پر مارے غیظ و غضب کے پھٹ کر ٹکڑے ہو جائے گی۔ تم سمجھ سکتے ہو کہ ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو جہنم ان کے ساتھ کیا کرے گی؟ جہنم کا داروغہ اہل جہنم کو جو زجر و توبیخ کرے گا، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿كُلَّمَاۤ اُلۡقِيَ فِيۡهَا فَوۡجٌ سَاَلَهُمۡ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ نَذِيۡرٌ﴾ ’’جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغے ان سے پوچھیں گے، کیا تمھارے پاس کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا تھا۔‘‘ یعنی تمھارے اس حال اور تمھارے جہنم کے مستحق ہونے سے یوں لگتا ہے گویا کہ تمھیں اس کے بارے میں آگاہ ہی نہیں کیا گیا اور متنبہ کرنے والوں نے تمھیں کبھی اس سے متنبہ ہی نہیں کیا۔

[9]﴿ قَالُوۡا بَلٰى قَدۡ جَآءَنَا نَذِيۡرٌ١ۙ ۬ فَكَذَّبۡنَا وَقُلۡنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنۡ شَيۡءٍ١ۖ ۚ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ كَبِيۡرٍ﴾ ’’وہ کہیں گے، کیوں نہیں، ضرور ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلادیا اور کہا کہ اللہ نے تو کوئی چیز نازل ہی نہیں کی، تم تو بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔‘‘ پس انھوں نے نبی کی تکذیبِ خاص اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہر چیز کی تکذیبِ عام کو جمع کر دیا۔ اور انھوں نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے متنبہ کرنے والے رسولوں کو علی الاعلان گمراہ کہا، حالانکہ وہی تو راہ دکھانے والے اور سیدھی راہ پر ہیں، پھر انھوں نے مجرد گمراہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کی ’’گمراہی‘‘ کو ’’بہت بڑی گمراہی‘‘ قرار دیا ۔ تب کون سا عناد، تکبر اور ظلم اس کے مشابہ ہو سکتا ہے؟

[10]﴿ وَقَالُوۡا﴾ رشد و ہدایت کے اہل نہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿ لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾ ’’اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے، تو دزخیوں میں نہ ہوتے۔‘‘ پس وہ اپنی ذات سے ہدایت کے تمام راستوں کی نفی کریں گے اور وہ ہیں، اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ اور رسول کی لائی ہوئی کتاب کو سننا اور عقل جو صاحب عقل کو فائدہ دیتی ہے، جو اسے حقائق اشیاء، بھلائی کو ترجیح دینے اور ہر اس چیز سے اجتناب کرنے پر ٹھہراتی ہے جس کا انجام قابل مذمت ہو۔ مگر ان کے پاس تو سماعت ہے نہ عقل ۔ ان کا یہ رویہ اہل یقین و عرفان اور ارباب صدق و ایمان کے رویے کے برعکس ہے کیونکہ انھوں نے سمعی دلائل سے اپنے ایمان کی تائید کی اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا اور جو کچھ رسولﷺ کر لے کر آئے انھوں نے اسے حصول علم، معرفت اور عمل کے لیے سنا،نیز انھوں نے عقلی دلائل کے ذریعے سے گمراہی میں سے ہدایت، قبیح میں سے حسين اور شر میں سے خیر کی معرفت حاصل کی، وہ اپنے ایمان میں منقول و معقول کی اقتدا کے مطابق تھے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔پس پاک ہے وہ ذات جو بندوں میں سے جسے چاہتی ہے اپنے فضل کے لیے مختص کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اپنے احسان سے بہرہ مند کرتی ہے اور جو بھلائی کے قابل نہیں ہوتا اسے تنہا چھوڑ دیتی ہے۔

[11] یعنی ان کے لیے رحمت الٰہی سے دوری، خسارہ اور بدبختی ہے، وہ کتنے بدبخت اور کس قدر ہلاکت میں مبتلا ہیں کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ثواب کو کھو دیا اور جہنم کا ایندھن بنے، جو ان کے ابدان میں بھڑکتی رہے گی اور ان کے دلوں سے لپٹتی رہے گی!

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 562

Al-MulkJuz 29 · Page 562

سورة الملك

Al-Mulk

The Sovereignty · Meccan · 30 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

67:1

تَبَٰرَكَ ٱلَّذِي بِيَدِهِ ٱلۡمُلۡكُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ ١

Blessed is He in whose hand is dominion, and He is over all things competent -

67:2

ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلۡمَوۡتَ وَٱلۡحَيَوٰةَ لِيَبۡلُوَكُمۡ أَيُّكُمۡ أَحۡسَنُ عَمَلٗاۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡغَفُورُ ٢

[He] who created death and life to test you [as to] which of you is best in deed - and He is the Exalted in Might, the Forgiving -

67:3

ٱلَّذِي خَلَقَ سَبۡعَ سَمَٰوَٰتٖ طِبَاقٗاۖ مَّا تَرَىٰ فِي خَلۡقِ ٱلرَّحۡمَٰنِ مِن تَفَٰوُتٖۖ فَٱرۡجِعِ ٱلۡبَصَرَ هَلۡ تَرَىٰ مِن فُطُورٖ ٣

[And] who created seven heavens in layers.1 You do not see in the creation of the Most Merciful any inconsistency. So return [your] vision [to the sky]; do you see any breaks?

1 translator’s note
  1. i.e., one covering or fitting over the other. ↩

67:4

ثُمَّ ٱرۡجِعِ ٱلۡبَصَرَ كَرَّتَيۡنِ يَنقَلِبۡ إِلَيۡكَ ٱلۡبَصَرُ خَاسِئٗا وَهُوَ حَسِيرٞ ٤

Then return [your] vision twice again.1 [Your] vision will return to you humbled while it is fatigued.

1 translator’s note
  1. i.e., repeatedly. ↩

67:5

وَلَقَدۡ زَيَّنَّا ٱلسَّمَآءَ ٱلدُّنۡيَا بِمَصَٰبِيحَ وَجَعَلۡنَٰهَا رُجُومٗا لِّلشَّيَٰطِينِۖ وَأَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابَ ٱلسَّعِيرِ ٥

And We have certainly beautified the nearest heaven with lamps [i.e., stars] and have made [from] them what is thrown at the devils1 and have prepared for them the punishment of the Blaze.

1 translator’s note
  1. Thereby driving them from the heavens and preventing them from eavesdropping. See 72:8-9. ↩

67:6

وَلِلَّذِينَ كَفَرُواْ بِرَبِّهِمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ ٦

And for those who disbelieved in their Lord is the punishment of Hell, and wretched is the destination.

67:7

إِذَآ أُلۡقُواْ فِيهَا سَمِعُواْ لَهَا شَهِيقٗا وَهِيَ تَفُورُ ٧

When they are thrown into it, they hear from it a [dreadful] inhaling while it boils up.

67:8

تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ ٱلۡغَيۡظِۖ كُلَّمَآ أُلۡقِيَ فِيهَا فَوۡجٞ سَأَلَهُمۡ خَزَنَتُهَآ أَلَمۡ يَأۡتِكُمۡ نَذِيرٞ ٨

It almost bursts with rage. Every time a company is thrown into it, its keepers ask them, "Did there not come to you a warner?"

67:9

قَالُواْ بَلَىٰ قَدۡ جَآءَنَا نَذِيرٞ فَكَذَّبۡنَا وَقُلۡنَا مَا نَزَّلَ ٱللَّهُ مِن شَيۡءٍ إِنۡ أَنتُمۡ إِلَّا فِي ضَلَٰلٖ كَبِيرٖ ٩

They will say, "Yes, a warner had come to us, but we denied and said, 'Allāh has not sent down anything. You are not but in great error.'"

67:10

وَقَالُواْ لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ أَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيٓ أَصۡحَٰبِ ٱلسَّعِيرِ ١٠

And they will say, "If only we had been listening or reasoning, we would not be among the companions of the Blaze."

67:11

فَٱعۡتَرَفُواْ بِذَنۢبِهِمۡ فَسُحۡقٗا لِّأَصۡحَٰبِ ٱلسَّعِيرِ ١١

And they will admit their sin, so [it is] alienation1 for the companions of the Blaze.

1 translator’s note
  1. From all good and from Allāh's mercy. ↩

67:12

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُم بِٱلۡغَيۡبِ لَهُم مَّغۡفِرَةٞ وَأَجۡرٞ كَبِيرٞ ١٢

Indeed, those who fear their Lord unseen will have forgiveness and great reward.

As-Sa'diTafsir · 67:5

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском