Al-A'raf 7:178
The Heights · Juz 9 · Page 173
مَن يَهۡدِ ٱللَّهُ فَهُوَ ٱلۡمُهۡتَدِيۖ وَمَن يُضۡلِلۡ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ ١٧٨
Whoever Allāh guides - he is the [rightly] guided; and whoever He sends astray1 - it is those who are the losers.
1 translator’s note
- As a result of persistence in evil and rejection of truth. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 7:175–178
اور پڑھیے ان پر خبر اس شخص کی کہ دی تھیں ہم نے اسے اپنی آیتیں، پس نکل گیا وہ ان سے تو پیچھے لگا لیا اس کو شیطان نے پس ہوگیا وہ گمراہوں میں سے(175) اوراگر چاہتے ہم تو البتہ بلند کرتے اس کو بسبب ان (آیات) کے لیکن وہ جھک پڑا طرف زمین کی اور پیچھے لگ گیا وہ اپنی خواہش کے، پس مثال اس کی مانند مثال کتے کی ہے کہ اگر بوجھ لا دے تو اس پر تو بھی وہ ہانپتا ہے یا چھوڑ دے تو اس کو تو بھی ہانپتا ہے، یہی مثال ہے ان لوگوں کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو، پس بیان کریں آپ یہی واقعات تاکہ وہ غور و فکر کریں(176) بری ہے مثال ان لوگوں کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو اوراپنی جانوں پر تھے وہ ظلم کرتے(177) جسے ہدایت دے اللہ پس وہی ہے ہدایت یافتہ اور جسے گمراہ کردے (اللہ) تو وہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے(178)
[175]﴿ وَاتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَاَ الَّذِيۡۤ اٰتَيۡنٰهُ اٰيٰتِنَا ﴾’’اور سنا دو ان کو حال اس شخص کا جس کو ہم نے اپنی آیتیں دیں ‘‘ یعنی ہم نے اسے کتاب اللہ کی تعلیم دی اور وہ ایک علامہ اور ماہر عالم بن گیا ﴿ فَانۡسَلَخَ مِنۡهَا فَاَتۡبَعَهُ الشَّيۡطٰنُ ﴾ ’’پھر وہ ان کو چھوڑ نکلا اور شیطان اس کے پیچھے گیا‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کے علم سے حقیقی طور پر متصف نہ ہوا کیونکہ آیات الٰہی کا علم، صاحب علم کو مکارم اخلاق اور محاسن اخلاق سے متصف کر دیتا ہے اور اسے اعلیٰ ترین درجات اور بلند ترین مقامات پر فائز کر دیتا ہے۔ پس اس نے کتاب کو چھوڑ دیا اور ان اخلاق کو دور پھینک دیا جن کا حکم کتاب اللہ دیتی تھی اور ان اخلاق کو اس طرح (اپنی ذات سے) اتار دیا جس طرح لباس اتارا جاتا ہے۔ جب وہ آیات الٰہی سے نکل گیا تو شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور جب وہ مضبوط پناہ گاہ سے نکل بھاگا تو شیطان اس پر مسلط ہوگیا اور یوں وہ ادنیٰ ترین لوگوں میں شامل ہوگیا شیطان نے اسے گناہوں پر آمادہ کیا (اور وہ گناہوں میں گھر گیا)﴿ فَكَانَ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔‘‘ جبکہ وہ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے تھا۔
[176] کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حال پر چھوڑ کر اس کے نفس کے حوالے کر دیا تھا۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَوۡ شِئۡنَا لَرَفَعۡنٰهُ بِهَا ﴾ ’’اور اگر ہم چاہتے تو اس کا رتبہ ان آیتوں کی بدولت بلند کر دیتے‘‘ یعنی ہم اسے آیات الٰہی پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرتے اور یوں وہ دنیا و آخرت میں بلند درجات پاتا اور اپنے دشمنوں سے محفوظ ہو جاتا ﴿ وَلٰكِنَّهٗۤ ﴾ مگر اس نے ایسے افعال سرانجام دیے جو اس بات کا تقاضا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی توفیق سے محروم کر دے۔ ﴿ اَخۡلَدَ اِلَى الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ ہو رہا زمین کا‘‘ یعنی وہ سفلی جذبات و خواہشات اور دنیاوی مقاصد کی طرف مائل ہوگیا ﴿ وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ﴾ اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گیا اور اپنے آقا و مولیٰ کی اطاعت چھوڑ دی۔ ﴿ فَمَثَلُهٗ ﴾ ’’تو اس کی مثال۔‘‘ پس دنیا کی حرص کی شدت اور اس کی طرف میلان میں اس کی حالت یہ ہوگئی ﴿ كَمَثَلِ الۡكَلۡبِ١ۚ اِنۡ تَحۡمِلۡ عَلَيۡهِ يَلۡهَثۡ اَوۡ تَتۡرُؔكۡهُ يَلۡهَثۡ﴾ ’’جیسے کتا ہوتا ہے، اس پر تو بوجھ لادے تو ہانپے اور چھوڑ دے تو ہانپے‘‘ یعنی وہ ہر حال میں (حرص کی وجہ سے) زبان باہر نکالے رکھتا ہے، سخت لالچی بنا رہتا ہے، اس میں ایسی حرص ہے جس نے اس کے دل کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا ہے دنیا کی کوئی چیز اس کی محتاجی کو دور نہیں کر سکتی۔ ﴿ ذٰلِكَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’یہ مثال ہے ان لوگوں کی جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنی آیات بھیجیں مگر انھوں نے ان کی اطاعت نہ کی بلکہ انھوں نے خواہشات نفس کی پیروی میں ان آیات کو جھٹلا کر ٹھکرا دیا۔ ﴿ فَاقۡصُصِ الۡقَصَصَ لَعَلَّهُمۡ يَتَفَؔكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’پس بیان کرو یہ احوال تاکہ وہ غوروفکر کریں ‘‘ یعنی شاید وہ ان ضرب الامثال، آیات الٰہی اور عبرتوں میں غور و فکر کریں ۔ کیونکہ جب وہ غور و فکر کریں گے تو انھیں علم حاصل ہوگا، جب علم حاصل ہوگا تو اس پر عمل بھی کریں گے۔
[177]﴿ سَآءَؔ مَثَلَا ِ۟ الۡقَوۡمُ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَاَنۡفُسَهُمۡ كَانُوۡا يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ان کی مثال بری ہے اور انھوں نے اپنا ہی نقصان کیا۔‘‘ یعنی اس شخص کی بہت بری مثال ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی اور مختلف قسم کے گناہ اور معاصی کے ذریعے سے اپنے نفس پر ظلم کیا۔ پس ان کی مثال بدترین مثال ہے۔ یہ شخص، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کا علم عطا کیا تھا، احتمال ہے کہ اس سے کوئی معین شخص مراد ہو جس سے یہ سب کچھ واقع ہوا جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے اور بندوں کو تنبیہ کے لیے یہ قصہ بیان کیا اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد اسم جنس ہو اور اس کے عموم میں ہر وہ شخص شامل ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کا علم عطا کیا ہو اور وہ ان سے نکل بھاگا ہو۔ان آیات کریمہ میں علم پر عمل کرنے کی ترغیب ہے۔ نیز یہ کہ علم پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ صاحب علم کو رفعت عطا کرتا اور شیطان سے بچاتا ہے۔ نیز ان آیات کریمہ میں علم پر عدم عمل سے ڈرایا گیا ہے اس لیے کہ اگر علم پر عمل نہ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ عمل نہ کرنے والے کو اسفل سافلین کے درجے پر اتار دیتا ہے اور اس پر شیطان کو مسلط کر دیتا ہے۔ ان آیات کریمہ میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ جو کوئی خواہشات نفس کی پیروی کرتا ہے اور شہوات میں دھنس جاتا ہے تو یہ چیز اس بات کا سبب بنتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دے۔
[178] پھر اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ راہ راست دکھانا اور گمراہ کرنا صرف اسی اکیلے کے قبضۂ قدرت میں ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ مَنۡ يَّهۡدِ اللّٰهُ ﴾ ’’جس کو اللہ ہدایت دے۔‘‘ یعنی نیکیوں کی توفیق عطا کر کے اللہ تعالیٰ جسے راہ راست دکھا دے اور ناپسندیدہ امور سے بچا لے اور ان چیزوں کے علم سے نواز دے جنھیں وہ نہیں جانتا تھا ﴿فَهُوَ الۡمُهۡتَدِيۡ﴾ ’’تو وہی حقیقی ہدایت یافتہ ہے‘‘ کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو ترجیح دی۔ ﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلۡ ﴾ ’’اور جس کو گمراہ کردے۔‘‘ یعنی جسے اس کے حال پر چھوڑ کر اور بھلائی کی توفیق سے محروم کر کے وہ گمراہ کر دے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ ﴾ ’’تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ قیامت کے روز اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالنے والے ہیں ۔ خبردار! یہی کھلا خسارہ ہے۔
Page 173
7:171
۞ وَإِذۡ نَتَقۡنَا ٱلۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ كَأَنَّهُۥ ظُلَّةٞ وَظَنُّوٓاْ أَنَّهُۥ وَاقِعُۢ بِهِمۡ خُذُواْ مَآ ءَاتَيۡنَٰكُم بِقُوَّةٖ وَٱذۡكُرُواْ مَا فِيهِ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ ١٧١
And [mention] when We raised the mountain above them as if it was a dark cloud and they were certain that it would fall upon them,1 [and Allāh said], "Take what We have given you with determination and remember what is in it that you might fear Allāh."
1 translator’s note
- For their rebellion and disobedience. ↩
7:172
وَإِذۡ أَخَذَ رَبُّكَ مِنۢ بَنِيٓ ءَادَمَ مِن ظُهُورِهِمۡ ذُرِّيَّتَهُمۡ وَأَشۡهَدَهُمۡ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ أَلَسۡتُ بِرَبِّكُمۡۖ قَالُواْ بَلَىٰ شَهِدۡنَآۚ أَن تَقُولُواْ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ إِنَّا كُنَّا عَنۡ هَٰذَا غَٰفِلِينَ ١٧٢
And [mention] when your Lord took from the children of Adam - from their loins - their descendants and made them testify of themselves, [saying to them], "Am I not your Lord?" They said, "Yes, we have testified." [This] - lest you should say on the Day of Resurrection, "Indeed, we were of this unaware."
7:173
أَوۡ تَقُولُوٓاْ إِنَّمَآ أَشۡرَكَ ءَابَآؤُنَا مِن قَبۡلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةٗ مِّنۢ بَعۡدِهِمۡۖ أَفَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ ٱلۡمُبۡطِلُونَ ١٧٣
Or [lest] you say, "It was only that our fathers associated [others in worship] with Allāh before, and we were but descendants after them. Then would You destroy us for what the falsifiers have done?"
7:174
وَكَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ وَلَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ ١٧٤
And thus do We [explain in] detail the verses, and perhaps they will return.1
1 translator’s note
- To the way of Allāh (subḥānahu wa taʿālā), from their diversions and deviations. ↩
7:175
وَٱتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَأَ ٱلَّذِيٓ ءَاتَيۡنَٰهُ ءَايَٰتِنَا فَٱنسَلَخَ مِنۡهَا فَأَتۡبَعَهُ ٱلشَّيۡطَٰنُ فَكَانَ مِنَ ٱلۡغَاوِينَ ١٧٥
And recite to them, [O Muḥammad], the news of him1 to whom We gave [knowledge of] Our signs, but he detached himself from them; so Satan pursued him, and he became of the deviators.2
7:176
وَلَوۡ شِئۡنَا لَرَفَعۡنَٰهُ بِهَا وَلَٰكِنَّهُۥٓ أَخۡلَدَ إِلَى ٱلۡأَرۡضِ وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُۚ فَمَثَلُهُۥ كَمَثَلِ ٱلۡكَلۡبِ إِن تَحۡمِلۡ عَلَيۡهِ يَلۡهَثۡ أَوۡ تَتۡرُكۡهُ يَلۡهَثۚ ذَّٰلِكَ مَثَلُ ٱلۡقَوۡمِ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَاۚ فَٱقۡصُصِ ٱلۡقَصَصَ لَعَلَّهُمۡ يَتَفَكَّرُونَ ١٧٦
And if We had willed, We could have elevated him thereby,1 but he adhered [instead] to the earth2 and followed his own desire. So his example is like that of the dog: if you chase him, he pants, or if you leave him, he [still] pants. That is the example of the people who denied Our signs.3 So relate the stories that perhaps they will give thought.
7:177
سَآءَ مَثَلًا ٱلۡقَوۡمُ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا وَأَنفُسَهُمۡ كَانُواْ يَظۡلِمُونَ ١٧٧
How evil an example [is that of] the people who denied Our signs and used to wrong themselves.
7:178
مَن يَهۡدِ ٱللَّهُ فَهُوَ ٱلۡمُهۡتَدِيۖ وَمَن يُضۡلِلۡ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ ١٧٨
Whoever Allāh guides - he is the [rightly] guided; and whoever He sends astray1 - it is those who are the losers.
1 translator’s note
- As a result of persistence in evil and rejection of truth. ↩