Al-Haqqah 69:11
The Reality · Juz 29 · Page 567
إِنَّا لَمَّا طَغَا ٱلۡمَآءُ حَمَلۡنَٰكُمۡ فِي ٱلۡجَارِيَةِ ١١
Indeed, when the water overflowed, We carried you [i.e., your ancestors] in the sailing ship1
1 translator’s note
- Which was constructed by Noah. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 69:9–12
اور ارتکاب کیا تھا فرعون نے اور جو اس سے پہلے تھے اور الٹ جانے والی(بستیوں والوں)نے گناہوں کا(9) پس انھوں نے نافرمانی کی اپنے رب کے رسول کی تو اس (رب) نے پکڑا ان کو پکڑنا نہایت سخت (10) بلاشبہ، جب طغیانی کی پانی نے تو سوار کیا ہم نے تمھیں کشتی میں (11) تاکہ کریں ہم اس (فعل) کو تمھارے لیے نصیحت اور (تاکہ) یاد رکھیں اسے کان یاد رکھنے والے (12)
[10,9] اسی طرح ان دو سرکش قوموں، عاد و ثمود کے علاوہ بھی سرکش اور نافرمان لوگ آئے، جیسے فرعون مصر جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ بن عمرانu کو مبعوث کیا اور انھیں واضح نشانیاں دکھائیں جن کی بنا پر انھیں حق کا یقین آ گیا مگر انھوں نے ظلم اور تکبر سے ان کار کر دیا اور کفر کا رویہ اختیار کیا، اور اس سے پہلے بھی جھٹلانے والے آئے۔ ﴿ وَالۡمُؤۡتَفِكٰتُ﴾ ’’اور الٹی ہوئی بستیوں والے۔‘‘ یعنی حضرت لوط u کی قوم کی بستیاں، سب گناہ کا کام کرتے تھے ﴿ بِالۡخَاطِئَةِ﴾ یعنی سرکشی کے افعال کرتے تھے، اس سے مراد کفر، تکذیب، ظلم اور عناد ہے، نیز فسق و معاصی کی دیگر اقسام بھی اس میں شامل ہے۔ ﴿ فَعَصَوۡا رَسُوۡلَ رَبِّهِمۡ﴾ یہ اسم جنس ہے ، یعنی ان تمام قوموں نے اپنے رسول کو جھٹلایا جو ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ﴾ پس اللہ تعالیٰ نے ان سب کو پکڑ لیا ﴿ اَخۡذَةً رَّابِيَةً﴾ یعنی حد اور مقدار سے بڑھ کر ان کی گرفت کی جس سے وہ تباہ و برباد ہو گئے۔
[12,11] منجملہ ان قوموں کے، نوحuکی قوم بھی تھی جن کو اللہ تعالیٰ نے سمندر (کے سیلاب) میں غرق کر ڈالا جب پانی سرکشی کر کے زمین پر پھیل گیا اور بلند مقامات سے بھی بلند ہو گیا۔ حضرت نوحu کی سرکش قوم کے غرق ہونے کے بعد جو مخلوق موجود تھی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا کہ ان کو سوار کیا﴿ فِي الۡجَارِيَةِ﴾’’کشتی میں ‘‘جبکہ یہ اپنے آباء اور ماؤ ں کی صلب میں تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے طوفان سے نجات دی تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو، اس کا شکرکرو جس نے تمھیں اس وقت نجات دی جب اس نے سرکش لوگوں کو ہلاک کر ڈالا ۔۔ اور اس کی آیات سے عبرت حاصل کرو جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں۔﴿ لِنَجۡعَلَهَا﴾ ’’تاکہ ہم اس کو بنادیں۔‘‘ یعنی کشتی کواور اس سے مراد اسم جنس ہے، تمھارے لیے ﴿ تَذۡكِرَةً﴾ ’’یادگار‘‘ جو تمھیں اولین کشتی کی صنعت اور اس کے قصے کی یاد دلاتی ہے کہ کیسے اللہ تعالیٰ نے اس کشتی پر سوار ان لوگوں کو نجات دی جو ایمان لائے اور اپنے رسول کی اتباع کی اور روئے زمین کے دیگر تمام لوگوں کو ہلاک کر ڈالا، کیونکہ اشیاء کی جنس اپنی اصل کی یاد دلاتی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَّتَعِيَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِيَةٌ﴾ ’’اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں۔‘‘ یعنی خرد مند لوگ ہی اس کو یاد رکھتے ہیں اور اس سے مقصود کی معرفت اور اس کے ذریعے سے نشانی و معجزے کی وجہ معلوم کرتے ہیں۔ اور اہل غفلت، کند ذہن اور ذہانت سے محروم لوگوں کا معاملہ اس کے برعکس ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبرتوں کو یاد نہ رکھنے اور اس کی آیات میں غور و فکر نہ کرنے کے سبب سے آیات الٰہی سے فائدہ اٹھانے سے محروم ہیں۔
Page 567
69:9
وَجَآءَ فِرۡعَوۡنُ وَمَن قَبۡلَهُۥ وَٱلۡمُؤۡتَفِكَٰتُ بِٱلۡخَاطِئَةِ ٩
And there came Pharaoh and those before him and the overturned cities1 with sin.
1 translator’s note
- Those to which Lot was sent (see 11:82-83) or generally, all cities which were destroyed due to their denial of a messenger from Allāh. ↩
69:10
فَعَصَوۡاْ رَسُولَ رَبِّهِمۡ فَأَخَذَهُمۡ أَخۡذَةٗ رَّابِيَةً ١٠
And they disobeyed the messenger of their Lord, so He seized them with a seizure exceeding [in severity].
69:11
إِنَّا لَمَّا طَغَا ٱلۡمَآءُ حَمَلۡنَٰكُمۡ فِي ٱلۡجَارِيَةِ ١١
Indeed, when the water overflowed, We carried you [i.e., your ancestors] in the sailing ship1
1 translator’s note
- Which was constructed by Noah. ↩
69:12
لِنَجۡعَلَهَا لَكُمۡ تَذۡكِرَةٗ وَتَعِيَهَآ أُذُنٞ وَٰعِيَةٞ ١٢
That We might make it for you a reminder and [that] a conscious ear would be conscious of it.
69:13
فَإِذَا نُفِخَ فِي ٱلصُّورِ نَفۡخَةٞ وَٰحِدَةٞ ١٣
Then when the Horn is blown with one blast
69:14
وَحُمِلَتِ ٱلۡأَرۡضُ وَٱلۡجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةٗ وَٰحِدَةٗ ١٤
And the earth and the mountains are lifted and leveled with one blow [i.e., stroke] -
69:15
فَيَوۡمَئِذٖ وَقَعَتِ ٱلۡوَاقِعَةُ ١٥
Then on that Day, the Occurrence [i.e., Resurrection] will occur,
69:16
وَٱنشَقَّتِ ٱلسَّمَآءُ فَهِيَ يَوۡمَئِذٖ وَاهِيَةٞ ١٦
And the heaven will split [open], for that Day it is infirm.1
1 translator’s note
- i.e., weak, enfeebled and unstable. ↩
69:17
وَٱلۡمَلَكُ عَلَىٰٓ أَرۡجَآئِهَاۚ وَيَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّكَ فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَئِذٖ ثَمَٰنِيَةٞ ١٧
And the angels are at its edges. And there will bear the Throne of your Lord above them, that Day, eight [of them].
69:18
يَوۡمَئِذٖ تُعۡرَضُونَ لَا تَخۡفَىٰ مِنكُمۡ خَافِيَةٞ ١٨
That Day, you will be exhibited [for judgement]; not hidden among you is anything concealed.1
1 translator’s note
- i.e., any person or any secret you might attempt to conceal. ↩
69:19
فَأَمَّا مَنۡ أُوتِيَ كِتَٰبَهُۥ بِيَمِينِهِۦ فَيَقُولُ هَآؤُمُ ٱقۡرَءُواْ كِتَٰبِيَهۡ ١٩
So as for he who is given his record in his right hand, he will say, "Here, read my record!
69:20
إِنِّي ظَنَنتُ أَنِّي مُلَٰقٍ حِسَابِيَهۡ ٢٠
Indeed, I was certain that I would be meeting my account."
69:21
فَهُوَ فِي عِيشَةٖ رَّاضِيَةٖ ٢١
So he will be in a pleasant life -
69:22
فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٖ ٢٢
In an elevated garden,
69:23
قُطُوفُهَا دَانِيَةٞ ٢٣
Its [fruit] to be picked hanging near.
69:24
كُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ هَنِيٓـَٔۢا بِمَآ أَسۡلَفۡتُمۡ فِي ٱلۡأَيَّامِ ٱلۡخَالِيَةِ ٢٤
[They will be told], "Eat and drink in satisfaction for what you put forth1 in the days past."
1 translator’s note
- Literally, "advanced" in anticipation of reward in the Hereafter. ↩
69:25
وَأَمَّا مَنۡ أُوتِيَ كِتَٰبَهُۥ بِشِمَالِهِۦ فَيَقُولُ يَٰلَيۡتَنِي لَمۡ أُوتَ كِتَٰبِيَهۡ ٢٥
But as for he who is given his record in his left hand, he will say, "Oh, I wish I had not been given my record
69:26
وَلَمۡ أَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ ٢٦
And had not known what is my account.
69:27
يَٰلَيۡتَهَا كَانَتِ ٱلۡقَاضِيَةَ ٢٧
I wish it [i.e., my death] had been the decisive one.1
1 translator’s note
- i.e., ending life rather than being the gateway to eternal life. ↩
69:28
مَآ أَغۡنَىٰ عَنِّي مَالِيَهۡۜ ٢٨
My wealth has not availed me.
69:29
هَلَكَ عَنِّي سُلۡطَٰنِيَهۡ ٢٩
Gone from me is my authority."1
1 translator’s note
- i.e., I have no valid excuse to stand on. ↩
69:30
خُذُوهُ فَغُلُّوهُ ٣٠
[Allāh will say], "Seize him and shackle him.
69:31
ثُمَّ ٱلۡجَحِيمَ صَلُّوهُ ٣١
Then into Hellfire drive him.
69:32
ثُمَّ فِي سِلۡسِلَةٖ ذَرۡعُهَا سَبۡعُونَ ذِرَاعٗا فَٱسۡلُكُوهُ ٣٢
Then into a chain whose length is seventy cubits insert him."
69:33
إِنَّهُۥ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ ٱلۡعَظِيمِ ٣٣
Indeed, he did not used to believe in Allāh, the Most Great,
69:34
وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلۡمِسۡكِينِ ٣٤
Nor did he encourage the feeding of the poor.