Al-JinnJuz 29 · Page 573

Al-Jinn 72:21

The Jinn · Juz 29 · Page 573

قُلۡ إِنِّي لَآ أَمۡلِكُ لَكُمۡ ضَرّٗا وَلَا رَشَدٗا ٢١

Say, "Indeed, I do not possess for you [the power of] harm or right direction."

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 72:18–28

اور یہ کہ مسجدیں (صرف) اللہ ہی کے لیے ہیں، پس نہ پکار و تم اللہ کے ساتھ کسی کو بھی (18) اور یہ کہ جب کھڑا ہوا بندہ اللہ کا (محمدﷺ) کہ وہ پکارے اس (اللہ) کو تو قریب تھے وہ کہ ہوں وہ اس پر بھیڑ کر کے پل پڑنے والے(19) کہہ دیجیے! بس میں تو پکارتا ہوں اپنے رب ہی کو اور نہیں شریک ٹھہراتا میں اس کے ساتھ کسی کو (20) کہہ دیجیے! بلاشبہ میں نہیں اختیار رکھتا تمھارے لیے کسی نقصان کا اور نہ بھلائی کا (21) کہہ دیجیے! یقیناً ہرگز نہیں پناہ دے گا مجھے اللہ (کے عذاب) سے کوئی بھی اور ہرگز نہیں پاؤں گا میں اس کے سوا کوئی پناہ گاہ (22)(نہیں اختیار رکھتا میں) سوائے پہنچا دینے کے اللہ کا (حکم) اور اس کےپیغامات اور جو کوئی نافرمانی کرے گا اللہ اور اس کےرسول کی تو بلاشبہ اس کے لیے آتش جہنم ہے ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ابد تک (23) یہاں تک کہ جب وہ دیکھیں گے وہ (عذاب) کہ وعدہ دیے جاتے ہیں وہ (اس کا) تو یقیناً جان لیں گے وہ کہ کون کمزور تر ہے باعتبار مدد گار کے اور کم تر ہے عدد میں (24) کہہ دیجیے! نہیں جانتا میں کیا قریب ہے وہ (عذاب) جس کا وعدہ دیے جاتے ہو تم یا (مقرر) کرتا ہے اس کے لیے میرا رب کوئی لمبی مدت؟ (25)(وہی) عالم الغیب ہے، پس نہیں مطلع کرتا وہ اپنے غیب پر کسی کو بھی (26) مگر جسے وہ پسند کرے (، یعنی ) رسول کو تو بے شک وہ مقرر کرتا ہے اس (رسول) کے آگے اور اس کے پیچھے محافظ (27) تاکہ وہ جان لے یہ کہ انھوں نے پہنچا دیے ہیں پیغامات اپنے رب کے، اور اللہ نے احاطہ کر رکھا ہے ان چیزوں کا جو ان کے پاس ہیں، اور اس نے شمار کر رکھا ہے ہر چیز کا گنتی کے اعتبار سے (28)

[18] یعنی مساجد میں دعائے عبادت يا دعائے مسئلہ غرضیکہ کوئی سی بھی دعا اللہ کے سوا کسی سے نہ کی جائے کیونکہ مساجد اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے سب سے بڑا مقام و محل ہیں جو اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، اس کی عظمت کے سامنے خضوع اور اس کے غلبے کے سامنے فروتنی کی بنیاد پر تعمیر کی گئی ہیں۔

[19]﴿وَاَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبۡدُ اللّٰهِ يَدۡعُوۡهُ ﴾ یعنی جب اللہ کا بندہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے، اس کی عبادت کرتا ہے اور قرآن پڑھتا ہے تو قریب ہے کہ جنات اپنی کثرت کے باعث ﴿ عَلَيۡهِ لِبَدًا﴾ اور جو آپ ہدایت لے کر آئے ہیں، اس میں حرص کی بنا پر، آپ پر ہجوم کریں۔

[20]﴿ قُلۡ﴾ اے رسول! جس چیز کی طرف آپ دعوت دے رہے ہیں، اس کی حقیقت بیان کرتے ہوئے ان سے کہہ دیجیے:﴿ اِنَّمَاۤ اَدۡعُوۡا رَبِّيۡ وَلَاۤ اُشۡرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا﴾ ’’بے شک میں اپنے رب کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ کو ایک مانتا ہوں، اس کا کوئی شریک نہیں، میں اس کے سوا تمام خود ساختہ ہم سروں، بتوں اور ان ہستیوں سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں جن کو مشرکین نے اللہ کے سوا معبود بنا رکھا ہے۔

[21]رسول کریمﷺ كو كہا جا رہا ہے کہ آپ انھیں اس بات کی وضاحت کردیں کہ میں تو ایک بندہ ہوں، معاملے اور تصرف میں مجھے کوئی اختیار نہیں۔[22]﴿ قُلۡ اِنِّيۡ لَنۡ يُّجِيۡرَنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ﴾ ’’کہہ دیجیے: مجھے ہرگز کوئی اللہ سے نہیں بچا سکتا‘‘ یعنی میں کسی سے فریاد رسی نہیں چاہتا جو مجھے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچائے۔ جب رسول اللہﷺ جو مخلوق میں کامل ترین ہستی ہیں کسی نقصان اور رشد و ہدایت کا اختیار نہیں رکھتے، اگر اللہ تعالیٰ آپ کو کوئی تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرے تو آپ اپنے آپ کو اس سے بچا نہیں سکتے توپھر مخلوق میں سے دیگر لوگوں کا اپنے آپ کو بچانے پر قادر نہ ہونا اولیٰ و احری ہے۔ ﴿ وَّلَنۡ اَجِدَ مِنۡ دُوۡنِهٖ مُلۡتَحَدًا﴾ اور اس کے سوا میں کوئی پناہ گاہ اور بچ نکلنے کی جگہ نہیں پاتا۔

[23]﴿اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِسٰؔلٰتِهٖ﴾ مجھے لوگوں پر کوئی خصوصیت حاصل نہیں، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق تک اپنی رسالت پہنچانے اور ان کو اپنی طرف دعوت دینے کے لیے مجھے مختص کیا ہے اور اسی سے لوگوں پر حجت قائم ہوتی ہے۔ ﴿وَمَنۡ يَّعۡصِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا﴾ ’’اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے، ایسے لوگ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ اس سے مراد معصیتِ کفر یہ ہے جیسا کہ دیگر محکم نصوص اس کو مقید کرتی ہیں۔رہی مجرد معصیت تو وہ جہنم میں خلود کی موجب نہیں جیسا کہ قرآن کی آیات اورنبی ٔاکرمﷺکی احادیث دلالت کرتی ہیں، اس پر امت کے تمام اسلاف اور تمام ائمہ کا اجماع ہے۔

[24]﴿ حَتّٰۤى اِذَا رَاَوۡا مَا يُوۡعَدُوۡنَ ﴾ یعنی جب وہ عیاں طور پر اس کا مشاہدہ کریں گے اور انھیں یقین آ جائے گا کہ وہ ان پر واقع ہونے والا ہے ﴿فَسَيَعۡلَمُوۡنَ۠﴾ تب انھیں حقیقت معلوم ہو گی کہ ﴿ مَنۡ اَضۡعَفُ نَاصِرًا وَّاَقَلُّ عَدَدًا﴾’’مددگار کس کے کمزور ہیں اور شمار کن کاتھوڑا ہے۔‘‘ جب کوئی دوسرا ان کی مدد کر سکے گا نہ وہ خود اپنی مدد کر سکیں گے اور جب انھیں اکیلے اکیلے اٹھایا جائے گا جیسا کہ وہ پہلی مرتبہ پیدا کیے گئے تھے۔

[25]﴿ قُلۡ﴾ ’’کہہ دیجیے:‘‘ اگر وہ آپ سے پوچھیں: ﴿مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ ﴾(یونس: 48/10)’’یہ وعدہ کب پورا ہو گا؟‘‘ تو ان سے کہہ دیجیے:﴿ اِنۡ اَدۡرِيۡۤ اَقَرِيۡبٌ مَّا تُوۡعَدُوۡنَ اَمۡ يَجۡعَلُ لَهٗ رَبِّيۡۤ اَمَدًا﴾’’میں نہیں جانتا کہ تم سے جو وعدہ کیا جاتاہے، وہ قریب ہے یا میرے رب نے اس کی مدت دراز کردی ہے؟‘‘ یعنی وہ کوئی طویل مدت مقرر کرتا ہے تو اس کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔[26] مخلوق میں سے کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ وہ اکیلا ہی ضمائر، اسرار اور غیوب کا علم رکھتا ہے۔

[27]﴿اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰى مِنۡ رَّسُوۡلٍ ﴾ ’’مگر جس رسول کو پسند فرمائے۔‘‘ پس اسے صرف اسی غیب سے آگاہ کرتا ہے جس سے آگاہ کرنا اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے رسول دیگر انسانوں کی مانند نہیں ہیں کیونکہ انھیں اللہ تعالیٰ نے ایک خاص تائید سے نوازا ہے جس سے اس نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں نوازا، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف جو وحی کی اس کی حفاظت بھی کی حتیٰ کہ رسول اس وحی کی حقیقت کو پہنچ گئے، بغیر اس کے کہ شیاطین اس کے قریب آئیں اور اس میں کمی بیشی کر سکیں، اس لیے فرمایا:﴿فَاِنَّهٗ يَسۡلُكُ مِنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَمِنۡ خَلۡفِهٖ رَصَدًا﴾ ’’وہ اس کے آگے اور پیچھے نگہبان مقرر کردیتا ہے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔

[28]﴿ لِّيَعۡلَمَ﴾ تاکہ اسے معلوم ہو جائے ﴿ اَنۡ قَدۡ اَبۡلَغُوۡا رِسٰؔلٰتِ رَبِّهِمۡ﴾ ’’کہ انھوں نے اپنے رب کے پیغام پہنچادیے ہیں۔‘‘ ان اسباب کے ذریعے سے جو ان کے لیے اس نے مہیا کیے ﴿ وَاَحَاطَ بِمَا لَدَيۡهِمۡ﴾ ’’اور جو کچھ ان کے پاس ہے اس کا احاطہ کیا ہوا ہے۔‘‘ ، یعنی جو کچھ ان کے پاس ہے جسے وہ چھپاتے ہیں اور جسے وہ ظاہر کرتے ہیں۔ ﴿ وَاَحۡصٰى كُلَّ شَيۡءٍ عَدَدًا﴾ اور ہر چیز کو اس نے شمار کر رکھا ہے۔‘‘

فوائد: یہ سورۂ مبارکہ متعدد فوائد پر مشتمل ہے: (۱) اس سورت سے جنات کا وجود ثابت ہوتا ہے، نیز یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جنات امر و نہی کے مکلف ہیں، ان کو ان کے اعمال کی جزا دی جائے گی جیسا کہ یہ اس سورت میں صریح طور پر مذکور ہے۔ (۲) اس سورۂ کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ رسول اللہﷺ جس طرح انسانوں کی طرف مبعوث کیے گئے تھے، اسی طرح جنات کی طرف بھی مبعوث تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جنات کی ایک جماعت کو آپ کی طرف بھیجا تاکہ وہ قرآن کو غور سے سنیں جو آپ کی طرف وحی کیا جاتا ہے اور پھر اسے اپنی قوم تک پہنچائیں۔ (۳) اس سورۂ مبارکہ سے جنات کی ذہانت اور ان کی معرفتِ حق کا اثبات ہوتا ہے اور جس چیز نے انھیں ایمان لانے پر آمادہ کیا وہ یہ ہے کہ ہدایت قرآن ان پر متحقق ہو گئی، نیز اپنے خطاب میں حسن ادب کی بنا پر (ایمان لانے پر آمادہ ہوئے) ۔ (۴) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اپنے رسول ﷺ پر کامل عنایت تھی اور وہ قرآن اس کی حفاظت میں تھا جسے رسول اللہ ﷺلے کر تشریف لائے۔ پس جب آپ کی نبوت کی بشارتیں شروع ہوئیں، ستاروں کے ذریعے سے آسمان محفوظ تھے، ۔ شیاطین اپنی اپنی جگہیں چھوڑ کر بھاگ گئے اور گھبرا کر اپنی گھاتوں سے نکل گئے۔ اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اہل زمین پر اس قدر رحم فرمایا جس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ ان کے رب نے ان کو رشد و ہدایت سے بہرہ ور کرنے کا ارادہ کیا، پس نے ارادہ فرمایا کہ اپنے دین و شریعت اور اپنی معرفت کو زمین پر ظاہر کرے جس سے دلوں کو بہجت و سرور حاصل ہو، خرد مند لوگ خوش ہوں، شعائر اسلام ظاہر ہوں اور اہل اصنام اور اہل اوثان کا قلع قمع ہو۔ (۵) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ جنات میں رسول اللہ ﷺ(سے قرآن)کو سننے اور آپ پر ہجوم کرنے کی شدید خواہش تھی۔(۶) یہ سورہ کریمہ توحید کے حکم اور شرک کی ممانعت پر مشتمل ہے، نیز اس میں مخلوق کی حالت بیان کی گئی ہے کہ ان میں سے کوئی بھی ذرہ بھر عبادت کا مستحق نہیں کیونکہ جب رسول مصطفیٰ محمدﷺجو مخلوق میں افضل اور کامل ترین ہستی ہیں، کسی کو نفع اور نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتے بلکہ خود اپنی ذات کو نفع نقصان نہیں پہنچا سکتے تو معلوم ہوا کہ اسی طرح تمام مخلوق کسی کو نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ پس جس مخلوق کا یہ وصف ہو، اس کو معبود بنانا خطا اور ظلم ہے۔ (۷) اس سورۂ مبارکہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ علوم غیب کا علم رکھنے میں اللہ تعالیٰ منفرد ہے مخلوق میں سے کوئی ہستی غیب کا علم نہیں جانتی، سوائے اس کے جس پر اللہ تعالیٰ راضی ہو اور کسی چیز کا علم عطا کرنے کے لیے اسے مختص کرے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 573

Al-JinnJuz 29 · Page 573

72:14

وَأَنَّا مِنَّا ٱلۡمُسۡلِمُونَ وَمِنَّا ٱلۡقَٰسِطُونَۖ فَمَنۡ أَسۡلَمَ فَأُوْلَٰٓئِكَ تَحَرَّوۡاْ رَشَدٗا ١٤

And among us are Muslims [in submission to Allāh], and among us are the unjust.1 And whoever has become Muslim - those have sought out the right course.

1 translator’s note
  1. i.e., those who deviate from the truth and act tyrannically. ↩

72:15

وَأَمَّا ٱلۡقَٰسِطُونَ فَكَانُواْ لِجَهَنَّمَ حَطَبٗا ١٥

But as for the unjust, they will be, for Hell, firewood.'

72:16

وَأَلَّوِ ٱسۡتَقَٰمُواْ عَلَى ٱلطَّرِيقَةِ لَأَسۡقَيۡنَٰهُم مَّآءً غَدَقٗا ١٦

And [Allāh revealed] that if they had remained straight on the way, We would have given them abundant rain [i.e., provision]

72:17

لِّنَفۡتِنَهُمۡ فِيهِۚ وَمَن يُعۡرِضۡ عَن ذِكۡرِ رَبِّهِۦ يَسۡلُكۡهُ عَذَابٗا صَعَدٗا ١٧

So We might test them therein. And whoever turns away from the remembrance of his Lord1 He will put into arduous punishment.

1 translator’s note
  1. i.e., refuses obedience to Him. ↩

72:18

وَأَنَّ ٱلۡمَسَٰجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدۡعُواْ مَعَ ٱللَّهِ أَحَدٗا ١٨

And [He revealed] that the masjids1 are for Allāh, so do not invoke2 with Allāh anyone.

2 translator’s notes
  1. The term "masjid" here includes every place of worship or the earth in general.

    [1773] Or "worship."

    ↩
  2. ↩

72:19

وَأَنَّهُۥ لَمَّا قَامَ عَبۡدُ ٱللَّهِ يَدۡعُوهُ كَادُواْ يَكُونُونَ عَلَيۡهِ لِبَدٗا ١٩

And that when the Servant [i.e., Prophet] of Allāh stood up supplicating Him, they almost became about him a compacted mass."1

1 translator’s note
  1. Crowding on top of each other in the manner of locusts in order to hear him (ﷺ). "They" may refer to the jinn or to the disbelievers among the Arabs. ↩

72:20

قُلۡ إِنَّمَآ أَدۡعُواْ رَبِّي وَلَآ أُشۡرِكُ بِهِۦٓ أَحَدٗا ٢٠

Say, [O Muḥammad], "I only invoke my Lord and do not associate with Him anyone."

72:21

قُلۡ إِنِّي لَآ أَمۡلِكُ لَكُمۡ ضَرّٗا وَلَا رَشَدٗا ٢١

Say, "Indeed, I do not possess for you [the power of] harm or right direction."

72:22

قُلۡ إِنِّي لَن يُجِيرَنِي مِنَ ٱللَّهِ أَحَدٞ وَلَنۡ أَجِدَ مِن دُونِهِۦ مُلۡتَحَدًا ٢٢

Say, "Indeed, there will never protect me from Allāh anyone [if I should disobey], nor will I find in other than Him a refuge.

72:23

إِلَّا بَلَٰغٗا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِسَٰلَٰتِهِۦۚ وَمَن يَعۡصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَإِنَّ لَهُۥ نَارَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًا ٢٣

But [I have for you] only notification from Allāh, and His messages." And whoever disobeys Allāh and His Messenger - then indeed, for him is the fire of Hell; they will abide therein forever.

72:24

حَتَّىٰٓ إِذَا رَأَوۡاْ مَا يُوعَدُونَ فَسَيَعۡلَمُونَ مَنۡ أَضۡعَفُ نَاصِرٗا وَأَقَلُّ عَدَدٗا ٢٤

[The disbelievers continue] until, when they see that which they are promised, then they will know who is weaker in helpers and less in number.

72:25

قُلۡ إِنۡ أَدۡرِيٓ أَقَرِيبٞ مَّا تُوعَدُونَ أَمۡ يَجۡعَلُ لَهُۥ رَبِّيٓ أَمَدًا ٢٥

Say, "I do not know if what you are promised is near or if my Lord will grant for it a [long] period."

72:26

عَٰلِمُ ٱلۡغَيۡبِ فَلَا يُظۡهِرُ عَلَىٰ غَيۡبِهِۦٓ أَحَدًا ٢٦

[He is] Knower of the unseen, and He does not disclose His [knowledge of the] unseen to anyone

72:27

إِلَّا مَنِ ٱرۡتَضَىٰ مِن رَّسُولٖ فَإِنَّهُۥ يَسۡلُكُ مِنۢ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَمِنۡ خَلۡفِهِۦ رَصَدٗا ٢٧

Except whom He has approved of messengers, and indeed, He sends before him [i.e., each messenger] and behind him observers1

1 translator’s note
  1. Guardian angels to protect the messenger and the message. ↩

72:28

لِّيَعۡلَمَ أَن قَدۡ أَبۡلَغُواْ رِسَٰلَٰتِ رَبِّهِمۡ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيۡهِمۡ وَأَحۡصَىٰ كُلَّ شَيۡءٍ عَدَدَۢا ٢٨

That he [i.e., Muḥammad (ﷺ)] may know1 that they have conveyed the messages of their Lord; and He has encompassed whatever is with them and has enumerated all things in number.

1 translator’s note
  1. This phrase may also be read: "So He [i.e., Allāh] may make evident." ↩
As-Sa'diTafsir · 72:21

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском