An-Nazi'atJuz 30 · Page 584

An-Nazi'at 79:23

Those who drag forth · Juz 30 · Page 584

فَحَشَرَ فَنَادَىٰ ٢٣

And he gathered [his people] and called out

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 79:15–26

تحقیق آ چکی ہے آپ کے پاس بات موسیٰ کی (15) جب پکارا تھا اس کو اس کے رب نے مقدس وادی طُوٰی میں (16)(اور کہا) جاؤ فرعون کی طرف، بلاشبہ اس نے سرکشی کی ہے (17) پس کہیے، کیا تجھے (رغبت) ہے اس کی کہ تو پاک ہو؟ (18) اور میں رہنمائی کروں تیری تیرے رب کی طرف کہ تو ڈرے؟(19) پھر موسیٰ نے دکھائی فرعون کو نشانی بڑی (20) تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی (21) پھر وہ پلٹا (فساد کی) کوشش کرتے ہوئے (22) پھر اس نے (سب کو) جمع کیا اور پکارا (23) پس کہا، میں ہوں تمھارا رب سب سے بڑا (24) تو پکڑ لیا اس کو اللہ نے عذاب میں آخرت اور دنیا کے (25)بلاشبہ اس میں ، البتہ عبرت ہے اس کے لیے جو ڈرتا ہے (26)

[25-15] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰؔى﴾ یہ ایک عظیم معاملے کے بارے میں استفہام ہے جس کا وقوع متحقق ہے ، یعنی کیا آپ کے پاس حضرت موسیٰ uکا قصہ پہنچا ہے؟ ﴿ اِذۡ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًى ﴾ ’’جب ان کے رب نے انھیں پاک میدان طوی میں پکارا۔‘‘ یہ وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ uسے کلام کیا، انھیں رسالت سے سرفراز فرمایا، انھیں وحی کے ساتھ مبعوث کیا اور انھیں اپنے لیے چن لیا۔ ﴿ اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى﴾ ’’فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہورہا ہے۔‘‘ اسے نہایت نرم بات اور پرلطف خطاب کے ذریعے سے اس کی سرکشی، شرک اور نافرمانی سے روکو شاید کہ وہ ﴿ يَتَذَكَّـرُ اَوۡ يَخۡشٰى ﴾(طہ: 44/20)’’نصیحت پکڑے یا ڈر جائے۔‘‘ ﴿ فَقُلۡ﴾ اس سے کہہ دیجیے: ﴿ هَلۡ لَّكَ اِلٰۤى اَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾کیا تو کوئی خصلت حمیدہ اور اچھی تعریف چاہتا ہے، جس میں خرد مند لوگ ایک دوسرے سے مقابلے کی رغبت رکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ تو اپنے نفس کو پاک کرے اور کفر و طغیان سے اپنی تطہیر کر کے ایمان اور عمل صالح کی طرف آئے؟﴿ وَاَهۡدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ ﴾ یعنی میں اس کی طرف تیری راہنمائی کروں اور اس کی ناراضی کے مواقع میں سے اس کی رضا کے مواقع واضح کروں ﴿ فَتَخۡشٰى﴾ پس جب تجھے صراط مستقیم معلوم ہو جائے، تو اللہ سے ڈر جائے۔ جس چیز کی طرف حضرت موسیٰu نے فرعون کو دعوت دی تھی فرعون نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ﴿ فَاَرٰىهُ الۡاٰيَةَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’پس اس نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔‘‘ یعنی بڑی نشانی کی جنس اور یہ ان نشانیوں کے تعدد کے منافی نہیں ہے ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌۚۖ۰۰ وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍107۔108)’’موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا تو وہ یکایک صاف ایک اژدھا بن گیا اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو وہ سب دیکھنے والوں کے لیے روشن چمکتا ہوا ہو گیا۔‘‘﴿ فَكَذَّبَ ﴾ پس اس نے حق کو جھٹلایا ﴿ وَعَصٰؔى﴾ اور حکم کی نافرمانی کی ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ يَسۡعٰى ﴾’’ پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا۔‘‘ یعنی حق کا مقابلہ اور اس کے خلاف جنگ میں جدوجہد کرتا ہے ﴿ فَحَشَرَ ﴾ پس اس نے اپنے لشکروں کو جمع کیا ﴿ فَنَادٰى ٞۖ۰۰ فَقَالَ ﴾ اور پکارا اور ان سے کہا ﴿ اَنَا رَبُّكُمُ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’میں تمھارا سب سے بڑا رب ہوں۔‘‘ پس جب اس نے ان کو ہلکا پایا تو انھوں نے اس کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا اور اس کے باطل کا اقرار کر لیا۔﴿فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الۡاٰخِرَةِ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ ’’پس اللہ نے اس کو دنیا وآخرت کے عذاب میں پکڑلیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا کو دنیا اور آخرت کے عذاب کے لیے دلیل، تنبیہ اور اس کو بیان کرنے والی بنایا۔

[26]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَعِبۡرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’بے شک اسی میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو ڈرے۔‘‘ کیونکہ جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے وہی آیات الٰہی اور عبرتوں سے مستفید ہوتا ہے، پس جب وہ فرعون کی سزا میں غور کرے گا تو اسے اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے گی کہ جو کوئی تکبر اور نافرمانی کرتا ہے اور مالک اعلیٰ کا مقابلہ کرتا ہے، اسے دنیا و آخرت میں سزا ملتی ہے۔ جس کسی دل سے خشیت الٰہی رخصت ہو جاتی ہے تو اس کے پاس چاہے ہر قسم کی نشانی کیوں نہ آ جائے وہ ایمان نہیں لاتا۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 584

An-Nazi'atJuz 30 · Page 584

79:16

إِذۡ نَادَىٰهُ رَبُّهُۥ بِٱلۡوَادِ ٱلۡمُقَدَّسِ طُوًى ١٦

When his Lord called to him in the sacred valley of Ṭuwā,

79:17

ٱذۡهَبۡ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ ١٧

"Go to Pharaoh. Indeed, he has transgressed.

79:18

فَقُلۡ هَل لَّكَ إِلَىٰٓ أَن تَزَكَّىٰ ١٨

And say to him, 'Would you [be willing to] purify yourself

79:19

وَأَهۡدِيَكَ إِلَىٰ رَبِّكَ فَتَخۡشَىٰ ١٩

And let me guide you to your Lord so you would fear [Him]?'"

79:20

فَأَرَىٰهُ ٱلۡأٓيَةَ ٱلۡكُبۡرَىٰ ٢٠

And he showed him the greatest sign,1

1 translator’s note
  1. i.e., the miracle of his staff becoming a great snake. ↩

79:21

فَكَذَّبَ وَعَصَىٰ ٢١

But he [i.e., Pharaoh] denied and disobeyed.

79:22

ثُمَّ أَدۡبَرَ يَسۡعَىٰ ٢٢

Then he turned his back, striving [i.e., plotting].1

1 translator’s note
  1. An alternative meaning is "running [from the snake]." ↩

79:23

فَحَشَرَ فَنَادَىٰ ٢٣

And he gathered [his people] and called out

79:24

فَقَالَ أَنَا۠ رَبُّكُمُ ٱلۡأَعۡلَىٰ ٢٤

And said, "I am your most exalted lord."

79:25

فَأَخَذَهُ ٱللَّهُ نَكَالَ ٱلۡأٓخِرَةِ وَٱلۡأُولَىٰٓ ٢٥

So Allāh seized him in exemplary punishment for the last and the first [transgression].1.

1 translator’s note
  1. i.e., for Pharaoh's setting himself up as a deity and for his previous oppression of the people and denial of Moses. ↩

79:26

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبۡرَةٗ لِّمَن يَخۡشَىٰٓ ٢٦

Indeed in that is a lesson [i.e., warning] for whoever would fear [Allāh].

79:27

ءَأَنتُمۡ أَشَدُّ خَلۡقًا أَمِ ٱلسَّمَآءُۚ بَنَىٰهَا ٢٧

Are you a more difficult creation or is the heaven? He [i.e., Allāh] constructed it.

79:28

رَفَعَ سَمۡكَهَا فَسَوَّىٰهَا ٢٨

He raised its ceiling and proportioned it.

79:29

وَأَغۡطَشَ لَيۡلَهَا وَأَخۡرَجَ ضُحَىٰهَا ٢٩

And He darkened its night and extracted its brightness.1

1 translator’s note
  1. i.e., created the day from within the surrounding darkness. ↩

79:30

وَٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ ذَٰلِكَ دَحَىٰهَآ ٣٠

And after that He spread the earth.

79:31

أَخۡرَجَ مِنۡهَا مَآءَهَا وَمَرۡعَىٰهَا ٣١

He extracted from it its water and its pasture,

79:32

وَٱلۡجِبَالَ أَرۡسَىٰهَا ٣٢

And the mountains He set firmly

79:33

مَتَٰعٗا لَّكُمۡ وَلِأَنۡعَٰمِكُمۡ ٣٣

As enjoyment [i.e., provision] for you and your grazing livestock.

79:34

فَإِذَا جَآءَتِ ٱلطَّآمَّةُ ٱلۡكُبۡرَىٰ ٣٤

But when there comes the greatest Overwhelming Calamity1 -

1 translator’s note
  1. i.e., the Day of Resurrection. ↩

79:35

يَوۡمَ يَتَذَكَّرُ ٱلۡإِنسَٰنُ مَا سَعَىٰ ٣٥

The Day when man will remember that for which he strove,

79:36

وَبُرِّزَتِ ٱلۡجَحِيمُ لِمَن يَرَىٰ ٣٦

And Hellfire will be exposed for [all] those who see -

79:37

فَأَمَّا مَن طَغَىٰ ٣٧

So as for he who transgressed

79:38

وَءَاثَرَ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا ٣٨

And preferred the life of the world,

79:39

فَإِنَّ ٱلۡجَحِيمَ هِيَ ٱلۡمَأۡوَىٰ ٣٩

Then indeed, Hellfire will be [his] refuge.

79:40

وَأَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ وَنَهَى ٱلنَّفۡسَ عَنِ ٱلۡهَوَىٰ ٤٠

But as for he who feared the position of his Lord1 and prevented the soul from [unlawful] inclination,

1 translator’s note
  1. See footnote to 55:46. ↩

79:41

فَإِنَّ ٱلۡجَنَّةَ هِيَ ٱلۡمَأۡوَىٰ ٤١

Then indeed, Paradise will be [his] refuge.

79:42

يَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرۡسَىٰهَا ٤٢

They ask you, [O Muḥammad], about the Hour: when is its arrival?1

1 translator’s note
  1. Literally, "resting" or "establishment." ↩

79:43

فِيمَ أَنتَ مِن ذِكۡرَىٰهَآ ٤٣

In what [position] are you that you should mention it?1

1 translator’s note
  1. Meaning that Muḥammad (ﷺ) had no knowledge of it, so how could he inform them? ↩

79:44

إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَىٰهَآ ٤٤

To your Lord is its finality.1

1 translator’s note
  1. i.e., its destination and termination. And to Him belongs ultimate knowledge of it. ↩

79:45

إِنَّمَآ أَنتَ مُنذِرُ مَن يَخۡشَىٰهَا ٤٥

You are only a warner for those who fear it.

79:46

كَأَنَّهُمۡ يَوۡمَ يَرَوۡنَهَا لَمۡ يَلۡبَثُوٓاْ إِلَّا عَشِيَّةً أَوۡ ضُحَىٰهَا ٤٦

It will be, on the Day they see it,1 as though they had not remained [in the world] except for an afternoon or a morning thereof.

1 translator’s note
  1. i.e., the Hour, the Resurrection. ↩
As-Sa'diTafsir · 79:23

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском