Al-MuddaththirJuz 29 · Page 576

Al-Muddaththir 74:37

The Cloaked One · Juz 29 · Page 576

لِمَن شَآءَ مِنكُمۡ أَن يَتَقَدَّمَ أَوۡ يَتَأَخَّرَ ٣٧

To whoever wills among you to proceed1 or stay behind.

1 translator’s note
  1. To righteousness by acceptance of the warning. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 74:32–56

ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56)

[34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔

[37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘

[48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔

[53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔

[56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 576

Al-MuddaththirJuz 29 · Page 576

74:18

إِنَّهُۥ فَكَّرَ وَقَدَّرَ ١٨

Indeed, he thought and deliberated.1

1 translator’s note
  1. About what he would say concerning the Qur’ān and how he might discredit the Prophet (ﷺ). ↩

74:19

فَقُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ ١٩

So may he be destroyed [for] how he deliberated.

74:20

ثُمَّ قُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ ٢٠

Then may he be destroyed [for] how he deliberated.

74:21

ثُمَّ نَظَرَ ٢١

Then he considered [again];

74:22

ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ٢٢

Then he frowned and scowled;

74:23

ثُمَّ أَدۡبَرَ وَٱسۡتَكۡبَرَ ٢٣

Then he turned back and was arrogant

74:24

فَقَالَ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ يُؤۡثَرُ ٢٤

And said, "This is not but magic imitated [from others].

74:25

إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا قَوۡلُ ٱلۡبَشَرِ ٢٥

This is not but the word of a human being."

74:26

سَأُصۡلِيهِ سَقَرَ ٢٦

I will drive him into Saqar.1

1 translator’s note
  1. One of the proper names of Hell. ↩

74:27

وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا سَقَرُ ٢٧

And what can make you know what is Saqar?

74:28

لَا تُبۡقِي وَلَا تَذَرُ ٢٨

It lets nothing remain and leaves nothing [unburned],

74:29

لَوَّاحَةٞ لِّلۡبَشَرِ ٢٩

Altering [i.e., blackening] the skins.

74:30

عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَ ٣٠

Over it are nineteen [angels].

74:31

وَمَا جَعَلۡنَآ أَصۡحَٰبَ ٱلنَّارِ إِلَّا مَلَٰٓئِكَةٗۖ وَمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَهُمۡ إِلَّا فِتۡنَةٗ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ لِيَسۡتَيۡقِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ وَيَزۡدَادَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِيمَٰنٗا وَلَا يَرۡتَابَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَ وَلِيَقُولَ ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ وَٱلۡكَٰفِرُونَ مَاذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِهَٰذَا مَثَلٗاۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ ٱللَّهُ مَن يَشَآءُ وَيَهۡدِي مَن يَشَآءُۚ وَمَا يَعۡلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَۚ وَمَا هِيَ إِلَّا ذِكۡرَىٰ لِلۡبَشَرِ ٣١

And We have not made the keepers of the Fire except angels. And We have not made their number except as a trial for those who disbelieve - that those who were given the Scripture will be convinced and those who have believed will increase in faith and those who were given the Scripture and the believers will not doubt and that those in whose hearts is disease [i.e., hypocrisy] and the disbelievers will say, "What does Allāh intend by this as an example?" Thus does Allāh send astray whom He wills and guide whom He wills. And none knows the soldiers of your Lord except Him. And it [i.e., mention of the Fire] is not but a reminder to humanity.

74:32

كـَلَّا وَٱلۡقَمَرِ ٣٢

No! By the moon

74:33

وَٱلَّيۡلِ إِذۡ أَدۡبَرَ ٣٣

And [by] the night when it departs

74:34

وَٱلصُّبۡحِ إِذَآ أَسۡفَرَ ٣٤

And [by] the morning when it brightens,

74:35

إِنَّهَا لَإِحۡدَى ٱلۡكُبَرِ ٣٥

Indeed, it [i.e., the Fire] is of the greatest [afflictions]

74:36

نَذِيرٗا لِّلۡبَشَرِ ٣٦

As a warning to humanity -

74:37

لِمَن شَآءَ مِنكُمۡ أَن يَتَقَدَّمَ أَوۡ يَتَأَخَّرَ ٣٧

To whoever wills among you to proceed1 or stay behind.

1 translator’s note
  1. To righteousness by acceptance of the warning. ↩

74:38

كُلُّ نَفۡسِۭ بِمَا كَسَبَتۡ رَهِينَةٌ ٣٨

Every soul, for what it has earned, will be retained1

1 translator’s note
  1. i.e., subject or held responsible. ↩

74:39

إِلَّآ أَصۡحَٰبَ ٱلۡيَمِينِ ٣٩

Except the companions of the right,1.

1 translator’s note
  1. i.e., the righteous who receive their records in their right hands. ↩

74:40

فِي جَنَّٰتٖ يَتَسَآءَلُونَ ٤٠

[Who will be] in gardens, questioning each other

74:41

عَنِ ٱلۡمُجۡرِمِينَ ٤١

About the criminals,

74:42

مَا سَلَكَكُمۡ فِي سَقَرَ ٤٢

[And asking them], "What put you into Saqar?"

74:43

قَالُواْ لَمۡ نَكُ مِنَ ٱلۡمُصَلِّينَ ٤٣

They will say, "We were not of those who prayed,

74:44

وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ ٱلۡمِسۡكِينَ ٤٤

Nor did we used to feed the poor.

74:45

وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ ٱلۡخَآئِضِينَ ٤٥

And we used to enter into vain discourse with those who engaged [in it],

74:46

وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ ٱلدِّينِ ٤٦

And we used to deny the Day of Recompense

74:47

حَتَّىٰٓ أَتَىٰنَا ٱلۡيَقِينُ ٤٧

Until there came to us the certainty [i.e., death]."

As-Sa'diTafsir · 74:37

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском