Al-A'raf 7:130
The Heights · Juz 9 · Page 165
وَلَقَدۡ أَخَذۡنَآ ءَالَ فِرۡعَوۡنَ بِٱلسِّنِينَ وَنَقۡصٖ مِّنَ ٱلثَّمَرَٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّرُونَ ١٣٠
And We certainly seized1 the people of Pharaoh with years of famine and a deficiency in fruits that perhaps they would be reminded.
1 translator’s note
- Imposed on them by way of trial and warning. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 7:103–171
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
Page 165
7:121
قَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ١٢١
They said, "We have believed in the Lord of the worlds,
7:122
رَبِّ مُوسَىٰ وَهَٰرُونَ ١٢٢
The Lord of Moses and Aaron."
7:123
قَالَ فِرۡعَوۡنُ ءَامَنتُم بِهِۦ قَبۡلَ أَنۡ ءَاذَنَ لَكُمۡۖ إِنَّ هَٰذَا لَمَكۡرٞ مَّكَرۡتُمُوهُ فِي ٱلۡمَدِينَةِ لِتُخۡرِجُواْ مِنۡهَآ أَهۡلَهَاۖ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُونَ ١٢٣
Said Pharaoh, "You believed in him1 before I gave you permission. Indeed, this is a conspiracy which you conspired in the city to expel therefrom its people. But you are going to know.
1 translator’s note
- i.e., in Moses, avoiding the mention of Allāh (subḥānahu wa taʿālā). ↩
7:124
لَأُقَطِّعَنَّ أَيۡدِيَكُمۡ وَأَرۡجُلَكُم مِّنۡ خِلَٰفٖ ثُمَّ لَأُصَلِّبَنَّكُمۡ أَجۡمَعِينَ ١٢٤
I will surely cut off your hands and your feet on opposite sides; then I will surely crucify you all."
7:125
قَالُوٓاْ إِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ ١٢٥
They said, "Indeed, to our Lord we will return.
7:126
وَمَا تَنقِمُ مِنَّآ إِلَّآ أَنۡ ءَامَنَّا بِـَٔايَٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَاۚ رَبَّنَآ أَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرٗا وَتَوَفَّنَا مُسۡلِمِينَ ١٢٦
And you do not resent us except because we believed in the signs of our Lord when they came to us. Our Lord, pour upon us patience1 and let us die as Muslims [in submission to You]."
1 translator’s note
- To endure the torture to which we will be subjected. ↩
7:127
وَقَالَ ٱلۡمَلَأُ مِن قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ أَتَذَرُ مُوسَىٰ وَقَوۡمَهُۥ لِيُفۡسِدُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَيَذَرَكَ وَءَالِهَتَكَۚ قَالَ سَنُقَتِّلُ أَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيِۦ نِسَآءَهُمۡ وَإِنَّا فَوۡقَهُمۡ قَٰهِرُونَ ١٢٧
And the eminent among the people of Pharaoh said, "Will you leave Moses and his people to cause corruption in the land and abandon you and your gods?" [Pharaoh] said, "We will kill their sons and keep their women alive; and indeed, we are subjugators over them."
7:128
قَالَ مُوسَىٰ لِقَوۡمِهِ ٱسۡتَعِينُواْ بِٱللَّهِ وَٱصۡبِرُوٓاْۖ إِنَّ ٱلۡأَرۡضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦۖ وَٱلۡعَٰقِبَةُ لِلۡمُتَّقِينَ ١٢٨
Said Moses to his people, "Seek help through Allāh and be patient. Indeed, the earth belongs to Allāh. He causes to inherit it whom He wills of His servants. And the [best] outcome is for the righteous."
7:129
قَالُوٓاْ أُوذِينَا مِن قَبۡلِ أَن تَأۡتِيَنَا وَمِنۢ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَاۚ قَالَ عَسَىٰ رَبُّكُمۡ أَن يُهۡلِكَ عَدُوَّكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَيَنظُرَ كَيۡفَ تَعۡمَلُونَ ١٢٩
They said, "We have been harmed before you came to us and after you have come to us." He said, "Perhaps your Lord will destroy your enemy and grant you succession in the land and see how you will do."
7:130
وَلَقَدۡ أَخَذۡنَآ ءَالَ فِرۡعَوۡنَ بِٱلسِّنِينَ وَنَقۡصٖ مِّنَ ٱلثَّمَرَٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّرُونَ ١٣٠
And We certainly seized1 the people of Pharaoh with years of famine and a deficiency in fruits that perhaps they would be reminded.
1 translator’s note
- Imposed on them by way of trial and warning. ↩