Al-QiyamahJuz 29 · Page 578

Al-Qiyamah 75:40

The Resurrection · Juz 29 · Page 578

أَلَيۡسَ ذَٰلِكَ بِقَٰدِرٍ عَلَىٰٓ أَن يُحۡـِۧيَ ٱلۡمَوۡتَىٰ ٤٠

Is not that [Creator] Able to give life to the dead?

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 75:26–40

ہرگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا (اسے)(38) پھر بنایا اس سے جوڑا نراور مادہ(39) کیا نہیں ہے وہ (اللہ) قادر اس بات پر کہ وہ زندہ کر دے مردوں کو؟ (40)

[30-26] اللہ تبارک و تعالیٰ قریب المرگ شخص کا حال بیان کر کے اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے، جبکہ اس کی روح ہنسلی کی ہڈی (حلق) تک پہنچ جائے گی۔ ﴿التَّرَاقِيَ﴾سے مراد وہ ہڈیاں ہیں جنھوں نے سینے کے گڑھے کا احاطہ کر رکھا ہے، پس اس وقت نہایت شدید درد ہوگا اور انسان ہر وہ سبب اور وسیلہ تلاش کرے گا جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہوگا کہ اس سے شفا اور راحت حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَقِيۡلَ مَنۡ١ٚ رَاقٍ﴾ یعنی کہا جائے گا کہ کون ہے جو اس پر جھاڑ پھونک کرے؟ کیونکہ اسباب عادیہ پر ان کی امیدیں منقطع ہو کر اسباب الٰہیہ پر لگ گئی ہیں مگر جب قضا و قدر کا فیصلہ آ جاتا ہے تو اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔﴿وَّظَنَّ اَنَّهُ الۡفِرَاقُ﴾ اور اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اب دنیا سے جدائی ہے ﴿ وَالۡتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ﴾ ’’اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔‘‘ یعنی تمام سختیاں جمع ہو کر لپٹ جائیں گی، معاملہ بہت بڑا اور کرب بہت سخت ہو جائے گا، خواہش ہو گی کہ بدن سے روح نکل جائے جو اس سے لپٹی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ہے۔ پس روح کو اللہ تعالیٰ کے پاس لے جایا جائے گا تاکہ وہ اس کو اس کے اعمال کی جزا دے اور اس کے کرتوتوں کا اقرار کرائے۔یہ زجر و توبیخ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، دلوں کو اس منزل کی طرف لے کر چلتی ہے جس میں ان کی نجات ہے اور ان امور سے روکتی ہے جن میں ان کی ہلاکت ہے۔

[33-31] مگر وہ معاند حق جسے آیات کوئی فائدہ نہیں دیتیں، وہ اپنی گمراہی، کفر اور عناد پر جما رہتا ہے۔﴿ فَلَا صَدَّقَ﴾ ’’پس نہ اس نے تصدیق کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ لایا ﴿ وَلَا صَلّٰى۰۰ وَلٰكِنۡ كَذَّبَ﴾ اور نہ اس نے نماز ہی پڑھی بلکہ اس نے حق کی تصدیق کرنے کی بجائے تکذیب کی ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور امر و نہی سے روگردانی کی، یہی وہ شخص ہے جس کا دل مطمئن اور اپنے رب سے بے خوف ہے بلکہ وہ چلا جاتا ہے﴿ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ يَتَمَطّٰى﴾ ’’ اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا ہوا‘‘ یعنی اس کو کوئی پروا نہیں ہوئی۔

[35,34] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو وعید سنائی، فرمایا:﴿ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰىۙ۰۰ثُمَّ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰى﴾ ’’افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے، پھر افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے۔‘‘ یہ وعید کے کلمات ہیں اور تکرار وعید کے لیے ان کو مکرر کہا ہے۔

[40-36] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ابتدائی تخلیق کی یاد دلائی، چنانچہ فرمایا:﴿ اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ يُّتۡرَكَ سُدًى﴾ یعنی کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے مہمل چھوڑ دیا جائے گا، اسے نیکی کا حکم دیا جائے گا نہ برائی سے روکا جائے گا، اسے ثواب عطا کیا جائے گا نہ عقاب میں مبتلا کیا جائے گا؟ یہ باطل گمان اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوئے ظن ہے جو اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ ﴿ اَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةً مِّنۡ مَّنِيٍّ يُّمۡنٰىۙ۰۰ ثُمَّ كَانَ﴾ ’’کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو رحم میں ڈالا جاتا ہے، پھر ہوگیا؟‘‘ یعنی منی کے بعد﴿ عَلَقَةً ﴾ خون کا لوتھڑا ﴿ فَخَلَقَ ﴾ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے جاندار پیدا کیا اور اسے درست کیا ، یعنی اس کو مہارت سے محکم کر کے بنایا ﴿ فَجَعَلَ مِنۡهُ الزَّوۡجَيۡنِ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰى۰۰ اَلَيۡسَ ذٰلِكَ ﴾ ’’پھر اس سے نر اور مادہ جوڑے بنائے کیا نہیں ہے وہ۔‘‘ یعنی وہ جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو ان مختلف مراحل سے گزارا ﴿ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يُّحۡيَِۧ الۡمَوۡتٰى﴾ ’’اس پر قادر کہ وہ مردوں کو زندہ کردے؟‘‘ کیوں نہیں! وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 578

Al-QiyamahJuz 29 · Page 578

75:20

كـَلَّا بَلۡ تُحِبُّونَ ٱلۡعَاجِلَةَ ٢٠

No! But you [i.e., mankind] love the immediate

75:21

وَتَذَرُونَ ٱلۡأٓخِرَةَ ٢١

And leave [i.e., neglect] the Hereafter.

75:22

وُجُوهٞ يَوۡمَئِذٖ نَّاضِرَةٌ ٢٢

[Some] faces, that Day, will be radiant,

75:23

إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٞ ٢٣

Looking at their Lord.1

1 translator’s note
  1. The people of Paradise will actually see their Creator in the Hereafter. ↩

75:24

وَوُجُوهٞ يَوۡمَئِذِۭ بَاسِرَةٞ ٢٤

And [some] faces, that Day, will be contorted,

75:25

تَظُنُّ أَن يُفۡعَلَ بِهَا فَاقِرَةٞ ٢٥

Expecting that there will be done to them [something] backbreaking.

75:26

كـَلَّآ إِذَا بَلَغَتِ ٱلتَّرَاقِيَ ٢٦

No! When it [i.e., the soul] has reached the collar bones1

1 translator’s note
  1. At the time it is about to leave the body when one is on the verge of death. ↩

75:27

وَقِيلَ مَنۡۜ رَاقٖ ٢٧

And it is said, "Who will cure [him]?"

75:28

وَظَنَّ أَنَّهُ ٱلۡفِرَاقُ ٢٨

And he [i.e., the dying one] is certain that it is the [time of] separation

75:29

وَٱلۡتَفَّتِ ٱلسَّاقُ بِٱلسَّاقِ ٢٩

And the leg is wound about the leg,1

1 translator’s note
  1. From the difficulties the person faces at death or his sudden awareness of the realities of both this world and the Hereafter. It may also refer to his shrouding after death. ↩

75:30

إِلَىٰ رَبِّكَ يَوۡمَئِذٍ ٱلۡمَسَاقُ ٣٠

To your Lord, that Day, will be the procession.1

1 translator’s note
  1. Literally, "driving" or "herding" or "the place to which one is driven." ↩

75:31

فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ ٣١

And he [i.e., the disbeliever] had not believed, nor had he prayed.

75:32

وَلَٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ ٣٢

But [instead], he denied and turned away.

75:33

ثُمَّ ذَهَبَ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِۦ يَتَمَطَّىٰٓ ٣٣

And then he went to his people, swaggering [in pride].

75:34

أَوۡلَىٰ لَكَ فَأَوۡلَىٰ ٣٤

Woe to you, and woe!

75:35

ثُمَّ أَوۡلَىٰ لَكَ فَأَوۡلَىٰٓ ٣٥

Then woe to you, and woe!

75:36

أَيَحۡسَبُ ٱلۡإِنسَٰنُ أَن يُتۡرَكَ سُدًى ٣٦

Does man think that he will be left neglected?1

1 translator’s note
  1. i.e., to no end, without responsibility, or without being returned to the Creator for judgement. ↩

75:37

أَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةٗ مِّن مَّنِيّٖ يُمۡنَىٰ ٣٧

Had he not been a sperm from semen emitted?

75:38

ثُمَّ كَانَ عَلَقَةٗ فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ ٣٨

Then he was a clinging clot, and [Allāh] created [his form] and proportioned [him]

75:39

فَجَعَلَ مِنۡهُ ٱلزَّوۡجَيۡنِ ٱلذَّكَرَ وَٱلۡأُنثَىٰٓ ٣٩

And made of him two mates, the male and the female.

75:40

أَلَيۡسَ ذَٰلِكَ بِقَٰدِرٍ عَلَىٰٓ أَن يُحۡـِۧيَ ٱلۡمَوۡتَىٰ ٤٠

Is not that [Creator] Able to give life to the dead?

سورة الانسان

Al-Insan

The Man · Medinan · 31 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

76:1

هَلۡ أَتَىٰ عَلَى ٱلۡإِنسَٰنِ حِينٞ مِّنَ ٱلدَّهۡرِ لَمۡ يَكُن شَيۡـٔٗا مَّذۡكُورًا ١

Has there [not] come upon man a period of time when he was not a thing [even] mentioned?

76:2

إِنَّا خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ مِن نُّطۡفَةٍ أَمۡشَاجٖ نَّبۡتَلِيهِ فَجَعَلۡنَٰهُ سَمِيعَۢا بَصِيرًا ٢

Indeed, We created man from a sperm-drop mixture1 that We may try him; and We made him hearing and seeing.

1 translator’s note
  1. i.e., a combination of the male and female substance, within the womb. ↩

76:3

إِنَّا هَدَيۡنَٰهُ ٱلسَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرٗا وَإِمَّا كَفُورًا ٣

Indeed, We guided him to the way, be he grateful or be he ungrateful.

76:4

إِنَّآ أَعۡتَدۡنَا لِلۡكَٰفِرِينَ سَلَٰسِلَاْ وَأَغۡلَٰلٗا وَسَعِيرًا ٤

Indeed, We have prepared for the disbelievers chains and shackles and a blaze.

76:5

إِنَّ ٱلۡأَبۡرَارَ يَشۡرَبُونَ مِن كَأۡسٖ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا ٥

Indeed, the righteous will drink from a cup [of wine] whose mixture is of Kāfūr,1

1 translator’s note
  1. A sweet-smelling spring in Paradise. ↩
As-Sa'diTafsir · 75:40

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском