Al-A'raf 7:93
The Heights · Juz 9 · Page 162
فَتَوَلَّىٰ عَنۡهُمۡ وَقَالَ يَٰقَوۡمِ لَقَدۡ أَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسَٰلَٰتِ رَبِّي وَنَصَحۡتُ لَكُمۡۖ فَكَيۡفَ ءَاسَىٰ عَلَىٰ قَوۡمٖ كَٰفِرِينَ ٩٣
And he [i.e., Shuʿayb] turned away from them and said, "O my people, I had certainly conveyed to you the messages of my Lord and advised you, so how could I grieve for a disbelieving people?"
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 7:85–93
اور(بھیجاہم نے) طرف مدین کی ان کے بھائی شعیب کو اس نے کہا،اے میری قوم!عبادت کرو تم اللہ کی،نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے تحقیق آگئی تمھارے پاس واضح دلیل تمھارے رب کی طرف سے،پس پورا کرو تم ماپ اور تول کواور مت کم کر کے دو لوگوں کو ان کی چیزیں،اور مت فساد کرو تم زمین میں بعد اس کی اصلاح کے، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگرہو تم مومن(85) اور مت بیٹھو تم ہر ایک راستے پر،ڈراتے ہو تم اور روکتے ہواللہ کے راستے سے اس شخص کو جو ایمان لائے ساتھ اس کے،اور تلاش کرتے ہوتم اس(راہ)میں کجی اور یاد کرو جبکہ تھے تم تھوڑے پس اس نے زیادہ کیا تمھیں۔ اور دیکھو!کیسا ہوا تھا انجام فسادیوں کا(86) اور اگر ہے ایک گروہ تم میں سے جو ایمان لایا اس پر کہ بھیجا گیاہوں میں ساتھ اس کے،اور ایک گروہ ہے کہ نہیں ایمان لایا وہ، پس صبر کرو تم،یہاں تک کہ فیصلہ کرے اللہ ہمارے درمیان،اور وہ سب سے بہتر فیصلے کرنے والا ہے(87) کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے تکبر کیا اس کی قوم میں سے، ہم ضرو ر نکال دیں گے تجھے اے شعیب! اوران لوگوں کو بھی جو ایمان لائے تیرے ساتھ، اپنی بستی سے یا لوٹ آؤ گے تم ہمارے دین میں۔(شعیب نے ) کہا، کیا اگرچہ ہوں ہم کراہت کرنے والے بھی(88)تحقیق (پھر تو ) باندھا ہم نے اللہ پر جھوٹ! اگر لوٹ آئیں ہم تمھارے دین میں بعد اس کے کہ نجات دی ہمیں اللہ نے اس سے اور نہیں ہے لائق ہمارے لیے کہ لوٹ آئیں ہم اس میں مگر یہ کہ چاہے اللہ، ہمارا رب، گھیر لیا ہے ہمارے رب نے ہر چیز کو (اپنے) علم سے، اوپر اللہ ہی کے بھروسہ کیا ہم نے، اے ہمارے رب! تو فیصلہ فرما ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ساتھ حق کےاور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے (89) اور کہا ان سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے کہ اگر اتباع کیا تم نے شعیب کا تو یقینا تم اس وقت ، البتہ خسارہ اٹھانے والے ہو گے(90)پس پکڑ لیا انھیں زلزلے نے تو ہوگئے وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے ہوئے(91)وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا شعیب کو،(یوں ہوگئے) گویا کہ وہ کبھی نہیں بسے تھے ان میں وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا شعیب کو، تھے وہی خسارہ پانے والے(92) پھر منہ پھیرا(شعیب نے) ان سے اور کہا، اے میری قوم! البتہ تحقیق پہنچا دیے میں نے تمھیں پیغامات اپنے رب کے اور خیر خواہی کی میں نے تمھاری، پس کیوں غم کھاؤں میں اوپر کافروں کے؟(93)
[85]﴿وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’مدین کی طرف‘‘ یعنی ایک معروف قبیلہ کی طرف ﴿ اَخَاهُمۡ شُعَيۡبًا ﴾ ’’ان کے بھائی شعیب کو۔‘‘ مبعوث کیا جو نسب میں ان کے بھائی تھے۔ جو انھیں اللہ وحدہ کی عبادت کی طرف دعوت دیتے تھے اور ناپ تول کو پورا کرنے کا حکم دیتے تھے۔ وہ ان کو تلقین کرتے تھے کہ وہ لوگوں کو کم چیزیں نہ دیں اور کثرت معاصی کے ارتکاب سے زمین میں فساد نہ پھیلائیں ۔ ﴿ وَلَا تُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمۡ خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور زمین میں خرابی مت ڈالو اس کی اصلاح کے بعد، یہ بہتر ہے تمھارے لیے اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے اور اس کے تقرب کی خاطر گناہوں کو ترک کرنا، بندے کے لیے ان گناہوں کے ارتکاب سے۔۔۔ جو اللہ جبار کی ناراضی اور جہنم کے عذاب کا باعث ہے۔۔۔۔ بہتر اور فائدہ مند ہے۔
[86]﴿وَلَا تَقۡعُدُوۡا بِكُلِّ صِرَاطٍ ﴾ ’’اور ہر راستے پر نہ بیٹھا کرو۔‘‘ یعنی لوگوں کے لیے راستوں پر گھات لگا کر نہ بیٹھو جہاں کثرت سے لوگوں کا گزر ہوتا ہے اور تم ان راستوں سے لوگوں کو ڈراتے ہو۔ ﴿ تُوۡعِدُوۡنَ ﴾ ’’ڈراتے ہو۔‘‘ اور ان پر چلنے سے ان کو دھمکاتے ہو۔ ﴿وَتَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ کے راستے سے روکتے ہو۔‘‘ یعنی جو کوئی راہ راست پر چلنا چاہتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہو۔ ﴿وَتَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا ﴾ ’’اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو۔‘‘ یعنی تم اللہ کے راستے میں کجی چاہتے ہو اور اپنی خواہشات نفس کی پیروی میں اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے ہو۔تم پر اور دوسرے لوگوں پر واجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے راستے کی تعظیم اور احترام کرو جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کر دیا ہے تاکہ وہ اس کی رضا کی منزل اور عزت والے گھر تک پہنچنے کے لیے اس پر گامزن ہوں اور اللہ تعالیٰ اس کے سبب سے اپنے بندوں کو اپنی عظیم رحمت سے نوازے۔ تمھیں تو چاہیے کہ تم اس کی مدد کرو، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دو اور اس کا دفاع کرو۔ نہ اس کے برعکس کہ تم اس راستے کے راہزن بن کر اس کو مسدود کر دو اور لوگوں کو اس راستے سے روکو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناسپاسی، اللہ تعالیٰ کے ساتھ عداوت اور سب سے درست اور معتدل راستے کو ٹیڑھا کرنا ہے اور تم ان لوگوں کو برا بھلا کہتے ہو جو اس راستے پر گامزن ہیں ۔ ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا﴾ اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو ﴿ اِذۡ كُنۡتُمۡ قَلِيۡلًا فَكَثَّرَؔكُمۡ ﴾ ’’جبکہ تم تھوڑے تھے، پس اس نے تم کو زیادہ کر دیا‘‘ یعنی تمھیں بیویاں ، نسل اور صحت عطا کر کے تمھاری تعداد کو بڑھایا۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں کسی وبا اور کسی ایسی بیماری میں مبتلا نہیں کیا جو تعداد کو کم کر دیتی ہے نہ تم پر کوئی ایسا دشمن مسلط کیا جو تمھیں ہلاک کر دیتا اور نہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں تتر بتر کیا....بلکہ یہ اللہ کا تم پر انعام ہے کہ اس نے تمھیں مجتمع رکھا، تمھیں بے حساب رزق اور کثرت نسل سے نوازا۔ ﴿وَانۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور دیکھو کیا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا‘‘ کیونکہ تم ان کی جمعیت میں تشتت اور افتراق اور ان کے گھروں میں وحشت اور ہلاکت کے مناظر کے سوا کچھ نہیں پاؤ گے۔ انھوں نے اپنے بارے میں اپنے پیچھے کوئی اچھے تذکرے نہیں چھوڑے بلکہ اس کے برعکس اس دنیا میں بھی لعنت ان کا پیچھا کر رہی ہے اور قیامت کے روز بھی ان کو رسوائی اور فضیحت کا سامنا کرنا ہوگا۔
[87]﴿وَاِنۡ كَانَ طَآىِٕفَةٌ مِّنۡكُمۡ اٰمَنُوۡا بِالَّذِيۡۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖ وَطَآىِٕفَةٌ لَّمۡ يُؤۡمِنُوۡا ﴾ ’’اور اگر تم میں سے ایک فرقہ ایمان لایا اس پر جو میرے ہاتھ بھیجا گیا اور ایک فرقہ ایمان نہیں لایا‘‘ اور ایمان نہ لانے والا گروہ ان میں سے اکثریت کا گروہ ہے ﴿ فَاصۡبِرُوۡا حَتّٰى يَحۡكُمَ اللّٰهُ بَيۡنَنَا١ۚ وَهُوَ خَيۡرُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’تو صبر کرو، یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کرے ہمارے درمیان اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔‘‘ پس وہ حق کو ماننے والے کی مدد کرے گا اور حق کا ابطال کرنے والے پر عذاب واقع کرے گا۔
[88]﴿قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’کہا ان سرداروں نے جو متکبر تھے اس کی قوم میں سے‘‘ اس سے مراد ان کے اشراف اور بڑے آدمی ہیں جنھوں نے اپنی لذات میں مستغرق ہو کر اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی، جب ان کے پاس حق آیا اور انھوں نے دیکھ لیا کہ حق ان کی خواہشات نفس کے خلاف ہے تو انھوں نے نہایت تکبر سے حق کو ٹھکرا دیا اور اپنے نبی شعیبu اور ان مستضعفین سے کہنے لگے جو حضرت شعیبu کے ساتھ تھے۔ ﴿لَنُخۡرِجَنَّكَ يٰشُعَيۡبُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَكَ مِنۡ قَرۡيَتِنَاۤ اَوۡ لَتَعُوۡدُنَّ فِيۡ مِلَّتِنَا ﴾’’ہم ضرور نکال دیں گے اے شعیب تجھ کو اور ان کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے اپنے شہر سے یا یہ کہ تم لوٹ آؤ اپنے دین میں ‘‘ انھوں نے حق کے خلاف بہیمانہ قوت استعمال کی اور انھوں نے کسی اصول، کسی ذمہ اور کسی حق کی پاسداری نہ کی۔ انھوں نے تو صرف اپنی خواہشات نفس کی رعایت اور ان کی پیروی کی اور اپنی ناقص عقل کے پیچھے لگے جو ان کے قول فاسد پر دلالت کرتی ہے۔ پس جناب شعیب سے کہنے لگے ’’یا تو تجھے اور تیرے ساتھیوں کو ہمارے دین میں واپس لوٹنا ہوگا یا ہم تجھے اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے۔‘‘جناب شعیبu ان کے ایمان لانے کی امید میں ان کو ایمان کی دعوت دیتے رہے مگر وہ اب تک ایمان نہ لائے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ انھوں نے آنجنابu کو دھمکی دی کہ اگر وہ ان کی پیروی نہیں کریں گے تو وہ ان کو ان کے اس وطن سے جلا وطن کر دیں گے جس میں رہنے کے جناب شعیب اور ان کے اصحاب زیادہ مستحق ہیں ۔﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان کی اس بات پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَوَلَوۡؔ كُنَّا كٰرِهِيۡنَ ﴾ ’’خواہ ہم (تمھارے دین سے) بیزار ہی ہوں ۔‘‘ یعنی کیا ہم ناپسند کرتے ہوئے بھی تمھارے باطل دین اور ملت کی اتباع کریں ؟ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تمھارا دین باطل ہے۔ اس دین کی طرف تو صرف اسی کو دعوت دی جاتی ہے جو اس میں کوئی رغبت رکھتا ہو اور وہ شخص جو علی الاعلان لوگوں کو اس دین کی پیروی سے روکتا ہے اور جو کوئی اس دین کی اتباع کرتا ہے اس کو برا کہتا ہے تو وہ کیوں کر اس دین کی دعوت دے سکتا ہے؟
Page 162
7:88
۞ قَالَ ٱلۡمَلَأُ ٱلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُواْ مِن قَوۡمِهِۦ لَنُخۡرِجَنَّكَ يَٰشُعَيۡبُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَكَ مِن قَرۡيَتِنَآ أَوۡ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَاۚ قَالَ أَوَلَوۡ كُنَّا كَٰرِهِينَ ٨٨
Said the eminent ones who were arrogant among his people, "We will surely evict you, O Shuʿayb, and those who have believed with you from our city, or you must return to our religion." He said, "Even if we were unwilling?
7:89
قَدِ ٱفۡتَرَيۡنَا عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا إِنۡ عُدۡنَا فِي مِلَّتِكُم بَعۡدَ إِذۡ نَجَّىٰنَا ٱللَّهُ مِنۡهَاۚ وَمَا يَكُونُ لَنَآ أَن نَّعُودَ فِيهَآ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ رَبُّنَاۚ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيۡءٍ عِلۡمًاۚ عَلَى ٱللَّهِ تَوَكَّلۡنَاۚ رَبَّنَا ٱفۡتَحۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ قَوۡمِنَا بِٱلۡحَقِّ وَأَنتَ خَيۡرُ ٱلۡفَٰتِحِينَ ٨٩
We would have invented against Allāh a lie if we returned to your religion after Allāh had saved us from it. And it is not for us to return to it except that Allāh, our Lord, should will. Our Lord has encompassed all things in knowledge. Upon Allāh we have relied. Our Lord, decide between us and our people in truth, and You are the best of those who give decision."
7:90
وَقَالَ ٱلۡمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَوۡمِهِۦ لَئِنِ ٱتَّبَعۡتُمۡ شُعَيۡبًا إِنَّكُمۡ إِذٗا لَّخَٰسِرُونَ ٩٠
Said the eminent ones who disbelieved among his people, "If you should follow Shuʿayb, indeed, you would then be losers."
7:91
فَأَخَذَتۡهُمُ ٱلرَّجۡفَةُ فَأَصۡبَحُواْ فِي دَارِهِمۡ جَٰثِمِينَ ٩١
So the earthquake seized them, and they became within their home [corpses] fallen prone.
7:92
ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ شُعَيۡبٗا كَأَن لَّمۡ يَغۡنَوۡاْ فِيهَاۚ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ شُعَيۡبٗا كَانُواْ هُمُ ٱلۡخَٰسِرِينَ ٩٢
Those who denied Shuʿayb - it was as though they had never resided there. Those who denied Shuʿayb - it was they who were the losers.
7:93
فَتَوَلَّىٰ عَنۡهُمۡ وَقَالَ يَٰقَوۡمِ لَقَدۡ أَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسَٰلَٰتِ رَبِّي وَنَصَحۡتُ لَكُمۡۖ فَكَيۡفَ ءَاسَىٰ عَلَىٰ قَوۡمٖ كَٰفِرِينَ ٩٣
And he [i.e., Shuʿayb] turned away from them and said, "O my people, I had certainly conveyed to you the messages of my Lord and advised you, so how could I grieve for a disbelieving people?"
7:94
وَمَآ أَرۡسَلۡنَا فِي قَرۡيَةٖ مِّن نَّبِيٍّ إِلَّآ أَخَذۡنَآ أَهۡلَهَا بِٱلۡبَأۡسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمۡ يَضَّرَّعُونَ ٩٤
And We sent to no city a prophet [who was denied] except that We seized its people with poverty and hardship that they might humble themselves [to Allāh].
7:95
ثُمَّ بَدَّلۡنَا مَكَانَ ٱلسَّيِّئَةِ ٱلۡحَسَنَةَ حَتَّىٰ عَفَواْ وَّقَالُواْ قَدۡ مَسَّ ءَابَآءَنَا ٱلضَّرَّآءُ وَٱلسَّرَّآءُ فَأَخَذۡنَٰهُم بَغۡتَةٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ ٩٥
Then We exchanged in place of the bad [condition], good, until they increased [and prospered] and said, "Our fathers [also] were touched with hardship and ease."1 So We seized them suddenly while they did not perceive.2