Al-MursalatJuz 29 · Page 580

Al-Mursalat 77:6

The Emissaries · Juz 29 · Page 580

عُذۡرًا أَوۡ نُذۡرًا ٦

As justification or warning,

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 77:1–15

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔

[7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔

[14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔

[15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 580

Al-InsanJuz 29 · Page 580

76:26

وَمِنَ ٱلَّيۡلِ فَٱسۡجُدۡ لَهُۥ وَسَبِّحۡهُ لَيۡلٗا طَوِيلًا ٢٦

And during the night prostrate to Him and exalt [i.e., praise] Him a long [part of the] night.

76:27

إِنَّ هَٰٓؤُلَآءِ يُحِبُّونَ ٱلۡعَاجِلَةَ وَيَذَرُونَ وَرَآءَهُمۡ يَوۡمٗا ثَقِيلٗا ٢٧

Indeed, these [disbelievers] love the immediate and leave behind them1 a grave Day.

1 translator’s note
  1. i.e., neglect. The meaning may also be "leave ahead of them." ↩

76:28

نَّحۡنُ خَلَقۡنَٰهُمۡ وَشَدَدۡنَآ أَسۡرَهُمۡۖ وَإِذَا شِئۡنَا بَدَّلۡنَآ أَمۡثَٰلَهُمۡ تَبۡدِيلًا ٢٨

We have created them and strengthened their forms, and when We will, We can change their likenesses with [complete] alteration.

76:29

إِنَّ هَٰذِهِۦ تَذۡكِرَةٞۖ فَمَن شَآءَ ٱتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِۦ سَبِيلٗا ٢٩

Indeed, this is a reminder, so he who wills may take to his Lord a way.

76:30

وَمَا تَشَآءُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمٗا ٣٠

And you do not will except that Allāh wills. Indeed, Allāh is ever Knowing and Wise.

76:31

يُدۡخِلُ مَن يَشَآءُ فِي رَحۡمَتِهِۦۚ وَٱلظَّٰلِمِينَ أَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابًا أَلِيمَۢا ٣١

He admits whom He wills into His mercy; but the wrongdoers - He has prepared for them a painful punishment.

سورة المرسلات

Al-Mursalat

The Emissaries · Meccan · 50 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

77:1

وَٱلۡمُرۡسَلَٰتِ عُرۡفٗا ١

By those [winds] sent forth in gusts

77:2

فَٱلۡعَٰصِفَٰتِ عَصۡفٗا ٢

And the winds that blow violently

77:3

وَٱلنَّٰشِرَٰتِ نَشۡرٗا ٣

And [by] the winds that spread [clouds]

77:4

فَٱلۡفَٰرِقَٰتِ فَرۡقٗا ٤

And those [angels] who bring criterion1

1 translator’s note
  1. To Allāh's human messengers. ↩

77:5

فَٱلۡمُلۡقِيَٰتِ ذِكۡرًا ٥

And those [angels] who deliver a message

77:6

عُذۡرًا أَوۡ نُذۡرًا ٦

As justification or warning,

77:7

إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَوَٰقِعٞ ٧

Indeed, what you are promised is to occur.

77:8

فَإِذَا ٱلنُّجُومُ طُمِسَتۡ ٨

So when the stars are obliterated

77:9

وَإِذَا ٱلسَّمَآءُ فُرِجَتۡ ٩

And when the heaven is opened

77:10

وَإِذَا ٱلۡجِبَالُ نُسِفَتۡ ١٠

And when the mountains are blown away

77:11

وَإِذَا ٱلرُّسُلُ أُقِّتَتۡ ١١

And when the messengers' time has come...1

1 translator’s note
  1. i.e., when they are gathered to witness concerning their nations. The sentence's conclusion is understood to be "...the promised judgement will then take place." ↩

77:12

لِأَيِّ يَوۡمٍ أُجِّلَتۡ ١٢

For what Day was it postponed?1

1 translator’s note
  1. "It" may refer to either the aforementioned occurrences collectively or to the testimony of the messengers. ↩

77:13

لِيَوۡمِ ٱلۡفَصۡلِ ١٣

For the Day of Judgement.

77:14

وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا يَوۡمُ ٱلۡفَصۡلِ ١٤

And what can make you know what is the Day of Judgement?

77:15

وَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ ١٥

Woe,1 that Day, to the deniers.

1 translator’s note
  1. i.e., death and destruction. ↩

77:16

أَلَمۡ نُهۡلِكِ ٱلۡأَوَّلِينَ ١٦

Did We not destroy the former peoples?

77:17

ثُمَّ نُتۡبِعُهُمُ ٱلۡأٓخِرِينَ ١٧

Then We will follow them with the later ones.

77:18

كَذَٰلِكَ نَفۡعَلُ بِٱلۡمُجۡرِمِينَ ١٨

Thus do We deal with the criminals.

77:19

وَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ ١٩

Woe, that Day, to the deniers.

As-Sa'diTafsir · 77:6

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском