Al-QalamJuz 29 · Page 564

Al-Qalam 68:9

The Pen · Juz 29 · Page 564

وَدُّواْ لَوۡ تُدۡهِنُ فَيُدۡهِنُونَ ٩

They wish that you would soften [in your position], so they would soften [toward you].

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 68:8–16

پس نہ اطاعت کریں آپ تکذیب کرنے والوں کی(8) وہ چاہتے ہیں کہ آپ نرمی اختیار کریں تو وہ بھی نرم پڑ جائیں(9) اور نہ اطاعت کریں آپ ہر قسمیں کھانے والے نہایت حقیر کی (10) جو بڑا ہی عیب جو، چلتا پھرتا چغل خور ہے (11) بہت روکنے والا بھلائی سے، حد سے گزرنے والا سخت گناہ گار ہے (12) اُجَڈ علاوہ اس کے حرام زادہ ہے (13) یہ اس لیے کہ (وہ) مال اور بیٹوں والا ہے (14) جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیات تو کہتا ہے، (یہ)افسانے ہیں پہلوں کے (15) عنقریب ہم داغ لگائیں گے اسے (اس کی) سونڈ (ناک) پر (16)

[8] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ فَلَا تُطِعِ الۡمُكَذِّبِيۡنَ۠﴾ جنھوں نے آپ کو جھٹلایا اور حق کے ساتھ عناد رکھا یہ لوگ اس قابل نہیں ہیں کہ ان کی اطاعت کی جائے کیونکہ یہ صرف اسی بات کا حکم دیتے ہیں جو ان کی خواہشات نفس کے موافق ہوتی ہے اور یہ باطل کے سوا کچھ نہیں چاہتے، پس ان کی اطاعت کرنے والا اس چیز کی طرف بڑھتا ہے جو اس کے لیے نقصان دہ ہے۔ یہ آیت کریمہ ہر جھٹلانے والے اور ہر اس اطاعت کے لیے عام ہے جو تکذیب سے جنم لیتی ہے اگرچہ اس کا سیاق ایک خاص معاملے میں ہے، اور وہ یہ ہے کہ کفار نے آپ سے مطالبہ کیا تھا کہ آپ ان کے معبودوں اور ان کے دین کے بارے میں خاموش ہو جائیں، وہ بھی آپ کے بارے میں خاموش رہیں گے۔

[9] لہٰذا فرمایا: ﴿ وَدُّوۡا﴾ یعنی مشرکین چاہتے ہیں ﴿ لَوۡ تُدۡهِنُ﴾ کہ آپ ان کے موقف سے موافقت کریں قول کے ذریعے سے یا فعل کے ذریعے سے، یا جہاں کلام کرنا ضرور ٹھہرتا ہو وہاں خاموش رہیں ﴿ فَيُدۡهِنُوۡنَ﴾ ’’تو وہ بھی نرم ہوجائیں۔‘‘ مگر آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے حق کو کھلم کھلا بیان کیا اور دین اسلام کا اظہار کیا کیونکہ اس کا کامل اظہار، اس کی ضد کے نقض اور اس کے متناقض نظریات کے عیب کا اظہار ہے۔

[10]﴿ وَلَا تُطِعۡ كُلَّ حَلَّافٍ ﴾ ’’اور کسی ایسے شخص کی بات نہ ماننا جو بہت قسمیں کھانے والا ہو۔‘‘ کیونکہ اتنی زیادہ قسمیں کھانے والا جھوٹا ہی ہو سکتا ہے، اور آدمی جھوٹا نہیں ہو سکتا جب تک وہ ﴿ مَّهِيۡنٍ﴾ خسیس النفس اور دانائی سے تہی دست نہ ہو اور اسے بھلائی میں کوئی رغبت نہ ہو بلکہ اس کا ارادہ اس کے خسیس نفس کی شہوات پر مرتکز ہو۔

[11]﴿ هَمَّازٍ﴾ یعنی جو لوگوں کی بہت زیادہ عیب چینی کرتا ہے اور غیبت و استہزا کے ذریعے سے طعنہ زنی کرتا ہے ﴿ مَّشَّآءٍۭؔ بِنَمِيۡمٍ﴾ یعنی لوگوں کے درمیان چغل خوری کرتا پھرتا ہے۔چغل خوری یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان فساد ڈالنے اور عداوت اور بغض پیدا کرنے کی غرض سے ایک کی بات دوسرے تک پہنچائی جائے۔

[12]﴿ مَّنَّاعٍ لِّلۡخَيۡرِ﴾ بھلائی ، یعنی نفقات واجبہ، کفارہ، زکاۃ وغیرہ سے منع کرنے والا ہے۔ ﴿ مُعۡتَدٍ﴾ مخلوق پر زیادتی کرنے والا، لوگوں کی جان و مال اور ان کی ناموس میں ظلم کرنے والا ﴿ اَثِيۡمٍ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے حقوق سے متعلق بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا ہے۔

[13]﴿عُتُلٍّۭؔ بَعۡدَ ذٰلِكَ ﴾ یعنی درشت خو، بدخلق اور سخت طبیعت رکھنے والا جو حق کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتا ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ﴿زَنِيۡمٍ﴾ ’’بدذات ہے‘‘ یعنی مجہول النسب جس کی کوئی اصل ہونہ ایسا مادہ کہ جس سے کوئی بھلائی منتج ہوتی ہے بلکہ اس کے اخلاق بدترین اخلاق ہیں۔ اس سے فلاح کی امید نہیں اور اس میں شر کی علامت ہے جس سے وہ پہچانا جاتا ہے۔

[14] ان تمام آیات کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر اس شخص کی اطاعت سے روکا ہے جو نہایت کثرت سے قسمیں کھانے والا، سخت جھوٹا، خسیس النفس، نہایت بداخلاق، خاص طور پر وہ ایسے برے اخلاق کا مالک ہے جو خود پسند، مخلوق اور حق کے مقابلے میں تکبر و استکبار، غیبت چغلی اور طعنہ زنی کے ذریعے سے لوگوں سے حقارت کا رویہ رکھنے اور گناہوں کی کثرت کے متضمن ہیں۔

[15] یہ آیات کریمہ....بعض مشرکین کے بارے میں نازل ہوئیں، مثلاً: ولید بن مغیرہ وغیرہ کیونکہ اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ اَنۡ كَانَ ذَا مَالٍ وَّبَنِيۡنَؕ۰۰ اِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا قَالَ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ کیونکہ اپنے مال اور اولاد کی وجہ سے اس نے سرکشی اختیار کی، حق کے مقابلے میں تکبر و استکبار کا مظاہرہ کیا، جب حق اس کے پاس آیا تو اس کو ٹھکرا دیا اور اسے پہلوں کے قصے کہانیاں قرار دیاجن میں سچ اور جھوٹ دونوں ممکن ہیں ...لیکن یہ آیات کریمہ ہر اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو اس وصف سے متصف ہو کیونکہ قرآن کریم تمام مخلوق کی ہدایت کے لیے نازل ہوا اور اس میں امت کے اولین و آخرین سب داخل ہیں۔بسا اوقات بعض آیات کسی شخص کے سبب سے نازل ہوتی ہیں تاکہ ان سے عام قاعدہ واضح ہو جائے اور عام قضیوں میں داخل جزئیات کی مثالوں کی معرفت حاصل ہو جائے۔

[16] پھر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو وعید سنائی ہے جس سے یہ سب کچھ واقع ہوا جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ عذاب میں اس کی ناک پر داغ لگائے گا اور اسے ظاہری عذاب میں مبتلا کرے گا۔ اس کے چہرے پر داغ اور علامت لگی ہوگی جہاں داغ کا لگایا جانا سب سے زیادہ شاق گزرتا ہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 564

Al-MulkJuz 29 · Page 564

67:27

فَلَمَّا رَأَوۡهُ زُلۡفَةٗ سِيٓـَٔتۡ وُجُوهُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَقِيلَ هَٰذَا ٱلَّذِي كُنتُم بِهِۦ تَدَّعُونَ ٢٧

But when they see it1 approaching, the faces of those who disbelieve will be distressed, and it will be said, "This is that for which you used to call."2

2 translator’s notes
  1. The punishment of which they were warned.

    [1721] When they challenged their prophets, saying, "Bring on the punishment, if you are truthful."

    ↩
  2. ↩

67:28

قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِنۡ أَهۡلَكَنِيَ ٱللَّهُ وَمَن مَّعِيَ أَوۡ رَحِمَنَا فَمَن يُجِيرُ ٱلۡكَٰفِرِينَ مِنۡ عَذَابٍ أَلِيمٖ ٢٨

Say, [O Muḥammad], "Have you considered:1 whether Allāh should cause my death and those with me or have mercy upon us, who can protect the disbelievers from a painful punishment?"

1 translator’s note
  1. i.e., inform me. ↩

67:29

قُلۡ هُوَ ٱلرَّحۡمَٰنُ ءَامَنَّا بِهِۦ وَعَلَيۡهِ تَوَكَّلۡنَاۖ فَسَتَعۡلَمُونَ مَنۡ هُوَ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ ٢٩

Say, "He is the Most Merciful; we have believed in Him, and upon Him we have relied. And you will [come to] know who it is that is in clear error."

67:30

قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِنۡ أَصۡبَحَ مَآؤُكُمۡ غَوۡرٗا فَمَن يَأۡتِيكُم بِمَآءٖ مَّعِينِۭ ٣٠

Say, "Have you considered: if your water was to become sunken [into the earth], then who could bring you flowing water?"

سورة القلم

Al-Qalam

The Pen · Meccan · 52 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

68:1

نٓۚ وَٱلۡقَلَمِ وَمَا يَسۡطُرُونَ ١

Nūn.1 By the pen and what they inscribe,

1 translator’s note
  1. See footnote to 2:1. ↩

68:2

مَآ أَنتَ بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ بِمَجۡنُونٖ ٢

You are not, [O Muḥammad], by the favor of your Lord, a madman.

68:3

وَإِنَّ لَكَ لَأَجۡرًا غَيۡرَ مَمۡنُونٖ ٣

And indeed, for you is a reward uninterrupted.

68:4

وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٖ ٤

And indeed, you are of a great moral character.

68:5

فَسَتُبۡصِرُ وَيُبۡصِرُونَ ٥

So you will see and they will see

68:6

بِأَييِّكُمُ ٱلۡمَفۡتُونُ ٦

Which of you is the afflicted [by a devil].

68:7

إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُهۡتَدِينَ ٧

Indeed, your Lord is most knowing of who has gone astray from His way, and He is most knowing of the [rightly] guided.

68:8

فَلَا تُطِعِ ٱلۡمُكَذِّبِينَ ٨

Then do not obey the deniers.

68:9

وَدُّواْ لَوۡ تُدۡهِنُ فَيُدۡهِنُونَ ٩

They wish that you would soften [in your position], so they would soften [toward you].

68:10

وَلَا تُطِعۡ كُلَّ حَلَّافٖ مَّهِينٍ ١٠

And do not obey every worthless habitual swearer

68:11

هَمَّازٖ مَّشَّآءِۭ بِنَمِيمٖ ١١

[And] scorner, going about with malicious gossip -

68:12

مَّنَّاعٖ لِّلۡخَيۡرِ مُعۡتَدٍ أَثِيمٍ ١٢

A preventer of good, transgressing and sinful,

68:13

عُتُلِّۭ بَعۡدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ ١٣

Cruel, moreover, and an illegitimate pretender.1

1 translator’s note
  1. i.e., claiming a particular lineage falsely. The description given in these verses is of al-Waleed bin al-Mugheerah (see also 74:11-25) or possibly, as asserted by Ibn Katheer, al-Akhnas bin Shurayq. ↩

68:14

أَن كَانَ ذَا مَالٖ وَبَنِينَ ١٤

Because he is a possessor of wealth and children,

68:15

إِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِ ءَايَٰتُنَا قَالَ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ ١٥

When Our verses are recited to him, he says, "Legends of the former peoples."

As-Sa'diTafsir · 68:9

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском