Al-Anfal 8:17
The Spoils of War · Juz 9 · Page 179
فَلَمۡ تَقۡتُلُوهُمۡ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ قَتَلَهُمۡۚ وَمَا رَمَيۡتَ إِذۡ رَمَيۡتَ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ رَمَىٰ وَلِيُبۡلِيَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ مِنۡهُ بَلَآءً حَسَنًاۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٞ ١٧
And you did not kill them, but it was Allāh who killed them.1 And you threw not, [O Muḥammad], when you threw, but it was Allāh who threw2 that He might test the believers with a good test.3 Indeed, Allāh is Hearing and Knowing.
3 translator’s notes
i.e., Your strength was insufficient to overcome them, but Allāh supported you and gave you victory.
[441] When the Prophet (ﷺ) threw a handful of dust into the faces of the disbelievers, Allāh caused it to fill the eyes and nose of every soldier, preventing their advance.
[442] So that they would appreciate Allāh's favor to them.
↩- ↩
- ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 8:17–19
پس نہیں قتل کیا تم نے انھیں لیکن اللہ ہی نے قتل کیا ہے انھیں اورنہیں پھینکی تھی آپ نے (مٹھی بھر خاک) جبکہ پھینکی تھی آپ نے لیکن اللہ ہی نے پھینکی تھی وہ اور تاکہ نوازے وہ مومنوں کو اپنی طرف سے اچھے انعام سے، یقینا اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے(17) یہ تھی(حکمت) اور بے شک اللہ کمزور کرنے والا ہے تدبیر کافروں کی(18)اگر طلب کرتے ہوتو فیصلہ تو تحقیق آگیا ہے تمھارے پاس فیصلہ اوراگر باز آجاؤ تم تو وہ بہت بہتر ہے تمھارے لیےاور اگر تم ، پھر ایسا کرو گے تو ہم بھی دوبارہ ایسا ہی کریں گےاور ہرگز نہیں فائدہ دے گی تمھیں تمھاری جماعت کچھ اگرچہ وہ کثیر ہی ہواور یقینا اللہ ساتھ ہے مومنوں کے (19)
[17] جب غزوۂ بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی اور مسلمانوں نے ان کو قتل کیا تو اس ضمن میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَلَمۡ تَقۡتُلُوۡهُمۡ ﴾ ’’تم نے ان کو قتل نہیں کیا۔‘‘ یعنی تم نے اپنی قوت سے ان کو قتل نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمۡ ﴾ ’’لیکن اللہ نے ان کو قتل کیا‘‘ کیونکہ ان کے قتل پر اللہ تعالیٰ نے تمھاری مدد فرمائی تھی، جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزرا۔ ﴿ وَمَا رَمَيۡتَ اِذۡ رَمَيۡتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى ﴾’’اور آپ نے نہیں پھینکی مٹھی خاک کی جس وقت کہ پھینکی تھی لیکن اللہ نے پھینکی۔‘‘اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب معرکہ شروع ہوا تو رسول اللہﷺ ایک خیمہ میں چلے گئے اور اللہ تعالیٰ سے قسمیں دے دے کر فتح و نصرت کے لیے دعائیں کرنے لگے، پھر خیمے سے باہر تشریف لائے، آپﷺ نے خاک کی ایک مٹھی اٹھا کر کفار کے چہروں کی طرف پھینکی اور اللہ تعالیٰ نے یہ خاک ان کے چہروں تک پہنچا دی، ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا جس کے چہرے، منہ اور آنکھوں میں یہ خاک نہ پڑی ہو۔ پس اس وقت ان کی طاقت ٹوٹ گئی، ان کے ہاتھ شل ہوگئے، ان کے اندر کمزوری اور بزدلی ظاہر ہوئی پس وہ شکست کھا گئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ سے فرمایا ’’جب آپ نے کفار کی طرف خاک کی مٹھی پھینکی تو آپ نے اپنی قوت سے یہ خاک ان کے چہروں تک نہیں پہنچائی تھی بلکہ ہم نے اپنی قوت اور قدرت سے یہ خاک ان کے چہروں تک پہنچائی‘‘۔﴿وَلِيُبۡلِيَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ مِنۡهُ بَلَآءًؔ حَسَنًا ﴾ ’’اور تاکہ اللہ آزمائے مومنوں کو اپنی طرف سے خوب آزمانا‘‘ یعنی براہ راست لڑائی کے بغیر اللہ تعالیٰ کفار کے مقابلے میں اہل ایمان کی مدد کرنے پر قادر ہے مگر اللہ تعالیٰ مومنوں کا امتحان لینا اور جہاد کے ذریعے سے انھیں بلند ترین درجات اور اعلیٰ ترین مقامات پر فائز کرنا، نیز انھیں اجر حسن اور ثواب جزیل عطا کرنا چاہتا ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ سنتا جانتا ہے۔‘‘ بندہ جو بات چھپا کر کرتا ہے یا اعلانیہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے خوب سنتا ہے۔ بندے کے دل میں جو اچھی یا بری نیت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے علم و حکمت اور بندوں کے مصالح کے مطابق ان کی تقدیر مقرر کرتا ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق جزا دیتا ہے۔
[18]﴿ ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ فتح و نصرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ مُوۡهِنُ كَيۡدِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور بلاشبہ اللہ کافروں کی تدبیر کو کمزور کردینے والا ہے۔‘‘ یعنی کفار اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو مکر و فریب اور سازشیں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی چالوں کو کمزور کرتا ہے اور انھی کو ان کی چالوں میں پھنسا دیتا ہے۔
[19]﴿ اِنۡ تَسۡتَفۡتِحُوۡا ﴾ ’’اور اگر تم چاہتے ہو فیصلہ‘‘ اے مشرکو! اگر تم اللہ تعالیٰ سے مطالبہ کرتے ہو کہ وہ ظلم و تعدی کا ارتکاب کرنے والوں پر اپنا عذاب نازل کر دے۔ ﴿ فَقَدۡ جَآءَكُمُ الۡفَتۡحُ﴾ ’’تو تحقیق آچکا تمھارے پاس فیصلہ‘‘ یعنی جب اللہ تعالیٰ نے تم پر اپنا عذاب نازل کیا جو تمھارے لیے سزا اور متقین کے لیے عبرت ہے ﴿ وَاِنۡ تَنۡتَهُوۡا ﴾ ’’اور اگر تم باز آجاؤ۔‘‘ یعنی اگر تم فیصلہ چاہنے سے باز آجاؤ۔ ﴿ فَهُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ﴾’’تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے‘‘ کیونکہ بسا اوقات اللہ تعالیٰ تمھیں مہلت دیتا ہے اور تمھیں فوراً سزا نہیں دیتا۔﴿وَلَنۡ تُغۡنِيَ عَنۡكُمۡ فِئَتُكُمۡ شَيۡـًٔـا وَّلَوۡ كَثُرَتۡ﴾ ’’اور تمھاری جماعت خواہ کتنی ہی کثیر ہو تمھارے کچھ بھی کام نہ آئے گی۔‘‘ یعنی وہ انصار و اعوان تمھارے کچھ کام نہ آئیں گے جن کے بھروسے پر تم جنگ کر رہے ہو، چاہے وہ کتنے ہی زیادہ ہوں ۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ مَعَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ جن کے ساتھ ہوتا ہے وہی فتح و نصرت سے نوازے جاتے ہیں خواہ وہ کمزور اور تعداد میں کم ہی کیوں نہ ہوں ۔یہ معیت، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ اس کے ذریعے سے اہل ایمان کی تائید فرماتا ہے، ان کے اعمالِ ایمان کے مطابق ہوتی ہے۔ اگر بعض اوقات دشمنوں کو اہل ایمان پر فتح حاصل ہوتی ہے تو یہ اہل ایمان کی کوتاہی، واجبات ایمان اور اس کے تقاضوں کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ورنہ اگر وہ ہر اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کریں تو ان کا پرچم کبھی سرنگوں نہ ہو اور دشمن کو کبھی ان پر غالب آنے کا موقع نہ ملے۔
Page 179
8:17
فَلَمۡ تَقۡتُلُوهُمۡ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ قَتَلَهُمۡۚ وَمَا رَمَيۡتَ إِذۡ رَمَيۡتَ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ رَمَىٰ وَلِيُبۡلِيَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ مِنۡهُ بَلَآءً حَسَنًاۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٞ ١٧
And you did not kill them, but it was Allāh who killed them.1 And you threw not, [O Muḥammad], when you threw, but it was Allāh who threw2 that He might test the believers with a good test.3 Indeed, Allāh is Hearing and Knowing.
3 translator’s notes
i.e., Your strength was insufficient to overcome them, but Allāh supported you and gave you victory.
[441] When the Prophet (ﷺ) threw a handful of dust into the faces of the disbelievers, Allāh caused it to fill the eyes and nose of every soldier, preventing their advance.
[442] So that they would appreciate Allāh's favor to them.
↩- ↩
- ↩
8:18
ذَٰلِكُمۡ وَأَنَّ ٱللَّهَ مُوهِنُ كَيۡدِ ٱلۡكَٰفِرِينَ ١٨
That [is so], and [also] that Allāh will weaken the plot of the disbelievers.
8:19
إِن تَسۡتَفۡتِحُواْ فَقَدۡ جَآءَكُمُ ٱلۡفَتۡحُۖ وَإِن تَنتَهُواْ فَهُوَ خَيۡرٞ لَّكُمۡۖ وَإِن تَعُودُواْ نَعُدۡ وَلَن تُغۡنِيَ عَنكُمۡ فِئَتُكُمۡ شَيۡـٔٗا وَلَوۡ كَثُرَتۡ وَأَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ١٩
If you [disbelievers] seek the decision [i.e., victory] - the decision [i.e., defeat] has come to you. And if you desist [from hostilities], it is best for you; but if you return [to war], We will return, and never will you be availed by your [large] company at all, even if it should increase; and [that is] because Allāh is with the believers.
8:20
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوۡاْ عَنۡهُ وَأَنتُمۡ تَسۡمَعُونَ ٢٠
O you who have believed, obey Allāh and His Messenger and do not turn from him while you hear [his order].
8:21
وَلَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ قَالُواْ سَمِعۡنَا وَهُمۡ لَا يَسۡمَعُونَ ٢١
And do not be like those who say, "We have heard," while they do not hear.
8:22
۞ إِنَّ شَرَّ ٱلدَّوَآبِّ عِندَ ٱللَّهِ ٱلصُّمُّ ٱلۡبُكۡمُ ٱلَّذِينَ لَا يَعۡقِلُونَ ٢٢
Indeed, the worst of living creatures in the sight of Allāh are the deaf and dumb who do not use reason [i.e., the disbelievers].
8:23
وَلَوۡ عَلِمَ ٱللَّهُ فِيهِمۡ خَيۡرٗا لَّأَسۡمَعَهُمۡۖ وَلَوۡ أَسۡمَعَهُمۡ لَتَوَلَّواْ وَّهُم مُّعۡرِضُونَ ٢٣
Had Allāh known any good in them, He would have made them hear. And if He had made them hear, they would [still] have turned away, while they were refusing.
8:24
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱسۡتَجِيبُواْ لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمۡ لِمَا يُحۡيِيكُمۡۖ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ يَحُولُ بَيۡنَ ٱلۡمَرۡءِ وَقَلۡبِهِۦ وَأَنَّهُۥٓ إِلَيۡهِ تُحۡشَرُونَ ٢٤
O you who have believed, respond to Allāh and to the Messenger when he calls you to that which gives you life. And know that Allāh intervenes between a man and his heart and that to Him you will be gathered.
8:25
وَٱتَّقُواْ فِتۡنَةٗ لَّا تُصِيبَنَّ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنكُمۡ خَآصَّةٗۖ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ ٢٥
And fear a trial1 which will not strike those who have wronged among you exclusively, and know that Allāh is severe in penalty.
1 translator’s note
- i.e., an affliction or punishment during life upon this earth. When corruption spreads among a people, its consequences will affect everyone. ↩