Al-A'raf 7:206
The Heights · Juz 9 · Page 176
إِنَّ ٱلَّذِينَ عِندَ رَبِّكَ لَا يَسۡتَكۡبِرُونَ عَنۡ عِبَادَتِهِۦ وَيُسَبِّحُونَهُۥ وَلَهُۥ يَسۡجُدُونَۤ۩ ٢٠٦
Indeed, those who are near your Lord [i.e., the angels] are not prevented by arrogance from His worship, and they exalt Him, and to Him they prostrate.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 7:205–206
اور یاد کیجیے اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی سے اور ڈرتے ہوئےاورایسی آواز سے کہ کم ہوپکار کر بات کرنے سے، صبح اور شام کواورنہ ہوں آپ غافلوں میں سے(205) بے شک وہ (فرشتے) جو آپ کے رب کے پاس ہیں، نہیں تکبر کرتے وہ اس کی عبادت سے اور تسبیح بیان کرتے ہیں وہ اس کی اوراسی کو وہ سجدہ کرتے ہیں(206)
[205] اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر قلب کے ذریعے سے، زبان کے ذریعے سے اور قلب اور زبان دونوں کے ذریعے سے ہوتا ہے اور یہ ذکر اپنی نوع اور احوال کے اعتبار سے کامل ترین ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول جناب محمد مصطفیﷺ کو اصلاً اور دیگر اہل ایمان کو تبعاً حکم دیا ہے کہ وہ نہایت اخلاص کے ساتھ اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں ۔ ﴿ تَضَرُّعًا ﴾ ’’عاجزی اور تذلل سے‘‘ ذکر کی مختلف انواع کے تکرار کے ساتھ اپنی زبان سے ذکر کریں ﴿وَّخِيۡفَةً﴾ ’’اور ڈرتے ہوئے‘‘ اور آپ کی حالت یہ ہونی چاہیے کہ آپ اپنے دل میں ، اللہ تعالیٰ سے خائف اور ڈرتے ہوں مبادا کہ آپ کا عمل قبول نہ ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کے خوف کی علامت یہ ہے کہ بندہ خیر خواہی کے ساتھ اپنے عمل کی اصلاح اور تکمیل میں پیہم کوشاں رہتا ہے۔ ﴿ وَّدُوۡنَ الۡجَهۡرِ مِنَ الۡقَوۡلِ ﴾ ’’اور ایسی آواز سے جو کہ پکار کر بولنے سے کم ہو‘‘ یعنی متوسط رویہ اختیار کیجیے ﴿وَلَا تَجۡهَرۡ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتۡ بِهَا وَابۡتَغِ بَيۡنَ ذٰلِكَ سَبِيۡلًا﴾(بنی اسرائیل: 17؍110) ’’اپنی نماز بلند آواز سے پڑھیے نہ بہت آہستہ آواز سے بلکہ درمیان کا راستہ اختیار کیجیے۔‘‘﴿ بِالۡغُدُوِّ ﴾ ’’دن کے ابتدائی حصے میں ‘‘ ﴿ وَالۡاٰصَالِ ﴾ ’’اور دن کے آخری حصے میں ۔‘‘ ان دونوں اوقات کو دیگر اوقات پر فضیلت حاصل ہے۔ ﴿ وَلَا تَكُنۡ مِّنَ الۡغٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’اور غفلت کرنے والوں میں سے نہ ہوں ‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کو فراموش کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ حال کر دیا کہ وہ اپنے آپ کو بھول گئے۔ پس وہ دنیا اور آخرت کی بھلائی سے محروم رہ گئے۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی عبودیت میں ہر فلاح و سعادت سے روگردانی کی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر میں ہر بدبختی اور ناکامی کی طرف متوجہ رہے۔یہ وہ آداب ذکر ہیں جن کی بندے کو رعایت رکھنی چاہیے جیسا کہ رعایت رکھنے کا حق ہے یعنی دن اور رات کے اوقات میں ، خاص طور پر دن کے دونوں کناروں میں ، نہایت اخلاص، خشوع و خضوع، عاجزی، تذلل کے ساتھ، پر سکون حالت میں ، قلب و لسان کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ کرتے ہوئے، نہایت ادب و وقار سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے اور بہت توجہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس سے دعا کی جائے۔ غفلت کو دور کر کے حضور قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ غافل اور مشغول دل کے ساتھ کی ہوئی دعا کو قبول نہیں فرماتا۔
[206] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس کے کچھ ایسے بندے بھی ہیں جو ہمیشہ اس کی عبادت اور خدمت میں مصروف رہتے ہیں ...اور وہ ہیں اللہ تعالیٰ کے فرشتے... تاکہ تمھیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ تمھاری کثرت عبادت سے کوئی کمی پوری کرنی چاہتا ہے، نہ تمھاری عبادت کے ذریعے سے ذلت سے نکل کر معزز ہونا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمھاری عبادت کے ذریعے سے تمھیں ہی فائدہ دینا چاہتا ہے تاکہ تم اس کے ہاں اپنے اعمال سے کئی گنا زیادہ نفع حاصل کر سکو۔ بنابریں فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ عِنۡدَ رَبِّكَ ﴾ ’’وہ لوگ جو آپ کے رب کے پاس ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے، عرش الٰہی کو اٹھانے والے فرشتے اور اس کے اشراف فرشتے ﴿ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠ عَنۡ عِبَادَتِهٖ ﴾ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے‘‘ بلکہ اس کی عبادت کے لیے سرافگندہ اور اپنے رب کے احکام کے سامنے مطیع ہیں ۔ ﴿ وَيُسَبِّحُوۡنَهٗ ﴾ ’’اور اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں ۔‘‘ رات دن اس کی تسبیح میں مگن رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی نہیں کرتے۔ ﴿وَلَهٗ ﴾ ’’اور اس کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ وحدہ لا شریک کے لیے ﴿ يَسۡجُدُوۡنَ ﴾ ’’سجدے کرتے ہیں ۔‘‘ پس بندوں کو ان ملائکہ کرام کی پیروی کرنی چاہیے اور ہمیشہ اللہ، علم والے بادشاہ حقیقی کی عبادت میں مصروف رہنا چاہیے۔
Page 176
7:196
إِنَّ وَلِـِّۧيَ ٱللَّهُ ٱلَّذِي نَزَّلَ ٱلۡكِتَٰبَۖ وَهُوَ يَتَوَلَّى ٱلصَّٰلِحِينَ ١٩٦
Indeed, my protector is Allāh, who has sent down the Book; and He is an ally to the righteous.
7:197
وَٱلَّذِينَ تَدۡعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسۡتَطِيعُونَ نَصۡرَكُمۡ وَلَآ أَنفُسَهُمۡ يَنصُرُونَ ١٩٧
And those you call upon besides Him are unable to help you, nor can they help themselves."
7:198
وَإِن تَدۡعُوهُمۡ إِلَى ٱلۡهُدَىٰ لَا يَسۡمَعُواْۖ وَتَرَىٰهُمۡ يَنظُرُونَ إِلَيۡكَ وَهُمۡ لَا يُبۡصِرُونَ ١٩٨
And if you invite them to guidance, they do not hear; and you see them looking at you while they do not see.
7:199
خُذِ ٱلۡعَفۡوَ وَأۡمُرۡ بِٱلۡعُرۡفِ وَأَعۡرِضۡ عَنِ ٱلۡجَٰهِلِينَ ١٩٩
Take what is given freely,1 enjoin what is good, and turn away from the ignorant.
1 translator’s note
- From the dispositions of men or from their wealth. In other words, be easy in dealing with them and avoid causing them difficulty. ↩
7:200
وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ ٱلشَّيۡطَٰنِ نَزۡغٞ فَٱسۡتَعِذۡ بِٱللَّهِۚ إِنَّهُۥ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ٢٠٠
And if an evil suggestion comes to you from Satan, then seek refuge in Allāh. Indeed, He is Hearing and Knowing.
7:201
إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْ إِذَا مَسَّهُمۡ طَٰٓئِفٞ مِّنَ ٱلشَّيۡطَٰنِ تَذَكَّرُواْ فَإِذَا هُم مُّبۡصِرُونَ ٢٠١
Indeed, those who fear Allāh - when an impulse touches them from Satan, they remember [Him] and at once they have insight.
7:202
وَإِخۡوَٰنُهُمۡ يَمُدُّونَهُمۡ فِي ٱلۡغَيِّ ثُمَّ لَا يُقۡصِرُونَ ٢٠٢
But their brothers1 - they [i.e., the devils] increase them in error; then they do not stop short.
1 translator’s note
- Those among mankind who listen to the devils and obey their orders. ↩
7:203
وَإِذَا لَمۡ تَأۡتِهِم بِـَٔايَةٖ قَالُواْ لَوۡلَا ٱجۡتَبَيۡتَهَاۚ قُلۡ إِنَّمَآ أَتَّبِعُ مَا يُوحَىٰٓ إِلَيَّ مِن رَّبِّيۚ هَٰذَا بَصَآئِرُ مِن رَّبِّكُمۡ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٞ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ ٢٠٣
And when you, [O Muḥammad], do not bring them a sign [i.e., miracle], they say, "Why have you not contrived it?" Say, "I only follow what is revealed to me from my Lord. This [Qur’ān] is enlightenment from your Lord and guidance and mercy for a people who believe."
7:204
وَإِذَا قُرِئَ ٱلۡقُرۡءَانُ فَٱسۡتَمِعُواْ لَهُۥ وَأَنصِتُواْ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ ٢٠٤
So when the Qur’ān is recited, then listen to it and pay attention that you may receive mercy.
7:205
وَٱذۡكُر رَّبَّكَ فِي نَفۡسِكَ تَضَرُّعٗا وَخِيفَةٗ وَدُونَ ٱلۡجَهۡرِ مِنَ ٱلۡقَوۡلِ بِٱلۡغُدُوِّ وَٱلۡأٓصَالِ وَلَا تَكُن مِّنَ ٱلۡغَٰفِلِينَ ٢٠٥
And remember your Lord within yourself in humility and in fear without being apparent in speech - in the mornings and the evenings. And do not be among the heedless.
7:206
إِنَّ ٱلَّذِينَ عِندَ رَبِّكَ لَا يَسۡتَكۡبِرُونَ عَنۡ عِبَادَتِهِۦ وَيُسَبِّحُونَهُۥ وَلَهُۥ يَسۡجُدُونَۤ۩ ٢٠٦
Indeed, those who are near your Lord [i.e., the angels] are not prevented by arrogance from His worship, and they exalt Him, and to Him they prostrate.