Al-Anfal 8:40
The Spoils of War · Juz 9 · Page 181
وَإِن تَوَلَّوۡاْ فَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ مَوۡلَىٰكُمۡۚ نِعۡمَ ٱلۡمَوۡلَىٰ وَنِعۡمَ ٱلنَّصِيرُ ٤٠
But if they turn away - then know that Allāh is your protector. Excellent is the protector, and excellent is the helper.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 8:38–40
کہہ دیجیے! ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، اگر باز آجائیں وہ تو بخش دیا جائے گا ان کے لیے جو کچھ پہلے گزر چکا اور اگر دوبارہ ایسا ہی کریں گے وہ تو تحقیق گزر چکی ہے (ہماری) سنت پہلے لوگوں(میں)(38)اور لڑو تم ان سے یہاں تک کہ نہ رہے فتنہ (شرک)اور ہوجائے دین سارا کا سارا اللہ ہی کا، پس اگر باز آجائیں وہ (کافر) تو یقینا اللہ، ساتھ اس کے جو وہ عمل کرتے ہیں، خوب دیکھنے والا ہے(39) اور اگر وہ منہ پھیر یں تو جان لو! یقینا اللہ ہی تمھارا کار ساز ہےاور وہ اچھا کارساز ہےاور اچھا مدد گار ہے(40)
[38] یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ ان کا کفر اور ان کا دائمی عناد اسے اس بات سے نہیں روکتا کہ وہ انھیں رشد و ہدایت کے راستے کی طرف بلائے اور انھیں گمراہی اور ہلاکت کی راہوں پر چلنے سے منع کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ يَّنۡتَهُوۡا ﴾ ’’کفار سے کہہ دیجیے اگر وہ باز آجائیں ۔‘‘ یعنی اگر وہ کفر سے باز آجائیں اور یہ اسی طرح ممکن ہے کہ وہ اللہ وحدہ لا شریک لہ، کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں ۔ ﴿ يُغۡفَرۡ لَهُمۡ مَّا قَدۡ سَلَفَ﴾ ’’تو بخش دیا جائے گا جو کچھ ہو چکا ہے‘‘ یعنی ان سے جن جرائم کا ارتکاب ہو چکا ہے ﴿ وَاِنۡ يَّعُوۡدُوۡا﴾ ’’اگر وہ اعادہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ اپنے کفر اور عناد کا اعادہ کریں ﴿ فَقَدۡ مَضَتۡ سُنَّتُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’تو تحقیق گزر چکا ہے طریقہ پہلوں کا‘‘ یعنی رسولوں کو جھٹلانے والی قوموں کو ہلاک کرنے کا، پس وہ بھی اسی عذاب کا انتظار کریں جو ان معاندین حق پر نازل ہوا تھا.... عنقریب ان کے پاس وہی خبریں آئیں گی جن کا یہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔ یہ خطاب تو جھٹلانے والوں سے تھا۔
[39] رہا وہ خطاب جو اہل ایمان کو کفار کے ساتھ معاملہ کرنے کا حکم دیتے وقت اہل ایمان کے ساتھ تھا تو اس میں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا: ﴿ وَقَاتِلُوۡهُمۡ حَتّٰى لَا تَكُوۡنَ فِتۡنَةٌ ﴾ ’’اور ان سے لڑتے رہو، یہاں تک کہ نہ رہے فساد‘‘ یعنی جب تک کہ شرک اور اللہ تعالیٰ کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور نہ ہو جائیں اور کفار اسلام کے احکام کے سامنے سرنگوں نہ ہو جائیں ۔ ﴿ وَّيَكُوۡنَ الدِّيۡنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ ﴾’’اور ہو جائے حکم سب اللہ کا‘‘ پس دشمنان دین کے خلاف جہاد اور قتال کا یہی مقصد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو کفار کے شر سے بچایا جائے اور اللہ تعالیٰ کے دین کی، جس کے لیے تمام کائنات تخلیق کی گئی ہے، حفاظت کی جائے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا دین تمام ادیان پر غالب آجائے۔﴿فَاِنِ انۡتَهَوۡا ﴾ ’’پس اگر وہ باز آجائیں ۔‘‘ اپنے ظلم کے رویے سے ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’تو بے شک اللہ ان کے کاموں کو دیکھتا ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ سے ان کی کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی۔
[40]﴿ وَاِنۡ تَوَلَّوۡا ﴾ ’’اور اگر وہ روگردانی کریں ۔‘‘ یعنی اگر اطاعت سے منہ موڑ کر کفروسرکشی میں سرگرم ہو جائیں۔ ﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوۡلٰىكُمۡ١ؕ نِعۡمَ الۡمَوۡلٰى ﴾ ’’تو جان لو کہ اللہ تمھارا حمایتی ہے، کیا اچھا حمایتی ہے‘‘ جو اپنے مومن بندوں کی سرپرستی کرتا ہے، انھیں ان کے مصالح بہم پہنچاتا ہے اور ان کے لیے دینی اور دنیاوی فوائد کے حصول میں آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ ﴿ وَنِعۡمَ النَّصِيۡرُ ﴾ ’’اور کیا اچھا مددگار ہے‘‘ جو ان کی مدد کرتا ہے، ان کے خلاف فساق و فجار کی سازشوں کو ناکام بناتا ہے اور اشرار کی عداوت سے حفاظت کرتا ہے اور جس کا سرپرست اور حامی و ناصر اللہ تعالیٰ ہو تو اسے کسی قسم کا خوف نہیں ہوتا اور جس کا اللہ تعالیٰ مخالف ہو اسے کوئی مدد اور سہارا نہیں دے سکتا۔
Page 181
8:34
وَمَا لَهُمۡ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ ٱللَّهُ وَهُمۡ يَصُدُّونَ عَنِ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ وَمَا كَانُوٓاْ أَوۡلِيَآءَهُۥٓۚ إِنۡ أَوۡلِيَآؤُهُۥٓ إِلَّا ٱلۡمُتَّقُونَ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ ٣٤
But why should Allāh not punish them while they obstruct [people] from al-Masjid al-Ḥarām and they were not [fit to be] its guardians? Its [true] guardians are not but the righteous, but most of them do not know.
8:35
وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمۡ عِندَ ٱلۡبَيۡتِ إِلَّا مُكَآءٗ وَتَصۡدِيَةٗۚ فَذُوقُواْ ٱلۡعَذَابَ بِمَا كُنتُمۡ تَكۡفُرُونَ ٣٥
And their prayer at the House [i.e., the Kaʿbah] was not except whistling and handclapping. So taste the punishment for what you disbelieved [i.e., practiced of deviations].
8:36
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يُنفِقُونَ أَمۡوَٰلَهُمۡ لِيَصُدُّواْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۚ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيۡهِمۡ حَسۡرَةٗ ثُمَّ يُغۡلَبُونَۗ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِلَىٰ جَهَنَّمَ يُحۡشَرُونَ ٣٦
Indeed, those who disbelieve spend their wealth to avert [people] from the way of Allāh. So they will spend it; then it will be for them a [source of] regret; then they will be overcome. And those who have disbelieved - unto Hell they will be gathered.
8:37
لِيَمِيزَ ٱللَّهُ ٱلۡخَبِيثَ مِنَ ٱلطَّيِّبِ وَيَجۡعَلَ ٱلۡخَبِيثَ بَعۡضَهُۥ عَلَىٰ بَعۡضٖ فَيَرۡكُمَهُۥ جَمِيعٗا فَيَجۡعَلَهُۥ فِي جَهَنَّمَۚ أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ ٣٧
[It is] so that Allāh may distinguish the wicked from the good and place the wicked some of them upon others and heap them all together and put them into Hell. It is those who are the losers.
8:38
قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِن يَنتَهُواْ يُغۡفَرۡ لَهُم مَّا قَدۡ سَلَفَ وَإِن يَعُودُواْ فَقَدۡ مَضَتۡ سُنَّتُ ٱلۡأَوَّلِينَ ٣٨
Say to those who have disbelieved [that] if they cease, what has previously occurred will be forgiven for them. But if they return [to hostility] - then the precedent of the former [rebellious] peoples has already taken place.1
1 translator’s note
- This is a warning that punishment is always the result of rebellion against Allāh and His messengers. ↩
8:39
وَقَٰتِلُوهُمۡ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتۡنَةٞ وَيَكُونَ ٱلدِّينُ كُلُّهُۥ لِلَّهِۚ فَإِنِ ٱنتَهَوۡاْ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِمَا يَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ ٣٩
And fight against them until there is no fitnah1 and [until] the religion [i.e., worship], all of it, is for Allāh.2 And if they cease - then indeed, Allāh is Seeing of what they do.
8:40
وَإِن تَوَلَّوۡاْ فَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ مَوۡلَىٰكُمۡۚ نِعۡمَ ٱلۡمَوۡلَىٰ وَنِعۡمَ ٱلنَّصِيرُ ٤٠
But if they turn away - then know that Allāh is your protector. Excellent is the protector, and excellent is the helper.