Nuh 71:21
Noah · Juz 29 · Page 571
قَالَ نُوحٞ رَّبِّ إِنَّهُمۡ عَصَوۡنِي وَٱتَّبَعُواْ مَن لَّمۡ يَزِدۡهُ مَالُهُۥ وَوَلَدُهُۥٓ إِلَّا خَسَارٗا ٢١
Noah said, "My Lord, indeed they have disobeyed me and followed him whose wealth and children will not increase him except in loss.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 71:1–28
بلاشبہ ہم نے بھیجا نوح کو اس کی قوم کی طرف یہ کہ ڈرا تو اپنی قوم کو پہلے اس سے کہ آئے ان کے پاس عذاب بہت درد ناک(1) نوح نے کہا، اے میری قوم! یقیناً میں تمھیں ڈرانے والا ہوں ظاہر(2) یہ کہ تم عبادت کرو اللہ کی اور ڈرو اس سے اور اطاعت کرو میری(3) وہ بخش دے گا تمھارے لیے تمھارے گناہ اور مہلت دے گا تمھیں ایک وقت مقرر تک بلاشبہ اللہ کا (مقرر) وقت جب آتا ہے تو نہیں مؤخر کیا جاتا وہ، کاش کہ ہوتے تم جانتے(4) نوح نے کہا، اے میرے رب ! بلاشبہ میں نے دعوت دی اپنی قوم کو رات اور دن(5) سو نہ زیادہ کیا انھیں میری دعوت نے مگر (حق سے) بھاگنے ہی میں (6) اور میں نے جب بھی دعوت دی ان کو، تاکہ بخشے تو انھیں تو کر لیں انھوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں اور لپیٹ لیے انھوں نے (اپنے اوپر) اپنے کپڑے اور اڑے رہے وہ اور تکبر کیا انھوں نے تکبر کرنا بڑا (7) پھر میں نے دعوت دی انھیں بہ آواز بلند(8) پھر میں نے علانیہ کہا ان سے اور خفیہ کہا ان سے بالکل خفیہ(9) چنانچہ میں نے کہا، مغفرت مانگو تم اپنے رب سے، بلاشبہ وہ ہے بڑا بخشنے والا (10) وہ بھیجے گاآسمان(سے بارش) تم پر موسلا دھار (11) اور وہ بڑھائے گا تمھیں ساتھ مالوں اور بیٹوں کے، اور (پیدا) کرے گا تمھارے لیے باغات اور (جاری) کرے گا تمھارے لیے نہریں (12) کیا ہے تمھیں کہ نہیں عقیدہ رکھتے تم اللہ کے لیے وقار (عظمت )کا؟ (13) حالانکہ اس نے پیدا کیا تمھیں مختلف مرحلوں میں (14) کیا نہیں دیکھا تم نے کہ کس طرح پیدا کیے اللہ نے سات آسمان اوپر نیچے؟ (15) اور اس نے بنایا چاند کو ان میں نور اور بنایا سورج کو چراغ (16) اور اللہ نے اگایا ہے تمھیں زمین سے (خاص انداز سے) اگانا (17) پھر وہ لوٹائے گا تمھیں اس میں اور وہ نکالے گا تمھیں (دوبارہ) نکالنا (18) اور اللہ نے بنایا تمھارے لیے زمین کو بچھونا (19) تاکہ تم چلواس کی کشادہ راہوں میں (20) کہا نوح نے، اے میرے رب! بلاشبہ انھوں نے نافرمانی کی میری اور پیروی کی انھوں نے اس کی کہ نہیں زیادہ کیا اس کو اس کےمال اور اس کی اولاد نے مگر خسارے ہی میں (21) اور مکر کیا انھوں نے مکر بہت بڑا (22) اور کہا انھوں نے، بالکل نہ چھوڑنا تم اپنے معبودوں کو، اور نہ چھوڑنا تم ود کو اور نہ سواع کو اور نہ یغوث کو اور نہ یعوق کو اور نہ نسر کو (23) اور تحقیق انھوں نے گمراہ کیا بہتوں کو اور نہ زیادہ کر تو (یا اللہ!) ان ظالموں کو مگر گمراہی ہی میں (24) بوجہ اپنی خطاؤں کے غرق کیے گئے وہ، پھر داخل کیے گئے وہ آگ میں، تو نہ پایا انھوں نے اپنے لیے سوائے اللہ کے کوئی مدد گار (25) اور کہا نوح نے، اے میرے رب! نہ چھوڑ تو اوپر زمین کے(ان) کافروں میں سے کوئی رہنے سہنے والا (26) بلاشبہ تو نے اگر چھوڑا ان کو تو وہ گمراہ کریں گے تیرے بندوں کو، اور نہیں جنیں گے وہ مگر فاجر کافر ہی (27) اے مرے رب! تو مغفرت فرما میری اور میرے والدین کی اور (ہر) اس شخص کی جو داخل ہو میرے گھر میں مومن ہو کر اور ایمان والوں اور ایمان والیوں کی اور نہ زیادہ کر تو ظالموں کو مگر تباہی اور ہلاکت میں (28)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ میں، حضرت نوحu کے اپنی قوم کے اندر، ایک طویل زمانے تک رہنے، ان کو بار بار دعوت توحید دینے اور شرک سے روکنے کی بنا پر ان کا اکیلا قصہ ہی بیان نہیں کیا۔
[1] اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے حضرت نوح uکی قوم پر رحم کرتے ہوئے، ان کو درد ناک عذاب سے متنبہ کرتے اور ان کو اپنے کفر پر جمے رہنے سے ڈراتے ہوئے حضرت نوحu کوان کی طرف مبعوث فرمایا، مبادا اللہ تعالیٰ ان کو ابدی ہلاکت، سرمدی عذاب میں مبتلا کر دے۔
[4-2] حضرت نوحu نے سرِ تسلیم خم کر دیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کے لیے آگے بڑھے اور فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ یعنی میں انذار اور تنبیہ کو واضح کر کے کھول کھول کر بیان کرتا ہوں۔ یہ اس لیے کہ آپ نے جس چیز کے ذریعے سے تنبیہ کی اس کو واضح کیا اور جس کے بارے میں تنبیہ کی گئی اس کو واضح کیا اور جس چیز کے ذریعے سے نجات حاصل ہوتی ہے، ان سب باتوں کو شافی طور پر بیان کیا۔حضرت نوحu نے ان کو آگاہ کیا اور اس بارے میں بنیادی چیز کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا :﴿ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ وَاتَّقُوۡهُ﴾ ’’یہ کہ اللہ کی عبادت کرو اور اسی سے ڈرو۔‘‘ اور یہ اس طرح کہ عبادت وتوحید میں اللہ تعالیٰ کو یکتا قرار دیا جائے اور شرک اور شرک کے تمام راستوں اور وسائل سے دوررہا جائے۔ کیونکہ جب وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے گناہ بخش دے گا۔ جب وہ ان کے گناہ بخش دے گا تو انھیں عذاب سے نجات حاصل ہو جائے گی اور وہ ثواب سے بہرہ مند ہوں گے۔ ﴿ وَيُؤَخِّرۡؔكُمۡ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى﴾ یعنی اس دنیا میں تمھیں متمتع کرے گا اور ایک مدت مقررہ تک ہلاکت کو تم سے دور ہٹا دے گا، یعنی اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے دنیا میں باقی رہنے کی مقدار ایک محدود وقت تک موخر کر دیا جائے گی اور یہ متاع ابدی نہیں ہے، موت کو ضرور آنا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَؔ لَا يُؤَخَّرُ١ۘ لَوۡؔ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’جب اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آجاتا ہے تو تاخیر نہیں ہوتی، کاش تم جانتے ہوتے۔‘‘ تو تم اللہ تعالیٰ کا انکار کرتے نہ حق کے ساتھ عناد رکھتے۔
[7-5] پس انھوں نے نوح uکی دعوت کو قبول کیا نہ ان کے حکم کی اطاعت کی تو حضرت نوحu نے اپنے رب سے شکوہ کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡ دَعَوۡتُ قَوۡمِيۡ لَيۡلًا وَّنَهَارًاۙ۰۰ فَلَمۡ يَزِدۡهُمۡ دُعَآءِيۡۤ اِلَّا فِرَارًا﴾’’میرے رب! میں اپنی قوم کو دن رات بلاتا رہا لیکن وہ میرے بلانے سے اور زیادہ گریز کرتے رہے۔‘‘ یعنی حق سے نفرت اور اس سے روگردانی میں اضافہ ہی ہوا ۔ پس دعوت کا کوئی فائدہ باقی نہ رہا کیونکہ دعوت کا فائدہ تب ہے کہ دعوت کے تمام مقاصد یا ان سے کچھ مقاصد حاصل ہوں۔﴿ وَاِنِّيۡ كُلَّمَا دَعَوۡتُهُمۡ لِتَغۡفِرَ لَهُمۡ﴾ ’’اور میں نے جب بھی ان کو پکارا تاکہ تو ان کو بخش دے۔‘‘ یعنی اس وجہ سے کہ وہ اس دعوت کو قبول کریں جب وہ دعوت کو قبول کر لیں گے تو ان کو بخش دیا جائے گا اور اس میں محض ان کی مصلحت ہے۔ مگر وہ اپنے باطل پر مصر اور حق سے دور بھاگتے رہے ﴿ جَعَلُوۡۤا اَصَابِعَهُمۡ فِيۡۤ اٰذَانِهِمۡ﴾ ’’انھوں نے کانوں میں انگلیاں دے لیں۔‘‘ اس ڈر سے کہ کہیں وہ باتیں ان کے کان میں نہ پڑ جائیں جو ان سے، ان کا نبی، نوح (u) کہتا ہے۔ ﴿ وَاسۡتَغۡشَوۡا ثِيَابَهُمۡ﴾ یعنی حق سے بعد اور بغض کی بنا پر، اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانپ کر پردہ کر لیا ﴿ وَاَصَرُّوۡا﴾ اور انھوں نے اپنے کفر اور شر پر اصرار کیا ﴿ وَاسۡتَكۡبَرُوا اسۡتِكۡبَارًا﴾ اور حق کے مقابلے میں تکبر کیا، پس ان کا شر بڑھ گیا اور بھلائی ان سے دور ہو گئی۔
[9,8]﴿ ثُمَّ اِنِّيۡ دَعَوۡتُهُمۡ جِهَارًا﴾ ’’پھر میں ان کو کھلے طور بلاتا رہا۔‘‘ یعنی میں ان سب کو سنا کر دعوت دیتا رہا ﴿ ثُمَّ اِنِّيۡۤ اَعۡلَنۡتُ لَهُمۡ وَاَسۡرَرۡتُ لَهُمۡ اِسۡرَارًا﴾ ’’اورظاہر اور پوشیدہ، ہر طرح سمجھاتا رہا۔‘‘ یہ سب ان کے ایمان لانے کی حرص اور ان کی خیر خواہی ہے اور ان پر ہر اس طریقے کا استعمال ہے، جس کے ذریعے سے مقصد کے حصول کا گمان ہو۔
[12-10]﴿ فَقُلۡتُ اسۡتَغۡفِرُوۡا﴾ یعنی میں نے انھیں کہا کہ تم جن گناہوں کا ارتکاب کر رہے ہو، ان کو چھوڑ دو اور اللہ تعالیٰ سے ان گناہوں کی بخشش طلب کرو۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًا﴾ جو کوئی توبہ کر کے اس سے بخشش طلب کرتا ہے، وہ اسے کثرت سے بخشتا ہے پس اللہ تعالیٰ نے ان کو گناہوں کی بخشش اور اس پر جو ثواب مترتب ہوتا ہے اور جو عذاب دور ہوتا ہے، اس کی ترغیب دی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو دنیا کی فوری بھلائی کے ذریعے سے ترغیب دی، چنانچہ فرمایا:﴿ يُّرۡسِلِ السَّمَآءَؔ عَلَيۡكُمۡ مِّؔدۡرَارًا﴾ یعنی وہ تم پر لگاتار بارش برسائے گا جو وادیوں اور ٹیلوں کو سیراب کر دے گی، شہروں اور بندوں کو زندگی عطا کرے گی۔﴿ وَّيُمۡدِدۡؔكُمۡ بِاَمۡوَالٍ وَّبَنِيۡنَ﴾ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ تمھارے اموال میں، جن کے ذریعے سے تم دنیا کی ہر وہ چیز حاصل کرتے ہو، جس کی تمھیں طلب ہوتی ہے، اور تمھاری اولاد میں کثرت عطا کرے گا ﴿وَيَجۡعَلۡ لَّـكُمۡ جَنّٰتٍ وَّيَجۡعَلۡ لَّـكُمۡ اَنۡهٰرًا﴾ ’’اور تمھارے لیے باغات پیدا کرے گا اور نہریں جاری کردے گا۔‘‘ یہ دنیا کی لذتوں اور اس کے مطالب کی انتہا ہے۔
[14,13]﴿ مَا لَكُمۡ لَا تَرۡجُوۡنَ لِلّٰهِ وَقَارًا﴾ تمھیں کیا ہے، تم اللہ تعالیٰ کی تعظیم کے لیے اس سے خوف نہیں کھاتے اور تمھارے ہاں اللہ تعالیٰ کی کوئی قدر نہیں؟ ﴿ وَقَدۡ خَلَقَكُمۡ اَطۡوَارًا﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں مختلف اطوار میں پیدا کیا۔‘‘ یعنی ماں کے پیٹ میں، تخلیق کے مختلف مراحل میں پیدا کیا، پھر رضاعت، پھر سن طفولیت، پھر سن تمیز اور پھر جوانی میں منتقل کیا، پھر اس مرحلے میں لے گیا جہاں تمام مخلوق پہنچتی ہے۔ پس وہ ہستی جو تخلیق اور بے مثال تدبیر میں منفرد ہے، صرف اسی کے لیے عبادت اور توحید مختص ہے۔ بندوں کی تخلیق کی ابتدا کے ذکر میں معاد کی طرف اشارہ ہے اور وہ ہستی جو انھیں عدم سے وجود میں لائی، ان کے مرنے کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔
[16,15] اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کی تخلیق سے بھی استدلال کیا ہے، جن کی تخلیق انسانوں کی تخلیق سے زیادہ بڑی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ تَرَوۡا كَيۡفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا﴾’’کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے سات آسمان کیسے اورپر تلے بنائے ہیں۔‘‘ یعنی ہر آسمان کو دوسرے آسمان کے اوپر پیدا کیا۔﴿ وَّجَعَلَ الۡقَمَرَ فِيۡهِنَّ نُوۡرًا﴾ ’’ اور چاند کو ان میں نور بنایا۔‘‘ یعنی زمین والوں کے لیے ﴿ وَّجَعَلَ الشَّمۡسَ سِرَاجًا﴾ ’’اور سورج کو چراغ بنایا۔‘‘ اس میں ان اشیاء کی تخلیق کے بڑے ہونے، نیز سورج اور چاند کے فوائد کی کثرت کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے بے پایاں احسان پر دلالت کرتی ہے۔ پس وہ عظیم اور رحیم ہستی مستحق ہے کہ اس کی تعظیم کی جائے، اس سے محبت کی جائے، اس سے ڈرا جائے اور امید رکھی جائے۔
[18,17]﴿وَاللّٰهُ اَنۢۡـبَتَكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ نَبَاتًا﴾ ’’اور اللہ ہی نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے۔‘‘ جب تمھارے باپ آدم کو زمین سے پیدا کیا اور تم اس کی صلب میں تھے۔﴿ ثُمَّ يُعِيۡدُكُمۡ فِيۡهَا﴾ ’’ پھر تمھیں اسی میں لوٹائے گا۔‘‘یعنی موت کے وقت ﴿ وَيُخۡرِجُكُمۡ اِخۡرَاجًا﴾ اور وہ تمھیں حشر و نشر کے لیے زمین سے نکالے گا۔ وہی ہے جو زندگی عطا کرنے، موت دینے اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر اختیار رکھتا ہے۔
Page 571
71:11
يُرۡسِلِ ٱلسَّمَآءَ عَلَيۡكُم مِّدۡرَارٗا ١١
He will send [rain from] the sky upon you in [continuing] showers
71:12
وَيُمۡدِدۡكُم بِأَمۡوَٰلٖ وَبَنِينَ وَيَجۡعَل لَّكُمۡ جَنَّٰتٖ وَيَجۡعَل لَّكُمۡ أَنۡهَٰرٗا ١٢
And give you increase in wealth and children and provide for you gardens and provide for you rivers.
71:13
مَّا لَكُمۡ لَا تَرۡجُونَ لِلَّهِ وَقَارٗا ١٣
What is [the matter] with you that you do not attribute to Allāh [due] grandeur
71:14
وَقَدۡ خَلَقَكُمۡ أَطۡوَارًا ١٤
While He has created you in stages?1
1 translator’s note
- i.e., in various progressive states and conditions. See also 22:5 and 23:12-14 in reference to development of the embryo. ↩
71:15
أَلَمۡ تَرَوۡاْ كَيۡفَ خَلَقَ ٱللَّهُ سَبۡعَ سَمَٰوَٰتٖ طِبَاقٗا ١٥
Do you not consider how Allāh has created seven heavens in layers1
1 translator’s note
- See footnote to 67:3. ↩
71:16
وَجَعَلَ ٱلۡقَمَرَ فِيهِنَّ نُورٗا وَجَعَلَ ٱلشَّمۡسَ سِرَاجٗا ١٦
And made the moon therein a [reflected] light and made the sun a burning lamp?
71:17
وَٱللَّهُ أَنۢبَتَكُم مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ نَبَاتٗا ١٧
And Allāh has caused you to grow from the earth a [progressive] growth.
71:18
ثُمَّ يُعِيدُكُمۡ فِيهَا وَيُخۡرِجُكُمۡ إِخۡرَاجٗا ١٨
Then He will return you into it and extract you [another] extraction.
71:19
وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ ٱلۡأَرۡضَ بِسَاطٗا ١٩
And Allāh has made for you the earth an expanse
71:20
لِّتَسۡلُكُواْ مِنۡهَا سُبُلٗا فِجَاجٗا ٢٠
That you may follow therein roads of passage.'"
71:21
قَالَ نُوحٞ رَّبِّ إِنَّهُمۡ عَصَوۡنِي وَٱتَّبَعُواْ مَن لَّمۡ يَزِدۡهُ مَالُهُۥ وَوَلَدُهُۥٓ إِلَّا خَسَارٗا ٢١
Noah said, "My Lord, indeed they have disobeyed me and followed him whose wealth and children will not increase him except in loss.
71:22
وَمَكَرُواْ مَكۡرٗا كُبَّارٗا ٢٢
And they conspired an immense conspiracy
71:23
وَقَالُواْ لَا تَذَرُنَّ ءَالِهَتَكُمۡ وَلَا تَذَرُنَّ وَدّٗا وَلَا سُوَاعٗا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسۡرٗا ٢٣
And said, 'Never leave your gods and never leave Wadd or Suwāʿ or Yaghūth and Yaʿūq and Nasr.'1
1 translator’s note
- These were the names of specific idols named after pious men of earlier generations. ↩
71:24
وَقَدۡ أَضَلُّواْ كَثِيرٗاۖ وَلَا تَزِدِ ٱلظَّٰلِمِينَ إِلَّا ضَلَٰلٗا ٢٤
And already they have misled many. And, [my Lord], do not increase the wrongdoers except in error."
71:25
مِّمَّا خَطِيٓـَٰٔتِهِمۡ أُغۡرِقُواْ فَأُدۡخِلُواْ نَارٗا فَلَمۡ يَجِدُواْ لَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ أَنصَارٗا ٢٥
Because of their sins they were drowned and put into the Fire, and they found not for themselves besides Allāh [any] helpers.
71:26
وَقَالَ نُوحٞ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى ٱلۡأَرۡضِ مِنَ ٱلۡكَٰفِرِينَ دَيَّارًا ٢٦
And Noah said, "My Lord, do not leave upon the earth from among the disbelievers an inhabitant.
71:27
إِنَّكَ إِن تَذَرۡهُمۡ يُضِلُّواْ عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوٓاْ إِلَّا فَاجِرٗا كَفَّارٗا ٢٧
Indeed, if You leave them, they will mislead Your servants and not beget except [every] wicked one and [confirmed] disbeliever.
71:28
رَّبِّ ٱغۡفِرۡ لِي وَلِوَٰلِدَيَّ وَلِمَن دَخَلَ بَيۡتِيَ مُؤۡمِنٗا وَلِلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِۖ وَلَا تَزِدِ ٱلظَّٰلِمِينَ إِلَّا تَبَارَۢا ٢٨
My Lord, forgive me and my parents and whoever enters my house a believer and the believing men and believing women. And do not increase the wrongdoers except in destruction."