Al-MuddaththirJuz 29 · Page 576

Al-Muddaththir 74:21

The Cloaked One · Juz 29 · Page 576

ثُمَّ نَظَرَ ٢١

Then he considered [again];

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 74:11–31

چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جسے میں نے پیدا کیا اکیلا ہی (11) اور کیا میں نے اس کے لیے مال پھیلا ہوا (12) اور (دیے) بیٹے حاضر رہنے والے (13) اور فراخی کی میں نے اس کے لیے خوب فراخی کرنا (14) پھر طمع کرتا ہے وہ یہ کہ میں (اور) زیادہ دوں (اسے)(15) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ ہے ہماری آیات سے سخت عناد رکھنے والا (16) عنقریب میں چڑھاؤں گا اسے دشوار گزار گھاٹی پر (17) بلاشبہ اس نے (غور و ) فکر کیا اور اندازہ لگایا (18) پس ہلاک کیا جائے وہ کیسا اندازہ لگایا اس نے؟(19) پھر ہلاک کیا جائے وہ، کیسا اندازہ لگایا اس نے؟ (20) پھر اس نے دیکھا (21) پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بسورا (22) پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا (23) پھر اس نے کہا، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر جادو جو نقل کیا جاتا ہے (24) نہیں ہے یہ مگر قول ایک بشر ہی کا (25) عنقریب میں داخل کروں گا اسے جہنم میں (26) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے جہنم (27) نہ وہ باقی رکھے گی اور نہ وہ چھوڑے گی (28) جھلسا دینے والی ہے چمڑے کو(29) اس پر (مقرر) ہیں انیس (فرشتے)(30) اور نہیں بنائے ہم نے نگران آگ کے مگر فرشتے ہی، اور نہیں بنائی ہم نے (یہ) تعداد ان کی مگر آزمائش کے لیے ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، تاکہ یقین کر لیں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور زیادہ ہوں وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں، ایمان میں اور (تاکہ) نہ شک کریں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور مومن، اور تاکہ کہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور کافر، کس چیز کا ارادہ کیا ہے اللہ نے ساتھ اس (عدد) کے ازروئے مثال کے؟ اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور (کوئی) نہیں جانتا لشکر آپ کے رب کے مگر وہ (خود ہی)، اور نہیں ہے وہ (جہنم) مگر نصیحت (جنس) بشر کے لیے (31)

[30-11] یہ آیات کریمہ معاند حق اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کھلی جنگ کرنے والے، ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ایسی مذمت کی ہے کہ ایسی مذمت کسی کی نہیں کی، یہ ہر اس شخص کی جزا ہے جو حق کے ساتھ عناد اور دشمنی رکھتا ہے، اس کے لیے دنیا کے اندر رسوائی ہے اور آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کن ہے۔ فرمایا:﴿ ذَرۡنِيۡ وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيۡدًا﴾ ’’مجھے اوراس شخص کو چھوڑدو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔‘‘ یعنی میں نے اسے اکیلا کسی مال اور اہل و عیال وغیرہ کے بغیر پیدا کیا، پس اس کی پرورش کرتا اور اسے عطا کرتا رہا۔ ﴿ وَّجَعَلۡتُ لَهٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا﴾ اور میں نے اسے بہت زیادہ مال دیا ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ اسے عطا کیے ﴿ بَنِيۡنَ﴾ ’’بیٹے‘‘ ﴿ شُهُوۡدًا﴾ جو ہمیشہ اس کے پاس موجود رہتے ہیں، وہ ان سے متمتع ہوتا ہے، ان کے ذریعے سے اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے اور (دشمنوں کے خلاف) ان سے مدد لیتا ہے ﴿ وَّمَهَّدۡتُّ لَهٗ تَمۡهِيۡدًا﴾ میں نے دنیا اور اس کے اسباب پر اسے اختیار دیا، یہاں تک کہ اس کے تمام مطالب آسان ہو گئے اور اس نے ہر وہ چیز حاصل کر لی جو وہ چاہتا تھا اور جس کی اسے خواہش تھی ﴿ ثُمَّ﴾پھر ان نعمتوں اور بھلائیوں کے باوجود ﴿يَطۡمَعُ اَنۡ اَزِيۡدَ﴾’’خواہش رکھتا ہے کہ میں اورزیادہ دوں۔‘‘ یعنی وہ چاہتا ہے کہ اسے آخرت کی نعمتیں بھی اسی طرح حاصل ہوں جس طرح اسے دنیا کی نعمتیں حاصل ہوئی ہیں۔﴿ كَلَّا﴾ یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ وہ چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے مطلوب و مقصود کے برعکس ہو گا۔اس کا سبب یہ ہے کہ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيۡدًا﴾ وہ ہماری آیتوں سے عناد رکھتا ہے، اس نے ان آیات کو پہچان کر ان کا انکار کر دیا، ان آیات نے اسے حق کی طرف دعوت دی مگر اس نے ان کی اطاعت نہ کی۔ اس نے صرف ان سے روگردانی کرنے اور منہ موڑنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف جنگ کی اور ان کے ابطال کے لیے بھاگ دوڑ کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا:﴿ اِنَّهٗ فَؔكَّـرَ ﴾ یعنی اس نے اپنے دل میں غور کیا ﴿ وَقَدَّرَ﴾ جس کے بارے میں غور کیا، اس کو تجویز کیا تاکہ وہ ایسی بات کہے جس کے ذریعے سے وہ قرآن کا ابطال کر سکے۔ ﴿ فَقُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَۙ۰۰ثُمَّ قُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ﴾ ’’پس وہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی، پھروہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی۔‘‘ کیونکہ اس نے ایسی تجویز سوچی جو اس کی حدود میں نہیں، اس نے ایسے معاملے میں ہاتھ ڈالا جو اس کی اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی پہنچ میں نہیں۔ ﴿ ثُمَّ نَظَرَ﴾ پھر اس نے جو کچھ کہا اس میں غور کیا ﴿ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ﴾ ، پھر اس نے تیوری چڑھائی اور اپنے منہ کو بگاڑا اور حق سے نفرت اوربغض ظاہر کیا ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ﴾ ، پھر پیٹھ پھیر کر چل دیا ﴿ وَاسۡتَكۡبَرَ﴾ اپنی فکری، عملی اور قولی کوشش کے نتیجے میں تکبر کیا اور کہا:﴿ فَقَالَ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ يُّؤۡثَرُۙ۰۰ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِ﴾ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ انسان کا کلام ہے، نیز یہ کسی نیک انسان کا کلام نہیں بلکہ انسانوں میں سے اشرار، فجار، جھوٹے اور جادوگر کا کلام ہے۔ ہلاکت ہو اس کے لیے، راہ صواب سے کتنا دور، خسارے اور نقصان کا کتنا مستحق ہے! یہ بات ذہنوں میں کیسے گھومتی ہے یا کسی انسان کا ضمیر یہ کیسے تصور کر سکتا ہے کہ سب سے اعلیٰ اور عظیم ترین کلام، رب کریم، صاحب مجد و عظمت کا کلام، ناقص اور محتاج مخلوق کے کلام سے مشابہت رکھتا ہے؟ یا یہ عناد پسند جھوٹا شخص، اللہ تعالیٰ کے کلام کو اس وصف سے موصوف کرنے کی کیوں کر جرأت کرتا ہے؟پس یہ سخت عذاب کے سوا کسی چیز کا مستحق نہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَاُصۡلِيۡهِ سَقَرَ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سَقَرُ ۰۰لَا تُبۡقِيۡ وَ لَا تَذَرُ﴾ ’’ہم عنقریب اس کو ’’سقر‘‘ میں داخل کریں گےاورتمہیں کیا معلوم کہ سقر کیا ہے؟ (وہ آگ ہے) کہ باقی رکھے گی نہ چھوڑے گی‘‘ یعنی جہنم کوئی ایسی سختی نہیں چھوڑے گی جو عذاب دیے جانے والے کو نہ پہنچے ﴿لَوَّاحَةٌ لِّلۡبَشَرِ﴾ ’’چمڑی جھلسا دینے والی ہے‘‘ یعنی جہنم ان کو اپنے عذاب میں جھلس ڈالے گی اور اپنی شدید گرمی اور شدید سردی سے انھیں بے چین کر دے گی۔ ﴿عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَ﴾ ، یعنی جہنم پر انیس فرشتے داروغوں کے طور پر متعین ہیں جو نہایت سخت اور درشت خو ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔

[31]﴿وَمَا جَعَلۡنَاۤ اَصۡحٰؔبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’ہم نے جہنم کے داروغے، فرشتے بنائے ہیں۔‘‘ یہ ان کی سختی اور قوت کی بنا پر ہے۔ ﴿وَّمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَهُمۡ اِلَّا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اور ہم نے ان کی گنتی کافروں کی آزمائش کے لیے کی ہے۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ یہ صرف آخرت میں ان کو عذاب اور عقوبت اور جہنم میں ان کو زیادہ سزا دینے کے لیے ہے۔ عذاب کو فتنہ سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ﴾(الذاریات:51؍13) ’’اس دن جب ان کو جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔‘‘ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہم نے تمھیں ان کی تعداد کے بارے میں صرف اس لیے بتایا ہے تاکہ ہم جان لیں کہ کون تصدیق کرتا اور کون تکذیب کرتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿لِيَسۡتَيۡقِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَيَزۡدَادَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِيۡمَانًا﴾ ’’تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو۔‘‘ کیونکہ اہل کتاب کے پاس جو کچھ ہے، جب قرآن اس کی مطابقت کرے گا تو حق کے بارے میں ان کے یقین میں اضافہ ہو گا اور جب بھی اللہ تعالیٰ کوئی آیت نازل کرتا ہے تو اہل ایمان اس پر ایمان لاتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ﴿وَّلَا يَرۡتَابَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’نیز اہل کتاب اور مومن شک نہ کریں۔‘‘ یعنی تاکہ ان سے شک و ریب زائل ہو جائے۔ان جلیل القدر مقاصد کو خرد مند لوگ ہی درخور اعتنا سمجھتے ہیں ، یعنی یقین میں کوشش، ایمان میں ہر وقت اضافہ، دین کے مسائل میں سے ہر مسئلہ پر ایمان میں اضافہ اور شکوک و اوہام کو دور کرنا جو حق کے بارے میں پیش آتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اپنے رسول پر نازل کیا ہے، اسے ان مقاصد جلیلہ کو حاصل کرنے کا ذریعہ، سچے اور جھوٹے لوگوں کے درمیان امتیاز کی میزان قرار دیا ہے، بنابریں فرمایا:﴿وَلِيَقُوۡلَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے، کہیں:‘‘ یعنی شک و شبہ اور نفاق کا مرض ہے﴿وَّالۡكٰفِرُوۡنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰؔذَا مَثَلًا﴾ ’’اور کافر (کہیں) کہ اس مثال سے اللہ کا مقصود کیاہے؟‘‘ وہ یہ بات حیرت، شک اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کی وجہ سے کہتے ہیں اور یہ اس شخص کے لیے ہدایت ہے جسے وہ ہدایت سے بہرہ مند کرتا ہے اور اس شخص کے لیے گمراہی ہے جسے وہ گمراہ کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اسی طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘ پس اللہ جس کو ہدایت عطا کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا، اسے اس کے حق میں رحمت، اور اس کے دین و ایمان میں اضافے کا باعث بنا دیتا ہے اور جسے گمراہ کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اسے اس کے حق میں ظلمت اور اس کے لیے بدبختی اور حیرت کا سبب بنا دیتا ہے ۔ واجب ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے خبر دی ہے اسے اطاعت و تسلیم کے ساتھ قبول کیا جائے۔فرشتوں وغیرہ میں سے کوئی بھی تمھارے رب کے لشکروں کو نہیں جانتا ﴿اِلَّا هُوَ﴾ ’’سوائے اس (اللہ ) کے۔‘‘ پس جب تم اللہ تعالیٰ کے لشکروں کے بارے میں علم نہیں رکھتے تھے اور علیم و خبیر نے ہی تمھیں ان کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تو تم پر واجب ہے کہ تم اس کی خبر کی کسی شک و ریب کے بغیر تصدیق کرو۔ ﴿وَمَا هِيَ اِلَّا ذِكۡرٰى لِلۡبَشَرِ﴾ یعنی اس نصیحت اور تذکیر کا مقصد محض عبث اور لہو و لعب نہیں، اس کا مقصد تو یہ ہے کہ انسان اس سے نصیحت پکڑیں جو چیز ان کو فائدہ دے اس پر عمل کریں اور جو چیز ان کو نقصان دے اسے ترک کر دیں۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 576

Al-MuddaththirJuz 29 · Page 576

74:18

إِنَّهُۥ فَكَّرَ وَقَدَّرَ ١٨

Indeed, he thought and deliberated.1

1 translator’s note
  1. About what he would say concerning the Qur’ān and how he might discredit the Prophet (ﷺ). ↩

74:19

فَقُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ ١٩

So may he be destroyed [for] how he deliberated.

74:20

ثُمَّ قُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ ٢٠

Then may he be destroyed [for] how he deliberated.

74:21

ثُمَّ نَظَرَ ٢١

Then he considered [again];

74:22

ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ٢٢

Then he frowned and scowled;

74:23

ثُمَّ أَدۡبَرَ وَٱسۡتَكۡبَرَ ٢٣

Then he turned back and was arrogant

74:24

فَقَالَ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ يُؤۡثَرُ ٢٤

And said, "This is not but magic imitated [from others].

74:25

إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا قَوۡلُ ٱلۡبَشَرِ ٢٥

This is not but the word of a human being."

74:26

سَأُصۡلِيهِ سَقَرَ ٢٦

I will drive him into Saqar.1

1 translator’s note
  1. One of the proper names of Hell. ↩

74:27

وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا سَقَرُ ٢٧

And what can make you know what is Saqar?

74:28

لَا تُبۡقِي وَلَا تَذَرُ ٢٨

It lets nothing remain and leaves nothing [unburned],

74:29

لَوَّاحَةٞ لِّلۡبَشَرِ ٢٩

Altering [i.e., blackening] the skins.

74:30

عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَ ٣٠

Over it are nineteen [angels].

74:31

وَمَا جَعَلۡنَآ أَصۡحَٰبَ ٱلنَّارِ إِلَّا مَلَٰٓئِكَةٗۖ وَمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَهُمۡ إِلَّا فِتۡنَةٗ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ لِيَسۡتَيۡقِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ وَيَزۡدَادَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِيمَٰنٗا وَلَا يَرۡتَابَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَ وَلِيَقُولَ ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ وَٱلۡكَٰفِرُونَ مَاذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِهَٰذَا مَثَلٗاۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ ٱللَّهُ مَن يَشَآءُ وَيَهۡدِي مَن يَشَآءُۚ وَمَا يَعۡلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَۚ وَمَا هِيَ إِلَّا ذِكۡرَىٰ لِلۡبَشَرِ ٣١

And We have not made the keepers of the Fire except angels. And We have not made their number except as a trial for those who disbelieve - that those who were given the Scripture will be convinced and those who have believed will increase in faith and those who were given the Scripture and the believers will not doubt and that those in whose hearts is disease [i.e., hypocrisy] and the disbelievers will say, "What does Allāh intend by this as an example?" Thus does Allāh send astray whom He wills and guide whom He wills. And none knows the soldiers of your Lord except Him. And it [i.e., mention of the Fire] is not but a reminder to humanity.

74:32

كـَلَّا وَٱلۡقَمَرِ ٣٢

No! By the moon

74:33

وَٱلَّيۡلِ إِذۡ أَدۡبَرَ ٣٣

And [by] the night when it departs

74:34

وَٱلصُّبۡحِ إِذَآ أَسۡفَرَ ٣٤

And [by] the morning when it brightens,

74:35

إِنَّهَا لَإِحۡدَى ٱلۡكُبَرِ ٣٥

Indeed, it [i.e., the Fire] is of the greatest [afflictions]

74:36

نَذِيرٗا لِّلۡبَشَرِ ٣٦

As a warning to humanity -

74:37

لِمَن شَآءَ مِنكُمۡ أَن يَتَقَدَّمَ أَوۡ يَتَأَخَّرَ ٣٧

To whoever wills among you to proceed1 or stay behind.

1 translator’s note
  1. To righteousness by acceptance of the warning. ↩

74:38

كُلُّ نَفۡسِۭ بِمَا كَسَبَتۡ رَهِينَةٌ ٣٨

Every soul, for what it has earned, will be retained1

1 translator’s note
  1. i.e., subject or held responsible. ↩

74:39

إِلَّآ أَصۡحَٰبَ ٱلۡيَمِينِ ٣٩

Except the companions of the right,1.

1 translator’s note
  1. i.e., the righteous who receive their records in their right hands. ↩

74:40

فِي جَنَّٰتٖ يَتَسَآءَلُونَ ٤٠

[Who will be] in gardens, questioning each other

74:41

عَنِ ٱلۡمُجۡرِمِينَ ٤١

About the criminals,

74:42

مَا سَلَكَكُمۡ فِي سَقَرَ ٤٢

[And asking them], "What put you into Saqar?"

74:43

قَالُواْ لَمۡ نَكُ مِنَ ٱلۡمُصَلِّينَ ٤٣

They will say, "We were not of those who prayed,

74:44

وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ ٱلۡمِسۡكِينَ ٤٤

Nor did we used to feed the poor.

74:45

وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ ٱلۡخَآئِضِينَ ٤٥

And we used to enter into vain discourse with those who engaged [in it],

74:46

وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ ٱلدِّينِ ٤٦

And we used to deny the Day of Recompense

74:47

حَتَّىٰٓ أَتَىٰنَا ٱلۡيَقِينُ ٤٧

Until there came to us the certainty [i.e., death]."

As-Sa'diTafsir · 74:21

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском