Al-A'rafJuz 9 · Page 175

Al-A'raf 7:188

The Heights · Juz 9 · Page 175

قُل لَّآ أَمۡلِكُ لِنَفۡسِي نَفۡعٗا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُۚ وَلَوۡ كُنتُ أَعۡلَمُ ٱلۡغَيۡبَ لَٱسۡتَكۡثَرۡتُ مِنَ ٱلۡخَيۡرِ وَمَا مَسَّنِيَ ٱلسُّوٓءُۚ إِنۡ أَنَا۠ إِلَّا نَذِيرٞ وَبَشِيرٞ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ ١٨٨

Say, "I hold not for myself [the power of] benefit or harm, except what Allāh has willed. And if I knew the unseen, I could have acquired much wealth, and no harm would have touched me. I am not except a warner and a bringer of good tidings to a people who believe."

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 7:187–188

سوال کرتے ہیں آپ سے قیامت کے بارے میں کہ کب ہے واقع ہونا اس کا؟ کہہ دیجیے! یقینا اس کا علم نزدیک میرے رب ہی کے ہے، نہیں ظاہر کرے گا اس کو اس کے وقت پر مگر وہی، بھاری (حادثہ) ہے وہ (قیامت) آسمانوں اورزمین میں، نہیں آئے گی وہ تمھارے پاس مگر اچانک ہی، وہ (لوگ) سوال کرتے ہیں آپ سے گویا کہ آپ پوری تحقیق کرچکے ہیں اس کی بابت، فرما دیجیے! اس کا علم تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(187) کہہ دیجیے! نہیں اختیار رکھتا میں اپنی جان کے لیے نفع کا اور نہ نقصان کا مگر جو چاہے اللہ اوراگر ہوتا میں جانتا غیب تو البتہ بہت حاصل کرلیتا میں بھلائیاں اور نہ پہنچتی مجھے تکلیف ، نہیں ہوں میں (کچھ بھی) مگر ڈرانے والا (کافروں کو) اور خوشخبری دینے والا ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں(188)

[187] اللہ تبارک و تعالیٰ جناب محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے ﴿ يَسۡـَٔلُوۡنَكَ ﴾ ’’آپ سے پوچھتے ہیں ۔‘‘ یعنی یہ جھٹلانے والے اور تلبیس کی غرض سے سوال کرنے والے آپﷺ سے پوچھتے ہیں ۔ ﴿ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرۡسٰؔىهَا ﴾ ’’قیامت کے بارے میں ، کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے۔‘‘ یعنی وہ وقت کب ہوگا جب قیامت کی گھڑی آئے گی اور مخلوق میں قیامت قائم ہوگی۔ ﴿ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ رَبِّيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اس کا علم صرف میرے رب کے پاس ہے‘‘ یعنی قیامت کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ خاص ہے۔ ﴿ لَا يُجَلِّيۡهَا لِوَقۡتِهَاۤ اِلَّا هُوَ﴾ ’’وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کرے گا۔‘‘ یعنی وہ وقت جو اس کے قائم ہونے کے لیے مقرر کیا ہوا ہے، صرف اللہ تعالیٰ ہی ظاہر کرے گا ﴿ ثَقُلَتۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’وہ بھاری بات ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ یعنی زمین و آسمان کے رہنے والوں پر قیامت کی گھڑی مخفی ہے، اس گھڑی کا معاملہ ان کے لیے نہایت شدید اور وہ اس گھڑی سے بہت خوف زدہ ہیں ۔ ﴿ لَا تَاۡتِيۡكُمۡ اِلَّا بَغۡتَةً﴾ ’’اور وہ ناگہاں تم پر آجائے گی۔‘‘ یہ گھڑی اچانک انھیں اس طرح آئے گی کہ وہ ان کے خواب و خیال میں بھی نہ ہوگی اور اس کے لیے وہ تیار بھی نہ ہوں گے۔ ﴿يَسۡـَٔلُوۡنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنۡهَا ﴾’’یہ آپ سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا آپ اس سے بخوبی واقف ہیں ۔‘‘ وہ اس گھڑی کے بارے میں آپ سے سوال کرنے کے بہت خواہش مند ہیں گویا کہ آپ اس سوال کے متعلق پورا علم رکھتے ہیں اور انھوں نے اس بات کو نہیں جانا کہ باوجود اس بات کے کہ آپ کو اپنے رب کی بابت کمال علم حاصل ہے اور یہ کہ رب سے کون سی بات پوچھنی فائدہ مند ہے، آپ ایسے سوال کی پروا نہیں کرتے تھے جو مصلحت سے خالی ہوتا اور جس کا جاننا ناممکن ہوتا، قیامت کی گھڑی کو کوئی رسول جانتا ہے نہ کوئی مقرب فرشتہ۔ اور اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل حکمت اور وسیع علم کی بنا پر مخلوق سے مخفی رکھا ہے۔﴿ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اس قیامت کا علم اللہ کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ اسی لیے وہ اس چیز کے خواہش مند ہوتے ہیں جس کی خواہش کرنا ان کے لیے مناسب نہیں ۔ خاص طور پر وہ لوگ جو ان اہم امور کے بارے میں تو سوال نہیں کرتے، جن کے بارے میں علم حاصل کرنا ان پر فرض ہے اور ان امور کے بارے میں سوال کرتے ہیں جن کے بارے میں حصول علم کی کوئی سبیل نہیں ہوتی، نہ ان سے یہ مطالبہ ہی کیا جائے گا کہ انھوں نے اس کا علم حاصل کیوں نہیں کیا۔

[188]﴿قُلۡ لَّاۤ اَمۡلِكُ لِنَفۡسِيۡ نَفۡعًا وَّلَا ضَرًّا ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں تو اپنے نفس کے لیے بھی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتا‘‘ اس لیے کہ میں تو محتاج بندہ ہوں اور کسی دوسری ہستی کے دست تدبیر کے تحت ہوں ۔ مجھے اگر کوئی بھلائی عطا ہوتی ہے تو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور مجھ سے شر بھی کوئی دور کرتا ہے تو صرف وہی اور میرے پاس کوئی علم بھی نہیں ، سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے ﴿وَلَوۡ كُنۡتُ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ لَا سۡتَكۡثَرۡتُ مِنَ الۡخَيۡرِ١ۛۖۚ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوۡٓءُ﴾ ’’اگر میں غیب جان لیا کرتا تو بہت بھلائیاں حاصل کر لیتا اور مجھے برائی کبھی نہ پہنچتی‘‘ یعنی میں وہ اسباب مہیا کر لیتا جن کے بارے میں مجھے علم ہوتا کہ وہ مصالح اور منافع پر منتج ہوں گے اور میں ہر تکلیف دہ اور ناپسندیدہ چیز سے بچ جاتا کیونکہ مجھے ان کے وقوع کا بھی پہلے ہی سے علم ہوتا اور مجھے یہ بھی معلوم ہوتا کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ مگر مجھے غیب کا علم نہ ہونے کی وجہ سے کبھی کبھی تکلیف بھی پہنچتی ہے اور اسی وجہ سے کبھی کبھی مجھ سے دنیاوی فوائد اور مصالح بھی فوت ہو جاتے ہیں ۔ اور یہ اس بات کی اولین دلیل ہے کہ میں غیب کا علم نہیں جانتا۔ ﴿ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ ﴾ ’’میں تو صرف ڈر سنانے والا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تو صرف دنیاوی، دینی اور اخروی سزاؤں سے ڈراتا ہوں اور ان اعمال سے آگاہ کرتا ہوں جو ان سزاؤں کا باعث بنتے ہیں اور سزاؤں سے بچنے کی تلقین کرتا ہوں۔ ﴿وَّبَشِيۡرٌ ﴾ ’’اور خوشخبری سنانے والا ہوں ۔‘‘ اور ثواب عاجل و آجل کی منزل تک پہنچانے والے اعمال کو واضح کر کے اور ان کی ترغیب دے کر اس ثواب کی خوشخبری سناتا ہوں ۔ مگر ہر شخص اس تبشیر و انذار کو قبول نہیں کرتا بلکہ صرف اہل ایمان ہی اس بشارت و انذار کو قبول کر کے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔یہ آیات کریمہ اس شخص کی جہالت کو بیان کرتی ہیں جو نبئ اکرمﷺ کی ذات کو مقصود بناتا ہے اور حصول منفعت اور دفع مضرت کے لیے حضورﷺ کو پکارتا ہے.... کیونکہ رسول اللہﷺ کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ، جسے اللہ تعالیٰ نفع پہنچانا نہ چاہے آپ اسے کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے اور اللہ تعالیٰ جس سے ضرر دور نہ کرے آپ اس سے ضرر کو دور نہیں کر سکتے۔ اسی طرح آپ کے پاس علم بھی صرف وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے۔صرف تبشیر و انذار اور ان پر عمل ہی فائدہ دیتا ہے جن کے ساتھ آپﷺ کو مبعوث کیا گیا۔ یہ تبشیر اور انذار ہی آپﷺ کی طرف سے فائدہ ہے جو ماں باپ، دوست احباب اور بھائیوں کی طرف سے فائدے پر فوقیت رکھتا ہے، یہی وہ نفع ہے جس کے ذریعے سے بندوں کو ہر بھلائی پر آمادہ کیا جاتا ہے اور ہر برائی سے ان کے لیے حفاظت ہے اور اس میں ان کے لیے حد درجہ بیان اور توضیح ہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 175

Al-A'rafJuz 9 · Page 175

7:188

قُل لَّآ أَمۡلِكُ لِنَفۡسِي نَفۡعٗا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُۚ وَلَوۡ كُنتُ أَعۡلَمُ ٱلۡغَيۡبَ لَٱسۡتَكۡثَرۡتُ مِنَ ٱلۡخَيۡرِ وَمَا مَسَّنِيَ ٱلسُّوٓءُۚ إِنۡ أَنَا۠ إِلَّا نَذِيرٞ وَبَشِيرٞ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ ١٨٨

Say, "I hold not for myself [the power of] benefit or harm, except what Allāh has willed. And if I knew the unseen, I could have acquired much wealth, and no harm would have touched me. I am not except a warner and a bringer of good tidings to a people who believe."

7:189

۞ هُوَ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفۡسٖ وَٰحِدَةٖ وَجَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا لِيَسۡكُنَ إِلَيۡهَاۖ فَلَمَّا تَغَشَّىٰهَا حَمَلَتۡ حَمۡلًا خَفِيفٗا فَمَرَّتۡ بِهِۦۖ فَلَمَّآ أَثۡقَلَت دَّعَوَا ٱللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنۡ ءَاتَيۡتَنَا صَٰلِحٗا لَّنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ ١٨٩

It is He who created you from one soul and created from it its mate that he1 might dwell in security with her. And when he [i.e., man] covers her,2 she carries a light burden [i.e., a pregnancy] and continues therein. And when it becomes heavy, they both invoke Allāh, their Lord, "If You should give us a good3 [child], we will surely be among the grateful."

3 translator’s notes
  1. i.e., man or every descendent of Adam.

    [431] An allusion to sexual intercourse.

    [432] Physically sound or righteous.

    ↩
  2. ↩
  3. ↩

7:190

فَلَمَّآ ءَاتَىٰهُمَا صَٰلِحٗا جَعَلَا لَهُۥ شُرَكَآءَ فِيمَآ ءَاتَىٰهُمَاۚ فَتَعَٰلَى ٱللَّهُ عَمَّا يُشۡرِكُونَ ١٩٠

But when He gives them a good [child], they1 ascribe partners to Him concerning that which He has given them. Exalted is Allāh above what they associate with Him.

1 translator’s note
  1. The ungrateful man and woman or the polytheistic man and woman. ↩

7:191

أَيُشۡرِكُونَ مَا لَا يَخۡلُقُ شَيۡـٔٗا وَهُمۡ يُخۡلَقُونَ ١٩١

Do they associate with Him those who create nothing and they are [themselves] created?

7:192

وَلَا يَسۡتَطِيعُونَ لَهُمۡ نَصۡرٗا وَلَآ أَنفُسَهُمۡ يَنصُرُونَ ١٩٢

And they [i.e., the false deities] are unable to [give] them help, nor can they help themselves.

7:193

وَإِن تَدۡعُوهُمۡ إِلَى ٱلۡهُدَىٰ لَا يَتَّبِعُوكُمۡۚ سَوَآءٌ عَلَيۡكُمۡ أَدَعَوۡتُمُوهُمۡ أَمۡ أَنتُمۡ صَٰمِتُونَ ١٩٣

And if you [believers] invite them to guidance, they will not follow you. It is all the same for you whether you invite them or you are silent.

7:194

إِنَّ ٱلَّذِينَ تَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ عِبَادٌ أَمۡثَالُكُمۡۖ فَٱدۡعُوهُمۡ فَلۡيَسۡتَجِيبُواْ لَكُمۡ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ١٩٤

Indeed, those you [polytheists] call upon besides Allāh are servants [i.e., creations] like you. So call upon them and let them respond to you, if you should be truthful.

7:195

أَلَهُمۡ أَرۡجُلٞ يَمۡشُونَ بِهَآۖ أَمۡ لَهُمۡ أَيۡدٖ يَبۡطِشُونَ بِهَآۖ أَمۡ لَهُمۡ أَعۡيُنٞ يُبۡصِرُونَ بِهَآۖ أَمۡ لَهُمۡ ءَاذَانٞ يَسۡمَعُونَ بِهَاۗ قُلِ ٱدۡعُواْ شُرَكَآءَكُمۡ ثُمَّ كِيدُونِ فَلَا تُنظِرُونِ ١٩٥

Do they have feet by which they walk? Or do they have hands by which they strike? Or do they have eyes by which they see? Or do they have ears by which they hear? Say, [O Muḥammad], "Call your 'partners' and then conspire against me and give me no respite.

As-Sa'diTafsir · 7:188

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском