Al-Jinn 72:2
The Jinn · Juz 29 · Page 572
يَهۡدِيٓ إِلَى ٱلرُّشۡدِ فَـَٔامَنَّا بِهِۦۖ وَلَن نُّشۡرِكَ بِرَبِّنَآ أَحَدٗا ٢
It guides to the right course, and we have believed in it. And we will never associate with our Lord anyone.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 72:1–2
(اے رسول!) کہہ دیجیے! کہ وحی کی گئی ہے میری طرف یہ کہ غور سے سنا ایک جماعت نے جِنُّوں میں سے(قرآن)تو انھوں نے کہا، بلاشبہ ہم نے سنا قرآن عجیب(1) وہ راہنمائی کرتا ہے راہِ حق کی طرف سو ہم ایمان لائے اس پر، اور ہرگز نہیں شریک ٹھہرائیں گے ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو بھی(2)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿قُلۡ﴾ اے رسول! لوگوں سے کہہ دیجیے ﴿اُوۡحِيَ اِلَيَّ اَنَّهُ اسۡتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الۡجِنِّ﴾ ’’میرے پاس وحی آئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے (اس کتاب کو ) سنا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی آیات کے سماع کے لیے اپنے رسول کی طرف متوجہ کیا تاکہ ان پر حجت قائم ہو، ان پر نعمتوں کا اتمام ہو اور وہ اپنی قوم کو متنبہ کرنے والے بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ وہ ان کا قصہ لوگوں کو سنا دیں۔ وہ قصہ یہ ہے کہ جب وہ رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپس میں کہنے لگے ’’خاموش رہو‘‘ پس جب وہ خاموش ہو گئے تو وہ قرآن کے معانی کے فہم سے بہرہ ور ہوئے اور قرآن کے حقائق ان کے دلوں تک پہنچ گئے۔ ﴿فَقَالُوۡۤا اِنَّا سَمِعۡنَا قُرۡاٰنًا عَجَبًا﴾’’تو انھوں نے کہا، ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے۔‘‘ یعنی ہم نے نہایت قیمتی اور تعجب خیز کلام اور نہایت بلند مطالب سنے ہیں۔
[2]﴿يَّهۡدِيۡۤ اِلَى الرُّشۡدِ﴾ ’’وہ (قرآن) رشد کی طرف ہدایت کرتا ہے۔‘‘ ( رُشْدٌ) ہر اس چیز کے لیے جامع نام ہے جو لوگوں کے دین و دنیا کے مصالح کی طرف ان کی راہ نمائی کرے ﴿فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَلَنۡ نُّشۡرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًا﴾ ’’تو ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایمان کو، جس میں اعمال خیر داخل ہیں اور تقویٰ کو، جو ہر قسم کے شر کو ترک کرنے کو متضمن ہے، جمع کر لیا۔ انھوں نے اس کا سبب جس نے ان کو ایمان اور اس کے توابع کی طرف دعوت دی، قرآن کے ان ارشادات کو قرار دیا جن کا ان کو علم ہوا جو مصالح اور فوائد پر مشتمل اور ضرر سے خالی ہیں۔ یہ اس شخص کے لیے بہت بڑی دلیل اور قطعی حجت ہے جو اس سے روشنی حاصل کرتا ہے اور اس کے طریقے کو راہنما بناتا ہے۔یہی وہ ایمان ہے جو نفع مند ہے جو ہر بھلائی سے بہرہ مند کرتا ہے اور جو ہدایت قرآن پر مبنی ہے، برعکس عادی، پیدائشی اور رواجی ایمان کے، کیونکہ یہ تقلیدی ایمان ہے جو شبہات کے خطرات اور بے شمار عوارض میں گھرا ہوا ہے۔
Page 572
سورة الجن
Al-Jinn
The Jinn · Meccan · 28 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
72:1
قُلۡ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ ٱسۡتَمَعَ نَفَرٞ مِّنَ ٱلۡجِنِّ فَقَالُوٓاْ إِنَّا سَمِعۡنَا قُرۡءَانًا عَجَبٗا ١
Say, [O Muḥammad], "It has been revealed to me that a group of the jinn listened and said, 'Indeed, we have heard an amazing Qur’ān [i.e., recitation].
72:2
يَهۡدِيٓ إِلَى ٱلرُّشۡدِ فَـَٔامَنَّا بِهِۦۖ وَلَن نُّشۡرِكَ بِرَبِّنَآ أَحَدٗا ٢
It guides to the right course, and we have believed in it. And we will never associate with our Lord anyone.
72:3
وَأَنَّهُۥ تَعَٰلَىٰ جَدُّ رَبِّنَا مَا ٱتَّخَذَ صَٰحِبَةٗ وَلَا وَلَدٗا ٣
And [it teaches] that exalted is the nobleness of our Lord; He has not taken a wife or a son
72:4
وَأَنَّهُۥ كَانَ يَقُولُ سَفِيهُنَا عَلَى ٱللَّهِ شَطَطٗا ٤
And that our foolish one [i.e., Iblees]1 has been saying about Allāh an excessive transgression.
1 translator’s note
- A plural form may also be understood, i.e., "the foolish ones among us." ↩
72:5
وَأَنَّا ظَنَنَّآ أَن لَّن تَقُولَ ٱلۡإِنسُ وَٱلۡجِنُّ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبٗا ٥
And we had thought that mankind and the jinn would never speak about Allāh a lie.
72:6
وَأَنَّهُۥ كَانَ رِجَالٞ مِّنَ ٱلۡإِنسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٖ مِّنَ ٱلۡجِنِّ فَزَادُوهُمۡ رَهَقٗا ٦
And there were men from mankind who sought refuge in men from the jinn, so they [only] increased them in burden [i.e., sin].
72:7
وَأَنَّهُمۡ ظَنُّواْ كَمَا ظَنَنتُمۡ أَن لَّن يَبۡعَثَ ٱللَّهُ أَحَدٗا ٧
And they had thought, as you thought, that Allāh would never send anyone [as a messenger].
72:8
وَأَنَّا لَمَسۡنَا ٱلسَّمَآءَ فَوَجَدۡنَٰهَا مُلِئَتۡ حَرَسٗا شَدِيدٗا وَشُهُبٗا ٨
And we have sought [to reach] the heaven but found it filled with powerful guards and burning flames.
72:9
وَأَنَّا كُنَّا نَقۡعُدُ مِنۡهَا مَقَٰعِدَ لِلسَّمۡعِۖ فَمَن يَسۡتَمِعِ ٱلۡأٓنَ يَجِدۡ لَهُۥ شِهَابٗا رَّصَدٗا ٩
And we used to sit therein in positions for hearing,1 but whoever listens now will find a burning flame lying in wait for him.
1 translator’s note
- Before the prophethood of Muḥammad (ﷺ) the jinn used to collect information by eavesdropping on the angels and then pass it on to fortunetellers and soothsayers. ↩
72:10
وَأَنَّا لَا نَدۡرِيٓ أَشَرٌّ أُرِيدَ بِمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ أَمۡ أَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدٗا ١٠
And we do not know [therefore] whether evil is intended for those on earth or whether their Lord intends for them a right course.
72:11
وَأَنَّا مِنَّا ٱلصَّٰلِحُونَ وَمِنَّا دُونَ ذَٰلِكَۖ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدٗا ١١
And among us are the righteous, and among us are [others] not so; we were [of] divided ways.1
1 translator’s note
- In opinion, belief and religious practice. ↩
72:12
وَأَنَّا ظَنَنَّآ أَن لَّن نُّعۡجِزَ ٱللَّهَ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَن نُّعۡجِزَهُۥ هَرَبٗا ١٢
And we have become certain that we will never cause failure to Allāh upon earth, nor can we escape Him by flight.
72:13
وَأَنَّا لَمَّا سَمِعۡنَا ٱلۡهُدَىٰٓ ءَامَنَّا بِهِۦۖ فَمَن يُؤۡمِنۢ بِرَبِّهِۦ فَلَا يَخَافُ بَخۡسٗا وَلَا رَهَقٗا ١٣
And when we heard the guidance [i.e., the Qur’ān], we believed in it. And whoever believes in his Lord will not fear deprivation or burden.1
1 translator’s note
- In regard to his account in the Hereafter. Nothing of his good will be diminished, nor will the evil of another be placed upon him. ↩