Al-A'rafJuz 8 · Page 154

Al-A'raf 7:32

The Heights · Juz 8 · Page 154

قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِينَةَ ٱللَّهِ ٱلَّتِيٓ أَخۡرَجَ لِعِبَادِهِۦ وَٱلطَّيِّبَٰتِ مِنَ ٱلرِّزۡقِۚ قُلۡ هِيَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا خَالِصَةٗ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ ٣٢

Say, "Who has forbidden the adornment of [i.e., from] Allāh which He has produced for His servants and the good [lawful] things of provision?" Say, "They are for those who believed during the life of this world, exclusively [for them] on the Day of Resurrection." Thus do We detail the verses for a people who know.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 7:32–33

کہہ دیجیے!کس نے حرام کی زینت اللہ کی،وہ جوپیدا کی اس نے اپنے بندوں کے لیے؟ اور پاکیزہ چیزیں رزق کی؟ کہہ دیجیے! یہ ان لوگوں کے لیے(بھی) ہیں جو ایمان لائے،زندگی میں دنیا کی،جبکہ خاص ہوں گی(ان کے لیے) دن قیامت کے،اس طرح مفصل بیان کرتے ہیں ہم آیات ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں (32) کہہ دیجیے! بے شک حرام ٹھہرایا ہے میرے رب نے بے حیائی کی باتوں کو،جو ظاہر ہوں ان میں سے اور جو پوشیدہ،اور گناہ کو اور ظلم کو بغیر حق کے،اور یہ کہ شریک ٹھہراؤ تم ساتھ اللہ کے اس چیز کو کہ نہیں اتاری اللہ نے اس کی کوئی دلیل،اور یہ کہ کہو تم اوپر اللہ کے وہ جو نہیں تم جانتے(33)

[32] اللہ تبارک و تعالیٰ اس شخص پر نکیرکرتا ہے جو تکلف میں پڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حلال ٹھہرائی ہوئی پاک چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے، چنانچہ فرماتا ہے ﴿قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِيۡنَةَ اللّٰهِ الَّتِيۡۤ اَخۡرَجَ لِعِبَادِهٖ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ زینت و آرائش کی چیزیں جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں ، ان کو کس نے حرام کیا ہے؟‘‘ انواع و اصناف کے لباس، طیبات رزق یعنی ماکولات و مشروبات کی تمام اقسام کو کس نے حرام قرار دیا ہے؟ یعنی وہ کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو حرام کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عطا کی ہیں ؟ کون ان کو اس بارے میں تنگی میں مبتلا کرتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے وسعت رکھی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے طیبات کو اس لیے وسیع کیا تاکہ وہ ان سے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مدد لیں ۔ اس نے ان چیزوں کو صرف اپنے مومن بندوں کے لیے مباح کیا ہے۔ بنا بریں فرمایا:﴿ قُلۡ هِيَ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا خَالِصَةً يَّوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾کہہ دیجیے! یہ نعمتیں اصل میں ایمان والوں کے واسطے ہیں دنیا کی زندگی میں ، خالص انھی کے واسطے ہوں گی قیامت کے دن‘‘ یعنی ان نعمتوں کے بارے میں ان پر کوئی تاوان نہیں ہوگا۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے بلکہ وہ ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں تو یہ نعمتیں ان کے لیے خالص ہیں نہ ان کے لیے مباح بلکہ ان نعمتوں کو استعمال کرنے پر ان کو سزا دی جائے گی اور قیامت کے روز ان سے ان نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔﴿كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم اسی طرح آیات کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم ان آیات کی توضیح کرتے ہیں اور ہم ان کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان کے لیے جو جانتے ہیں ‘‘ کیونکہ یہی لوگ ہیں جو ان آیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے، وہ جانتے ہیں کہ یہ آیات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں چنانچہ وہ اس میں غور و فکر کرتے ہیں اور ان کو سمجھتے ہیں ۔

[33] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان محرمات کا ذکر فرمایا جن کو اس نے تمام شریعتوں میں حرام قرار دیا ہے۔ فرمایا: ﴿ قُلۡ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الۡفَوَاحِشَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! بے شک میرے رب نے حرام کیا ہے بے حیائی کی باتوں کو‘‘ یعنی بڑے بڑے گناہ جن کی برائی اور قباحت کی وجہ سے ان کو فحش اور سخت قبیح سمجھا جاتا ہے ، مثلاً: زنا، سدومیت (عمل قوم لوط) وغیرہ۔ ﴿ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ ﴾ ’’جو ان میں کھلی ہوئی ہیں اور جو چھپی ہوئی ہیں ‘‘ یعنی وہ فواحش جن کا تعلق بدن کی حرکات سے ہے اور وہ فواحش جن کا تعلق قلب کی حرکات سے ہے ، مثلاً: تکبر، خود پسندی، ریا اور نفاق وغیرہ۔ ﴿ وَالۡاِثۡمَ وَالۡبَغۡيَ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ﴾ ’’اور گناہ کو اور ناحق کی زیادتی کو‘‘ یعنی گناہ کے اعمال جو گناہ میں مبتلا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کے بارے میں سزا کے موجب ہیں اور (بَغْی) سے مراد ہے لوگوں کے جان و مال اور عزت و ناموس میں ان پر زیادتی وغیرہ۔ پس اس میں وہ تمام گناہ داخل ہیں جو حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق ہیں ۔ ﴿ وَاَنۡ تُشۡرِكُوۡا بِاللّٰهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهٖ سُلۡطٰنًا ﴾ ’’اور اس بات کو کہ شریک کرو اللہ کا ایسی چیز کو کہ جس کی اس نے سند نہیں اتاری‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس شرک پر کوئی دلیل و برہان نازل نہیں فرمائی بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے توحید کی تائید کے لیے دلائل و براہین نازل فرمائے ہیں اور شرک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اس کے ساتھ مخلوق میں سے کسی کو شریک ٹھہرایا جائے۔ بسااوقات شرک اصغر بھی اسی زمرے میں آجاتا ہے، مثلاً:ریا اور غیر اللہ کی قسم وغیرہ۔﴿ وَّاَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور اس بات کو کہ اللہ کے ذمے وہ باتیں لگاؤ جو تم نہیں جانتے‘‘ یعنی اس کے اسماء و صفات اور افعال اور اس کی شریعت کے بارے میں لاعلمی پر مبنی بات کہنا۔ ان تمام امور کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے اور بندوں کو ان میں مشغول ہونے سے روکا ہے کیونکہ یہ امور مفاسد عامہ اور مفاسد خاصہ پر مشتمل ہیں اور یہ امور ظلم و تعدی اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی جناب میں جسارت و جرأت کے موجب، اللہ تعالیٰ کے بندوں پر دست درازی اور اللہ تعالیٰ کے دین اور شریعت میں تغیر و تحریف کا باعث ہیں ۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 154

Al-A'rafJuz 8 · Page 154

7:31

۞ يَٰبَنِيٓ ءَادَمَ خُذُواْ زِينَتَكُمۡ عِندَ كُلِّ مَسۡجِدٖ وَكُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ وَلَا تُسۡرِفُوٓاْۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُسۡرِفِينَ ٣١

O children of Adam, take your adornment [i.e., wear your clothing] at every masjid,1 and eat and drink, but be not excessive. Indeed, He likes not those who commit excess.

1 translator’s note
  1. Literally, "place of prostration," meaning any place that a Muslim prays upon the earth. The term may also refer specifically to a mosque. ↩

7:32

قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِينَةَ ٱللَّهِ ٱلَّتِيٓ أَخۡرَجَ لِعِبَادِهِۦ وَٱلطَّيِّبَٰتِ مِنَ ٱلرِّزۡقِۚ قُلۡ هِيَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا خَالِصَةٗ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ ٣٢

Say, "Who has forbidden the adornment of [i.e., from] Allāh which He has produced for His servants and the good [lawful] things of provision?" Say, "They are for those who believed during the life of this world, exclusively [for them] on the Day of Resurrection." Thus do We detail the verses for a people who know.

7:33

قُلۡ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ ٱلۡفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ وَٱلۡإِثۡمَ وَٱلۡبَغۡيَ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّ وَأَن تُشۡرِكُواْ بِٱللَّهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهِۦ سُلۡطَٰنٗا وَأَن تَقُولُواْ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ ٣٣

Say, "My Lord has only forbidden immoralities - what is apparent of them and what is concealed - and sin,1 and oppression without right, and that you associate with Allāh that for which He has not sent down authority, and that you say about Allāh that which you do not know."

1 translator’s note
  1. Any unlawful deed. ↩

7:34

وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٞۖ فَإِذَا جَآءَ أَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَأۡخِرُونَ سَاعَةٗ وَلَا يَسۡتَقۡدِمُونَ ٣٤

And for every nation is a [specified] term. So when their time has come, they will not remain behind an hour, nor will they precede [it].

7:35

يَٰبَنِيٓ ءَادَمَ إِمَّا يَأۡتِيَنَّكُمۡ رُسُلٞ مِّنكُمۡ يَقُصُّونَ عَلَيۡكُمۡ ءَايَٰتِي فَمَنِ ٱتَّقَىٰ وَأَصۡلَحَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ ٣٥

O children of Adam, if there come to you messengers from among you relating to you My verses [i.e., scriptures and laws], then whoever fears Allāh and reforms - there will be no fear concerning them, nor will they grieve.

7:36

وَٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا وَٱسۡتَكۡبَرُواْ عَنۡهَآ أُوْلَٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ ٣٦

But the ones who deny Our verses and are arrogant toward them - those are the companions of the Fire; they will abide therein eternally.

7:37

فَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوۡ كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِهِۦٓۚ أُوْلَٰٓئِكَ يَنَالُهُمۡ نَصِيبُهُم مِّنَ ٱلۡكِتَٰبِۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوۡنَهُمۡ قَالُوٓاْ أَيۡنَ مَا كُنتُمۡ تَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِۖ قَالُواْ ضَلُّواْ عَنَّا وَشَهِدُواْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ أَنَّهُمۡ كَانُواْ كَٰفِرِينَ ٣٧

And who is more unjust than one who invents about Allāh a lie or denies His verses? Those will attain their portion of the decree1 until, when Our messengers [i.e., angels] come to them to take them in death, they will say, "Where are those you used to invoke besides Allāh?" They will say, "They have departed from us," and will bear witness against themselves that they were disbelievers.

1 translator’s note
  1. What is decreed for them. ↩
As-Sa'diTafsir · 7:32

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском