An-Nazi'at 79:29
Those who drag forth · Juz 30 · Page 584
وَأَغۡطَشَ لَيۡلَهَا وَأَخۡرَجَ ضُحَىٰهَا ٢٩
And He darkened its night and extracted its brightness.1
1 translator’s note
- i.e., created the day from within the surrounding darkness. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 79:27–33
کیا تم سخت تر ہو (دوبارہ) تخلیق میں یا آسمان؟ اس (اللہ) نے اسے بنایا (27) بلند کی اس کی چھت ، پھر ٹھیک ٹھاک کیا اس کو (28) اور تاریک کیا اس کی رات کو اور ظاہر (روشن) کیا اس کے دن کو(29) اور زمین کو، بعد اس کے بچھایا اس کو (30) نکالا اس میں سے اس کا پانی اور اس کا چارہ (31) اور پہاڑوں کو، گاڑ دیا ان کو (32) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے (33)
[33-27] اللہ تبارک و تعالیٰ آخرت کو اور اجساد کو دوبارہ زندہ کرنے کو بعید سمجھنے والوں کے لیے واضح دلیل بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ ءَاَنۡتُمۡ﴾ اے انسانو! کیا تمھارا ﴿ اَشَدُّ خَلۡقًا اَمِ السَّمَآءُ﴾ ’’بنانا زیادہ شدید ہے یا آسمان کا؟‘‘ جو بڑے بڑے اجرام، طاقت ور مخلوق اور انتہائی بلندیوں والا ہے ﴿ بَنٰىهَا﴾ اسے اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔ ﴿ رَفَعَ سَمۡؔكَهَا﴾ یعنی اس کی چھت اور صورت کو بلند کیا۔ ﴿ فَسَوّٰىهَا﴾ ’’ پھر اسے برابر کردیا۔‘‘ یعنی اس کو محکم اور مضبوط بنا کر جو عقل کو حیران اور خرد کو گم کر دیتا ہے۔ ﴿ وَاَغۡطَشَ لَيۡلَهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ رات کو تاریک کرتا ہےتو یہ تاریکی آسمان کے تمام کناروں تک پھیل جاتی ہے اور روئے زمین کو تاریک کر دیتی ہے ﴿ وَاَخۡرَجَ ضُحٰؔىهَا﴾ یعنی جب اللہ تعالیٰ سورج کو لے کر آتا ہے تو روئے زمین پر عظیم روشنی ظاہر کرتا ہے تو لوگ اپنے دینی اور دنیاوی کاموں کے لیے پھیل جاتے ہیں۔ ﴿ وَالۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِكَ﴾ یعنی آسمان کی تخلیق کے بعد زمین کو ﴿ دَحٰؔىهَا﴾ ’’اس نے بچھا دیا۔‘‘ یعنی اس کے اندر اس کی منفعتیں ودیعت کر دیں۔ پھر اپنے اس ارشاد سے اس کی تفسیر بیان کی ﴿ اَخۡرَجَ مِنۡهَا مَآءَهَا وَمَرۡعٰىهَا۪۰۰وَالۡجِبَالَ اَرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اسی نے اس میں سے اس کا پانی نکالا اور چارا اگایا اور پہاڑوں کو گاڑ دیا۔‘‘ یعنی پہاڑ زمین پر مضبوطی سے جمائے، آسمانوں کی تخلیق کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین کو پھیلا کر ہموار کیا جیسا کہ ان آیات کریمہ میں منصوص ہے اور رہی خود زمین کی تخلیق تو یہ آسمان کی تخلیق سے متقدم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿قُلۡ اَىِٕنَّـكُمۡ لَتَكۡفُرُوۡنَ بِالَّذِيۡ خَلَقَ الۡاَرۡضَ فِيۡ يَوۡمَيۡنِ وَتَجۡعَلُوۡنَ لَهٗۤ اَنۡدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَۚ۰۰وَجَعَلَ فِيۡهَا رَوَاسِيَ مِنۡ فَوۡقِهَا وَبٰرَكَ فِيۡهَا وَقَدَّرَ فِيۡهَاۤ اَقۡوَاتَهَا فِيۡۤ اَرۡبَعَةِ اَيَّامٍ١ؕ سَوَآءًؔ لِّلسَّآىِٕلِيۡنَ۰۰ثُمَّ اسۡتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآىِٕعِيۡنَ۰۰فَقَضٰىهُنَّ سَبۡعَ سَمٰوَاتٍ فِيۡ يَوۡمَيۡنِ﴾(حم السجدۃ:32؍9-12) ’’کہہ دیجیے، کیا تم اس ہستی کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور تم ہو کہ اس کے ہم سر بناتے ہو، وہ تمام جہانوں کا رب ہے اور اس نے زمین کے اوپر پہاڑ رکھ دیے اور اس کے اندر برکت رکھ دی اور چار دن میں اس کے اندر اس کی غذاؤ ں کو مقدر کر دیا، تمام طلب گاروں کے لیے یکساں طور پر، پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جبکہ وہ دھواں تھا، پس اس نے آسمان سے اور زمین سے کہا، دونوں آؤ ، خوش دلی کے ساتھ یا بادل نخواستہ، انھوں نے کہا ہم خوشی سے آتے ہیں، پس اس نے دو دن میں سات آسمان بنا دیے ۔‘‘ پس جس نے بڑے بڑے آسمان، ان کی روشنیاں، اجرام فلکی، گرد بھری اور کثیف زمین، اس کے اندر مخلوق کی ضروریات اور ان کی منفعتیں ودیعت کر دیں، وہ ضرور مکلف مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ پس جس نے نیکی کی اس کے لیے بھلائی ہے اور جس نے برائی کی وہ صرف اپنے نفس ہی کو ملامت کرے۔
بنابریں اس کے بعد قیامت کے برپا ہونے کا ذکر کیا اور پھر جزا و سزا کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:
Page 584
79:16
إِذۡ نَادَىٰهُ رَبُّهُۥ بِٱلۡوَادِ ٱلۡمُقَدَّسِ طُوًى ١٦
When his Lord called to him in the sacred valley of Ṭuwā,
79:17
ٱذۡهَبۡ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ ١٧
"Go to Pharaoh. Indeed, he has transgressed.
79:18
فَقُلۡ هَل لَّكَ إِلَىٰٓ أَن تَزَكَّىٰ ١٨
And say to him, 'Would you [be willing to] purify yourself
79:19
وَأَهۡدِيَكَ إِلَىٰ رَبِّكَ فَتَخۡشَىٰ ١٩
And let me guide you to your Lord so you would fear [Him]?'"
79:20
فَأَرَىٰهُ ٱلۡأٓيَةَ ٱلۡكُبۡرَىٰ ٢٠
And he showed him the greatest sign,1
1 translator’s note
- i.e., the miracle of his staff becoming a great snake. ↩
79:21
فَكَذَّبَ وَعَصَىٰ ٢١
But he [i.e., Pharaoh] denied and disobeyed.
79:22
ثُمَّ أَدۡبَرَ يَسۡعَىٰ ٢٢
Then he turned his back, striving [i.e., plotting].1
1 translator’s note
- An alternative meaning is "running [from the snake]." ↩
79:23
فَحَشَرَ فَنَادَىٰ ٢٣
And he gathered [his people] and called out
79:24
فَقَالَ أَنَا۠ رَبُّكُمُ ٱلۡأَعۡلَىٰ ٢٤
And said, "I am your most exalted lord."
79:25
فَأَخَذَهُ ٱللَّهُ نَكَالَ ٱلۡأٓخِرَةِ وَٱلۡأُولَىٰٓ ٢٥
So Allāh seized him in exemplary punishment for the last and the first [transgression].1.
1 translator’s note
- i.e., for Pharaoh's setting himself up as a deity and for his previous oppression of the people and denial of Moses. ↩
79:26
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبۡرَةٗ لِّمَن يَخۡشَىٰٓ ٢٦
Indeed in that is a lesson [i.e., warning] for whoever would fear [Allāh].
79:27
ءَأَنتُمۡ أَشَدُّ خَلۡقًا أَمِ ٱلسَّمَآءُۚ بَنَىٰهَا ٢٧
Are you a more difficult creation or is the heaven? He [i.e., Allāh] constructed it.
79:28
رَفَعَ سَمۡكَهَا فَسَوَّىٰهَا ٢٨
He raised its ceiling and proportioned it.
79:29
وَأَغۡطَشَ لَيۡلَهَا وَأَخۡرَجَ ضُحَىٰهَا ٢٩
And He darkened its night and extracted its brightness.1
1 translator’s note
- i.e., created the day from within the surrounding darkness. ↩
79:30
وَٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ ذَٰلِكَ دَحَىٰهَآ ٣٠
And after that He spread the earth.
79:31
أَخۡرَجَ مِنۡهَا مَآءَهَا وَمَرۡعَىٰهَا ٣١
He extracted from it its water and its pasture,
79:32
وَٱلۡجِبَالَ أَرۡسَىٰهَا ٣٢
And the mountains He set firmly
79:33
مَتَٰعٗا لَّكُمۡ وَلِأَنۡعَٰمِكُمۡ ٣٣
As enjoyment [i.e., provision] for you and your grazing livestock.
79:34
فَإِذَا جَآءَتِ ٱلطَّآمَّةُ ٱلۡكُبۡرَىٰ ٣٤
But when there comes the greatest Overwhelming Calamity1 -
1 translator’s note
- i.e., the Day of Resurrection. ↩
79:35
يَوۡمَ يَتَذَكَّرُ ٱلۡإِنسَٰنُ مَا سَعَىٰ ٣٥
The Day when man will remember that for which he strove,
79:36
وَبُرِّزَتِ ٱلۡجَحِيمُ لِمَن يَرَىٰ ٣٦
And Hellfire will be exposed for [all] those who see -
79:37
فَأَمَّا مَن طَغَىٰ ٣٧
So as for he who transgressed
79:38
وَءَاثَرَ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا ٣٨
And preferred the life of the world,
79:39
فَإِنَّ ٱلۡجَحِيمَ هِيَ ٱلۡمَأۡوَىٰ ٣٩
Then indeed, Hellfire will be [his] refuge.
79:40
وَأَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ وَنَهَى ٱلنَّفۡسَ عَنِ ٱلۡهَوَىٰ ٤٠
But as for he who feared the position of his Lord1 and prevented the soul from [unlawful] inclination,
1 translator’s note
- See footnote to 55:46. ↩
79:41
فَإِنَّ ٱلۡجَنَّةَ هِيَ ٱلۡمَأۡوَىٰ ٤١
Then indeed, Paradise will be [his] refuge.
79:42
يَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرۡسَىٰهَا ٤٢
They ask you, [O Muḥammad], about the Hour: when is its arrival?1
1 translator’s note
- Literally, "resting" or "establishment." ↩
79:43
فِيمَ أَنتَ مِن ذِكۡرَىٰهَآ ٤٣
In what [position] are you that you should mention it?1
1 translator’s note
- Meaning that Muḥammad (ﷺ) had no knowledge of it, so how could he inform them? ↩
79:44
إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَىٰهَآ ٤٤
To your Lord is its finality.1
1 translator’s note
- i.e., its destination and termination. And to Him belongs ultimate knowledge of it. ↩
79:45
إِنَّمَآ أَنتَ مُنذِرُ مَن يَخۡشَىٰهَا ٤٥
You are only a warner for those who fear it.
79:46
كَأَنَّهُمۡ يَوۡمَ يَرَوۡنَهَا لَمۡ يَلۡبَثُوٓاْ إِلَّا عَشِيَّةً أَوۡ ضُحَىٰهَا ٤٦
It will be, on the Day they see it,1 as though they had not remained [in the world] except for an afternoon or a morning thereof.
1 translator’s note
- i.e., the Hour, the Resurrection. ↩