Al-A'rafJuz 8 · Page 151

Al-A'raf 7:2

The Heights · Juz 8 · Page 151

كِتَٰبٌ أُنزِلَ إِلَيۡكَ فَلَا يَكُن فِي صَدۡرِكَ حَرَجٞ مِّنۡهُ لِتُنذِرَ بِهِۦ وَذِكۡرَىٰ لِلۡمُؤۡمِنِينَ ٢

[This is] a Book revealed to you, [O Muḥammad] - so let there not be in your breast distress therefrom - that you may warn thereby and as a reminder to the believers.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 7:1–7

الٓـمٓصٓ(1)(یہ) کتاب،اتاری گئی ہے آپ کی طرف،پس نہ ہو آپ کے سینے میں تنگی اس سے،تاکہ ڈرائیں آپ اس کے ذریعے اور نصیحت ہے مومنوں کے لیے(2)تم پیروی کرو اس چیز کی جو اتاری گئی ہے تمھاری طرف،تمھارے رب کی طرف سے اور نہ پیروی کرو تم اس کے سوا(اور) دوستوں کی بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہوتم(3)اور بہت سی بستیاں ہیں کہ ہلاک کردیا ہم نے ان کو،پس آیا ان کے پاس ہمارا عذاب رات کو یا جبکہ وہ دوپہر کو آرام کررہے تھے(4) پھر نہ تھی ان کی پکار جب آگیا ان کے پاس ہمارا عذاب،مگر یہ کہ کہا انھوں نے!بلاشبہ ہم ہی تھے ظالم(5)پس ہم پوچھیں گے ان لوگوں سے کہ بھیجے گئے ان کی طرف(رسول) اور ضرورپوچھیں گے ہم بھیجے گئے(رسولوں)سے (6) پھر ہم بیان کریں گے(سب کچھ) ان پر ساتھ علم کےاور نہ تھے ہم غائب(7)

[2,1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیﷺ سے قرآن کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ كِتٰبٌ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ کتاب اتاری گئی ہے آپ پر‘‘ یعنی یہ نہایت جلیل القدر کتاب جو ان امور پر مشتمل ہے جن کے بندے محتاج ہیں اور اس میں تمام مطالب الہیہ اور مقاصد شرعیہ محکم اور مفصل طور پر موجود ہیں ﴿فَلَا يَؔكُنۡ فِيۡ صَدۡرِكَ حَرَجٌ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’پس آپ کا سینہ اس (کے پہنچانے) سے تنگ نہ ہو‘‘ یعنی آپ کے دل میں کوئی تنگی اور شک و شبہ نہ ہو۔ بلکہ تاکہ آپ جان لیں کہ یہ حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے اور سب سے سچا کلام ہے۔ ﴿ لَّا يَاۡتِيۡهِ الۡبَاطِلُ مِنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهٖ ﴾(حم السجدہ: 41؍42) ’’باطل اس کے آگے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے‘‘ اس لیے آپ کے سینے کو کشادہ اور آپ کے دل کو مطمئن ہونا چاہیے۔ پس آپ اللہ تعالیٰ کے اوامرونواہی کو کھول کر بیان کیجیے اور کسی کی ملامت اور مخالفت سے نہ ڈریے۔ ﴿ لِتُنۡذِرَ بِهٖ ﴾ ’’تاکہ آپ اس کے ذریعے سے (لوگوں کو) ڈرائیں ۔‘‘ اس کتاب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو ڈرائیے اور ان کو وعظ و نصیحت کیجیے۔ پس اس طرح معاندین حق پر حجت قائم ہو جائے گی۔ ﴿ وَذِكۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور اہل ایمان کے لیے یاد دہانی ہوگی۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَّذَكِّرۡ فَاِنَّ الذِّكۡرٰى تَنۡفَعُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الذاریات: 51؍55) ’’نصیحت کیجیے کیونکہ نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہے۔‘‘اہل ایمان کو اس کے ذریعے سے صراط مستقیم، ظاہری اور باطنی اعمال کی یاددہانی ہوگی اور ان امور کے بارے میں بھی یاد دہانی ہوگی جو بندے اور اس کے سلوک کے درمیان حائل ہو جاتے ہیں ۔

[3] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بندوں کو اپنی کتاب کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِتَّبِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ ﴾ ’’پیروی کرو اس چیز کی جو اتاری گئی تمھاری طرف‘‘ یعنی اس کتاب کی جو میں تمھاری خاطر نازل کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ﴿ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾’’تمھارے رب کی طرف سے‘‘ جو تمھاری تربیت کی تکمیل چاہتا ہے اس مقصد کے لیے اس نے تم پر یہ کتاب نازل کی، اگر تم اس کتاب کی پیروی کرو گے تو تمھاری تربیت مکمل ہو جائے گی، تم پر اللہ تعالیٰ کی نعمت پوری ہو جائے گی اور تمھیں بہترین اور بلند ترین اعمال کی طرف راہنمائی نصیب ہوگی۔﴿ وَلَا تَتَّبِعُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَؔ﴾ ’’اور اس کے سوا اور رفیقوں کی پیروی نہ کرو۔‘‘ یعنی تم اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو دوست نہ بناؤ، جن کی خواہشات کی تم پیروی کرو اور ان کی خاطر تم حق کو چھوڑ دو ﴿ قَلِيۡلًا مَّا تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو‘‘ اگر تم نصیحت حاصل کر لیتے اور مصلحت کو پہچان لیتے تو تم ضرر رساں چیز کو نفع بخش چیز پر اور دشمن کو دوست پر کبھی ترجیح نہ دیتے۔

[4] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ان سزاؤں سے ڈرایا ہے جو اس نے ان قوموں کو دیں جنھوں نے اپنے رسولوں اور ان کی دعوت کو جھٹلایا۔ پس وہ ان کی مشابہت اختیار نہ کریں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَؔكَمۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ اَهۡلَكۡنٰهَا فَجَآءَهَا بَاۡسُنَا ﴾ ’’اور کتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کر دیں ، پس آیا ان کے پاس ہمارا عذاب‘‘ یعنی ہمارا سخت عذاب ان پر نازل ہوا ﴿ بَيَاتًا اَوۡ هُمۡ قَآىِٕلُوۡنَ﴾ ’’راتوں رات یا دوپہر کو سوتے ہوئے‘‘ یعنی ہمارا عذاب ان کی غفلت کی حالت میں نازل ہوا۔ جبکہ وہ خواب غفلت کے مزے لے رہے تھے اور ہلاکت کا ان کے دل میں کبھی خیال بھی نہ آیا ہوگا۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو وہ اپنے آپ کو عذاب سے نہ بچا سکے اور ان کے وہ معبود بھی ان کے کوئی کام نہ آسکے جن سے انھیں بڑی امیدیں تھیں اور وہ جن گناہوں اور ظلم کا ارتکاب کیا کرتے تھے، انھوں نے ان پر نکیر بھی نہیں کی۔

[5]﴿ فَمَا كَانَ دَعۡوٰىهُمۡ اِذۡ جَآءَهُمۡ بَاۡسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’جب ان کو ہمارے عذاب نے آلیا تو ان کی پکار اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ بے شک ہم ظالم تھے۔‘‘جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَؔكَمۡ قَصَمۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍ كَانَتۡ ظَالِمَةً وَّاَنۡشَاۡنَا بَعۡدَهَا قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ۰۰ فَلَمَّاۤ اَحَسُّوۡا بَاۡسَنَاۤ اِذَا هُمۡ مِّؔنۡهَا يَرۡؔكُضُوۡنَؕ۰۰ لَا تَرۡؔكُضُوۡا وَارۡجِعُوۡۤا اِلٰى مَاۤ اُتۡرِفۡتُمۡ فِيۡهِ وَمَسٰكِنِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡـَٔلُوۡنَ۰۰ قَالُوۡا يٰوَيۡلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ۰۰ فَمَا زَالَتۡ تِّؔلۡكَ دَعۡوٰىهُمۡ حَتّٰى جَعَلۡنٰهُمۡ حَصِيۡدًا خٰمِدِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍11-15) ’’کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کر ڈالا جو ظالم تھیں اور ان کے بعد دوسرے لوگوں کو پیدا کیا۔ پس جب انھوں نے ہمارے عذاب کو دیکھا تو لگے اس سے بھاگنے۔ اب نہ بھاگو۔ ان نعمتوں کی طرف لوٹو جن کے تم مزے لوٹا کرتے تھے اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ۔ شاید تم سے پوچھا جائے، کہنے لگے ہائے ہماری ہلاکت! بے شک ہم ہی ظالم تھے۔ وہ اس طرح پکارتے رہے اور ہم نے انھیں کھیتی کی طرح کاٹ کر ڈھیر کر دیا‘‘۔

[6]﴿فَلَنَسۡئَلَنَّ۠ الَّذِيۡنَ اُرۡسِلَ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ہم ان قوموں سے ضرور پوچھیں گے جن کی طرف ہم نے انبیا و مرسلین کو مبعوث کیا تھا‘‘ کہ انھوں نے اپنے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا۔ ﴿وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ فَيَقُوۡلُ مَاذَاۤ اَجَبۡتُمُ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾(القصص: 28؍65) ’’اور جس روز وہ (اللہ) انھیں پکار کر کہے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا؟‘‘ ﴿ وَ لَنَسۡئَلَنَّ۠ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم رسولوں سے بھی پوچھیں گے۔‘‘ یعنی ہم رسولوں سے ان کے رب کے پیغام کو پہنچانے کے بارے میں ضرور پوچھیں گے اور یہ بھی ضرور پوچھیں گے کہ ان کی امتوں نے کیا جواب دیا۔

[7]﴿فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پھر ہم ان کے حالات بیان کریں گے۔‘‘ یعنی ہم تمام مخلوق کو بتائیں گے کہ وہ کیا عمل کرتے رہے تھے ﴿ بِعِلۡمٍ ﴾ ’’اپنے علم سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے علم سے ان کو ان کے اعمال کے بارے میں بتائے گا ﴿ وَّمَا كُنَّا غَآىِٕبِيۡنَ ﴾ ’’ہم کسی بھی وقت غیر موجود نہ تھے۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿اَحۡصٰىهُ اللّٰهُ وَنَسُوۡهُ ﴾(المجادلۃ: 58؍6) ’’اللہ نے ان کے تمام اعمال کو محفوظ رکھا ہے اور وہ بھول گئے ہیں ۔‘‘اور فرمایا : ﴿وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعَ طَرَآىِٕقَ١ۖۗ وَمَا كُنَّا عَنِ الۡخَلۡقِ غٰفِلِيۡنَ﴾(المومنون: 23؍17) ’’ہم نے تمھارے اوپر سات آسمان پیدا کیے اور ہم خلقت سے غافل نہیں ہیں۔‘‘

پھر اعمال کی جزا بیان فرمائی، چنانچہ فرمایا:

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 151

Al-A'rafJuz 8 · Page 151

سورة الأعراف

Al-A'raf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

7:1

الٓمٓصٓ ١

Alif, Lām, Meem, Ṣād.1

1 translator’s note
  1. See footnote to 2:1. ↩

7:2

كِتَٰبٌ أُنزِلَ إِلَيۡكَ فَلَا يَكُن فِي صَدۡرِكَ حَرَجٞ مِّنۡهُ لِتُنذِرَ بِهِۦ وَذِكۡرَىٰ لِلۡمُؤۡمِنِينَ ٢

[This is] a Book revealed to you, [O Muḥammad] - so let there not be in your breast distress therefrom - that you may warn thereby and as a reminder to the believers.

7:3

ٱتَّبِعُواْ مَآ أُنزِلَ إِلَيۡكُم مِّن رَّبِّكُمۡ وَلَا تَتَّبِعُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَۗ قَلِيلٗا مَّا تَذَكَّرُونَ ٣

Follow, [O mankind], what has been revealed to you from your Lord and do not follow other than Him any allies. Little do you remember.

7:4

وَكَم مِّن قَرۡيَةٍ أَهۡلَكۡنَٰهَا فَجَآءَهَا بَأۡسُنَا بَيَٰتًا أَوۡ هُمۡ قَآئِلُونَ ٤

And how many cities have We destroyed, and Our punishment came to them at night or while they were sleeping at noon.

7:5

فَمَا كَانَ دَعۡوَىٰهُمۡ إِذۡ جَآءَهُم بَأۡسُنَآ إِلَّآ أَن قَالُوٓاْ إِنَّا كُنَّا ظَٰلِمِينَ ٥

And their declaration when Our punishment came to them was only that they said, "Indeed, we were wrongdoers!"

7:6

فَلَنَسۡـَٔلَنَّ ٱلَّذِينَ أُرۡسِلَ إِلَيۡهِمۡ وَلَنَسۡـَٔلَنَّ ٱلۡمُرۡسَلِينَ ٦

Then We will surely question those to whom [a message] was sent, and We will surely question the messengers.

7:7

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيۡهِم بِعِلۡمٖۖ وَمَا كُنَّا غَآئِبِينَ ٧

Then We will surely relate [their deeds] to them with knowledge, and We were not [at all] absent.

7:8

وَٱلۡوَزۡنُ يَوۡمَئِذٍ ٱلۡحَقُّۚ فَمَن ثَقُلَتۡ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ ٨

And the weighing [of deeds] that Day will be the truth. So those whose scales are heavy - it is they who will be the successful.

7:9

وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُم بِمَا كَانُواْ بِـَٔايَٰتِنَا يَظۡلِمُونَ ٩

And those whose scales are light - they are the ones who will lose themselves for what injustice they were doing toward Our verses.

7:10

وَلَقَدۡ مَكَّنَّٰكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَجَعَلۡنَا لَكُمۡ فِيهَا مَعَٰيِشَۗ قَلِيلٗا مَّا تَشۡكُرُونَ ١٠

And We have certainly established you upon the earth and made for you therein ways of livelihood. Little are you grateful.

7:11

وَلَقَدۡ خَلَقۡنَٰكُمۡ ثُمَّ صَوَّرۡنَٰكُمۡ ثُمَّ قُلۡنَا لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ ٱسۡجُدُواْ لِأٓدَمَ فَسَجَدُوٓاْ إِلَّآ إِبۡلِيسَ لَمۡ يَكُن مِّنَ ٱلسَّٰجِدِينَ ١١

And We have certainly created you, [O mankind], and given you [human] form. Then We said to the angels, "Prostrate to Adam"; so they prostrated, except for Iblees.1 He was not of those who prostrated.

1 translator’s note
  1. Satan. See footnote to 2:34. ↩
As-Sa'diTafsir · 7:2

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском