An-Nazi'at 79:13
Those who drag forth · Juz 30 · Page 583
فَإِنَّمَا هِيَ زَجۡرَةٞ وَٰحِدَةٞ ١٣
Indeed, it will be but one shout,
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 79:1–14
قسم ہے سختی سے روح نکالنے والوں کی ڈوب کر(1) اور آسانی سے روح نکالنے والوں کی نرمی سے(2) اور تیرنے والوں کی تیزی سے تیر نا (3) پھر آگے بڑھنے والوں کی دوڑ کر(4) پھر ان کی جو تدبیر کرنے والے ہیں ہر امر کی(5) جس دن کانپے گی کانپنے والی(6) اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آ نے والی(7) کئی دل اس دن دھڑکتے ہوں گے(8) ان کی آنکھیں جھکی (نیچی) ہوں گی(9) وہ کہتے ہیں، کیا یقیناً ہم لوٹائے جائیں گے پہلی حالت میں؟ (10) کیا جب ہو جائیں گے ہم ہڈیاں بوسیدہ؟ (11) وہ کہتے ہیں، یہ اس وقت واپسی ہو گی خسارے والی (12) پس صرف وہ تو ایک (خوف ناک) ڈانٹ ہو گی (13) تو یکایک وہ (لوگ) ہوں گے کھلے میدان میں (14)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] مکرم فرشتوں اور ان کے افعال کی کھائی ہوئی یہ قسمیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے ان کی کامل اطاعت اور اس کو نافذ کرنے میں ان کی سرعت پر دلالت کرتی ہیں، اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ جس امر پر قسم کھائی گئی ہے وہ جزا اور قیامت ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد قیامت کے احوال بیان کیے گئے ہیں۔اس میں (دوسرا) احتمال یہ ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے اور جس کی قسم کھائی ہے وہ دونوں ایک ہوں، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر اس لیے قسم کھائی ہے کہ ان پر ایمان لانا، ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ نیز یہ کہ یہاں ان کے افعال کا ذکر کرنا اس جزا کو متضمن ہے جس کا انتظام موت کے وقت، موت سے پہلے یا موت کے بعد فرشتے کرتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿وَ الـنّٰزِعٰتِ غَرۡقًا﴾ ’’ان کی قسم! جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو طاقت کے ساتھ روح قبض کرتے ہیں اور روح قبض کرنے میں مبالغہ کرتے ہیں یہاں تک کہ روح نکل جاتی ہے اور اسے اس کے عمل کی جزا دی جاتی ہے۔ ﴿وَّالنّٰشِطٰتِ نَشۡطًا﴾’’اور ان کو جو آسانی سے کھول دیتے ہیں۔‘‘اس سے بھی فرشتے مراد ہیں، جو ارواح کو قوت اور نشاط کے ساتھ نکالتے ہیں یا اس کا معنی یہ ہے کہ پھرتی اور تیزی سے روح نکالنے کا معاملہ اہل ایمان کی ارواح کے ساتھ ہے اور ارواح کو کھینچ کر زور سے نکالنا کفار کی ارواح کے ساتھ ہے۔﴿وَّالسّٰؔبِحٰؔتِ﴾ یعنی ہوا کے اندر ادھر ادھر آتے جاتے، اوپر چڑھتے اور نیچے اترتے فرشتوں کی قسم ﴿فَالسّٰؔبِقٰتِ ﴾ دوسروں پر سبقت لے جانے والے ﴿سَبۡقًا﴾ ’’سبقت لے جانا۔‘‘ پس فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف جلدی سے آگے بڑھتے ہیں اور وحی ٔالٰہی کو اللہ تعالیٰ کے رسولوں تک پہنچانے میں شیاطین سے آگے بڑھ جاتے ہیں تاکہ شیاطین اس کو چرا نہ لیں۔ ﴿فَالۡمُدَبِّرٰتِ۠ اَمۡرًا﴾ یہ وہ فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے عالم بالا اور عالم سفلی کے بہت سے امور کی تدبیر کے لیے مقرر فرمایا ہے، مثلاً: بارشوں، نباتات، ہواؤ ں، سمندروں، ماؤ ں کے پیٹ میں بچوں، حیوانات، جنت اور جہنم وغیرہ کے امور۔
[9-6]﴿يَوۡمَ تَرۡجُفُ الرَّاجِفَةُ﴾ ’’جس دن زمین پر بھونچال آئے گا۔‘‘اور یہ قیامت کا قائم ہونا ہے، ﴿تَتۡبَعُهَا الرَّادِفَةُ﴾ یعنی ایک اور زلزلہ جو اس کے ساتھ ہی اس کے پیچھے پیچھے آئے گا ﴿قُلُوۡبٌ يَّوۡمَىِٕذٍ وَّاجِفَةٌ﴾ اس دن جو کچھ نظر آئے گا اور سنائی دے گا اس کی شدت کی بنا پر دل دہل جائیں گے ﴿اَبۡصَارُهَا خَاشِعَةٌ﴾ نگاہیں بہت ذلیل اور حقیر ہوں گی، ان کے دلوں پر خوف طاری ہو گا، گھبراہٹ ان کی عقل کو زائل کر دے گی، ان پر تاسف کا غلبہ ہو گا اور حسرت ان پر قبضہ کر لے گی۔
[14-10] منکرین قیامت دنیا کے اندر استہزا کے طور پر اور حیات بعدالموت کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ءَاِنَّا لَمَرۡدُوۡدُوۡنَ۠ فِي الۡحَافِرَةِ﴾ یعنی کیا مرنے کے بعد ہمیں پہلی تخلیق کی طرف لوٹایا جائے گا؟ یہ استفہام انکاری ہے، جو انتہائی تعجب اور اس کو محال سمجھنے پر مبنی ہے انھوں نے حیات بعدالموت کا انکار کیا ، پھر اس کو بعید سمجھنے میں بڑھتے چلے گئے ، پھر اسی پر جم گئے۔ وہ اس دنیا میں تکذیب کے طور پر کہتے ہیں ﴿ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً﴾ یعنی جب ہم بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا اس کے بعد ہمیں دوبارہ زندگی کی طرف لوٹایا جائے گا؟ ﴿قَالُوۡا تِلۡكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ﴾ ’’کہتے ہیں، یہ لوٹنا خسارہ ہے۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں جہالت اور اس کے حضور جسارت کی بنا پر اس امر کو بعید سمجھا کہ اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کر دے گا، جب وہ بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا انھیں دوبارہ زندگی عطا کی جائے گی؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے اس امر کے بہت آسان ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿فَاِنَّمَا هِيَ زَجۡرَةٌ وَّاحِدَةٌ﴾ ’’وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی۔‘‘یعنی اس روز صور پھونکا جائے گا تب تمام خلائق ﴿بِالسَّاهِرَةِ﴾ روئے زمین پر کھڑے دیکھ رہے ہوں گے، پس اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا کرے گا، ان کے درمیان عدل پر مبنی فیصلے کرے گا اور ان کو جزا و سزا دے گا۔
Page 583
78:31
إِنَّ لِلۡمُتَّقِينَ مَفَازًا ٣١
Indeed, for the righteous is attainment1 -
1 translator’s note
- Of security, success and reward, including escape and safety from Hell. ↩
78:32
حَدَآئِقَ وَأَعۡنَٰبٗا ٣٢
Gardens and grapevines
78:33
وَكَوَاعِبَ أَتۡرَابٗا ٣٣
And young women [companions] of equal age.
78:34
وَكَأۡسٗا دِهَاقٗا ٣٤
And a full cup.1
1 translator’s note
- Of wine which is delicious and does not intoxicate. ↩
78:35
لَّا يَسۡمَعُونَ فِيهَا لَغۡوٗا وَلَا كِذَّٰبٗا ٣٥
No ill speech will they hear therein or any falsehood -
78:36
جَزَآءٗ مِّن رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابٗا ٣٦
[As] reward from your Lord, [a generous] gift [made due by] account,1
1 translator’s note
- i.e., as a result of both their own righteous deeds and the limitless generosity of Allāh (subḥānahu wa taʿālā) . Another meaning is "a gift calculated [to be adequate]." ↩
78:37
رَّبِّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ٱلرَّحۡمَٰنِۖ لَا يَمۡلِكُونَ مِنۡهُ خِطَابٗا ٣٧
[From] the Lord of the heavens and the earth and whatever is between them, the Most Merciful. They possess not from Him [authority for] speech.1
1 translator’s note
- None of Allāh's creatures can plead with Him on the Day of Judgement except by His permission. ↩
78:38
يَوۡمَ يَقُومُ ٱلرُّوحُ وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ صَفّٗاۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنۡ أَذِنَ لَهُ ٱلرَّحۡمَٰنُ وَقَالَ صَوَابٗا ٣٨
The Day that the Spirit [i.e., Gabriel] and the angels will stand in rows, they will not speak except for one whom the Most Merciful permits, and he will say what is correct.
78:39
ذَٰلِكَ ٱلۡيَوۡمُ ٱلۡحَقُّۖ فَمَن شَآءَ ٱتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِۦ مَـَٔابًا ٣٩
That is the True [i.e., certain] Day; so he who wills may take to his Lord a [way of] return.1
1 translator’s note
- i.e., a direct route through correct beliefs and righteous deeds. ↩
78:40
إِنَّآ أَنذَرۡنَٰكُمۡ عَذَابٗا قَرِيبٗا يَوۡمَ يَنظُرُ ٱلۡمَرۡءُ مَا قَدَّمَتۡ يَدَاهُ وَيَقُولُ ٱلۡكَافِرُ يَٰلَيۡتَنِي كُنتُ تُرَٰبَۢا ٤٠
Indeed, We have warned you of an impending punishment on the Day when a man will observe what his hands have put forth1 and the disbeliever will say, "Oh, I wish that I were dust!"
1 translator’s note
- i.e., the deeds he did in this world, which await him in the Hereafter. ↩
سورة النازعات
An-Nazi'at
Those who drag forth · Meccan · 46 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
79:1
وَٱلنَّٰزِعَٰتِ غَرۡقٗا ١
By those [angels] who extract with violence1
1 translator’s note
- i.e., those who tear out the souls of those destined for Hell. ↩
79:2
وَٱلنَّٰشِطَٰتِ نَشۡطٗا ٢
And [by] those who remove with ease1
1 translator’s note
- i.e., those angels who ease out the souls of those destined for Paradise. ↩
79:3
وَٱلسَّٰبِحَٰتِ سَبۡحٗا ٣
And [by] those who glide [as if] swimming1
1 translator’s note
- Speeding to execute Allāh's commands. ↩
79:4
فَٱلسَّٰبِقَٰتِ سَبۡقٗا ٤
And those who race each other in a race1
1 translator’s note
- Racing to deliver the souls of the believers to Paradise. ↩
79:5
فَٱلۡمُدَبِّرَٰتِ أَمۡرٗا ٥
And those who arrange [each] matter,1
1 translator’s note
- According to Allāh's decree. ↩
79:6
يَوۡمَ تَرۡجُفُ ٱلرَّاجِفَةُ ٦
On the Day the blast [of the Horn] will convulse [creation],
79:7
تَتۡبَعُهَا ٱلرَّادِفَةُ ٧
There will follow it the subsequent [one].
79:8
قُلُوبٞ يَوۡمَئِذٖ وَاجِفَةٌ ٨
Hearts,1 that Day, will tremble,
1 translator’s note
- Those of the disbelievers who denied the Resurrection. ↩
79:9
أَبۡصَٰرُهَا خَٰشِعَةٞ ٩
Their eyes1 humbled.
1 translator’s note
- Those of the disbelievers. ↩
79:10
يَقُولُونَ أَءِنَّا لَمَرۡدُودُونَ فِي ٱلۡحَافِرَةِ ١٠
They are [presently] saying, "Will we indeed be returned to [our] former state [of life]?
79:11
أَءِذَا كُنَّا عِظَٰمٗا نَّخِرَةٗ ١١
Even if we should be decayed bones?"1
1 translator’s note
- The disbelievers say this in ridicule of the warning. ↩
79:12
قَالُواْ تِلۡكَ إِذٗا كَرَّةٌ خَاسِرَةٞ ١٢
They say, "That, then, would be a losing return."1
1 translator’s note
- i.e., "If that were so, we would not be able to escape punishment." ↩
79:13
فَإِنَّمَا هِيَ زَجۡرَةٞ وَٰحِدَةٞ ١٣
Indeed, it will be but one shout,
79:14
فَإِذَا هُم بِٱلسَّاهِرَةِ ١٤
And suddenly they will be [alert] upon the earth's surface.
79:15
هَلۡ أَتَىٰكَ حَدِيثُ مُوسَىٰٓ ١٥
Has there reached you the story of Moses? -