Al-InsanJuz 29 · Page 580

Al-Insan 76:31

The Man · Juz 29 · Page 580

يُدۡخِلُ مَن يَشَآءُ فِي رَحۡمَتِهِۦۚ وَٱلظَّٰلِمِينَ أَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابًا أَلِيمَۢا ٣١

He admits whom He wills into His mercy; but the wrongdoers - He has prepared for them a painful punishment.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 76:4–31

بلاشبہ ہم نے تیار کر رکھی ہیں کافروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور سخت بھڑکتی آگ(4) یقیناً نیک لوگ پئیں گے ایسے جام سے کہ ہو گی اس میں ملاوٹ کافور کی(5) یعنی ایک چشمہ ہے پئیں گے اس میں سے اللہ کے بندے، وہ بہا لے جائیں گے اسے (جدھر چاہیں گے) بہا لے جانا آسانی سے (6) وہ پوری کرتے ہیں نذر (اپنی) اور ڈرتے ہیں اس دن (کے عذاب) سے کہ ہو گا شر اس کا پھیل جانے والا(7) اور وہ کھلاتے ہیں کھانا باوجود اس کی محبت کے مسکین کو اور یتیم کو اور قیدی کو(8)(کہتے ہیں:) بس ہم تو تمھیں کھاناکھلاتے ہیں اللہ ہی کی ذات کے لیے، اور نہیں چاہتے ہم تم سے کوئی جزا اور نہ شکریہ (9) بلاشبہ ہم ڈرتے ہیں اپنے رب سے اس دن سے جو ہو گا نہایت سخت بہت لمبا (10) سو بچائے گا انھیں اللہ، شر (عذاب) سے اس دن کے اور عطا کرے گا ان کو تازگی اور سرور (11) اور جزا دے گا انھیں بوجہ ان کے صبر کے جنت اور ریشمی لباس (12) وہ تکیہ لگائے ہوں گے اس میں تختوں پر، نہیں دیکھیں گے اس (جنت) میں سخت دھوپ اور نہ سخت سردی (13) اور جھکے ہوں گے ان پر اس (جنت) کے سائے اور آسان کر دیا جائے گا (حصول) ان کے پھلوں کا نہایت آسان (14) اور پھرائے جائیں گے ان پر برتن چاندی کے اور ایسے آبخورے کہ ہوں گے وہ شیشے کے (15) شیشے (بھی) چاندی کے(16)(ساقی)انھیں ٹھیک اندازے سے بھریں گے (17) اور پلائے جائیں گے وہ اس (جنت) میں ایسا جام شراب کہ ہو گی اس میں ملاوٹ زنجبیل (سونٹھ) کی (18)(یہ) چشمہ ہے۔ جنت میں کہ نام رکھا جاتا ہے (اس کا) سلسبیل (19) اور گھومیں گے ان پر ایسے لڑکے جو ہمیشہ (لڑکے ہی) رہیں گے جب تو دیکھے گا انھیں تو سمجھے گا ان کو موتی بکھرے ہوئے(20) اور جب تو دیکھے گا وہاں، تو دیکھے گا تو نعمت اور سلطنت بڑی (21) ان پر کپڑے (لباس) ہوں گے باریک سبز اور دبیز ریشم کے اور زیور پہنائے جائیں گے ان کو کنگن چاندی کے اور پلائے گا انھیں ان کا رب شرابِ طَہور (22)(انھیں کہا جائے گا:)بلاشبہ یہ ہے تمھارے لیے جزا، اور ہے کوشش تمھاری قابل قدر (23) یقیناً ہم ہی نے اتارا ہے آپ پر یہ قرآن تھوڑا تھوڑا اتارنا (23) پس آپ صبر کیجیے اپنے رب کے حکم کے لیے اور نہ اطاعت کیجیے ان میں سے کسی گناہ گار یا کافر کی (24) اور یاد کیجیے نام اپنے رب کا صبح اور شام (25) اور کچھ (حصہ) رات میں بھی پس سجدہ کیجیے اس کے لیے اور اس کی تسبیح کیجیے رات میں دیر تک (26) بلاشبہ یہ لوگ پسند کرتے ہیں دنیا کو اور چھوڑتے ہیں اپنے پیچھے بھاری دن کو (27) ہم ہی نے پیدا کیا انھیں اور مضبوط کیے ہم نے ان کے جوڑ، اور جب ہم چاہیں بدل کر لے آئیں ان جیسے (اور لوگ) تبدیل کر کے (28) بلاشبہ یہ ایک نصیحت ہے، سو جو چاہے وہ پکڑے اپنے رب کی طرف راستہ(29) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ ہی، یقیناً ہے اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا (30) وہ داخل کرتا ہے جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں، اور ظالم، اس نے تیار کیا ہے ان کے لیے عذاب درد ناک (31)

[4] جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور اس کی نافرمانی کے ارتکاب کی جسارت کی ہم نے اس کے لیے تیار کی ہیں ﴿ سَلٰسِلَاۡ ﴾ جہنم کی آگ میں زنجیریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا فَاسۡلُكُوۡهُ﴾(الحاقۃ:69؍32) ’’ پھر اسے اس زنجیر میں جکڑ دو جس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے۔‘‘﴿وَاَغۡلٰلًا﴾’’اورطوق‘‘ جس کے ذریعے سے ان کے ہاتھوں کو ان کی گردنوں کے ساتھ باندھ کر ان سے جکڑ دیا جائے گا۔﴿وَّسَعِيۡرًا﴾ یعنی ہم نے ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے جو ان کے جسموں کے ساتھ بھڑکے گی اور ان کے بدنوں کو جلا ڈالے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿كُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُهُمۡ بَدَّلۡنٰهُمۡ جُلُوۡدًا غَيۡرَهَا لِيَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ ﴾(النساء:4؍56) ’’جب ان کی کھالیں گل جائیں گی، تو ہم ان کو ان کے سوا اور کھالوں سے بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزا چکھتے رہیں۔‘‘ یہ عذاب ان کے لیے دائمی ہوگا اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

[5] رہے ﴿الۡاَبۡرَارَ﴾ ’’نیک لوگ‘‘ یہ وہ لوگ ہیں، جن کے دل نیک ہیں کیونکہ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور اخلاق جمیلہ ہیں۔ پس اس سبب سے ان کے اعمال بھی نیک ہیں انھوں نے ان کو نیک اعمال میں استعمال کیا ہے۔ ﴿يَشۡرَبُوۡنَ مِنۡ كَاۡسٍ﴾ ’’ایسے جام سے پئیں گے‘‘ یعنی شراب سے انتہائی لذیذمشروب جس میں کافور ملایا گیا ہوگا تاکہ اس مشروب کو ٹھنڈا کر کے اس کی حدت کو توڑ دے۔ یہ کافور انتہائی لذیذ ہو گا ہر قسم کے تکدر اور ملاوٹ سے پاک ہو گا جو دنیا کے کافور میں موجود ہوتی ہے۔ ہر وہ آفت ان اسماء میں ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے کہ وہ جنت میں ہوں گے جبکہ اس قسم کے اسماء دنیا میں بھی ہیں تو وہ (آفت) آخرت میں نہیں ہوگی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فِيۡ سِدۡرٍ مَّخۡضُوۡدٍۙ۰۰ وَّطَلۡحٍ مَّنۡضُوۡدٍ﴾(الواقعہ:56/28-29) ’’وہ بغیر کانٹوں کی بیریوں اور تہ بہ تہ کیلوں میں ہوں گے۔‘‘ فرمایا: ﴿وَ اَزۡوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ﴾(آل عمران:3؍15) ’’اور جنت میں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی۔‘‘اور فرمایا : ﴿لَهُمۡ دَارُ السَّلٰمِ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ﴾(الانعام:6؍127) ’’ان کے لیے ان کے رب کے ہاں سلامتی کا گھر ہے۔‘‘اور فرمایا: ﴿وَفِيۡهَا مَا تَشۡتَهِيۡهِ الۡاَنۡفُسُ وَتَلَذُّ الۡاَعۡيُنُ﴾(الزحزف:43؍71) ’’اور اس میں وہ سب کچھ ہو گا جو دل چاہیں گے اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔‘‘

[6]﴿عَيۡنًا يَّشۡرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ ایک چشمہ ہے جس سے اللہ کے بندے پئیں گے‘‘ یعنی وہ لذیذ شراب، جو وہ پئیں گے، انھیں اس کے ختم ہونے کا خوف نہیں ہو گا بلکہ اس کا ایسا مادہ ہو گا جو کبھی منقطع نہ ہو گا۔ یہ ہمیشہ جاری رہنے اور بہنے والا چشمہ ہو گا۔ اللہ کے بندے جہاں چاہیں گے جیسے چاہیں گے وہاں سے نہریں نکال لے جائیں گے، اگر وہ چاہیں گے تو ان کو خوبصورت باغات کی طرف موڑ لیں گے۔ یا بارونق باغیچوں کی طرف لے جائیں گے اگر وہ چاہیں گے تو محلات کی جوانب اور آراستہ گھروں کی طرف بہا لے جائیں گے یا وہ خوبصورت جہات میں سے جس جہت میں بھی چاہیں گے ان نہروں کو لے جائیں گے۔

[7] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورت کے آغاز میں ان کے جملہ اعمال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُوۡفُوۡنَ بِالنَّذۡرِ ﴾ یعنی وہ جن نذروں اور معاہدوں کو اپنے آپ پر لازم کر لیتے تھے، انھیں پورا کرتے تھے۔ جب وہ نذر کو پورا کرتے تھے، جو اصل میں ان پر واجب نہیں الّا یہ کہ وہ اسے خود اپنے آپ پر واجب کر لیں، تب فرائض اصلیہ کو تو بدرجہ اولیٰ قائم کرتے اور ان کو بجا لاتے ہوں گے ﴿ وَيَخَافُوۡنَ يَوۡمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسۡتَطِيۡرًا ﴾ یعنی اس دن خوف رکھتے تھے جس کی برائی نہایت سخت اور پھیل جانے والی ہے۔ پس انھیں خوف تھا کہ اس دن کی برائی کہیں انھیں نہ پہنچ جائے، اس لیے انھوں نے ہر وہ سبب چھوڑ دیا جو اس کا موجب تھا۔

[10-8]﴿وَيُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ ﴾ یعنی وہ اس حال میں ہوتے ہیں کہ جس میں وہ خود مال اور طعام کو پسند کرتے ہیں مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو اپنے نفس کی محبت پر مقدم رکھا اور وہ لوگوں میں سب سے زیادہ مستحق اور سب سے زیادہ حاجت مند کو کھانا کھلانے کی کوشش کرتے ہیں ﴿ مِسۡكِيۡنًا وَّيَتِيۡمًا وَّاَسِيۡرًا ﴾ ’’مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو۔‘‘ ان کے کھانا کھلانے اور خرچ کرنے میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہوتی ہے۔ وہ اپنی زبان حال سے کہتے ہیں:﴿ اِنَّمَا نُطۡعِمُكُمۡ لِوَجۡهِ اللّٰهِ لَا نُرِيۡدُ مِنۡكُمۡ جَزَآءًؔ وَّلَا شُكُوۡرًا ﴾’’ہم تو تمھیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں، ہم تم سے کسی بدلے کے خواست گار ہیں اور نہ شکر گزاری کے۔‘‘ یعنی نہ کوئی مالی جزا چاہتے ہیں اور نہ قولی ثنا۔﴿ اِنَّا نَخَافُ مِنۡ رَّبِّنَا يَوۡمًا عَبُوۡسًا ﴾ ’’ہم اپنے پرودگار سے اس دن کا خوف کرتے ہیں جو اداسی والا ہوگا۔‘‘ جو نہایت سخت اور شر والا دن ہوگا ﴿قَمۡطَرِيۡرًا ﴾ اور نہایت تنگ دن ہوگا۔

[11]﴿ فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الۡيَوۡمِ ﴾ ’’پس اللہ ان کو اس دن کے شر سے بچالے گا۔‘‘ پس انھیں وہ عظیم گھبراہٹ غم زدہ نہیں کرے گی اور فرشتے ان کا استقبال کرتے ہوئے کہیں گے ’’یہ وہ دن ہے جس کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا۔‘‘ ﴿ وَلَقّٰىهُمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز کرے گا ﴿نَضۡرَۃً﴾ یعنی ان کے چہروں کو تازگی عطا کرے گا ﴿ وَّسُرُوۡرًا﴾ اور ان کے دلوں کو سرور سے لبریز کرے گا، پس اللہ تعالیٰ ان کے لیے ظاہری اور باطنی نعمتوں کو اکٹھا کر دے گا۔

[12]﴿ وَجَزٰىهُمۡ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ، یعنی ان کی جزا اس سبب سے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کیا اور استطاعت بھر نیک عمل کیے اور اس سبب سے کہ انھوں نے برائیوں سے اجتناب پر صبر کیا اور ان کو چھوڑ دیا اور اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضا و قدر پر صبر کیا اور اس پر ناراضی کا اظہار نہیں کیا ﴿ جَنَّةً ﴾ ’’جنت ہے۔‘‘ جو ہر نعمت کی جامع اور ہر قسم کے تکدر سے سلامت ہے ﴿ وَّحَرِيۡرًا﴾ ’’اور ریشم ہے‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلِبَاسُهُمۡ فِيۡهَا حَرِيۡرٌ ﴾(الحج:22؍23) ’’اور جنت میں ان کا لباس ریشمی ہو گا۔‘‘ شاید اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ریشم کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ یہ ان کا ظاہری لباس ہو گا جو صاحب لباس کے حال پر دلالت کرے گا۔

[13]﴿ مُّتَّـكِـــِٕيۡنَ فِيۡهَا عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ ﴾ ’’وہ تختوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے۔‘‘ (الاتّکاء)سے مراد اطمینان، راحت اور آسودگی کی حالت میں ٹیک لگا کر بیٹھنا۔ اور (الارائک) وہ تخت ہیں جن پر سجاوٹ کے لیے کپڑے بچھائے گئے ہوں۔ ﴿ لَا يَرَوۡنَ فِيۡهَا ﴾ یعنی وہ اس جنت کے اندر نہیں دیکھیں گے ﴿شَمۡسًا﴾ دھوپ جس کی تپش ان کو نقصان پہنچائے۔ ﴿ وَّلَا زَمۡهَرِيۡرًا﴾ ’’اور نہ سخت سردی‘‘ یعنی ان کے تمام اوقات گہرے سائے میں گزریں گے، جہاں گرمی ہو گی نہ سردی، جہاں ان کے جسم لذت حاصل کریں گے وہاں ان کے جسموں کو گرمی سے تکلیف ہو گی نہ سردی سے۔

[14]﴿ وَدَانِيَةً عَلَيۡهِمۡ ظِلٰلُهَا وَذُلِّلَتۡ قُطُوۡفُهَا تَذۡلِيۡلًا ﴾ ’’اور ان سے ان کے سائے قریب ہوں گے اور میووں کے گھچے جھکے ہوئے لٹک رہے ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کے پھل، اس کے چاہنے والے کے اتنے قریب کر دیے جائیں گے کہ وہ ان کو کھڑے بیٹھے یا لیٹے ہوئے بھی حاصل کر سکے گا۔

Continue in the whole surah's tafsir

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 580

Al-InsanJuz 29 · Page 580

76:26

وَمِنَ ٱلَّيۡلِ فَٱسۡجُدۡ لَهُۥ وَسَبِّحۡهُ لَيۡلٗا طَوِيلًا ٢٦

And during the night prostrate to Him and exalt [i.e., praise] Him a long [part of the] night.

76:27

إِنَّ هَٰٓؤُلَآءِ يُحِبُّونَ ٱلۡعَاجِلَةَ وَيَذَرُونَ وَرَآءَهُمۡ يَوۡمٗا ثَقِيلٗا ٢٧

Indeed, these [disbelievers] love the immediate and leave behind them1 a grave Day.

1 translator’s note
  1. i.e., neglect. The meaning may also be "leave ahead of them." ↩

76:28

نَّحۡنُ خَلَقۡنَٰهُمۡ وَشَدَدۡنَآ أَسۡرَهُمۡۖ وَإِذَا شِئۡنَا بَدَّلۡنَآ أَمۡثَٰلَهُمۡ تَبۡدِيلًا ٢٨

We have created them and strengthened their forms, and when We will, We can change their likenesses with [complete] alteration.

76:29

إِنَّ هَٰذِهِۦ تَذۡكِرَةٞۖ فَمَن شَآءَ ٱتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِۦ سَبِيلٗا ٢٩

Indeed, this is a reminder, so he who wills may take to his Lord a way.

76:30

وَمَا تَشَآءُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمٗا ٣٠

And you do not will except that Allāh wills. Indeed, Allāh is ever Knowing and Wise.

76:31

يُدۡخِلُ مَن يَشَآءُ فِي رَحۡمَتِهِۦۚ وَٱلظَّٰلِمِينَ أَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابًا أَلِيمَۢا ٣١

He admits whom He wills into His mercy; but the wrongdoers - He has prepared for them a painful punishment.

سورة المرسلات

Al-Mursalat

The Emissaries · Meccan · 50 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

77:1

وَٱلۡمُرۡسَلَٰتِ عُرۡفٗا ١

By those [winds] sent forth in gusts

77:2

فَٱلۡعَٰصِفَٰتِ عَصۡفٗا ٢

And the winds that blow violently

77:3

وَٱلنَّٰشِرَٰتِ نَشۡرٗا ٣

And [by] the winds that spread [clouds]

77:4

فَٱلۡفَٰرِقَٰتِ فَرۡقٗا ٤

And those [angels] who bring criterion1

1 translator’s note
  1. To Allāh's human messengers. ↩

77:5

فَٱلۡمُلۡقِيَٰتِ ذِكۡرًا ٥

And those [angels] who deliver a message

77:6

عُذۡرًا أَوۡ نُذۡرًا ٦

As justification or warning,

77:7

إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَوَٰقِعٞ ٧

Indeed, what you are promised is to occur.

77:8

فَإِذَا ٱلنُّجُومُ طُمِسَتۡ ٨

So when the stars are obliterated

77:9

وَإِذَا ٱلسَّمَآءُ فُرِجَتۡ ٩

And when the heaven is opened

77:10

وَإِذَا ٱلۡجِبَالُ نُسِفَتۡ ١٠

And when the mountains are blown away

77:11

وَإِذَا ٱلرُّسُلُ أُقِّتَتۡ ١١

And when the messengers' time has come...1

1 translator’s note
  1. i.e., when they are gathered to witness concerning their nations. The sentence's conclusion is understood to be "...the promised judgement will then take place." ↩

77:12

لِأَيِّ يَوۡمٍ أُجِّلَتۡ ١٢

For what Day was it postponed?1

1 translator’s note
  1. "It" may refer to either the aforementioned occurrences collectively or to the testimony of the messengers. ↩

77:13

لِيَوۡمِ ٱلۡفَصۡلِ ١٣

For the Day of Judgement.

77:14

وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا يَوۡمُ ٱلۡفَصۡلِ ١٤

And what can make you know what is the Day of Judgement?

77:15

وَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ ١٥

Woe,1 that Day, to the deniers.

1 translator’s note
  1. i.e., death and destruction. ↩

77:16

أَلَمۡ نُهۡلِكِ ٱلۡأَوَّلِينَ ١٦

Did We not destroy the former peoples?

77:17

ثُمَّ نُتۡبِعُهُمُ ٱلۡأٓخِرِينَ ١٧

Then We will follow them with the later ones.

77:18

كَذَٰلِكَ نَفۡعَلُ بِٱلۡمُجۡرِمِينَ ١٨

Thus do We deal with the criminals.

77:19

وَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ ١٩

Woe, that Day, to the deniers.

As-Sa'diTafsir · 76:31

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском